Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شاہ ولی اللہ کی عمرانی خدمات ایک جائزہ

January 30, 2017 0 1 min read
Shah Wali Allah
Shah Wali Allah
Shah Wali Allah

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
حضرت شاہ ولی اللہ نے جس دور میں آنکھ کھولی وہ بڑا پر آشوب دور تھا ۔آپکی پیدائش اورنگ زیب عالمگیر کی وفات سے چار سال قبل 1703 میں دہلی میں ہوئی۔آپ ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے شاہ صاحب کے والد شیخ عبدالرحیم ایک بہت نامور عالم دین تھے۔جنہوں نے دہلی میں مدرسہِ رحیمیہ کی بنیاد رکھی جس سے برصغیر پاک و ہند میں علم و دانش کے سوتے پھوٹے۔ جس کی چند ہی سالوں میں پورے برصغیر میں دینی شہرت ہوگئی۔ یہ دور مسلمانون کے محض سیاسی زوال کا ہی نہ تھا بلکہ اس زمانے میں مسلمان ذہنی، علمی، اخلاقی ،روحانی،سماجی اور فوجی غرض یہ کہ ہر لحاظ سے یہ تیزی کے ساتھ پستی کی جانب بڑھ رہے تھے۔شاہ صاحب نے شعور کی آنکھ کھولتے ہی مسلمانانِ ہند کو جن حالات میں پایا وہ انتہائی مایوس کن تھے۔مشرق کی جانب سے سفید آندھی ہندوستان پر چھا جانے کے لئے پر تول رہی تھی۔جنوبیہندوستان میں مرہٹہ، پنجاب میں سکھوں کی بڑھتی ہوئی طاقت مسلمانوں کو خطرے کا سگنل دے رہی تھی۔لیکن بر صغیر کے مسلمانوں کی بد نصیبی کا یہ عالم تھا کہ اپنے قومی وجود کے تحفظ سے انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔اُمراء عیش و نشاطمیں بد مست تھے،تو علماء مذہبی منافرتوں و فرقہ بندیون کا شکار تھے۔ہندوانہ رسم و رواج مسلمانوں میں عام ہوچکے تھے۔ اس کیفیت میں ان کی طاقت اپنوں ہی کے خلاف استعمال ہو رہی تھی۔اس دوران انہیں اپنے اصل دشمنوں سے بچنے تک کا بھی خیال نہ آیا ۔ان کی بے خبریوں اور حماقتوں کا یہ عالم تھا کہ،سکھ مر ہٹوں اور انگریز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت کے خطرات کا ان کو ذرہ بھر بھی احساس نہ تھا۔قریب تھا کہ ہندوستان سے مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹا دیا جائے۔ حضرت شاہ ولی اللہ ان حالات سے بے حد پریشان تھے ۔ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی، سماجی، مذہبی ومعاشی مستقبل سے جب مایوسی کی جھلک نظر آئی، توآپ نے ارادہ کر لیا کہ باقی ماندہ زندگی حرمین شریفین میں گذار دیں۔ مگر جب اللہ تعالیٰ کسی سے بڑا کام لینا چاہتا ہے تو اس کے لئے ذرائع بھی پیدا فرما دیتا ہے۔ قیام حجاز مقدس کے دوران آپ کو رسولِ پاکﷺکی زیارت ہوئی جس میں نبیِ محترمﷺنے فرمایا ’’تمہارے لئے اللہ کا ارادہ ہوچکا ہے کہ امتِ مسلمہ کے جتھوں میں سے کسی جھتے کی تنظیم تمہارے ذریعے کی جائے گی‘‘ لہٰذا لوگوں کی رہنمائی کے لئے ہنداستان واپس چلے جاؤ۔

رسول اللہ ﷺ سے بشارت حاصل کرنے کے بعد آپ نے فوراََہندوستان کیلئے رختِ سفر باندھ لیا۔دہلی واپس آتے ہی آپ نے مذہبی فرائض کی انجام دہی شروع کر دی۔آپ کا ہندوستان کے عوام کیلئے سب اہم کام قرآنِ پاک کا سلیس فارسی زبان میں ترجمہ تھا۔جس پر کئی مفاد پرست نام نہاد عالموں نے آپ کی شدت کے ساتھ مخالفت شروع کر دی۔اس زمانے میں مسلمانانِ ہند کی زبان فارسی تھی۔اسوقت اردو اپنے ابتدائی مراحل طے کر رہی تھی۔شاہ صاحب کا فارسی ترجمہ بڑی حد تک مروجہ اردو سے مماثلت رکھتا تھا۔اس طرح عوام کے لئے قرآن فہمی بہت آسان ہوگئی تاکہ کسیکو بھی قرآن پاک کو اپنی زبان میں سمجھنے میں کوئی دشواری نہ رہے اور اپنی سماجی برائیوں کا آسانی کے ساتھ خاتمہ کر سکیں۔شاہ صاحب اس بات سے بہت فکر مند تھے کہ مسلمانوں میں معمولی اختلافات کو صحیح تناسب میں دیکھا جائے۔یہ ہی وجہ تھی کہ آپ نے ہر اختلافی بات پر بھر پور بحث کی اور مختلف نقطہ ہائے نظر میں مفاہمت کرانے کی کوشش جاری رکھی۔ آپ نے صوفیا کے درمیان پیدا شدہ آویزش کودور کرنے میں اہم کردار ادا فرمایا۔جو وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے تنازعے نے ان کے درمیان پیدا کر دی تھی۔ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ شاہ صاحب نے بر عظیم کے مختلف اسلامی فرقوں میں مفاہمت اور روا داری کی ایسی بنیاد رکھدی تھی کہ جس نے کبھی کبھی کی رکاوٹوں کو ختم کر کے فرقہ وارنہ روایات کو بر قرار رکھا۔شاہ صاحب نے ہر اُس شخص کی سر زنش کی جو خوامخوہ کی اختلافی روایات کو سامنے لاتا۔آپ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ لوگ اخلاقی اصولوں سے بے پراہ ہوجائیں۔ آپکاکہنا یہ تھا کہ معاشرے کا اچھا رکن بننے کے لئے ہر فرد کو محنت و جانفشانی، ایمانداری اور اہلیتِ کار کی بھی عادتیں مستحکم کرنی چاہئیں۔آپ اس امر کو سب سے زیادہ اہم سمجھتے تھے کہ ہر فرد کو اپنی روزی کمانے کے لئے بار آور امور انجام دینا چاہئیں۔حضرت شاہ ولی اللہ نے ہر قسم کی معاشی نا انصافی اور ظلم کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ کیونکہ جب ایک گروہ اس قدر پستی میں ڈالدیا جائے کہ وہ اپنی روزی کمانے کے لئے جانوروں کی طرح کام میں جتا رہے اور اس کو اس کا م کی اجرت بھی پوری نہ ملے تو اس کے اندر سے سماجی خوبیاں خود بخود م تو جاتی ہیں۔ آپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب لوگ عیش و عشرت میں پڑ کر اصرافِ بے جا کی عادت میں مبتلا ہوجاتے ہیں تووہ معاشرتی فلاح کو نقصان پہچانے کا موجب بنتے ہیں۔

دیگر مفکرین کی طرح حضرت شاہ ولی اللہ کا عقیدہ بھی اسلام کی ہمہ گیریت پر ہی تھا۔وہ ایک جانب عمرانیات، سیاست اور معاشیات کے اصولوں، تو دوسری جانب اسلام کی اخلاقی تعلیمات کے درمیان حدِ فاصل نہیں کھینچتے وہ سمجھتے تھے کہ ایک قوم کی صحت کے لئے سیاسی اقدار ناگذیر ہیں۔قوم کو سیاسی قوت کے زوال سے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان سے آنکھیں بند کرلینا مناسب نہیں ہے۔ اکبر کی تحریکِ دینِ الٰہی نے ہندوستان کے مسلمانوں پر پہلے ہی بے پناہ برے اثرات مرتب کر دیئے تھے۔ جن کے خاتمے کے لئے شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی سامنے آئے جس کے نتیجے میں نور الدین محمد جہانگیر نے بہتر راستہ اپنا لیا تھا۔ورنہ اس کے دربار میں بھی سجدہِ تعظیمیکا رواج تو عام تھا۔ اورنگزیب تعمیری اور فلاحی تحریک کے لئے عالیٰ کردار کے وہ لوگ میسر نہ آسکے ۔جن کی اس کو کثیر تعداد میں ضرورت تھی اور جن کی مدد سے وہ لوگوں کے دلوں کی سیاہی دھونے کا اہتمام کر سکتا تھا۔وہ ایسے لوگوں کی معاونت سے بھی محروم رہا جو اپنے عمل، فعل اور کردار سے نیک اور سچائی کا نمونہ پیش کر سکتے ۔نتیجتاََ اسلام کے تقدس کے لئے کٹ مرنے والوں کی کمی کا شدت کے ساتھ احساس کیا گیا۔اسلام پر کٹ مرنا تو دور کی بات تھی وہ ایسے غیرت مند افراد کی ایک کھیپ بھی تیار نہ کر سکا جو اپنے ذاتی تحفظ ہی کے خیال سے غیر اسلامی قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے والے ہوتے۔ یہ اورنگ زیب کی اس ناکامی کا ہی اثر تھا کہ وہ ہندوستان کے فوجی اور سیاسی محاذپر مسلمانوں کے وجود کے لئے لٹکتی ہوئی تلوار یعنی مرہٹوں کو منتشر کر دینے کے باوجود مسلمانوں کی سلامتی کے محاذ پر اطمنان پیدا نہ کر سکا تھا۔اس ضمن میں ڈاکٹر ایس ایم اکرام لکھتے ہیں کہ’’ مرہٹوں کے خلاف اورنگ زیب کو اس کی ذاتی خوبیوں کے باوجود کامیابی حاصل نہ ہوئی اس کی کئی وجہیں تھیں ،لیکن سب سے اہم وجہ (جس میں مسلم حکومت کے زوال کاراز چھپا تھا) مغل اُمراء اور مغل لشکروں کی عسکری کمزری تھی۔باد شاہ کی بیدار مغزی ،ہمت اور محنت میں کلام نہیں‘‘۔

Shah Wali Allah
Shah Wali Allah

حضرت شاہ ولی اللہ پہلے سیاسی و مذہبی مفکر تھے جنہوں نے برِصغیر کے مسلمانوں کے اندر بیداری پیدا کرنے اور ان میں نئی روح پھوکنے کے لئے بھر پورکردار اد کیاتھا۔آپ کا دور 1703 ؁ء سے 1763 ؁ء تک کا ہے۔یہ زمانہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے سخت مصائب اور آزمائشوں کا تھا۔ایک جانب ان کی آپس کی نا اتفاقیاں ،دوسری جانب مذہبی منافرت اور تیسرے مرہٹوں کی سخت مخالفت ، یہ تمام عناصر مل کر مسلمانوں کو تباہی کے گہرے گڑھے کی طرف لیجا رہے تھے۔ہندوستان کے مسلمانوں کی افرافتری کا ایک عجیب عالم تھا۔مغلیہ سلطنت بھی اس وقت رو بہ زوال تھی۔ہندو مرہٹے اور سکھ مسلمانوں کے خلاف منظم طور پر آگے بڑھ رہے تھے۔مرہٹونے تو مسلمانوں کے خلاف ایک منظم تحریک بڑی شدو مد سے چلائی ہوئی تھی تاکہ ہندوستان میں ہندو راج قائم کیا جائے۔جس کو بعض ہندو اور ہندو نواز مورخین نے ہندووں کی قومی تحریک کا نام دیا ہوا تھا۔اس کا مقصد ہندوستان سے مسلماقدار کا خاتمہ کر کے ر ام راج کا قیام کرنا تھا۔ ایسے حالات کی وجہ سے حضرت شاہ ولی اللہ نے مجاہد صفت اور پاکیزہ خیال و کردار کے مسلمانوں کی ایک جماعت تیار کی تاکہ وہ آپ کے نیک مقاصد کے لئے جدوجہد کر سکیں اور مسلمانانِ ہند کو زوال کی آندھی آنے سے پہلے بچا سکیں۔شاہ صاخب برِصغیر کے علماء و صوفیا میں وہ ممتاز اہلِ بصیرت بزرگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کو اسلام کے سماجی و اقتصادی نظام کی جانب بھی متوجہ کرنے کی بھر پور کوشش فرمائی۔ شاہ ولی اللہ کا ایک اہم کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے حکمرانِ وقت کو خوابِ غفلت سے جگانے کی زبر دست کوشش کی مگر وہ اپنی اس جدوجہد میں ناکام رہے۔ انہوں نے اُمراء کو مخاطب کر کے اس جانب توجہ دلائی کہ عمل کا یہ ہی وقت ہے۔اپنے ہم مذہبوں کے لئے جو کچھ کر سکتے ہو کر گذروورنہ تاریخ کا دھارا سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔مگر اس دور کے امرء بھی کسی سنجیدہ مشورے کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی کھو چکے تھے۔جس کے بعد شاہ صاحب مایوسی کے عالم میں نظام الملک نواب آصف جاہ کی طرف متوجہ ہوئے مگر شاہ صاحب کی استدعا اس پر بھی بے اثر رہی۔

1857 ؁ ء ملہر راؤ ہولکر شمالی ہندوستان میں مرہٹہ ہندو باد شاہت قائم کرنے کی غرض سے بڑھا جس کے لئے اس نے جاٹوں سے بھی اتحاد کر لیا۔دربارِ دہلی کے بعض اُمرء بھی اس سازش کا حصہ بن چکے تھے ۔ اس صورتِحال نے نجیب الدولہ کو بھی ناکامی کی وجہ سے مرہٹوں سے صلح کرنے پر مجبور کر دیا۔اس کے بعد مرہٹے پنجاب کی طرف بڑھے اور اٹک تک کے علاقوں پر ہندو مرٹہ راج قائم ہو گیا۔ایسے حالات سے مجبور ہو کر شاہ ولی اللہ نے افغان حکمران احمد شاہ ابدالی سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا جس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے مصائب بیان کئے اور اور مرہٹوں کے چنگل سے ہندوستان کے مسلمانوں کو نکالنے کے لئے ، بحیثیت مسلمان جو فرائض ایک مسلمان فرمانروا پر عائد ہوتے ہیں ،اُن کی جانب احمد شاہابدالی کی توجہ مبذول کرائی۔ چونکہ یہ بات واضح تھی کہ سلطنتِ مغلیہ کو تقویت پہنچانے کا خیال کسی بیرونی امداد کے بغیر بے معنی تھا شاہ صاحب غیر مسلموں سے امداد طلب کر نے کے نتائج سے بھی بخوبی واقف تھے۔ایسے نازک وقت میں واحد مسلمان قوت جو کسی بھی قسم کی مدد کر سکتی تھی وہ افغانستان کے احمد شاہ ابدالی کی حکومت اور طاقت تھی۔اس صورتِ حال کے پیشِ نظر شاہ صاحب نے بر جستہ الفاظ میں مسلمانوں کی امداد کے لئے احمد شاہ ابدالی کی خدمت میں پیغام بھیجا۔

دوسری جانب آپنے نظام المک ، نجیب الدولہ، حافظ رحمت خان،اور تاج محمد بلوچ جیسے مدبر اور صاحبِ قوت مسلمان حکمرانوں کو ایک مرکز پر جمع کر کے بڑ صغیر سے غیر مسلم قوتوں کے خاتمے کا ایک جامع پروگرام بناکر آپ نے افغانستان کے بہادر اور صاحبِ فہم حکمران سے تو پہلے ہی رابطے ہموار کئے ہوئے تھے۔درج ذیل الفاظ میں احمد شاہ ابدالی کو شاہ صاحب نے مدعو کیا تھا۔’’ اس زمانے میں ایسا بادشاہ جو صاحبِ اقتدارو شوکت ہو،اور لشکرِ مخالفین کو شکست دے سکتا ہو،دور اندیش و جنگ آزما ہو،آپ کے سوا کوئی موجود نہیں۔یقینی طور پر جنابِ عالی کا فرض ہے ہندوستان کا قصد کرنا اور مرہٹوں کا تسلط توڑنااور ضعفائے امت کو غیرمسلموں کے چنگل سے آزاد کرانا۔اگر معاذ اللہ غلبہ کفر اس انداز میں رہا تو مسلمان اسلام کو فراموش کر دیں گے۔اور تھوڑا سا زمانہ گذرے گا یہ قوم ایسی قوم بن جائے گی کہ اسلام اور غیر اسلام میں تمیز نہ ہو سکے گی۔یہ بھی ایک بلائےِ عظیم ہے۔اس بلائے عظیم کو دور کرنے کی قدرت بفضلِ خدا وندی جناب کے علاوہ کسی اور کو میسر نہیں ہے۔ہم بندگانِ خداحضرت رسولِ کریم ﷺ کو اپنا رہنما کہتے ہیں۔ خدائے عز وجل کے نام پر التماس کرتے ہیں کہ ہمتِ مبارک کو اس جانب متوجہ فرماکر مخالفین سے مقابلہ کریں۔ تاکہ خدا وند تعالیٰ کی جانب سے بہت بڑا ثواب آپ کے نامہِ اعمال میں لکھا جائے۔ ‘‘

Writing
Writing

چونکہ اس عہد میں سب سے زیادہ منظم اور طاقتور مرہٹے ہی غیر مسلموں میں تھے۔جنہوں نے دکن کے علاوہ پنجاب کے بھی تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور سکھوں کو بھی یہ مغلوب کر چکے تھے۔جس کی وجہ سے شاہ صاحب نے سب سے زیادہ توجہ مرہٹہ قوت کے خاتمے کے لئے ہی صرف کی۔انہوں نے احمد شاہ ابدالی کو ذاتی طور پر دعوت دینے کے ساتھ ہی نواب نجیب الدولہ والیِ روہیل کھنڈ کے ذریعے بھی اسے بر صغیر آنے اور مرہٹوں پر کاری ضرب لگا کر انہیں نیست و نابود کرنے کی تحریک کو آگے بڑھایا۔ شاہ صاحب نے نجیب الدولہ کو جو خط تحریر کیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے۔’’خدائے تعالیٰ منبعِ الحسنات،امیر المجاہد، رئیس العزت،کو فتوحاتِ تازہ اور بر کاتِ بے اندازہ سے مشرف و ممتاز کرے ۔فقیر ولی اللہ کی طرف سے التماس ہے کہ اکثر اوقات محبوب الدعوات کی بار گامیں دعا کی جاتی ہے کہ وہ مخالفینِ اسلام کے فرقوں کو شکست خوردہ کر دے اورفضلِ باری تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ بات عنقریب وقوع پذیر ہوگی۔ ہندوستان میں تین فرقے شدت و صلاحیت کی صفت سے متصف ہیں۔ جب تک ان تینوں کا استحصال نہ ہوگا نہ کوئی باد شاہ چین سے بیٹھے گانہ اُُمراء چین سے بیٹھیں گے اور نہ ہی امراء سکون سے زندگی بسر کر سکیں گے۔دینی و دنیاوی مصلحت میں ہے کہ مرہٹوں سے جنگ جیتنے کے فوراََ بعد قلعہ جات جاٹ کی طرف متوجہ ہو جائیں اور اس مہم کو بھی برکاتِ غیب کی مدد سے آسانی سے سر کر لیں۔اسکے بعد سکھوں کی نوبت آئے گی۔اس جماعت کو بھی شکست دینی چاہئے۔اور رحمتِ الٰہی کا منتظر رہنا چاہئے۔(پرفیسر خلیق نظامی، شاہ ولی اللہ دہلوی کے مکتوبات) نجیب ادولہ پرشاہ صاحب کا اثر پڑ چکا تھا۔وہ ان کا بہت احترام کرتا تھا۔یہ ہی وجہ ہے کہ شاہ صاحب سے مخلصانہ خط و کتابت جاری تھی۔شاہ صاحب کے مشوروں کو وہ تہہ دل سے مانتا تھا۔شاہ ولی اللہ کی تووقعات تھیں کہ نجیب الدولہ ان کی تمام توقعات پر پورا اترے گا۔ مسلمانوں کو مر ہٹو ں جاٹوں اور سکھوں نے جس ذلت وخواری میں مبتلا کر دیاتھا۔جس سے مسلمانوں کو نکالنے کی کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کرے گا۔نیز احمد شاہ ابدالی کے ساتھ بھی اس کا تعاون رہے گا۔

احمد شاہ ابدالی حضرت شاہ صاحب کی دعوت پر اپنے تیس ہزار افغان سپاہیوں کو بھی ساتھ لایا ۔آخرِ کار نجیب الدولہ اس بہادر اور قابل افغان فرمانروا کی قیادت میں شمالی ہندوستان کی مسلمان ریاستوں کا اتحاد مرہٹوں کے خلاف قائم کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گیا۔جس کے نتیجے میں1761 ء ؁ میں پانی پت کے میدان میں مسلمان فوجوں کو ہندوستان کے مسلمانوں کے خلاف اتحادی قوتوں کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست نے مرہٹوں کے ہر گھر میں صفِ ماتم بچھادی۔پانی پت میں شکست کھانے کے بعد ہندو مرہٹے کبھی منظم نہ ہو سکے۔ جس کے نتیجے میں مرہٹوں کی ہمیشہ کے لئے کمر ٹوٹ گئی۔ احمد شاہ ابدالی کا مقصد ہندوستان پر قبضہ کرنا نہ تھا۔بلکہ مسلمانوں کو مرہٹوں ظلم و تشدد سے نجات دلانا تھا۔جس کی تحریک شاہ ولی اللہ نے پیدا کی تھی۔احمد شاہ ابدالی مرہٹوں کا ؑ عرصہِ حیات تنگ کر کے واپس اپنے وطن افغانستان لوٹ گیا اور جاتے ہوئے اُس نے تختِ دہلی شاہ عالم کے لئے چھوڑ دیا۔کیونکہ شاہ عالم اس وقت بہار کے دوردراز علاقوں میں تھا ۔لہٰذا عارضی انتظام کی غرض سے شاہ عالم کے بیٹے کو ولی عہد مقرر کر کے نجیب الدوہ کو اس نگراں ٹہرا دیا کر واپس چلا گیا۔

اگر ہندوستان کے مسلمانوں نے دانشمندی اور ہوشمندی سے کام لیا ہوتا ت اور عاقبت ندیشی کو اپناشعار بنایا ہوتا تو مرہٹوں اور دیگرغیر مسلم قوتوں کی جارحیت کے مسئلے سے ہمیشہ کے لئے نجات دلا جاتے۔پانی پت میں مسلم افواج کی فتح حضرت شاہ ولی اللہ کی سیاسی جدوجہد کی معرا ج تھی۔آپ کی عظمت اس بناء پر بھی ہے کہ آپ نے ہندوستان کے مسلمانوں کے انحطاط کے بنیادی اسباب پر غور فرمایااور ان خرابیوں کا علان دریافت کرنے کی کوشش کی،جن کی وجہ سے ہندوستان کی مسلمان قوم زوال کی طرف بڑھ رہی تھی۔ شاہ صاحب کا خیال تھا کہ برِ صغیر کے مسلمانوں کی اخلاقی پستی کا بنیادی سبب خود اسلام سے ان کی دوری ہے۔آپ نے نے مسلمانوں کو علمِ قرآن کیجانب توجہدلائی کیونکہ صرف قرآن کے ذریعے ہی ان کے آپس کے فرقہ وارانہ اختلافاتکا خاتمہ کیا جا سکتا تھا۔ حضرت شاہ صاحب نے مسلمانوں کو زوال پذیر ہونے سے ہر ممکن طریقے سے روکا۔اس کوشش میں وہ وقتی طور پر کامیاب بھی رہے۔مگر آپ کے بعد حالات مسلمانوں کے قابو سے باہر ہوگئے دوسری جانب مسلمان اپنا آپس کا اتحاد برقرار نہ رکھ سکے ۔ان کے درمیان نفاق کی خلیج میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔یوں ہندوستان میں رہی سہی اسلامی اقدار کا بھی آہستہ آہستہ خاتمہ ہونے لگا۔اب ہنداستان بیرونی قوتوں کی آماجگاہ بننے لگا ہر جانب کی سازشوں کی وجہ سے باہر کی قوتوں نے ہندوستان پر مستقل ڈیرے ڈالنے کے کوششوں کا آغاز کرنا شروع کر دیا تھا۔

Shabbir Khurshid
Shabbir Khurshid

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
03333001671
shabbirahmedkarachi@gmail.com

Share this:
Tags:
birth care Death knowledge Muslim Scholars services پیدائش جائزہ خدمات علم علماء مسلمانوں وفات
Kashmir Pellet Gun Victims
Previous Post اقوام متحدہ اور عالمی برادری کہاں ہیں؟
Next Post اور بھی دکھ ہیں پاکستان میں پانامہ کے سوا
Charsadda Incident

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close