
اسی طرح سے ہر ایک زخم خوشنما دیکھے
وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے
گزر گئے ہیں بہت دن رفاقت شب میں
اک عمر ہو گئی چہرہ وہ چاند سا دیکھے
مرے سکوت سے جس کو گلے رہے کیا کیا
بچھڑتے وقت ان آنکھوں کو بولنا دیکھے
ترے سوا بھی کئی رنگ خوش نظر تھے مگر
جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے
بس ایک ریت کا ذرہ بچا تھا آنکھوں میں
ابھی تلک جو مسافر کا راستہ دیکھے
اسی سے پوچھے کوئی دشت کی رفاقت جو
جب آنکھ کھولے پہاڑوں کا سلسلہ دیکھے
تجھے عزیز تھا اور میں نے اس کو جیت لیا
مری طرف بھی تو اک پل ترا خدا دیکھے
پروین شاکر
