Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

فتنہ قادیانیت کیخلاف تاریخ ساز فیصلے

September 6, 2016September 6, 2016 0 1 min read
Qadianiat
Muhammad PBUH
Muhammad PBUH

تحریر : رانا اعجاز حسین
مسلمان کے ایمان کامل کیلئے ضروری ہے کہ وہ سچے من سے اللہ رب العزت کے خالق کائنات اور وحدہ لاشریک ہونے کے اقرار کیساتھ ساتھ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے خاتم النبین ہونے کا کامل یقین رکھتا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کے باب کو بند سمجھنا، اسلام کی اساس اور وہ بنیاد ہے جس پر دین اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

دشمنان اسلام کی جانب سے ہر دور میں مسلمانوں کو اسلام سے گمراہ کرنے کی کوششیں جاری رہی ہیں۔ دشمنوں کی ان سازشوں پر نگاہ رکھنے، اور ان کی مسلمانان اسلام کو راہ راست سے بھٹکانے کی کھناؤنی سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے ہر سال سات ستمبر کا دن یوم تحفظ ختم نبوت کے طورپر منایا جاتا ہے ۔ کیونکہ بیسویں صدی کے آغاز 1901ء میں برصغیر پاک و ہند میں جب مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی ملعون نے اپنے خود ساختہ نبی ہونے کا اعلان کیاتو علماء ومشائخ نے اس فتنے کے سدباب کے لیے ہر میدان میں قادیانیت کا محاسبہ کیا ، اور سات ستمبر1974 ء کے ہی مبارک دن پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے مشترکہ طورپر تاریخ ساز فیصلہ دیتے ہوئے اس فتنے کی جڑوں پر کاری ضرب لگائی اور متفقہ طور پرقادیانیوں ،احمدیوں اورمرزائیوں کوغیرمسلم اقلیت قرار دیا۔

تقسیم ہند سے پہلے جب برصغیر پاک و ہندمیں انگریز اپنے ظلم وستم اور زیادتیوں کے باوجود مسلمانوں کو مغلوب نہ کرسکا تو اس نے ایک کمیشن کے ذریعے پورے ہندوستان کا سروے کرایا۔کمیشن نے یہ رپورٹ پیش کی کہ مسلمانوں کو مغلوب کرنے کے لیے ان کے دلوں سے جذبہ جہاد مٹانا اور ان کے ایمان کو ختم کرنا بے حد ضروری ہے اور اس کا طریقہ کاریہ ہوسکتا ہے کہ یہاں کسی ایسے شخص سے نبوت کا دعویٰ کرایا جائے جو جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو لازم سمجھتا ہو۔اس مقصد کے لیے انگریز نے مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا، جو اس وقت کسی سرکاری ادارے میں کلرک کے طور پرکام کررہا تھا۔اس کے انتخاب کی وجہ یہ تھی کہ قادیانی خاندان شروع دن سے مسلمانوں کے خلاف رہا ہے۔

انہوں نے سکھوں کے دورِ اقتدار میں سکھوں کے ساتھ مل کر پنجاب کے مختلف علاقوں میں مسلمان حریت پسندوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور پھر انگریزوں کے دور میں بھی مسلمان مجاہدین کے خلاف نبرد آزما ہوئے۔مرزا قادیانی نے جہاد کی حرمت اور انگریزوں کی اطاعت کو لازم قرار دیا اور پھر اس نے بتدریج خادمِ اسلام،مبلغ اسلام،مجدد،امام مہدی،مثیلِ عیسیٰ،ظلی نبی(یعنی نبی کا سایہ)،بروزی نبی ،مستقل نبی ،حتیٰ کہ خدائی تک کا دعویٰ کیا، مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ میں نے کشف میں دیکھاکہ میں خودخداہوںاوریقین کیاکہ وہی ہوں سومیں نے پہلے توآسمان اورزمین کواجمالی صورت میں پیداکیاپھرمیں نے آسمانِ دنیاکوپیداکیا۔(کتاب البریہ،آئینہ کمالاتِ اسلام)معاذاللہ۔یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے اور خطرناک سازش کے تحت کیا گیا۔

Mirza Ghulam Ahmad Qadiani
Mirza Ghulam Ahmad Qadiani

ملعون مرزاکی کتابوں کامطالعہ کیاجائے تووہ اپنی زندگی اورذاتی کردارکے اعتبارسے ایک ایسی شخصیت ہے کہ جس کونسل انسانی میں شمارکرنابھی انسانیت کی توہین ہے وہ عملی اعتبارسے بداخلاق ،فحش گو،افیونی،شرابی،زانی،بدکار،انسان نمابہروپیاتھا مرزاایسی باتوں سے نبی توکجاایک شریف انسان بھی ثابت نہیں ہوسکتا ،آہستہ آہستہ جھوٹ بولتے بولتے اس نے نبی ہونے کادعویٰ کردیا۔ آخرکارمرزا 26مئی 1906 ء کی صبح سوادس بجے ہیضے کی بیماری میں مبتلاہوکراحمدیہ بلڈنگ میں بیت الخلاء کے اندرہی مرااورقادیان میںدفن ہوا۔ جب کافروں کے اس فتنہ نے برصغیر پاک وہندمیں سراٹھایا تویہاں کے علماء ومشائخ نے اپنی تحریرات ،تقاریر،خطاباتِ جمعہ ،علمی مباحثوں اور مناظروں کے ذریعے قادیانیت کا ڈٹ کرمقابلہ کیااورمرزا قادیانی اور اس کے حواریوں عبرتناک شکست دی ۔ اس فتنہ کے کچلنے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کردار ہمیشہ سے مثالی رہا ہے۔

تاریخی مقدمہ بہاول پورفتنہ قادیانیت کے تابوت میں پہلی کیل ثابت ہوئی ، اس مقدمہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تحصیل احمد پور شرقیہ ،ریاست بہاول پور میں عبدالرزاق نامی شخص مرزائی ہوکر مرتد ہوگیا اور اس کی منکوحہ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش نے اپنے باپ کے توسط سے24جولائی1926ء کو احمد پور شرقیہ کی مقامی عدالت میں فسخ نکاح کا دعویٰ کر دیا۔یہ مقدمہ بالآخر ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کو بغرض شرعی تحقیق منتقل ہواکہ آیا قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا نہیں؟اس طرح یہ مقدمہ دولوگوں کے بجائے اسلام اور قادیانیت کے مابین حق وباطل کا مقدمہ بن گیا۔

قادیانیت کے خلاف امت مسلمہ کی نمائندگی کے لیے سب کی نظر دارالعلوم دیوبند کے مولانا انور شاہ کاشمیری پر پڑی اور وہ مولانا غلام محمد گھوٹوی کی دعوت پر اپنے تمام پروگرام منسوخ کرکے بہاول پور تشریف لائے اور فرمایا”جب یہاں سے بلاوا آیا تو میں ڈھابیل جانے کے لیے پابہ رکاب تھا،مگر میں یہ سوچ کر یہاں چلا آیا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی،شاید یہی بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جانب دار بن کر یہاں آیا تھا۔اگر ہم ختم نبوت کا کام نہ کریں تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے۔”

پھر اس مقدمہ میں مسلمانوں کی طرف سے مولانا غلام محمد گھوٹوی،مولانا محمد حسین کولوتارڑوی،مولانا محمد شفیع،مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری،مولانا نجم الدین،مولانا ابوالوفاء شاہ جہانپوری اور مولانا انورشاہ کاشمیری (رحمہم اللہ تعالیٰ) کے دلائل اور بیانات پرمرزائیت بوکھلا اٹھی۔مولانا ابوالوفاء شاہ جہاں پوری نے عدالت میں جواب الجواب داخل کرایا جو چھ سو صفحات پر مشتمل تھا،جس نے قادیانیت کے پرخچے اڑا دیے۔ عدالت میں موجود علماء حق کا کہنا ہے کہ مولانا انور شاہ کاشمیری جب مرزائیت کے خلاف قرآن وحدیث سے دلائل دیتے تو عدالت کے درودیوار جھوم اٹھتے اور جب جلال میں آکرمرزائیت کو للکارتے تو کفر کے نمائندوں پر لرزہ طاری ہوجاتا۔ایک دن مولانا نے جلال الدین شمس مرزائی کو للکار کر کہا”اگر چاہوتو میں عدالت میں یہیں کھڑے ہوکر دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔

‘ یہ سن کر عدالت میں موجود تمام مرزائی کانپ اٹھے اور مسلمانوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ان کے پر اثر دلائل پر اہل دل گواہی دیتے تھے کہ عدالت میں انور شاہ کاشمیری نہیں،بلکہ حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا وکیل اور نمائندہ بول رہا ہے۔” جب مرزائیوں کو اس مقدمہ میں اپنی شکست سامنے نظرآنا شروع ہوئی تو انہوں نے دسمبر1934ء میں عبدالرزاق کے مرجانے کی وجہ سے یہ درخواست دائر کردی کہ اب اس مقدمے کے فیصلہ کی ضرورت نہیں ہے ، لہٰذا اس مقدمہ کو خارج کردیا جائے۔بعض شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ شکست سے بچنے کے لیے مرزائیوں نے از خود عبدالرزاق کو قتل کرادیا،تاکہ مقدمہ خارج ہوجائے،مگر ہوتا وہی ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔لہٰذایہ مقدمہ جاری رہا اور حق وباطل کے اس مقدمہ کا فیصلہ جناب محمد اکبر خان(اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے) نے 7فروری1935ء کو سنایا،جس کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار اپنے عقائد واعمال کی بنا پر مسلمان نہیں،بلکہ کافر اور خارج از اسلام ہیں اور اس ضمن میں عبدالرزاق مرزائی کاغلام عائشہ کے ساتھ نکاح فسخ قرار دے دیا گیا۔مرزائیوں نے اپنے نام نہاد خلیفہ مرزابشیر الدین کی سربراہی میں سر ظفر اللہ مرتد سمیت جمع ہو کر اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی سوچ بچار کی، لیکن آخرکار اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلہ اتنی مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر صادر ہوا ہے کہ اپیل بھی ہمارے خلاف جائے گی ۔ اس تاریخ سا ز فیصلہ نے پوری دنیا کے مسلمانوں پر مرزائیت کے عقائد کو آشکار کردیا اور اس طرح مرزائیوں کی ساکھ روزبروز کمزور ہونے لگی۔

Qadianiat
Qadianiat

اس مقدمہ کے حوالے سے جہاں علماء کرام ومشائخ عظام اور جج صاحب کی کاوشیں سنہری حروف سے لکھی جانے کے قابل ہیں ،وہیں غلام عائشہ اور ان کے والد گرامی مولوی الٰہی بخش کا بھی پوری امت مسلمہ پر عظیم احسان ہے کہ انہوں نے ایک مرزائی کے خلاف فسخ نکاح کے دعویٰ کیا، جو ردِّ قادیانیت کے لیے پیش خیمہ ثابت ہوا۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعدپاکستان معرض وجود میں آیا۔ بدنصیبی سے پاکستان کا وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان قادیانی کو بنادیا گیا، جس نے قادیانیت کو اندرون وبیرونِ ملک متعارف کرانے کے لیے سرکاری ذرائع کا بے دریغ استعمال کیا۔دوسری طرف خواجہ ناظم الدین کے دوراقتدار میں دستور پاکستان کی تدوین زیر بحث تھی اور اس ضمن میں مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے، بلکہ ان کو غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا جائے۔ لیکن جب دستور کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ شائع ہوئی تو اس میں ملک کے لیے جداگانہ طریقہ انتخاب تجویز کیا گیا تھااور اقلیتوں کی نشستیں الگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا،مگرمسلمانوں کے لیے حد درجہ دکھ کی بات یہ تھی کہ قادیانیوں کو اقلیت نہیںبلکہ مسلمانوں میں شمار کیا گیا تھا۔مندرجہ بالا کام یابیوں کو دیکھتے ہوئے 1952ء میں قادیانیوں کے نام نہاد خلیفہ مرزا محمود نے اعلان کیا کہ یہ ہمارا سال ہے اور ہم اس سال بلوچستان کو بالخصوص اور پنجاب کو بالعموم احمدی صوبہ بنا لیں گے۔یہ اعلان مسلمانوں پر بجلی بن کر گرا۔اس موقع پر اس فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لیے سید عطا ء اللہ شاہ بخاری میدان میں آئے،انہوں نے علماء کو متحد کیا اور ”مجلس تحفظ ختم نبوت”کے باضابطہ قیام کا اعلان فرمایا۔
دسمبر1952ء کے آخری دنوں میں چنیوٹ میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں سید عطا اللہ شاہ بخاری نے انتہائی پر جوش تقریر کرتے ہوئے فرمایا ” اے مرزا محمود! 1952ء تیرا تھا اور اب1953ء میرا ہو گا۔” اسی کانفرنس کے موقع پر مجلس تحفظِ ختم نبوت کے رہنماؤں کا ایک خصوصی غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا، جس میں طے پایا کہ مرزائیوں کی جارحیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اس لیے اس کا سد باب کرنابے حدضروری ہو گیا ہے۔

اس سلسلے میں حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا۔جنوری 1953ء کے آخر میں علماء کا ایک وفد خواجہ ناظم الدین سے ملا اور چا ر مطالبات پیش کیے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے،سر ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے ہٹایا جائے،ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔خواجہ صاحب نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ظفر اللہ خان کو ہٹانے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے امریکہ پاکستان سے ناراض ہو جائے گا اور ہر قسم کی امداد بند کر دی جائے گی۔وفد کی طرف سے حکومت کو اتمامِ حجت کے لیے ایک ماہ کا تحریری نوٹس دیا گیا، جس میں لکھا گیا کہ ہمارے مطالبات کو تسلیم کیا جائے، ورنہ ہم قادیانیوں کے خلاف براہِ راست تحریک چلائیں گے۔ ایک ماہ گزر گیا اور حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہ آئی تو مجلس تحفظ ختم نبوت نے باضابطہ تحریک کاآغاز کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ختم نبوت کی یہ تحریک ایک بہت بڑی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔ پاکستانی حکمرانوں نے اس تحریک کو اپنے اقتدار کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھ لیا۔چنانچہ خواجہ ناظم الدین اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ ممتاز احمد دولتانہ نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔پاکستانی حکمرانوں اور جنرل اعظم خان کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم نے ہلاکو خان اورچنگیز خان کے مظالم کی یاد تازہ کردی۔اسی دوران جنرل اعظم نے پاکستان میں پہلی مرتبہ لاہور میں جزوی مارشل لاء لگایا۔ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اٹھنے والی اس تحریک میں دس ہزار سے زائد مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،ایک لاکھ کے قریب مسلمانوں نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں اور تقریباً دس لاکھ سے زائد مسلمان اس سے متاثر ہوئے۔

مرزائیوں اور ان کے ہم نواؤں نے اس تحریک کو دبانے کے لیے تشدد کا راستہ اپنایا ، انہیں یورپی ممالک کی مدد بھی حاصل تھی،مگر مسلمانوں نے اس معرکہ کو اس طرح سر کیا کہ مرزائیت کا کفر کھل کر سامنے آگیا۔اس شکست پر قادیانیوں نے عوامی محاذترک کرکے حکومتی عہدوں اور سرکاری دفاتر میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کردیا اور وہ انقلاب کے ذریعے اقتدار کا خواب دیکھنے لگے۔اس کے ساتھ ساتھ اللہ عزوجل کے عذاب کا کوڑاختم نبوت کی اس مقدس تحریک کی مخالفت کرنے والوں ،اس کو کچلنے والوں،ظلم کرنے والوں اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے والوں پر اس بے دردی سے برسا کہ سب عبرت کا نشان بن گئے۔

پھرایک ایسا واقعہ رونماء ہوا جس نے ایک نئی تحریک کو جنم دیا۔ مئی1974ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ کا ایک گروپ سیروتفریح کی غرض سے چناب ایکسپریس سے پشاور جا رہا تھا۔ جب ٹرین ربوہ پہنچی تو قادیانیوں نے اپنے معمول کے مطابق مرزا قادیانی کی خرافات پر مبنی لٹریچر تقسیم کرنا شروع کردیا۔نوجوان طلبہ اس سے مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ختم نبوت زندہ باداورقادیانیت مردہ بادکے نعرے لگائے۔ 29مئی کو یہ طلبہ سیر و سیاحت کے بعد جب پشاور سے واپس ملتان آرہے تھے تو ربوہ پہنچتے ہی قادیانی دیسی ہتھیاروں سے مسلح ہوکر طلبہ پر ٹوٹ پڑے اورطلبہ کو نہایت بے دردی سے مارنا پیٹنا شروع کردیا، انہیں لہولہان کردیااوران کا سامان لوٹ لیا۔آناً فاناً یہ خبر فیصل آباد تک پہنچ گئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی رہنما ایک بہت بڑا جلوس لے کر فیصل آبادا سٹیشن پر پہنچ گئے۔ مسلمانوں نے اس کھلی غنڈہ گردی پر زبردست احتجاج کیا اور زخمی طلبہ کی مرہم پٹی کرائی ۔ اگلے روز یہ خبر پورے ملک میں پھیل گئی اور ہر جگہ مظاہروں کاایک طوفان امڈپڑا۔پنجاب اسمبلی میں قائد ِ حزب اختلاف علامہ رحمت اللہ ارشد نے اس واقعہ پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا ”ختم نبوت کی دینی حیثیت کے متعلق تمام مسالک کے علماء متفق ہیں کہ قادیانی دائرئہ اسلام سے خارج ہیں۔” مجلس تحفظ ِختم نبوت کے اس وقت کے امیر مولانا سید محمدیوسف بنوری کی دعوت پر تمام طبقات نے لبیک کہا اور کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت تشکیل پائی جس کا امیر بھی مولانا یوسف بنوری کو بنایا گیا۔ 9جون1974ء کولاہور میں اس مجلس کا پہلااجلاس منعقد ہوا،جس میں قادیانیت کے خلاف ایک بھرپور تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا۔

اس تحریک کا بس ایک ہی نعرہ تھا کہ مرزائیت کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔اس حوالے سے مجلس عمل کے قائدین نے پورے ملک کے طوفانی دورے کیے اور قادیانیت کے خلاف محاذ پر تمام مکاتب فکر کو متحدکیا۔ اخبارات،دینی جرائد اور طلبہ تنظیموں نے اس تحریک میں ایک جوش کی روح پھونک دی۔قادیانی اس تحریک سے بلبلا اٹھے اور مسلمانوں کو تشدد کے ذریعے ہراساں کرنے کے لیے کئی جگہ دستی بموں سے حملے کیے۔حکومت نے ابتدائی طور پر تحریک کو ختم کرنے کی بھر پور کوشش کی اورتحریک ختم نبوت کے قائدین کی اکثریت تحفظ ناموس رسالت کے مطالبے کی پاداش میں جیل کی نذر ہوگئی ،مگر ان تمام معاملات نے تحریک کو ایک نئی جلا بخشی اور تحریک پھیلتی چلی گئی۔بالآخر حکومت نے قوم کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹونے سانحہ ربوہ اور قادیانی مسئلے پر سفارشات مرتب کرنے کے لیے پوری قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی قرار دیا۔ جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی نے اپوزیشن کی طرف سے ایک بل پیش کیا(جس پر37معزز و محترم اراکین اسمبلی کے دستخط موجود تھے) او رحکومت کی طرف سے وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ نے قومی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی۔ اس طرح قومی اسمبلی میں مرزائیت پر بحث شروع ہوگئی۔جبکہ قادیانیوں کے مرزائی اور لاہوری گروپ نے اپنے اپنے موقف تحریری شکل میں پیش کیے۔ قادیانی گروپ کے جواب میں ”ملت اسلامیہ کا موقف،، دوسوصفحات پر مشتمل ایک مکمل کتاب کی شکل میں تیار کیا گیا۔ مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مولانا محمد شریف جالندھری ،مولانا محمد حیات ،مولانا تاج محمود، مولانا عبدالرحیم اشعرنے حوالہ جات کی تدوین کا کام کیا،جب کہ مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق نے ان حوالہ جات کو ترتیب دے کر ایک خوب صورت کتاب کی شکل میں مرتب کیا۔ ملت اسلامیہ کے اس موقف کو اسمبلی میں پڑھنے کی سعادت مولانا مفتی محمود کو حاصل ہوئی۔

Pakistan
Pakistan

قادیانی گروپ کی طرف سے مرزا ناصر اورلاہوری گروپ کی طرف سے صدر الدین،عبدالمنان عمر اور سعود بیگ اسمبلی میں پیش ہوئے۔ لاہوری گروپ کے جواب میں مولاناغلام غوث ہزاروی نے مستقل طور پرایک محضر نامہ تیارکیا۔یہ بحث دوماہ کے طویل عرصہ تک جاری رہی۔ان دو ماہ میں قومی اسمبلی کے28اجلاس اور68نشستیں منعقد ہوئیں۔گیارہ روز تک لاہور ی گروپ کے مرزا ناصر اور نو روز تک قادیانی گروپ کے نمائندوں پر جرح ہوتی رہی۔ اس جرح پر ان کا سانس پھول جاتا،انہیں پسینے آجاتے اور وہ باربار پانی مانگتے رہتے۔ 5،6ستمبر کو اٹارنی جنرل آف پاکستان یحییٰ بختیار نے بحث کو سمیٹتے ہوئے دو روز تک اراکین قومی اسمبلی کے سامنے اپنا مفصل بیان پیش کیا۔7ستمبر کو فیصلے کے دن حالات بہت خراب ہوگئے۔ اس لیے بڑے بڑے شہروں میں فوج تعینات کردی گئی۔ بالآخر وہ مبارک گھڑی آئی جب 7ستمبر1974ء کو4 بج کر35 منٹ پر قادیانیوں کے دونوں گروپوں (مرزائی اور لاہوری گروپ) کو قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ذوالفقار علی بھٹو نے قائد ایوان کی حیثیت سے خصوصی خطاب کیااور عبدالحفیظ پیر زادہ نے آئینی ترمیم کا تاریخی بل پیش کیا۔ یہ بل متفقہ رائے سے منظور کیا گیا تو حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کے ارکان فرطِ مسرت سے آپس میں بغل گیر ہو گئے۔یہ اعلان سننا تھا کہ لوگ خوشی کے مارے سڑکوں پر نکل آئے ، ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیں۔ پورے ملک میں اسلامیانِ پاکستان نے گھی کے چراغ جلائے۔اس تاریخ ساز فیصلے کے بعد اکثر اسلامی ممالک نے یکے بعد دیگرے قادیانیوں کو غیرمسلم قراردیا۔یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس فیصلے نے جہاں اہلیان پاکستان کے دینی جذبات کی مکمل ترجمانی کی وہاں پر پوری دنیا کے مسلمانوں میں اسلامیان پاکستان کی قدر کو بھی بڑھا دیا کہ پاکستان کے مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر کسی کو ڈاکے ڈالنے کی قطعاً اجازت نہیں دے سکتے۔

قادیانی رات دن یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ہم قادیانی مسلمان ہیں ، ہمیں تو صرف پاکستان کی پارلیمنٹ نے کافر قرار دیا ہے اور اس طرح وہ سادہ لوح مسلمان جو قادیانیوں کے کفریہ عقیدہ سے صحیح طورپر واقف نہیں ، ان کو ورغلانے کی دجالانہ کوشش کرتے ہیں جب کہ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی تقریبا ً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تاجدار ختم نبوت حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالی کے آخری نبی اور رسول ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعوی کرئے، وہ کافر مرتد ، زندیق ، دائرہ اسلام سے خارج ، اور واجب القتل ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”نہیں ہیں محمد (صلی اللہ علیہ و سلم ) کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں اور اللہ تعالی ہر چیز کو جانتا ہے ” (سورة الاحزاب آیت نمبر40)۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کا نام مبارک لے کر فرمایا کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم خاتم النبین ہیں۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے ”میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ” (مسلم ) ایک اور حدیث مبارکہ ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ” میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے ، جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہی لوگ اس عمارت کے اردگرد پھرتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ( آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں ) اور میں خاتم النبین ہوں” (بخاری ، مسلم ، ترمذی )۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے تیس کذاب ہوں گے ، جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبین ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ” (ابو داؤد) 17 فروری 1983ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک مبلغ محمد اسلم قریشی کو مبینہ طور پر مرزا طاہر کے حکم پر مرزائیوں نے اغوا کیا تو یہ واقعہ ایک بار پھر بھرپور تحریک کا سبب بنا۔

اس تحریک کے سبب صدر جنرل ضیاء الحق نے 26اپریل1984ء کو ”امتناع قادیانیت آرڈیننس” جاری کیا ،جس کے مطابق قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر، قادیانی کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا، اذان دینا،اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنا اور شعائر اسلام استعمال کرنے کو جرم قرار دے دیا گیا۔اس آرڈیننس کے بعد قادیانیوں کا اس وقت کا سربراہ مرزا طاہر احمد یکم مئی 1984ء کوبھیس بدل کر بھاگ کر لندن جا پہنچا اور انگریز کے پاس پناہ حاصل کی اور اپنا ہیڈ کوارٹر چناب نگر سے لندن منتقل کر لیا۔ مگر ختم نبوت پر مر مٹنے والے علماء ومشائخ نے وہاں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا اور پوری دنیا کے دورے کیے اور دنیا بھر کے لوگوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو قادیانیت کے کفر سے آگا ہ کیا۔ مسلم کالونی ربوہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ایک عالی شان ختم نبوت مسجد تیار کی، جہاں 1982ء سے ہر سال سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھاکہ ” تصویر کا ایک رخ یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی میں یہ کمزوریاں اور عیوب تھے، اس کے نقوش میں توازن نہ تھا۔ قدوقامت میں تناسب نہ تھا، اخلاق کا جنازہ تھا، کریکٹر کی موت تھی، سچ کبھی نہ بولتا تھا، معاملات کا درست نہ تھا، بات کا پکا نہ تھا، بزدل اور ٹوڈی تھا، تقریر و تحریر ایسی ہے کہ پڑھ کر متلی ہونے لگتی ہے لیکن میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ اگر اس میں کوئی کمزوری بھی نہ ہوتی، وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا ، قویٰ میں تناسب ہوتا،چھاتی45 انچ کی، بہادر بھی ہوتا، کریکٹر کا آفتاب اور خاندان کا ماہتاب ہوتا، شاعر ہوتا، فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اس کا پانی بھرتا، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا،انگریزی کا شیکسپیئر اور اردو کا ابوالکلام ہوتا پھر نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟ نہیں ہرگز نہیں، میاں! آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج نبوت و رسالت جس کے سر پر ناز کرے۔

قادیانی آج بھی پاکستانی قانون کے مطابق غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنی سازشوں میں مصروف ہیں اور وہ سادہ لوح مسلمانوں کو یہ کہہ کر دھوکا دے رہے ہیں کہ ہمارا کلمہ، نماز، روزہ تم جیسا ہے پھر فرق کس بات کا ہے، پھر ہم کافر کیوں؟ اس کا واضح اور دو ٹوک جواب ان کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننا ہے اور حضور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی امتی کا دعویٰ نبوت کفر ہے اور اس کی نبوت کوتسلیم کرنا بھی کفر ہے، سات ستمبر کا دن پاکستان کے مسلمانوں کے لیے خصوصی طور پر اور دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے عمومی طور پر ایک یاد گار اور تاریخی دن ہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ ہم ختم نبوت کے سپاہی، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے دن رات ایک کردیں گے، اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے والے ہر فتنہ کفر کا محاسبہ کرتے رہیں گے۔

Rana Aijaz Hussain
Rana Aijaz Hussain

تحریر : رانا اعجاز حسین
ای میل:raraaijazmul@gmail.com
رابطہ نمبر:03009230033

Share this:
Tags:
History Judgment muslims pakistan Rana Aijaz Rana Aijaz Hussain اللہ ایمان تاریخ ساز فیصلے مسلمان
Shahzada Muhammad Bin Salman
Previous Post سعودی وزیر دفاع کا دورہ پاکستان، چین اور جاپان
Next Post بائونس کلب نے یوم آزادی اسپورٹس فیسٹیول باسکٹ بال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا
Yom e Azadi Sports Festival Basket Ball Tournament

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close