وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کر گرا…
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کر گرا…
کنارے آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی گماں گزرتا ہے، یہ شخص دوسرا ہے کوئی ہوا نے توڑ کے پتا زمیں پہ پھینکا…
ابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئے سجا رکھا ہے گھر سارا تُو شاید لوٹ کر آئے بجز خاموشیوں تنہائیوں کے کچھ…
تم نہ جانے اسکو بھی کیوں بے اثر لکھتےرہے ہم کہانی پیار کی جو عمر بھر لکھتے رہے اپنے کاندھے پہ رکھے اغیار کی فکر…
گھر سے یہ سوچ کہ نکلا ہوں کہ مر جانا ہے اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے جسم سے ساتھ نبھانے کی…
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے…
اسی طرح سے ہر ایک زخم خوشنما دیکھے وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے گزر گئے ہیں بہت دن رفاقت شب میں…
اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے کون ہو گا جو مجھے اس کی طرح یاد کرے دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھلا…
کہاں آنسوئوں کی یہ سوغات ہو گی نئے لوگ ہوں گے نئی بات ہو گی میں ہر حال میں مسکراتا رہوں گا تمہاری محبت اگر…
آنکھوں میں رہا دل میں اُتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا بے وقت اگر جائوں گا سب چونک پڑیں گے…
زمین کی چھت پہ پڑا آسمان ہوں تنہا عمارتوں میں گھرا اک مکان ہوں تنہا ادھورے چاند کی صورت دریدہ عکس بھی ہوں تہہ کھنڈر…
Start typing to search...
