
اے میرے ہمنشیں
دل کئی آواز کو
درد کے ساز کو
سن لیا تم نے کیا
میرے نالوں کو بھی
دل کے چھالوں کو بھی
گن لیا تم نے کیا
بے سدا رہ گئی
وہ محبت میری
بےوجہ آج تک
ساری باتیں کہیں
بے ضرورت سہی
ملاقاتیں بھی تھیں
آج تک جو کہا
تم نے جو ہے سنا
ان کہی داستان
آج کئی رات تھی
بس کہانی میری
ختم ہونے کو ہے
اب محبت میری
بھرم کھونے کو ہے
فہمیدہ غوری.کراچی
