Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

رشتے مثبت رویوں کے محتاج ہیں

June 13, 2017 0 1 min read
Marriage
Marriage
Marriage

تحریر : چوہدری غلام غوث
پچھلے دنوں راقم ایک سرکاری سطح کی افطارپارٹی میں شریک تھا افطاری سے پانچ چھ منٹ قبل آواز آئی کہ دُعا کی جائے ایک صاحب جو پینٹ شرٹ اور ٹائی میں ملبوس تھے چہرے پر ہلکی داڑھی تھی اونچی آواز میں دُعا مانگنے لگے باقی سب حضرات سامع بن کر آمین کہتے گئے۔ دُعا مانگنے والے صاحب نے تکرار کے ساتھ دُعا میں یہ الفاظ دُہرائے یا اللہ جن لوگوں کی نوجوان بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں گھروں میں بیٹھی ہیں تو عالمِ غیب سے اُن کے لیے اچھے اسباب پیدا فرما دے سب سامعین نے آمین کہا یہ الفاظ میرے حافظے میں اٹک گئے میں نے افطاری اور نماز کی ادائیگی کے بعد ان الفاظ پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے غور و خوض کیا اور نتیجتاً یہ الفاظ مجھے اپنے معاشرے کا بہت بڑا المیہ لگے اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کیسا وقت آن پہنچا ہے کہ بابوئوں کی افطار پارٹی میں بھی بیٹیوں کے رشتوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے تو مجھے ایک قومی سطح کے رائٹر کی کتاب میں لکھا وہ واقع یاد آ گیا جس میں اُس نے لکھا تھا کہ ایک تقریب میں میرے سامنے ایک بچی آ گئی اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ روتی ہوئی مجھ سے مخاطب ہوئی میں نے صورتحال دیکھ کر اُس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اُس کی داستان سننے کے لیے اُسے ایک طرف کر لیا میں نے کہا بتاؤ بیٹی بچی نے پلو سے آنکھیں صاف کیں ، روتی اور سسکتی آواز میں بولی سر میں بھیڑ بکری ہوں، گائے بھینس ہوں، میز کُرسی ہوں۔

کپڑے کا سوٹ ہوں یا میں ایک ڈنر سیٹ ہوں ، میں کیا ہوں؟ میں نے جواب دیا، بیٹا! آپ ایک مکمل انسان ہو بچی کی عمر 20/22 سال کے قریب ہو گی وہ کالج میں پڑھتی تھی۔ دُوسری ماؤں کی طرح اُس کی ماں بھی اُس کی شادی کرنا چاہتی تھی پچھلے دنوں اُس کے لیے رشتہ آیا تھا لڑکا امریکہ میں انجینئر تھا لڑکے کے والدین دیہاتی پسِ منظر سے تعلق رکھتے تھے لہذا وہ بہو اور گائے میں خاص فرق نہیں سمجھتے تھے لڑکی کو دیکھنے کے لیے آئے اور لڑکے کی ماں نے بچی کا اس طرح مشاہدہ کیا جیسے دیہاتوں میں جانوروں کا کیا جاتا ہے۔ لڑکے کی ماں نے اُس کے ہاتھ پاؤں دیکھے اس کی نظر ٹیسٹ کی اپنے سامنے اُسے گھما پھرا کر دیکھا اس کا قد اور وزن معلوم کیا ، مُنہ کھلوا کر اُس کے دانت تک چیک کیے اور اُسے سونگھ کر دیکھا ،بچی حساس تھی ان حرکتوں سے اُس کا دل ٹوٹ گیا شاید بچی ساری باتیں برداشت کر جاتی مگر آخر پر لڑکے کی ماں نے ایسی عجیب حرکت کر دی وہ لڑکی کو باہر لے گئی اور دھوپ میں کھڑا کرکے اُس کا رنگ ملاحظہ کرنا شروع کر دیا بچی اس غلط اور فاش حرکت سے اتنی خوفزدہ ہوئی کہ وہاں سے دوڑی اندر آئی چٹخی لگائی اور دروازہ بند کرکے پورا دن خود کو کمرے میں قید رکھا۔

بچی کی آپ بیتی سُن کر مجھے اُس سے اپنی بیٹیوں سے بھی زیادہ ہمدردی ہوئی اُس نے سوال دوبارہ دُہرایا سر میں اب بھی ایک مکمل انسان ہوں اور اُس کی سسکیاں بندھ گئیں۔ اس دوران بچی نے روتے ہوئے صرف یہ الفاظ کہے ” سر اُنہوں نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا” اس کے بعد بچی سے فرطِ جذبات کی وجہ سے مزید بات نہ ہو سکی میں نے شفقت بھرے لہجے میں اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا بیٹا اس لیے کہ وہ لوگ خود ادھورے تھے ان لوگوں نے زندگی کو کبھی جانوروں کی سطح سے اوپر نہیں دیکھا چونکہ گنوار اور جاہل تھے دوسری چیزوں کو اپنے معیار اور نقطہ نظر سے جانچتے تھے ایک گائے دُنیا کی دوسری گائے کو گائے کی نظر سے دیکھے گی، ایک چڑیا پوری کائنات کو چڑیا کی آنکھ سے پرکھے گی، ایک بھیڑیا ساری دُنیا کو خونخوار بھیڑیئے کی نظر سے دیکھے گا چونکہ وہ لوگ انسانوں کے بھیس میں جانور تھے لہذا اُنہوں نے جانوروں کی طرح تمہارا جائزہ لیا اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں تم خود سوچو اگر کوئی شخص گھاس کی ٹوکری میں ہیرا رکھ کر گدھے کے سامنے رکھ دے اور گدھا اس ہیرے کو زمین پر پھینک دے تو ہیرے کو تو اس سلوک پر ملال نہیں ہونا چاہیئے۔ بچی نے آنسو پونچھے اور ذرا سا مسکرا کر بولی سر اس موضوع کو اپنی کتاب میں جگہ ضرور دیں لڑکوں کے ماں باپ کو ضرور یہ بتائیں کہ لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں اور اللہ نے ان کو بھی دل، دماغ اور انا دے رکھی ہوتی ہے۔ سر ان کو ضرور سمجھائیں کہ اشرف المخلوقات انسان کو بھیڑ بکریاں نہ بنائیں بلکہ اس کے ساتھ انسانوں والا سلوک کریں۔

قارئین کرام! یہ واقعہ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا سلگتا ہوا المیہ ہے جس کی تپش نے معاشرے کو جھُلسا دیا ہے۔ والدین کتنے زیادہ پریشان ہیں اس کی سنگینی کا اندازہ اس طرح کی بابرکت محفلوں میں دُعائیں کروانے سے کیا جا سکتا ہے۔ بچیوں کے والدین آج بھی اس کربناک صورتحال سے دوچار ہیں کہ واجبی شکل کی بچی، جس کے والدین کا معاشی پسِ منظر بھی کمزور ہو، آئے روز لڑکوں کے والدین دیکھنے کے لیے آتے ہیں اور یہ سلسلہ سالوں تک جاری رہتا ہے دیکھ کر چلے جاتے ہیں اور جواب ندارد، جبکہ کچھ ناں کی صورت میں تو اس صورتحال سے گھروں میں بیٹھی بچیاں نفسیاتی مریضہ بن جاتی ہیں ۔ راقم کی ذاتی رائے ہے کہ ہمیشہ لڑکی والوں کو پہلے جا کر خود لڑکا دیکھناچاہیئے اور لڑکے والوں کو ہر گز پہلے اپنے گھر نہیں بُلانا چاہیئے تاکہ اگر پہلے راؤنڈ میں اُنہیں لڑکا پسند آ جائے تو تب لڑکے والوں کو اپنے گھر بُلائیں تاکہ لڑکی کو دیکھنے والوں کی منتخب تعداد ہی گھر پر آئے جس سے لڑکیوں کو آئے روز دیکھنے آنے والوں کی بھر مار سے دور رکھ کر نفسیاتی طور پر اُسے احساسِ کمتری سے بچایا جا سکے۔وقت یکسر ایسا بدلا ہے کبھی وہ زمانہ تھا ہمارے بڑے بزرگ کہتے تھے کہ لڑکے کا رشتہ ڈھونڈنے کے لیے لڑکے والوں کی جوتیاں گھس کر ٹوٹ جاتی تھیں اور کئی ایک تو بیچارے کنوارے ہی جہانِ فانی سے رُخصت ہو جاتے تھے جن کا رشتہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے میر عالم اور نائی بھی ناک آؤٹ ہو جاتے تھے۔

اب بیٹیوں والے اتنے پریشان ہیں کہ جوان بیٹیوں کے ماں باپ رات کو سکون کی نیند بھی نہیں سو سکتے۔ اب تو یہ بات انسانی مشاہدے اور شکل و صورت تک محدود نہیں رہی لوگ دولت دیکھتے ہیں، بنک بیلنس، رہائش کی جگہ اور علاقہ، خاندان کے پسِ منظر کی ٹھاٹھ باٹھ اور لین دین جبکہ رقبہ اور زمین کے معاملات تک دیکھے جاتے ہیں۔ہمارا معاشرہ تعلیم کے زیور سے آراستہ پیراستہ لڑکیوں کو ٹھکرا کر ظاہری نمود و نمائش کے زیور سے آراستہ دیکھنا چاہتا ہے اور اس منفی رجحان نے ہماری بے شمار پڑھی لکھی بچیوں کو رشتوں کے انتظار میں اتنا بوڑھا کر دیا ہے کہ اُن کے سر کے بالوں میں چاندی اُتر آئی ہے۔میں اس صورتحال سے رنجیدہ ہو جاتا ہوں تو اپنے قابلِ اعتماد دوستوں سے شیئر کرتا ہوں اس موضوع پر ایک بڑے سمجھدار اور سنجیدہ شخصیت کے مالک دوست سے بات کی تو اُنہوں نے میری پریشانی اور کرب دیکھ کر مجھے ایک ایسا فارمولا بتایا کہ میرا دل کافی حد تک مطمئن ہو گیا۔دوست بولا چوہدری صاحب افسوس کرنے سے اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکتا ہمیں عملی طور پر بولڈ سٹیپ لینا ہو گا میں نے پوچھا وہ کیسے وہ مُسکرا کر بولا میں نے اپنے بیٹے کی شادی کرنی تھی ہم نے بھی اس سلسلے میں بیس پچیس رشتے دیکھے مگر ہم نے کسی بچی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی میں نے پوچھا وہ کیسے جناب وہ مسکرایا اور کہا ایک تو ہم براہِ راست رشتہ دیکھنے بچی والوں کے گھر نہیں جاتے تھے کسی دوست نے اگر کوئی رشتہ بتایا تو ہم اُس دوست کے گھر چلے جاتے وہ بہانے سے بچی اور اُس کے والدین کو گھر بُلا لیتا کھُل کر غیر رسمی گفتگو ہوتی اور غیر محسوس طریقے سے ہم بچی کو بھی دیکھ لیتے یا کسی تقریب کا اہتمام کر لیتے اور وہاں بچی اور اُس کے والدین کو مدعو کر کے اُن کی لاعلمی میں بچی کا مشاہدہ کر لیتے تھے اس چالاکی کے دوران صرف ایک دفعہ ایسا موقع آیا کہ ہم کسی کے گھر گئے اور وہاں پر گھر والوں نے یہ تاثر دے دیا کہ لڑکے والے آئے ہیں ہم وہاں جا کر پریشان ہو گئے بچی اور بچے کی جوڑی کا میل ہماری نظر میں مشکل تھا ہم بچی کے والدین کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتے تھے لہذا وہاں میں نے ایک عجیب تکنیک استعمال کی میں نے بچی کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس سے کہا بیٹی! تم جس گھر میں بھی جاؤ گی وہ لوگ بہت خوش قسمت ہوں گے اور تم اُن کی آنکھ کا تارا بن جاؤ گی تم مجھے بہت اچھی لگی ہو تم بالکل میری بیٹیوں جیسی ہو لہذا میں تمہیں دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا میرا بیٹا تمہارے قابل نہیں ہے اس کا آئی کیو لیول، اس کی تعلیم اور اس کے روّیے تم سے بہت چھوٹے ہیں وہ خوبصورتی میں بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتا لہذا میں تمہارے ساتھ یہ ظلم نہیں کر سکتا۔

میرے ان الفاظ نے بچی اور اس کے والدین کی ڈھارس بندھائی وہ آج تک ہمارا برابر احترام کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے اس دوست کی یہ یکتا ادا بہت اچھی لگی وہ تھوڑامتفکر ہوا اور نہایت سنجیدہ ہو کر بولا چوہدری صاحب ” ہم دوسروں کو پسند کرنے کے لیے شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن ہمیں لوگوں کو مسترد کرنے کے لیے اس سے پانچ ہزار گنا زیادہ شائستگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہاں تو دُنیا میں سب ہی دلیری سے کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ناں ایک ایسا آرٹ اور ہُنر ہے اور یہ آرٹ اور ہنر ہمارے مُلک کے ہر اُس شخص کو اس وقت سیکھ لینا چاہیے جس وقت نرس یا دائی اس کی گود میں اُس کا بیٹا لا کر ڈالتی ہے اور ذرا سا مسکرا کر بولا ہمیں اس مُلک کے تمام لڑکے والوں کو یہ آرٹ اور یہ ہنر سکھانا ہو گا یہ سب عملی طور پر قدم اُٹھانے سے ممکن ہو گا۔ میرے دل سے ٹھنڈی آہ نکلی میرا دھیان اُس افطاری کی طرف دوبارہ لوٹ گیا اوراللہ سے عاجزانہ عرض کی یا اللہ! ہماری اس افطاری کے ان الفاظ کو مستجاب کر دے جس پر مانگنے والے نے کہا تھا اسے پروردگار! جن گھروں میں نوجوان بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں اُن کے لیے بہتر اسباب اپنے خزانہء غیب سے پیدا فرما دے اور میں بھرائی ہوئی آواز میں دوبارہ آمین کہہ کر خاموش ہو گیا۔

Ch Ghulam Ghaus
Ch Ghulam Ghaus

تحریر : چوہدری غلام غوث

Share this:
Tags:
needs parents Prayer relationships دعا رشتے محتاج والدین
Indian Army in Kashmir
Previous Post کشمیریوں کونیست و نابود کرنے کی بھارتی دھمکیوں پر عمل درآمد
Next Post جاول کی تاریخی جھیل کن پراؤ پر قبضہ کے خلاف بدین میں پاکستان فشر فوک فورم کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ
Badin

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close