Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ریاست اپنی رٹ بحال کرے گی

December 12, 2018 0 1 min read
Major General Asif Ghafoor
Major General Asif Ghafoor
Major General Asif Ghafoor

تحریر : مسز جمشید خاکوانی

شائد آپ سوچیں میں نے یہ کیوں نہیں لکھا ”کیا ریاست اپنی رٹ بحال کر پائے گی”کیونکہ ان دو جملوں میں معمولی سا فرق ہے لیکن ان کے معنی میں بہت بڑا فرق ہے یہ فرق جنرل غفور کے بیان نے دیا ہے انہوں نے کہا ہم ایک بہت عظیم ملک ہیں ٹو ہنڈرڈ سیون ملین کی پاپولیشن ہے اللہ تعالےٰ نے ہمیں ہر چیز دی ہے زمین دی ہے چار موسم ہیں ،معدنیات ہیں لیکن ستر سال گذر گئے ہم یہاں کھڑے ہو کر لوگوں کو یہی بتا رہے ہیں کہ ہم نازک دور سے گذر رہے ہیں ایک نازک دور سے نکل کر دوسرے نازک دور دوسرے سے نکل کر تیسرے نازک دور میں ،یہ نازک دور کیوں آئے اور کون اس کا زمہ دار ہیاس میں بہت بحث ہوتی ہے ہوتی بھی رہتی ہے نتیجہ کوئی نہیں نکلتا سب ایک دوسرے پر الزام ڈالتے رہتے ہیں نازک دور تھا ستر سال سے یہی ہو رہا ہے لیکن ہم نے ان سے کچھ نتائج بھی اخذ کیے ہیں ہمارے مشرق کی طرف جو ملک ہے اس سے ہمارے بہت سارے ایشوز ہیں جس سے ہماری روائیتی اور غیر روائتی جنگیں بھی ہوئیں انہوں نے بھی ہر حربہ آزما کے دیکھ لیا کشمیر سب سے بڑا ایشو ہے ،وہ ایشوز بھی حل نہیں ہو سکے نہ امن آ سکا داخلی طور پر ہماری بہت ساری فالٹ لائنز ہیں ،معیشت کی ہوں کمزور گورنس کی ہوں ،جوڈیشل سسٹم ہو،ایجوکیشن سسٹم ہوحکومت کرنے کا طریقہ ہو ڈکٹیٹر شپ ہے یہ جمہوریت ہے جمہوریت میں باریاں ،ہماری اندرونی فالٹ لائنز بھی ہیں مذھب کے نام پہ فرقے کے نام پہ اشتعال انگیزیاں، ہم خود اس میں پڑے رہے اپنی غلطی مانے بغیر دوسروں کی غلطیاں نکالتے رہے اس کو ہمارے دشمنوں نے بہت ا یکسپلائٹ کیا اب حالات اور وقت پر چلتے چلتے نازک مقام سے ہم اس مقام پر آ گئے ہیں کہ جسے کہتے ہیں یہ واٹر شیڈ ہے،ہماری ہسٹری کا ایک واٹر شیڈ،ہم نے جنگیں لڑیں ،ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ،ہم نے قربانیاں دیں ہماری معیشت خراب ہوئی لیکن آج ہم اس واٹر شیڈ پر کھڑے ہیں جہاں سے آگے نازک وقت نہیں ہے یا بہت اچھا وقت ہے یا نازک وقت سے خراب وقت ہے۔

آئی ایس پی آر کے میجر جنرل آصف غفور کے الفاظ اتنے سادہ نہیں ہیں ،انہوں نے کہاہم نے جنگیں لڑ لیں آدھا ملک بھی گنوا دیا سنبھل بھی گئے ایٹمی قوت بھی بن گئے ،پچھلے چند سالوں میں ہم بہتری کی طرف بھی آئے امن بھی آیا گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا بھی دیا ڈیویلپمنٹ بھی ہو رہی ہے بہتر کام بھی ہو رہے ہیں تو اس کو ہم ریورس کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟کیا اس نازک دور سے اس واٹر شیڈ سے ہم ایک اچھے پاکستان کی طرف نہیں جا سکتے؟فیصلہ ہم نے کرنا ہے کیا ہم نے ایسا ہی رہنا ہے یا کامیابیوں اور ناکامیوں کے رول آف کوسٹر پر بیٹھ کر یونہی چلتے رہیں گے؟میں آج کی افواج پاکستان کا ترجمان ہوں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج کی افواج پاکستان گذرے ہوئے کل کی افواج پاکستان نہیں ہیں۔

ہمارے سپاہی سے لے کر سپہ سالار تک نے وہ مشکل ٹائم دیکھا ہے جس میں آپ کا اپنا ساتھی آپ کے ہاتھوں میں دم توڑ رہا ہو پندرہ سال سے فوج اپنے گھروں میں نہیں بیٹھی ،شہروں میں گلیوں میں سرحدوں پر آپ کے تحفظ کے لیے بیٹھی ہے ،ملک نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں عام شہری نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں تمام اداروں نے قربانیاں دی ہیں لیکن اس وقت جس مدو جزر میں ہم نے ستر سال گذار دیے ہیں۔

اس واٹر شیڈ سے جو سلور لائن نظر آ رہی ہے اس کی طرف نہیں جا سکیں گے ،انہوں نے میڈیا کو مملکت کا چوتھا ستون قرار دیا انہوں نے کہا باقی تین ٹھیک ہو بھی جائے لیکن آپ (میڈیا) اس کو دھچکے لگاتا رہے تو بلڈنگ مضبوط نہیں ہو گی میں نے ہر لیول پر اینکرز میڈیا مالکان سب کو انگیج کیا ہے چھ مہینے صرف اس ملک کی اچھی چیزیں دکھائیں آپ لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں اس ملک میں اچھی چیزیں بھی ہیں یہ دکھائیں لوگوں کو (اس سے اگلے روز دنیا نیوز کے ایک پروگرام میں نامور اینکرز فرما رہے تھے یہ کیا بات ہوئی کہ چھ مہینے ہم سب اچھا دکھائیں ہمارا کام حکومت کی غلطیاں لوگوں تک پہنچانا ہے تاکہ عوام ان پر گرفت کر سکیں ،حالانکہ یہ بات جنرل صاحب نے پہلے ہی بتا دی تھی کہ اس کا مطلب یہ نہیں آپ خراب نہ دکھائیں لیکن اس کے ساتھ لوگوں کو اویرنیس دیں کیونکہ جو میڈیا کی پاور ہے وہ کسی اور انسٹی ٹیوشن کی نہیں چھ مہینے کے لیے آپ پاکستان کی پراگریس ،پوٹینشل، پاکستان میں دکھائیں باہر دکھائیں پھر دیکھیں پاکستان کہاں پہنچتا ہے اس کے بعد انہوں نے سپہ سالار کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستان کو ہم ایک ایک اینٹ لگا کر بنا رہے ہیں یہاں اچانک ذہن میں آتا ہے۔

جنرل راحیل کے دور میں زرداری صاحب نے فوج کو دھمکی دی تھی کہ ہم آپ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اس کے بعد زرداری صاحب سال ڈیڈھ ملک سے باہر بیٹھے رہے اور اس عرصے میں فوج نے وہ تمام اینٹیں چن لیں جو یہ لیڈران پاکستان کی دیوار حیات سے نکال چکے تھے اب صرف گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو کہنے کی دیر تھی کہ اچانک وہ دیوار ان کے اپنے اوپر گر گئی مزے کی بات یہ ہے کہ اب یہ اس کو انتقام اور قانون سے کھلواڑ کا نام دیتے ہیں آج سعد رفیق برادران بھی اس کو ظلم کا ضابطہ بتا رہے تھے جب ضمانت منسوخ ہونے پر انہیں گرفتار کیا گیا جب کہ بے چارے ڈاکٹر شاہد مسعود جن کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا وہ اب بھی ملک اور عدلیہ کے خلاف ایک لفظ نہیں بولے ،میجر جنرل آصف غفور نے جہاں اپنا موقف پیش کیا وہاں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں ان عزائم کا تعین بھی کیا جس کے بعد کسی ابہام کی گنجائش نہیں رہی کہ جنرل صاحب کے مطابق آنے والا وقت یا تو بہت اچھا ہو گا یا نازک وقت سے بھی خراب ،اور میرا یہ خیال ہے کہ قوم بھی اب اس گو مگو کی کیفیت سے نکلنا چاہتی ہے میں باقی سوالوں کو ایک طرف رکھ کر منظور پشتین پر آتی ہوں سوشل میڈیا پر اس پر کافی کچھ دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے۔

جب میں دیکھتی ہوں کہ وہ تمام عناصر جو پاکستان کے خلاف ہیں ،جو فوج کے خلاف ہیں بلکہ وہ بھی جن پر کرپشن کے چارجز ہیں اور ان کے مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں ،جو الیکشن ہارے ہیں یا جن کی اقتدار سے چھٹی ہو چکی ہے وہ تمام عناصر منظور پشتین کی آڑ میں اکھٹے ہو رہے ہیں صاف بات یہ ہے کہ لوگ اب پی ٹی ایم سے ایسے ہی ڈرنے لگے ہیں جیسے کبھی ٹی ٹی پی سے ڈرتے تھے اور میں سمجھتی ہوں جب کسی ملک کی عوام کسی شخص یا تنظیم سے خوف کھانے لگے تو پھر ریاست کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ قوم کو ان عناصر سے محفوظ کرے یہ سوال ایک خاتون صحافی نے جنرل غفور سے کیا کہ کیا خادم حسین رضوی کی طرح کے چارجز منظور پشتین پر لگیں گے یا نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائی ہو گی ِ؟جس پر جنرل صاحب نے جواب دیا کہ ہم سے سوال ہوتا ہے آپ ان پر سخت ہاتھ کیوں نہیں ڈال رہے جبکہ انہوں نے وہ کاروائیاں بھی کیں ہیں جن سے ان فوجیوں کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا جن کے بیٹے بھائی اس جنگ میں شہید ہوئے ہیں ،یہاں جنرل صاحب کے جواب سے پہلے میں آپ کو منظور پشتین کا تعارف کرا دوں۔

منظور پشتین ولد عبدل ودود قوم محسود گائوں ریشوارہ جنوبی وزیرستان ،منظور کے والد اسکول ٹیچر تھے اس کے تین بھائی تین بہنیں ،ایک بھائی فوت ہو چکا ہے منظور نے ابتدائی تعلیم گائوں میں ہی حاصل کی اور گومل یونیورسٹی سے طب حیوانات میں ڈپلومہ حاصل کیا یعنی سادہ الفاظ میں ”ڈنگر ڈاکٹر”منظور کا ایک بھائی قاری محسن تحریک طالبان پاکستان کا سرگرم رکن رہا اور بدنام زمانہ قاری حسین کے (جو کہ خود کش بمبار تیار کرتا تھا) قریبی ساتھیوں میں سے تھا قاری محسن آجکل روپوش ہے منظور پشتین خود بھی ٹی ٹی پی کے کافی قریب رہا ہے اور قاری حسین اور عظمت اللہ جیسے کمانڈروں کے ساتھ اس کے تعلقات تھے غالباً اس لیے ”پشتون تحظ ”موو منٹ کی سپورٹ کا اعلان سب سے پہلے ٹی ٹی پی نے کیا ۔پاک فوج کے آپریشن کے بعددہشت گرد تتر بتر ہوگئے اور منظور پشتین جیسے لوگ بھی کونے میں بیٹھ گئے 2014میں منظور نے پشتون تحفظ موو منٹ بنائی مگر کسی کو اس کا علم نہ تھا اس عرصے میں اس کے سرخوں اور این ڈی ایس کے ساتھ رابطے بنے اور اس کی ساتھیوں کے ساتھ ”آزاد پشتونستان” کے جھنڈے والی تصاویر پشتو نستان کی ویب سائٹ پر نظر آنے لگیں اس کے ایک سال بعد اس کے روابط پشتونستان کے علمبردار اور پاکستان کے بدترین دشمن محمود اچکزئی کے ساتھ قائم ہو گئے منظور پشتین 10سے15دسمبر 2017کے درمیان سرحد پار افغانستان گیا جہاں کابل اور جلال آباد میں اس کی ملاقاتیں افغان انٹیلی جنس کے اعلی ترین عہدیداروں میں سے ایک ولی داد قندھاری سمیت کئی لوگوں سے ہوئیں جن میں کچھ امریکی سی آئی اے کے اہلکار بھی شامل تھے یہ سارا کام جناب محمود اچکزئی کی معرفت ہوا۔

13جنوری کو نقیب اللہ محسود کا قتل ہوا اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا پر محمود اچکزئی کے دورہ انڈیا کی خبریں آئیں جہاں اس نے مبینہ طور پر نریندر مودی کے علاوہ اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات بھی کی نقیب اللہ کے واقعہ کے بعد منظور پشتین کی جماعت اچانک ابھر کر سامنے آئی۔

اور ان کے مطالبات رائو انوار کی گرفتاری سے شروع ہو کر نہایت تیزی سے آزاد پشتونستان کے نعروں تک پہنچ گئے افغانستان نے پوری شدت سے ان کی سپورٹ شروع کر دی وائس آف امریکہ اور بی بی سی مسلسل ان کو کوریج دے رہے ہیں (میں سوشل میڈیا پر بیکار میں نہیں بیٹھی میں مسلسل کھوج میں رہتی ہوں میرے علم کے مطابق ایک بہت اچھا شخص بہت اچھا صحافی جو محسود تھا اس کو بھی وائس آف امریکہ نے دعوت دی تھی لیکن وہ پڑھا لکھا صاحب علم شخص تھا شائد اس وجہ سے وہ اس کھیل سے الگ ہو گیا ہے )بحر حال اس کے بعد پی ٹی ایم نے ریاست پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مواد پبلش کرنا شروع کر دیا اور افواج پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی شروع میں پی ٹی ایم کے کئی مطالبات مان لیے گئے لیکن ان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

پی ٹی ایم نے پشتونوں کو اکسایا کہ تمھارے حقوق کے لیے ریاست یا فوج ہم سے بات نہیں کر رہی لیکن جب فوج نے مذاکرات کی پیش کش کی تو پی ٹی ایم نے حقارت سے ٹھکرا دیا چیک پوسٹوں پر بھی رویہ بہتر کرنے کا مطالبہ بڑھتے بڑھتے با لا خر فاٹا سے فوج کے انخلا تک پہنچ گیا سوشل میڈیا پر متحرک بدنام زمانہ گستاخ رسول وقاص گورایا،عاصم سعید ،سلمان حیدر اور ناصر جبران جیسے لوگوں نے بھی ان کی تحریک کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا وقاص گورایا جیسے ملعون کی علامتی تصاویر پی ٹی ایم کے لاہور والے جلسے میں نظر آئیں اور کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا (میرا خیال ہے سب جانتے ہیں لاہور میں اس جلسے کو کس نے سپورٹ کیا تھا ) سب سے حیران کن بات اس تحریک میں منظور پشتین کا دست راست محسن داوڑ نامی لبرل ہے جو چند سال پہلے تک فاٹا میں اپریشن اور پشتونوں پر ڈرون حملوں کا سب سے بڑا حمائتی تھا ان کے جلسوں میں پاکستانی جھنڈا لپرانے پر پابندی ہے لیکن افغانستان کے جھنڈے اکثر لہراتے نظر آتے ہیں۔

اب اس کے حامی پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ ،امریکہ اور انڈیا سے مدد مانگ رہے ہیں اور ریاست کے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں غالبا یہی وجہ تھی خاتون صحافی کے سوال کی کہ کیا منظور پشتین جو ریڈ لائن کراس کر رہا ہے اس کے خلاف ایکشن ہو گا یا نہیں ؟ جس پر جنرل غفور کا جواب تھا ہم نے ان پر سخت ہاتھ اس لیے نہیں ڈالا کہ ان کے علاقوں میں جنگ ہوئی ان کا نقصان ہوا ان کے عزیز رشتہ دار مارے گئے ریاست ماں جیسی ہوتی ہے ہمیں ان سے ہمدردی ہے ہم نے ان کے کئی مطالبات پورے کیے ہیں شروع میں ان کے صرف تین مطالبات تھے چیک پوسٹیں کم کریں ،مائینز کا صفایا،اور مسنگ پرسنز،ہم نے بہت ساری چیک پوسٹیں ختم کر دیں اگر ہمیں یہ اعتماد ہو کہ وہاں لوگوں کو سرحد پار سے کوئی خطرہ نہیں تو ہم مزید چیک پوسٹیں ہٹا لیں گے ہم اس لیے بارڈر فنسنگ کر رہے ہیں مسنگ پرسنز کے سات ہزار کیسز رجسٹر ہوئے جس میں سے چار ہزار سے زیادہ ریکور ہو چکے ہیں باقی تین ہزار کی بھی تفتیش جاری ہے وہ کسی اور ملک جا چکے ہوں یا کسی اور محاذ پر مصروف ہوں یا مارے جا چکے ہوں لیکن ہم ان پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں اسی طرح تیسرا مسلہ بھی بہت حد تک کور ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود اگر وہ لائن کراس کریں گے تو پھر ریاست اپنی رٹ قائم کرے گی ،بھارت سے متعلق سوال پر بھی جنرل نے اسی آہنی عزم سے جواب دیا کہ جنگیں انہوں نے بھی لڑ کر دیکھ لیں ہم نے بھی دیکھ لیں کوئی فائدہ نہیں ہوا اگر وہ جارحیت کا ارتکاب کریں گے تو پھر دیکھ لیں گے ۔۔۔میں اس پر مزید بات کسی اور کالم میں لکھونگی انشا اللہپاکستان کی ترقی کے بعد!

Mrs Khakwani
Mrs Khakwani

تحریر : مسز جمشید خاکوانی

Share this:
Tags:
Enemies institutions Major General Asif Ghafoor Media Mrs Khakwani state اداروں دشمنوں ریاست میڈیا
Sindh CNG Closure
Previous Post سندھ میں غیرمعینہ مدت تک سی این جی کی بندش، کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام
Next Post طارق عزیز کا پاکستان زندہ باد
Tariq Aziz

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close