Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آسمان بھی رو پڑا

December 25, 2014 0 1 min read
Peshawar Incident
Peshawar Incident

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
تاریخ کا دامن ظلم و بربریت کے بے شمار المناک داغوں سے بھرا پڑا ہے روز اول سے ظلم و بربریت کے علمبردار وحشت اور درندگی کے سیاہ کارناموں سے تاریخ کا دامن بھرتے آئے ہیں لیکن چند ردن پیشتر پشاور شہر جس کا نام پشپ پور تھا یعنی پھولوں کا شہر۔ اس شہر کے پھولوں کو جس درندگی اور وحشت سے مسلا گیا انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک ایسا واقعہ جس نے اہل وطن بلکہ پوری دنیا کو ہلا بلکہ اُدھیڑ کر رکھ دیا ہے۔

پورے ملک میں سکوت مرگ طاری ہے اور پوری دنیا سراپا احتجاج ہے 16دسمبر کی صبح جب سورج کی دستک سے پورے ملک کے ساتھ ساتھ پشاور میں بھی زندگی اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ بیدار ہوگئی اور لوگ گھروں سے نکل پڑے۔ روزانہ کی طرح 16دسمبر کی صبح مائوں نے مامتا کے جذبوں سے معمور ہو کر اپنے نونہالوں جگر گوشوں کو حصولِ تعلیم کے لیے روانہ کیا ہو گا ۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اِسی شام کو یہ مائیں اپنے معصوم پھولوں کی لاشوں کے ٹکڑے وصول کریں گی ۔معصوم پھولوں جیسے نونہال اپنی کلاسوں میں اور اساتذہ کرام ایک نئی نسل کو اعلی تعلیم دینے میں مصروف تھے۔

پشاور کے ورسک روڈ پر واقع اِس سکول میں تقریبا 1600بچے زیرِ تعلیم تھے درس و تدریس کے لیے تقریبا110اساتذہ بھی موجود تھے معصوم بچے اور اساتذہ کسی بھی خطرے سے بے نیاز درس و تدریس میں مشغول تھے کہ6درندے سیکورٹی گارڈوں کی وردیوں میں ملبوس سکول کی عقبی دیوار پھلانگ کر سکول میں داخل ہوتے ہیں سب سے پہلے اِن ظالموں کو سکول کا مالی دیکھتا ہے تو اُس کے شور مچانے پر اُسی معصوم بے گناہ کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جا تا ہے ۔ظالموں نے اپنے جسموں پر خود کش جیکٹیں پہنی ہوئی تھیں وہ اپنے ساتھ کئی دن کا راشن بھی لائے تھے اُن کا ارادہ بچوں کو یر غمال بنانے کا تھا پھر یہ وحشی درندے اپنے پہلے سے طے شدہ پلان کے تحت سکول کے مختلف کمروں میں گھس گئے اور اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دیں ‘معصوم بچے جو پٹاخے کی آواز سن کر خوف سے ماں کی گود میں چھپ جاتے ہیں جن کے جسم پر ہلکی سی خراش پر ماں باپ بہن بھائیوں کی جان پر بن جاتی تھی اور ڈاکٹروںکی لائن لگ جاتی تھی ۔ جب دہشت گردوں نے اِن معصوم پھولوں پر گولیوں کی برسات کر دی تو معصوم بچے کرسیوں کے نیچے چھپ گئے ۔ لیکن وحشی درندے بچوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارتے رہے بھاگنے والے بچوں چن چن کر مار رہے تھے کلاس روم مقتل گاہ بن چکے تھے ایک کلاس روم میں بچوں کو جمع کیا اور دھماکے سے اُڑا دیا بچوں کو بے دردی سے مرتا دیکھ کر پرنسپل طاہرہ قاضی آگے بڑھیں اور اپنے شاگردوں کی زندگی کی بھیک مانگی ظالموں نے پرنسپل صاحبہ کی اِس جسارت کو گستاخی عظیم گردانتے ہوئے بچوں کے سامنے تیل چھڑک کر پرنسپل صاحبہ کو آگ لگاکر زندہ جلا دیا بچوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی پرنسپل کو زندہ جلتا ہوا دیکھیں ۔بچوں اور اساتذہ کے چہروں پر خوف و دہشت کے سائے لرزاں تھے وحشی درندے انسانی حدود سے باہر نکل کر درندگی ، سفاکی اور ظلم و بربریت کے وہ دل خراش مظاہرے کر رہے تھے کہ اُن کے آگے درندوں کی خون آسنامی بھی ہیچ تھی۔

ظلم اور درندگی کے شعلوں سے پورا سکول جل رہا تھا ۔ ضمیر کی پستیوں میں رینگنے والے درندوں کے ہاتھوں میں مہلک جدید آتشیں ہتھیار تھے جن کو وہ اندھا دھند استعمال کر رہے تھے ظلم و بربریت کی داستان کے جو باب ادھورے رہ گئے تھے وہ آج یہ وحشی درندے مکمل کر رہے تھے ۔ گستاخی اور بے ادبی کے نئے نئے دل خراش حربے آزما رہے تھے ۔ یہ ایسا درد ناک منظر تھا کہ ظلم و بربریت کے بانی بھی لرز اُٹھے ۔ یہ ایسا دہشت ناک منظر تھا کہ جس کہ اثر سے تمام بچوں اور ٹیچروں کی قوتِ گویائی سلب ہو کر رہ گئی تھی ۔معصوم بچوں کو مارنے کے بعد بھی درندوں کے مشتعل جذبات سرد ہونے کی بجائے اور مشتعل ہوتے جارہے تھے۔ سکول کے درو دیوار پر ہیبت طاری تھی موت کی برسات ہو رہی تھی درندوں کے ترکش ستم میں جتنے بھی ہتھیار تھے وہ بچوں اور اساتذہ کے سینوں میں اُتار رہے تھے درندگی اور ظلم کے ایسے اذیت ناک مظاہرے کئے گئے کہ انسانیت حشر تک اُن آدم زادوں سے شرمسار رہے گی ۔ظالم درندے اپنے گناہوں کی ایسی فصیل بو رہے تھے جو حشر میں اُن سے کاٹی نہیں جائے گی ۔خدا کی قسم زمین آسماں اُن کے ظلم سے بھر گئے ہیں۔وحشی درندے اپنی آخرت خراب کر رہے تھے وہ معصوم بچے جو کسی زخمی پرندے کو گھر لے جا کر اس کی مرہم پٹی کر تے تھے وہ معصوم بچے جو اپنے پالتو جانور وں کے زخمی ہونے یا بیمار ہونے پر آسمان سر پر اُٹھا لیتے تھے آج اُن پر اور اُن کے ساتھیوں پر اندھا دھند گولیاں بر سائی جا رہی تھیں ۔ جب یہ معصوم گولیوں کی بوچھاڑ سے گھائل ہو کر اپنے اور اپنے ساتھیوں کے جسموں کو ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا دیکھ کر یہ ضرور سوچتے ہونگے کہ ہم پر کبھی ہمارے ماں باپ بہن بھائیوں چچا اور ماموں نے ہاتھ نہیں اُٹھایا تو یہ کون لوگ ہیں جن کے چہرے پر لمبی لمبی داڑھیاں ہیں اور عربی بولتے ہوئے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر ہمیں گولیوںسے بھون رہے ہیں سکول پر موت کا رقص جاری تھا۔

Peshawar Terrorist Attack
Peshawar Terrorist Attack

محترم قارئین گزشتہ کئی سالوں سے وطن عزیز میں دہشت گردی جاری ہے سینکڑوں خود کش دھماکے ہو چکے ہیں تقریباً 60ہزار انسان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں مگر ظلم اور بربریت 16دسمبر کو پشاور کے آرمی سکول میں دیکھی گئی یہ تو انتہا ہو گئی کون ظالم ایسا ہو سکتا ہے جو معصوم بھاگتے ہوئے بچوں کو چن چن کر مارے ایک بچے کو کئی گولیاں ماریں گئیں بچے گولیاں کھا کر گرتے جارہے تھے جو اِن گرے ہوئے بچوں میں حرکت کرتا اس کو گولیاں مار کر ٹھنڈا کر دیا جاتا ۔مرنے والے بچوں میں کتنے قرآن پاک کے حافظ تھے کتنے پانچ وقت کے نمازی تھے مرنے والے معصوم شہیدوں کو یہ سوچنے کاموقع بھی نہیں دیا کہ اُن کا قصور کیا ہے کیوں ان کو بے رحمی سے مارا جا رہا ہے ۔معصوم بچوں کے لباسوں پر نیلی سیاہی کی جگہ سرخ خون کی سیاہی ڈال دی ۔تصور کریں اُن ماں باپ کا جن کے بچے اِس سکول میں پڑھتے تھے جس نے بھی سُنا وہ ننگے پائوں ننگے سر گھر سے بھاگ اُٹھا پاک فوج کے نوجوان مسیحا بن کر جلدی پہنچ گئے دوران اپریشن ماں باپ عزیز اقارب دکھ ، تکلیف اور کرب کے جس پل صراط سے گزر رہے ہونگے یہ اہل دل ہی جانتے ہیں سڑکوں پر ننگے سر ننگے پائوں چیختی چلاتی آہ پکار مدد مدد کرتی آسماں کی طرف دعائیہ کلمات کے ساتھ دوڑتیں ہوئی مائیں سائرن بجاتی ہوئی ایمبولینس کا اژدھام قیامت کا منظر تھا ۔پوری قوم غم و اندوھ اور شدید صدمے اور سکتے کے عالم میں رب ذوالجلال کے حضور دعائیں اور فریاد کرتے رہی ۔ جس نے بھی یہ دلخراش خبر سنی تو اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے دیوانوں کی طرح سڑکوں پر دوڑ رہے تھے کہ کسی طرح بچوں کے حصے کی گولیاں اپنے سینوں پر کھا کر معصوم نونہالوں کو بچا لیں ۔ جن بچوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا جب اُن بچوں کی مائوں کو اُن کی مردہ لاشیں ملی تو قیامت سے پہلے قیامت آگئی ۔۔ ساری کائنات اِن معصوموں کے جانے سے تہی دست ہو گئی تھی۔

اپنے بچوں کو لاشوں پر رونے والی مائوں کے بین سن کر کلیجہ پھٹ جاتا ہے سانسیں رک جاتی ہیں تو جن کا بچہ لا ش میں تبدیل ہو گیا اُس ماں کے کلیجے کا کیا حال ہو گا ۔133بچوں کی مائوں کے دل قبرستان بن گئے اُن مائوں کی باقی زندگی دوزخ میں تبدیل ہو گئی ہے ایک ایسا دکھ اور کرب جن سے آخری سانسوں تک وہ نہیں نکل پائیں گی جنہوں نے صبح اپنے جگر گوشوں کو تیار کر کے سکول بھیجا جن کی شام سوگوار ہو گئی جن کے آنگن میں پھولوں کے جنازے پڑے ہوں جن کے پھولوں کو بری طرح مسل دیا گیا ہو مائوں کی باقی زندگی غم میں ڈوب گئی ۔بد قسمت سکول کے درودیوار ، کلاس رومز ، کرسیاں ، بستے ، کتابیں ، کاپیاں ، پنسلیں ، کینٹین میں سموسے اور برگر ابھی تک اُن کا انتظار کر رہے تھے ظلم و بربریت کا ایسا دلخراش واقعہ جو تاریخ عالم کے سینے ہر نقش ہو گیا جو اپنے ظلم درندگی اور وحشت کی وجہ سے تاریخ عالم کے سینے پر نقش ہو گیا جو اپنے ظلم درندگی اور وحشت کی وجہ سے تاریخ ایک بد نما داغ بن گیا ہے اِس جانگداز سانحے کی خبر جس کو بھی ملی وہ بہت رویا ۔ ہر شے اپنے محور سے ہٹ گئی اور کاروبار حیات معطل ہو گیا پورے ملک کے منہ سے آہوں کا سمندر اُبل پڑا وحشی درندوں نے ظلم و بربریت کا آخری باب اِس طرح رقم کیا کہ اِس کی تکلیف صدیوں تک محسوس ہو گی تاریخ کے اوراق میں یہ درندگی اذیت اور المناک عمل کے طور پر قیامت تک محفوظ رہے گی ۔ چشم آسمان نے تاریخ کے ہولناک ترین مناظر دیکھے جب سے یہ المناک حادثہ ہوا ہے دھرتی ماں مسلسل رو رہی ہے اور آسماں بھی اشکبار ہے ۔ کسی حساس دل نے کہا تھا۔

پھول دیکھے تھے جنازوں پر ہمیشہ شوکت
کل میری آنکھ نے پھولوں کے جنازے دیکھے
بقول سید عارف۔
جس کو بارہ برس گود میں رکھاجائے
کتنا مشکل ہے اُسے گور کے اندر رکھنا

PROF ABDULLAH BHATTI
PROF ABDULLAH BHATTI

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
info@noorekhuda.org

Share this:
Tags:
barbarism country pakistan sky World آسمان بربریت پشاور تعلیم دنیا ملک
Previous Post پیرمحل میں مسیحی برا دری کرسمس کا تہوار روائتی جوش خروش سے منارہی ہے
Next Post سرینگر: بھارتی پولیس کا وحشیانہ تشدد، متعدد زخمی

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close