Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دستور ہند اور سیکولرازم کا تحفظ کانفرنس کے حوالے سے چند باتیں

December 23, 2018December 23, 2018 0 1 min read
Kolkata Conference

Kolkata Conference
Kolkata Conference

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری

ملک کے اندر اس وقت جس طرح مذہب کے نام پر لوگوں کو بانٹنے ، آپسی محبت ، رواداری کو ختم کرنے اورخوف و دہشت کا ماحول بنایا جا رہا ہے اور بر سر اقتدار رہنے کے لئے آئے دن ملک کے دستور اور سیکولرازم کی پامالی ہو رہی ہے ، ان حالات میں امن پسند شہریوں اور دانشوروںکی نیندیں حرام ہیں کہ اگر یہی حالات رہے تو ملک کی سا لمیت و استحکام کا کیا ہو گا؟

ایسے ناگفتہ بہ حالات میںآل انڈیا انجمن اتحاد ملّت ، کلکتہ کی جانب سے ”دستور ہند اور سیکولرازم کا تحفظ” جیسے اہم موضوع پر آل انڈیا مسلم کانفرنس کا انعقاد وقت کے تقاضے کو سمجھتے ہوئے کیا گیا ۔ جس میں عزیز برنی، مولانا سید عامر رشادی مدنی، سید احمد قادری، مولانا سید علی حسین قمّی، شکیل صمدانی، اے۔ آر۔ انصاری، جاوید اقبال، حافظ ہاشم قادری مصباہی، مولانا محمد شفیق قاسمی جیسی مختلف مکتبۂ فکر کی اہم شخصیات کو اس کانفرنس کے حوالے سے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرپورے ملک میں ایک مثبت پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات واضح کر دوں کہ آر ایس ایس ان دنوں مغربی بنگال کی پر امن فضا کو فرقہ واریت کا رنگ دے کر مسموم کرنے کے درپئے ہے ۔

رتھ یاترا نکالنے کے لئے جس طرح وہ بضددِکھ رہی ہے اوریہاں کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اس کے خلاف مورچہ لئے ہوئی ہیں ، وہ یقینا قابل تعریف ہے ۔ اس رتھ یاترا کے پیچھے اس پارٹی کے مقاصد کیا ہیں ، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔ یہ بھی اتفاق ہی تھا کہ گزشتہ 13دسمبر 18 ء کو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت ، کلکتہ شہر کے مختلف بند کمروں میں دستور ہند اور سیکولرازم کی پامالی کے منصوبے بنانے میں مصروف تھے اور ادھر کلکتہ شہر کے قلب میں واقع مسلم انسٹی ٹیوٹ ہال سے ترنمول کانگریس کے ممبر اسمبلی اور انجمن کے صدر معین الدین شمس مائک پر ببانگ دہل چیلنج کر رہے تھے کہ ہم کسی بھی قیمت پر ملک کے دستور اور سیکولرازم کی پامالی برداشت نہیں کرینگے ۔ اس کے لئے ہمیں جو کچھ بھی قربانی دینا پڑے گی ، اس کے لئے ہم تیار ہیں ۔ موہن بھگوت اور ان کی حکومت کے ہندوتوا کے خواب کو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دینگے۔ معین الدین شمس نے اپنی تقریر میں اس بات کو بھی واضح کر دیا کہ کلکتہ سے جو تحریک شروع ہوتی ہے ، وہ پورے ملک کی فضا میں چھا جانے کی قوت رکھتی ہے اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ دستور ہند اور سیکولرازم کے تحفظ کے لئے ملکی پیمانے پر مہم چلائنگے اور اس کے لئے ہماری انجمن ملک کے سیکولر لوگوںکے ساتھ مل کر 26 دسمبر سے 26 جنوری تک دستخطی مہم چلائنگے اور 27 جنوری 19 20ء کو دہلی میں صدر جمہوریہ ہند کو دستخط شدہ میمورنڈم پیش کرینگے۔ معین الدین شمس کے بعد انجمن کے نائب صدر ڈاکٹر جمال الدین شمس نے بھی اپنی پر مغز اور پر جوش تقریر میں صاف طور پر کہا کہ دستور ہند میں کسی طرح کی تبدیلی ہوتی ہے تو اس سے ملک کو بھاری نقصان ہوگا ۔ ہم اگر اپنے دستور اور سیکولرازم کو نہیں بچا پاتے ہیں تو یہ ملک نہیں بچے گا ۔

اس لئے کہ ہمارا دستور ہی ملک کو یکجہتی ، رواداری، محبت کی تلقین کرتا ہے ہم حکومت کا ایسا کوئی بھی فرمان ماننے کو تیار نہیں ہیں ، جو ملک کی شاندار روایات واقدار کو ختم کر دے۔ ڈاکٹر جمال الدین شمس نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ دستور ہند اور سیکولرازم کے تحفظ کی لڑائی آج ملک کے نوے فی صد لوگ لڑ رہے ہیں ۔ ممبر مسلم پرسنل لا بورڈ پروفیسر شکیل صمدانی (علی گڑھ) نے اپنی تقریر میںبتایا کہ آئے دن دستور کی پامالی اور آئین کی تبدیلی کا خوف اس وقت ملک کے نوے فی صد لوگوں کا مسئلہ بن گیا ہے اور اس مسئلہ کو اتحاد و اتفاق کے ذریعہ ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔ مضبوط اتحاد کی اس وقت سخت ضرورت ہے اور یہی مضبوط اتحاد ہی ملک دشمن عناصر کو شکست دے سکتی ہے ۔

اپنی افتتاحی تقریر میں مغربی بنگال کے وزیر اور کلکتہ کے پہلے مسلم میئر فِرہاد حکیم نے آر ایس ایس کے چہرے سے نقاب اتارتے ہوئے یہ بتایا کہ یہ ہمیشہ سے برٹش حکومت کا دلال رہا ہے ، اور اس کی ہمیشہ یہی پالیسی رہی ہے کہ لوگوں میں نفاق ڈالو اور حکومت کرو۔ لیکن اب اس کی یہ پالیسی اس ملک میں کامیاب نہیں ہونے والی ہے ۔ ہم کیا کھائینگے ، کیسے رہینگے ، یہ سب ہمارا نجی معاملہ ہے ، ان حقوق کو کوئی ہم سے نہیں چھین سکتا ہے ۔ ہم کسی بھی قیمت پر فرقہ پرستی کے آگے نہیں جھکینگے اور نہ ہی اس سرزمین پر فرقہ پرستی کو بڑھنے دینگے ۔اس سرزمین کو قاضی نزر السلام ، سوامی ویویکانند اور رابندر ناتھ ٹیگور وغیرہ جیسی تاریخ ساز شخصیتوں نے سینچا ہے ۔ مشہور اردو صحافی عزیز برنی نے بھی گزشتہ چند برسوں میں ملک کے اندر فرقہ واریت کے بڑھتے حالات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ فرقہ پرست طاقتوں نے ملک کو اس درجہ اپنے شکنجے میں لے لیا ہے کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب پارہ پارہ ہو گئی اور پھر وہی تقسیم وطن جیسا ماحول نظر آنے لگا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے عوام خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان ، وہ ملک میں امن چاہتے ہیں ۔کلکتہ کے اس تاریخی اجلاس میں مولانا سید عامر رشادی مدنی ، قومی صدر راشٹریہ علمأ کونسل ، اعظم گڑھ نے بھی موجودہ حالات میں دستور ہند اور سیکولرازم کی حفاظت اسی وقت ممکن ہے جب شیعہ، سنّی ، دیو بندی، بریلوی جیسے مسلکی جھگڑوں کو چھوڑ کر ایک اللہ ایک رسول کے نام پر متحد ہو جائیں ، تبھی فرقہ پرستوں کے بڑھتے حوصلوں کو پست کیا جا سکتا ہے ۔ آل انڈیا مسلم کانفرنس میں، میں بھی مدعو تھا ۔ اس موقع پر میں نے تاریخ کے حوالے سے یہ بات بتائی کہ جین مذہب کے پیروکار چندر گپت موریہ اور راجہ اشوک نے اپنے بودھ مذہب کو ضرور اپنی حکومت کی بنیاد بنایا تھا۔لیکن اس کے بعد محمد بن قاسم سے لے کر مغلوں کی آٹھ سؤ سال کی حکومت اور پھر انگریز بہادر و برٹشوں کی دو سؤ برسوں تک کی حکومت میں کسی بھی حکمراں نے اپنے مذہب کو حکومت کی بنیاد نہیں بنایا بلکہ آزادیٔ مذہب کو اصول بنایا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہزار سال گزر جانے کے باوجود ہمارے ملک کا سیکولر مزاج رہا ہے ۔ جسے مٹھی بھر فرقہ پرست طاقت ختم کرنے کے درپئے ہے ۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آزادی ملنے کے بعد بھی ہمارے دستور سازوں نے دستور میں لفظ سیکولر کی شمولیت کو ضروری نہیں سمجھا تھا ۔ لیکن مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد فرقہ پرست تنظیموں کے ذریعہ مسلسل ملک کے اندر سیکولرازم کی پامالی بڑھنے لگی اور ہزاروں برس کی گنگا جمنا تہذیب واقدار پر خطرہ منڈرانے لگا تب اندرا گاندھی کی حکومت نے 1976 ء میں دستور ہند کے تمہید میں 42ویں ترمیم کے ذریعہ لفظ سیکولر کو شامل کیا تھا ۔ افسوس کہ آج مٹھی بھر فرقہ پرستوں کو ملک کا آئین اور لفظ سیکولرازم بوجھ لگنے لگا ہے ۔ ہم اس امر انکار نہیں کر سکتے کہ ہمارا ملک گنگا جمنی تہذیب ،مساوات ،یکجہتی، اوررواداری کے لئے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔وہ اس وقت بہت ہی خطرناک دور سے گزر رہا ہے اور اپنے شاندار ماضی پر آنسو بہا رہا ہے۔ ایسے بد سے بدتر حالات کے مد نظر سنجیدہ اور سیکولر طبقہ کی فکر مندی اور تشویش فطری ہے ۔

سیکولرازم اور دستور ہند کی ہمنوائی کی سزا کلبرگی، پانسرے،دابھولکر اور گوری لنکیش وغیرہ کو دی گئی اور جس بے رحمی سے انھیں قتل کیا گیا ،ان کا یہ حشر دیکھ کر آئین اور سیکولرازم کے علمبرداروں کا خوف زدہ ہونا بھی فطری ہے۔ ملک کے ادیبوں ، شاعروں نے عدم رواداری ، فرقہ واریت اور بڑھتے تشدد کے ماحول پر احتجاج میں سرکاری ایوارڈ واپس کرنے کی ہمّت دکھائی ، تو انھیں بھی ذلیل و خوار کیا گیا ۔فلم انڈسٹری کے باضمیر فلم سازوں اور فنکاروں نے دستور ہند کی دوہائی دیتے ہوئے بڑھتے ظلم و نا انصافی کے خلاف اٹھائی تو ان کے احساس و جذبات کو بھی خوف اور عدم تحفظ کا احساس کرا کر کچل دیا گیا۔

ایسے سنگین اور خوف و دہشت بھرے حالات میں ملک کے اسّی فی صد سے زائد ملک کے عوام کا تشویش میں مبتلاہیں ۔ ایسے لوگ دبی دبی زبان سے اپنی ناراضگی اور خدشات کا اظہار کررہے ہیں ، چند اخبارات اور چینل بھی ہمت و جرأت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔لیکن جب ہمارے سابق صدر جمہوریہ ہند عالی جناب پرنب مکھرجی ، جو حال ہی میں ناگپور میں آر ایس ایس کے مرکز کا دورہ بھی کر چکے ہیں ، وہ جب یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ” ملک اس وقت برے اور خراب دور سے گزر رہا ہے ،جہاں تعصب اور تنگ نظری میں بہت اضافہ ہو گیا ہے”تب حالات کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔پرنب دا نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ” جس سر زمین نے دنیا کو خاندان کے اقدار اور رواداری ،تہذیب و ثقافت کے تصّور کو فروغ دیا،وہ اب تعصب ، غصّے کا اظہار اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے لئے خبروں میں ہے ۔”

محترم پرنب مکھرجی اور دیگر کئی دانشوروں کی ایسی حقیت بیانی کے بعد ملک کی بہت بڑی آبادی کو یہ سوچنے کے لئے مجبور کر دیا ہے کہ یہی حالات رہے تو ہمارے ملک کے دستور اور اس دستور میں شامل کئے گئے سیکولرازم کا تحفظ کیسے قائم رہ سکتا ہے ۔ فسطائی قوتوں نے منافرت، فرقہ واریت ،بد امنی،انتشار، افراتفری اور انارکا زہر گھول کر اور ملک کے دستور کو بدل کر ملک کی نہ صرف صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے کے در پئے ہے اس سے ملک کی سا لمیت پر بھی خطرے منڈرا رہے ہیں ۔

ان تمام حالات اور خدشات کے مداوا کے لئے یوں تو اس وقت ملک کے کونے کونے میں احتجاج ومظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ، لیکن دستور ہنداور سیکولرازم کے تحفظ کے موضوع پر پورے ملک میں پہلی بارآل انڈیا انجمن اتحاد ملت نے باضابطہ طور اس سر زمین سے جو غیر آئینی اور غیر انسانی کوشش کرنے والوں کو اپنی ٹھوکروں پر رکھتی ہے اور یہ کہنے کی جرأت رکھتی ہے کہ ہم فرقہ پرستی کو یہاں پنپنے نہیں دینگے ، وہاں سے ،ملک میں بڑھتے انتشار، لا قانونیت، بد امنی ،افراتفری، انارکی،فرقہ واریت، عدم رواداری اور غیر انسانی و غیر آئینی رجحان کے بڑھتے اندھیرے کو دور کرنے کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔

اب جیسے جیسے پارلیامنٹ کا انتخاب قریب آ رہا ہے ، ویسے ویسے شکست کے خوف سے آر ایس ایس اور اس کی سیاسی جماعت وحکومت کی چھٹپٹاہٹ بڑھتی جا رہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے کوئی بھی ایسا کام نہیں کیا جو ملک کے عوام کے فلاح و بہبود اورمفادات میں ہو ۔بلکہ پورے ملک میں فرقہ واریت کا زہر گھول کر ہندوتوا کے ایجنڈے پر کام کرتی رہی اور ببانگ دہل یہ بات کہی گئی کہ ہم تو ملک کا آئین بدلنے کے لئے ہی حکومت میں آئے ہیں ۔انتہا تو یہ ہے کہ سیکولرازم کی بات کرنے والوں کی ولدیت کو بھی مشکوک قرار دیا گیا ۔

یہ تو دستور ہند اور سیکولرازم کی پامالی کا منظر نامہ ہو ا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے اور جیسا کہ اس کانفرنس کا موضوع ہے کہ ان کا تحفظ کیسے ہو ؟ یہ سوال بہت ہی اہم ہے کہ ان کے تحفظ پر ہی نہ صرف ہمارے ملک کی جمہوریت بلکہ اس کی سا لمیت کا انحصار ہے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم آپسی رنجشوں ، نااتفاقی اور اختلافات کو اتحاد و اتفاق میں ہر ممکن طور بدلنے کی کوشش کریں ۔ اپنے تمام مسلکی جھگڑوں کو بھی فی ا لحال سرد خانے میں ڈال دیں اور ملک کے سیکولر طاقتوں کے ساتھ مل کر ان قوتوں کا سامنا کرنے کی تیاری کریں ، جو بہت ہی منظم اور منصوبہ بندطریقے سے اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لئے کمر بستہ ہیں ۔ ہمیں ان عناصر سے بھی ہوشیار رہنا ضروری ہے جو ہماری صفوں میں داخل ہو کر اور بظاہر ہمارے ہمدرد بن کر ہمیں کمزور اور بے وقعت کرنے اور ہمارے وجود اور تشخص کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے در پئے ہیں ۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمارے درمیان ایسے افراد بھی ہیں جو دانستہ اور نادانستہ طور پر دستور ہند اور سیکولرازم کو ختم کرنے والوں کے عزائم سے چشم پوشی کرتے ہوئے عہدہ اور مال و دولت کے لئے استعمال ہونے کے لئے ہمہ وقت تیار بیٹھے ہیں ۔ہمیں ایسے آستین کے سانپ سے بھی بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ یقین جانئے کہ اس وقت ملک کے اسّی فی صد سے زائد ایسے لوگ ہیں ، جو ملک کے اندر رواداری، یکجہتی ، انصاف، بھائی چارگی کا ماحول قائم رکھنے کے لئے بے چین ہیں ۔ ایسی سیکولر طاقت کے ساتھ ہی اپنے تمام تر اختلافات اور ترجیحات کو فراموش کر ساتھ چلنا ہوگا ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ہمارا ساتھ دینے والے، سیکولر ازم پر یقین رکھنے والے اور آئین کے تقدس کی پامالی پر مخالفت کرنے والے بھی کمزور پڑ جائینگے ۔ اگر ہم نوشتۂ دیوار کو پڑھنے سے گریز کر رہے ہیں اور ملک میں بڑھتی خانہ جنگی اور قتل وغارت گری کے بہت قریب ہوتی دھمک کو نہیں سن پا رہے ہیں ، تویہ ہماری بے حسی ہے اور ایسے ہی حالات رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں ۔ اب دیکھنا ہے کہ کلکتہ سے معین الدین شمس نے بڑھتے اندھیرے کو دور کرنے کے لئے بڑی محنت سے اس کانفرنس کا انعقاد کر روشنی کی کرن دکھائی ہے۔ اس پر ہم کس قدر سنجیدہ ہوتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو کیسا پیغام دیتے ہیں۔

Dr syed Ahmad Quadri
Dr syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری

Share this:
Tags:
India power Secularism اقتدار انڈیا شہریوں کانفرنس
Indian Army
Previous Post کشمیر میں بھارتی مظالم کو لگام دو
Next Post اِنتشار میں کسی کی بھلائی نہیں
Fawad Chaudhry

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close