
پیسا پانی کی طرح بہا رہا ہوں میں آپ کے لئے پاپا
مہنگا ہسپتال مہنگے ڈاکٹر مہنگی دوآیاں مہنگا کمرہ
اور کیا چاہیے آپ کو
میں تو آپ کو وہی لوٹا رہا ہوں جو آپ نے مجھے دیا
مہنگی تعلیم مہنگا گھر مہنگی گاڑی مہنگا آفس
جو نہیں دیا وہ میں آپ کو کیسے دے سکتا ہوں ترستا رہا میں
آپ کے وقت، توجہ اور پیار کے لئے
یہ کہہ کر وہ برہمی سے منہ پھیر کر کمرے سے باہر نکل گیا
اکلوتے بیٹے کی یہ بے مہری دیکھ کر
بستر پر پڑے وجود کی آنکھوں سے پچھتاوے بہنے لگے !!!
از شاز ملک
