Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شہید وفا

October 30, 2016 0 1 min read
Diary
Music
Music

تحریر: مسکان احزم
وہ آواز کی سمت مسلسل چل رہی تھی۔آواز قریب تر ہورہی تھی۔کوئی تو تھا وہاں پر جو وائلن کی اتنی خوبصورت دھن کو ہوا کے سپرد کررہا تھا۔دھیرے دھیرے اس کے قدم آگے کی جانب بڑھ رہے تھے۔بالآخر وہ وہاں پہنچ ہی چکی تھی۔وہاں کا منظر کسی خواب سے الگ نہ تھا۔پہاڑوں کے درمیان گھری وہ جگہ جنت کا ٹکڑا لگ رہی تھی۔ایک طرف بہتا دریا جیسے وائلن کی دھن میں مگن منزل کی جانب گامزن ہو۔دوسری طرف آٹھ سے نو سال کی بچیاں سفید رنگ کی پوشاکیں پہنیے محوِ رقصاں تھیں اردگرد سے بے خبر۔وہ کبھی ایک پاوْں اوپراٹھاتیں تو کبھی دوسرا۔کبھی ایک دوسرے کے قریب آکر دائرے کوتنگ کرتیں تو کبھی گھول گھول گھوم کر ایک دوسرے سے دور چلی جاتیں۔کتنا خوبصورت منظر تھا ۔وہ تو اپنی بصیرت پر یقین ہی نہیں کرپارہی تھی۔

کچھ ہی فاصلے پر کوئی وائلن بجارہا تھا۔وہ اس اجنبی کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی کیونکہ اس کی پشت اس کی جانب تھی۔وہ اجنبی کمال کا وائلن بجا رہا تھا۔جیسے وہ اس دھن سے فضا میں کوئی سحر بکھیر رہا ہو۔وہ تو اس سحر میں جکڑتی جارہی تھی کہ سامنے پہاڑ کے پیچھے سے اسے کالی گھٹا اٹھتی نظر آئی۔

سماں بدلنے لگا۔۔۔

اندھیرا چارسو بڑھنے لگا۔۔۔

اداسی کے بادل چھانے لگے۔۔۔

وائلن کی دھن ماتم میں بدلنے لگی۔۔۔

بچیاں جو پہلے رقص سے لطف اٹھارہی تھیں۔اب چہرے پر پریشانی کے آثار لیے ایک دوسرے کا چہرہ تکنے لگیں۔جیسے وہ جانتی ہوں کہ اگلے ہی پل کچھ ہونے والا ہے۔کچھ بہت ہی برا۔اور ۔اور۔پھر انہوں نے بلند آواز میں رونا شروع کردیا۔

اففف خدایا۔۔۔یہ کیا ہورہا ہے؟؟ وہ خود بھی پریشان ہوگئی۔دریا کا پانی خون کے مشابہ نظر آنے لگا۔سفید لباس میں ملبوس وہ اجنبی ابھی بھی وائلن بجانے میں مصروف تھا۔جیسے اسے کوئی فرق نہ پڑا ہو۔ہاں مگر فرق پڑا تھا تو صرف اس کی دھن کو جو اب اداس ہوتی جارہی تھی۔

Girl Crying
Girl Crying

وہ بچیوں کو چپ ہونے کو کہہ رہی تھی۔وہ چلا رہی تھی ۔مگر اسے وہاں سن کون رہا تھا۔اس شور میں اس کی آواز دب گئی تھی۔کیا انہونی ہونے جارہی ہے اس سے پہلے کہ وہ اس بات کا اندازہ لگاتی کہ گھٹا اجنبی کے بالکل سر پر پہنچ گئی۔اور اگلے ہی لمحے وہاں سرخی مائل اندھیرا چھا گیا۔تاحدِ نگاہ کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا ماسوائے آسمان تک پھیلے اندھیرے کے۔وائلن کی آواز آنا بند ہوچکی تھی۔دورسے بہت دور سے چھوٹی بچیوں کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ان آوازوں کے سوا وہاں اور کچھ بھی نہ تھا۔

او خدایا۔۔۔۔

یہ کیا ہورہا تھا؟

پل بھر میں وہ جنت کا ٹکڑا کربلا میں کیسے بدل گیا؟

آسمان پر جھومتے سفید بادل کالی گھٹا میں کب بدلے؟

اپنی موج میں بہتا دریا خون کی ندی کب بنا؟

ایک لمحہ ہی تو لگا تھا اس قیامت کے آنے میں ۔۔۔۔ہاں صرف ایک ہی لمحہ۔۔۔۔وہ اب خوف وہراس سے بے سمت بھاگنے لگی تھی۔اس نے کدھر جانا تھا وہ یہ بات خود بھی نہیں جانتی تھی۔اچانک کسی پتھرسے ٹھوکر لگنے سے وہ گہری کھائی میں چلاتی ہوئی گرنے لگی۔

بچاوْ۔۔۔

بچاوْ۔۔۔

وادی میں اس کی آواز گونجنے لگی۔وہ اب بھی چلا رہی تھی تبھی اس کی ماں نے اسے کندھے سے پکڑ کر ہلایا۔اس نے نیند سے آنکھیں کھول دیں۔وہ پسینے سے شرابور سہمی ہوئی اپنی ماں کی بانہوں میں چھپ گئی۔

“میرا خیال ہے بیٹا کہ تم نے پھر وہی سپنہ دیکھا ہے۔”اس کی ماں نے اس کی کمر سہلاتے ہوئے کہا۔اور وہ بس روئے جارہی تھی۔

Dream
Dream

یہ خواب اسے ہمیشہ پریشان کردیتا تھا۔وہ آج تک یہ بات سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ یہ خواب اتنے برسوں سے کیوں دیکھ رہی تھی؟آخر اس خواب کا مقصد کیا تھا؟یہ خواب کس انہونی کی طرف اشارہ کرتا تھا؟وہ اجنبی کون تھا؟وہ اتنی خوبصورت جگہ کہاں تھی؟ایسے بہت سے سوال اسے تنگ کرتے تھے۔مگر کون جانے ان کے جوابات۔

اس کی ماں نے اس کا سر اپنی گود میں لے لیا۔اور اس کے بال سہلانے لگی۔ناجانے کب وہ نیند کی آغوش میں دوبارہ چلی گئی۔اس کی ماں نے وال کلاک پر نظر ڈالی تو کلاک نے ایک بجنے کی خبر دی۔اس نے اس پر کمبل اوڑھایا اور آہستگی سے دروازہ بند کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی۔نیند اس کی ماں سے روٹھ چکی تھی اب۔وہ بھی اپنی بیٹی کی وجہ سے پریشان رہنے لگی تھی کیونکہ اس کی بیٹی اب گم سم سی رہنے لگی تھی۔

صبح اس کی آنکھ قریب قریب ساڑھے گیارہ بجے کے قریب کھلی۔آج سنڈے تھا اس لیے اسے یونیورسٹی سے آف تھا۔اور وہ اسی وجہ سے آج لیٹ اٹھی تھی۔نائٹ ڈریس میں ملبوس وہ موبائل کو جس پر اس کی فرینڈز کے کچھ میسجز تھے چیک کرتے ہوئے بیڈ سے اٹھی ۔سستی سے چلتے ہوئے اس نے کھڑکیوں پر پہرہ لگائے بڑے بڑے ریشمی پردوں کو سرکایا تو سورج کی کرنیں چھن سے آتی اس کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔کھڑکی کے اس پار بیشک ایک سنہری صبح اس کی منتظر تھی۔وہ کچھ دیروہاں کھڑی کے پار جھانکتی رہی۔شائد وہ چہرے پر سورج کی کرنوں کی شدت محسوس کرنے کی کوشش کررہی تھی۔سورج کی کرنیں اس کے سفیدسرخی مائل چہرے کو گدگدانے لگیں۔اسی لیے وہ مسکرا دی تھی۔سلیپرز کو پہنتے ہوئے وہ واش روم کی جانب شاور لینے چلی گئی ۔کچھ دیر شاور لینے کے بعد وہ جینز کے ساتھ ڈھیلی سی شرٹ پہنے باہر نکلی۔وہ بالوں کو جلدی جلدی جوڑے کی شکل میں قید کرنے لگی۔

Hair
Hair

اففف۔۔۔وہ اتنے خوبصورت بالوں پر کتنا ظلم کرتی تھی کہ انہیں آزاد نہیں رکھتی تھی۔ڈھیلا سا جوڑا کئے جس میں سے آدھے بال آزادی حاصل کر کے خوشی سے ادھر ادھر جھومنے لگے تھے،وہ سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے کیچن میں چلی گئی۔وہاں اس نے اپنے لیے ٹوسٹ بنایا اور ایک چائے کا کپ۔وہاں اس نے بے دردی سے ٹوسٹ کھایا اور چائے کا بھاپ اڑاتا مگ ہاتھ میں لیے باہر لان میں آگئی۔اس کی ماں اس وقت سورہی تھی ۔

واقعی وہ ایک سہانی صبح تھی۔لندن میں راج سے اترتی کرنیں ہر چیز کو اپنے سحر میں جکڑ رہی تھیں۔اور فطرت تو ویسے ہی اسے بہت زیادہ اٹریکٹ کرتی تھی۔اس نے وقفے وقفے سے چائے کے گھونٹ بھرے اور موسم سرما کی راج کماری دھوپ سے لطف اٹھانے لگی۔پھر کچھ یاد آنے پر وہ واپس کمرے میں چلی گئی اور وہاں سے اپنا بیگ لیکر باہر چلی گئی۔شائد وہ کہیں باہر جارہی تھی۔

وہ ہسٹری کی اسٹوڈنٹ تھی۔اس لیے اسے ہسٹاریکل جگہیں زیادہ اٹریکٹ کرتی تھیں۔اسی لیے وہ آج پھر سٹون ہینگ آئی تھی۔وہ اکثر یہاں آیا کرتی تھی۔کیونکہ یہ اس کی پسندیدہ ترین جگہوں میں سے ایک تھی۔وہ یہاں بار بار کیوں آتی تھی اس کی وجہ بھی اسے معلوم نہیں تھی۔۶۲ ٹن یہ بڑے بڑے اور بھاری پتھر یہاں کیوں پڑے ہیں اس کے بارے میں وہ بہت سی کہانیاں بچپن سے سنتی آئی ہے۔

سٹون ہینگ۔۔۔۔دنیا کے ساتھ عجوبوں میں سے چوتھا عجوبہ۔گولائی میں کھڑے ان پتھروں کو خدا کی طرح پوجا جاتا تھا۔مگر کیوں؟

لیکن جو بھی تھا وہ جگہ بہت خوبصورت تھی۔وہ پتھر اپنے اندر عجب کشش رکھتے تھے۔وہ اکثر یہاں تنہائی کے کچھ لمحے گزارنے یہاں آتی تھی۔اگرچہ یہاں بہت سے وزٹرز آتے تھے مگر وہ اجنبی تھے گویا ایک دوسرے سے بے خبر۔

وہ خاص طور پر تب یہاں آتی تھی جب گزری رات اس کی تاریخ میں ایک دفعہ پھر اسی خواب کو دہراتی تھی۔

اس کا خواب بھی ان پتھروں کی طرح ایک معمہ ہی تھا۔

الجھا ہوا۔۔۔

مبہم سا۔۔۔

حیران کردینے والا۔۔۔

اور بعض دفعہ پریشان کردینے والا۔۔۔

وہ دو متوازی پڑے ہوئے پتھروں میں سے ایک پر بیٹھی تھی کہ تبھی اسے ایک مردانہ آواز سنائی دی۔

“ہیلو۔۔۔ “اس نے حیران ہوکر گردن اوپر اٹھائی تو وہاں ایک نیلی آنکھوں والا لڑکا کھڑا تھا ۔آنکھوں میں لندن میں اترتی سنہری کرنوں کی سی چمک لیے۔جس نے وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیو جینز پہن رکھی تھی اور سر پر ریڈ کیپ۔

“ہیلو۔۔۔۔”وہ دھیرے سے مسکرائی تھی۔

Man and Woman
Man and Woman

“کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟ “لڑکے نے اس کے پہلو میں خالی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“آہاں۔۔۔شیور۔”اس نے مسکراتے ہوئے اس بیٹھنے کے لیے جگہ دی۔

“میرا نام آسٹن ہے۔میں آپ کو یہاں اکثر آتے ہوئے دیکھتا ہوں۔”آسٹن نے اپنی کیپ اتارتے ہوئے کہا۔

“اچھا۔۔مگر میں نے آپ کو کبھی بھی یہاں نہیں دیکھا۔”اس کی دلچسپی کا مرکز ابھی بھی وہی پتھر تھے۔

“ہاہاہاہاہا۔۔۔”آسٹن کا کانوں میں رس گھولتا قہقہہ فضا کی نذر ہوا۔

اب کی بار اسے حیرانی ہوئی تھی کہ وہ ایسے کیوں ہنس رہا تھا۔

“ارے تم تو ان بے جان پتھروں میں ہی اتنی کھوئی ہوتی ہو کہ اردگرد کے چلتے پھرتے لوگ کہاں نظر آئیں گے۔”آسٹن بھی انہیں پتھروں کو نگاہوں کے حصار میں لیے ہوا تھا۔

مگر یہ بات اس سبز آنکھوں والی لڑکی کو ناگوار گزری تھی۔وہ اس کے چہرے پر ناگواریت کے آثار دیکھ چکا تھا۔

آئی ایم سوری۔آئی تھنک آپ کو میری بات ناگوار گزری ہے۔”اب وہ پھر تم سے آپ پر آگیا تھا۔

“نہیں ۔۔۔ایسی بات نہیں ۔بس مجھے لوگوں سے زیادہ فرینک ہونا پسند نہیں۔”آسٹن کی شرمندگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس نے اپنے لہجے کی تلخی کو بہت حد تک کم رکھا تھا۔

کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔

اب اس کی توجہ کا مرکز سامنے کھڑا اسکیچ آرٹسٹ بن چکا تھا جو بڑی مہارت سیسٹون ہینگ کو اپنے قرطاس پر اتا ررہا تھا۔

“ویسے آپ کا نام کیا ہے؟”سکوت کا توڑا گیا

مگر وہ اب اس کی جانب متوجہ نہیں تھی۔اس کی نظریں اور دھیان ابھی بھی اس آرٹسٹ کے تیز چلتے ہوئے ہاتھوں پر تھا۔

“ہیلو۔۔۔۔”آسٹن نے اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔

“اح۔۔۔جی۔آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟”وہ اب اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی،

“مِادام میں نے پوچھا ہے کہ آپ کا نام کیا ہے؟”وہ اب چلا چلا کر پوچھ رہا تھا۔اور اس کی ہنسی خود بخود ہی چھوٹ پڑی۔

ہاہاہاہاہا۔۔۔

Beautiful
Beautiful

ماریہ

ماریہ جارج نام ہے میرا۔

وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت آواز کی بھی مالک تھی۔

ہممم ۔۔۔۔نائس نیم۔”نام کو سراہا گیا تھا۔

شکریہ۔”وہ اب دوبارہ آرٹسٹ کی جانب متوجہ ہوچکی تھی ۔شائد وہ مزید آسٹن سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔یہ بات آسٹن بھی محسوس کرچکا تھا۔اس لیے وہ اس کے چہرے پر الوداعی نظر ڈالے بغیر کچھ کہے وہاں سے چلا گیا۔مگر وہ بے خبر رہی۔اسے ارد گرد کی کوئی خبر نہیں تھی ۔خبر تھی تو بس اس بات کی وہ آرٹسٹ کس انداز میں کام کررہا تھا۔

وہ بھی مگن تھا ان پتھروں میں اور ماریہ بھی۔

اور بڑے بڑے پتھر بھی مگن تھے اپنی ہی طرح گم سم سی اس لڑکی میں۔

وقت نے بھی دونوں پر کیا کیا نقش چھوڑے تھے۔

کبھی نہ مٹنے والے۔

بڑے واضح۔

ّ {۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔}

اب تو خواہش ہے یہ

درد ایسا ملے

سانس لینے کی حسرت میں

مر جائیں ہم۔۔۔۔

اب تو خواہش ہے یہ

ایسی آندھی چلے

جس میں پتوں کی مانند

بکھر جائیں ہم

ایسی ٹھوکر لے کہ

جی نہ سکیں

ایسے الجھیں یہ سینے میں

سانسیں کہ پھر۔۔۔

ہم دوا پینا چاہیں

تو پی نہ سکیں۔۔۔

کوئی ہمدم،نہ راہی

نہ راحت ملے

ایک پل کا سہارا

نہ چاہت ملے

اب تو خواہش ہے یہ

دشت ہی دشت ہو

ننگے پاوْں چلیں

ہم سر بزم۔۔

شمع کی مانند جلیں

جس کو چاہیں۔۔۔

اسے پھر نہ پائیں کبھی

چھوڑ جائیں یوں چپ چاپ

دنیا کو ہم۔۔۔۔

دل یہ چاہے تو

پھر نہ آئیں کبھی۔۔۔۔

اب تو خواہش ہے یہ

کہ سزا وہ ملے

کوئی صحرا

قلعہ

یا بیابان ہو

جس میں سالوں تلک

قید ہی قید ہو۔۔۔۔

اپنے خالق و مالک سے

میں نے جو کی بے وفائی

وہاں یہ وہ ناپید ہو

ابنِ آدم کی چاہ کے کڑے جرم میں

اپنی ہی ذات کے کھوکھلے بھرم میں

اب تو خواہش ہے یہ

کہ سزا وہ ملے

روئے جاوْں تو

چپ نہ کرائے کوئی

دور جنگل میں

یا پھر۔۔۔

کسی دشت میں

ہاتھ پکڑے میرا

چھوڑ آئے کوئی۔۔

Diary
Diary

حالات کی تلخی کو وہ یونہی اپنی ڈائری کے اوراق پر اتا را کرتی تھی۔یہ الفاظ ہی تو تھے جنہیں کاغذوں پر اتا ر کر وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا کرتی تھی۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس پر کبھی اتنی بڑی قیامت ٹوٹے گی۔ساتوں آسمان اس پر یوں گریں گے۔یہ زندگی بھی بڑی عجیب چیز ہے کبھی کبھی تو ایسے امتحان لیتی ہے کہ اس امتحان گاہ میں بیٹھا انسان اپنی سب سے قیمتی چیز کھو بیٹھتا ہے۔مگر اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ یونہی چلتی رہتی ہے ۔۔مسلسل۔۔کبھی دبے پاوْں تو کبھی پلک جھپکنے میں ہی کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔اور انسان کو بھی چلنا پڑتا ہے اس کے ساتھ ۔بے شک زبردستی ہی سہی۔

آنکھ سے ٹپکے آنسووْں کو پونچھ کر اس نے اپنی ڈائری کو بند کیا ۔بالکل اسی طرح جس طرح موت نے اس کے پیارے کی زندگی کی کتاب کو بند کیا تھا۔

وہ خالی ہاتھ تھی۔اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا سوائے بچھڑنے والے کی یادوں کے۔

ہماری زندگی میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ان کے صفحات اپنی زندگی کی کتاب سے اکھاڑنا بھی چاہے تو اکھاڑ نہیں سکتا۔ان کی یادیں کسی پکی سیاہی سے لکھی تحریر کی طرح ہوتی ہیں۔انسان لاکھ کوششوں کے باوجود انہیں مٹا نہیں سکتا۔یہ یادیں کسی زہریلے سانپ کی طرح ہر وقت اسے ڈستی رہتی ہیں۔ہرپل اسے اذیت سے دوچار کرتی رہتی ہیں۔یہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔نہ جلوت میں اور نہ خلوت میں۔

زندگی کی برف یادوں کے پانی میں گھلتی رہتی ہے۔انسان ان کا وجود ختم کرتے کرتے اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے۔

آخر زندگی کی یہ کتاب بند ہوجاتی ہے اور اس میں تحریر یادیں بھی اپنا دم توڑ جاتی ہیں۔

Memories
Memories

وہ لوگ تو بے وفا ہوتے ہیں لیکن ان کی یادیں بے وفائی نہیں کرتیں۔ جب تک سانس رہتی ہے تب تک پاس رہتی ہیں۔۔۔۔۔مرنے کے بعد انسان مٹی میں دفن ہوجاتا ہے اور یہ یادیں اس کے دل میں۔۔۔ اسی لیے وہ بھی اس کی یادوں سے آج تک پیچھا نہیں چھڑا پائی تھی اور شائد کبھی بھی اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکے۔کیونکہ یہ تو وقت کے ستم ہوتے ہیں اور وقت کے چھوڑے نقوش مٹانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔۔۔ َ(جاری ہے)۔

تحریر: مسکان احزم

Share this:
Tags:
dream heaven shaheed Smile voice آواز جنت خواب شہید وفا
Gujrat
Previous Post گجرات کی خبریں 30/10/2016
Next Post چیئرمین بلدیہ کورنگی نے کورنگی میں صفائی کے نظام میں اصلاحات کے لئے ایکشن لینے کا اعلان کردیا
Korangi Karachi aNews

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close