ہر اک تخلیق کے آگے نئی تخریب سوچی ہے
امام دہر بننے کی الٹ ترتیب سوچی ہے
ہمیں بس اہلِ دانش ہیں، زمانے کے معلم ہیں
نیوٹن، ڈارون، منٹو کی یوں تکذیب سوچی ہے
ابھی تک بحرِظلمت میں سرِپیکار ہے مومن
سفینہ پار کرنے کی کہاں ترکیب سوچی ہے
تحریر : فخر لالہ
