
بنگلور (جیوڈیسک) منا ڈے یکم مئی 1919 میں بھارتی ریاست بنگال کے شہر کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں مادری زبان بنگالی کے علاوہ ہندی، اردو، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، کنڑ اور آسامی زبان میں فلموں کے لیے گیت گائے۔ منا ڈے کا شمار 1950 اور 60 کی دہائی کے اہم پلے بیک سنگروں میں ہوتا تھا۔
انہوں نے سچن دیو برمن کے ساتھ بطور معاون موسیقار بھی کام کیا تھا۔ منا ڈے کو ہر طرح کے نغموں کو باآسانی گانے کا ہنر تھا۔ ان کی خاص شہرت اور مہارت کلاسیکی انداز کی گائیکی تھی۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو مہارت انھیں کلاسیکی گائیکی میں حاصل تھی وہ بالی وڈ کے کسی دوسرے مرد گلوکار کو حاصل نہیں ہوئی۔
انہوں نے استاد امان علی خان اور استاد عبدالرحمن خان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ محمد رفیع، طلعت محمود، کشور کمار اور مکیش جیسے بڑے گلوکاروں کے زمانے میں اپنی مخصوص پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔
منا ڈے کو پدم شری اور پدم بھوشن جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ منا ڈے نے لاگا چنری میں داغ، پوچھو نہ کیسے میں نے رین بتائی، اے مری زہرہ جبیں، پھول گیندوا نہ مارو، کون آیا میرے من کے دوارے، ‘تو پیار کا ساگر ہے، یاری ہے ایمان میرا یار میری زندگی، اے بھائی ذرا دیکھ کے چلو، ‘تجھے سورج کہوں یا چندا اور یہ رات بھیگی بھیگی جیسے یادگار گیت گائے۔
منا ڈے کی طبعیت بگڑنے پر انہیں بنگلور کے ہسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے جمعرات کو صبح چار بجے ان کے انتقال کا اعلان کیا۔ اس سے قبل رواں برس جون میں بھی انہیں سینے میں انفیکشن کے سبب ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کیا گیا تھا لیکن پھر وہ رو بہ صحت ہو کر گھر آ گئے تھے۔
