Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ایک آبدیدہ حقیقت

March 17, 2016 0 1 min read
Burnning
Burnning
Burnning

تحریر : منشاء فریدی
میں اس آبدیدہ حقیقت اور خونچکاں داستان کی ابتداء شفقت کاظمی کے اس شعر سے کرتا ہوں کہ ! اہل دنیاکو ہے کیا درد ماروں سے غرض کون سنتا ہے بھلا مجھ سے فسانہ میرا میں اپنی کم علمی و کم مائیگی کا پہلے اعتراف کرتا چلوں کہ ہو سکتا ہے کہ میں اس عظیم سانحہ کو مفصل بیان نہ کر سکوں ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جبوبی پنجاب ، صوبہ پنجاب کا پسماندہ ترین حصہ ہے کیونکہ اپر پنجاب میں ذرائع کے مطابق فی نفر پر 35ہزار روپے خرچ کیئے جاتے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب میں صرف 5ہزار روپے ۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب کا پسماندہ ہونا بعید از قیاس نہیں ۔پس وسائل کے حوالے سے ڈیرہ غازیخان جنوبی پنجاب کا پسماندہ ترین ڈویژن ہے ۔ میں ایک امر کی یہاں وضاحت کرتا چلوں کہ ڈیرہ غازی خان سیاسی و ادبی حوالے سے فلک بوس شہرت کا حامل ہے ۔ یہاں کے سیاسی رہنمائوں نے سمک سے تابہ سماء کی مسافتیں طے کیں۔

یہ چوٹی کے سیاسی رہنما ء صدارت کے عہد ہ پر فائز رہے ۔ سابق صدر فاروق احمد خان لغاری ( مرحوم )قومی سطح کے سیاستداں تھے ۔ ان کے خاندان کے چشم و چراغ مختلف ادوار میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں ۔ اسی طرح کھوسہ سرداروں کی تاریخ عروس الخطوط سے محلو ظ ہے ۔ اس موصوف خانوادہ کے لوگ بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ گور نری سے لیکر وزارت اعلیٰ تک کے فرائض منصبی نبھاتے رہے ۔ یوں سمجھے کہ ڈیرہ غازی خان کی پسماندگی مذکورہ کی مصلحت یا ایک سازش ہے ۔ ان حالات و واقعات کے پیش نظر ڈیرہ غازی خان کی پسماندگی ڈھکی چھپی نہیں ہے اور عوام کی بے حسی پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ
اُن کے آگے کہاں مجال کہ ہم
اپنی محرومیوں کی بات کریں

اگر ڈیرہ غازی خان کا جغرافیائی جائزہ لیا جائے تو اس سے ملحقہ قصبے ، شہراور گائوں انتہائی درجہ تک پسماندہ ہیں ۔ اسی طرح یونین کونسل چوٹی بالا ،ڈیرہ غازی خان کی پسماندہ ترین یونین کونسل ہے ۔سالہا سال سے اس کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔ جس میںذرائع ابلاغ اور تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ۔ کسی صنعت کا نام تک نہیں ۔ مذکورہ یونین بہت سے مواضعات پر مشتمل ہے اور موضع چک ننگر بھی اس یونین کونسل سے نتھی ہے ۔ موضع چک ننگر کے عوام انتہائی محنت کش ہیں۔

Burnning
Burnning

آج کے نا گفتہ بہ دور میں لوگ رشوت ، سود ،فراڈ اور کرپشن جیسے نا پاک عزائم کے ذریعے روزی کمانے میں سر گرداں ہیں۔ جبکہ موضع چک ننگر کے عوام ان کے بر عکس حلال روزی کی تلاش میں کئی سو میلوں کا سفر طے کرتے ہیں ۔ اسی حوالہ سے جب وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے حلال روزی کی جستجو میں نکلے تو بد قسمتی سے ان اجیروں کا قافلہ جم غفیر کی صورت میں جب لاہور پہنچا تو ان کا ٹاکرا موت کے تاجروں سے ہوا جنہوں نے موت کی فیکٹریاں کھول رکھی ہیں ۔ فیکٹریوں اور اُن کے مالکان کے نام درج ذیل ہیں۔

1۔ انیس بٹ گرائیڈنگ سٹون ۔۔۔۔۔۔۔انیس بٹ
2۔ امپیریل سرا میکس گرائیڈنگ سٹون ۔۔۔۔۔۔ چوہدری اشرف ، حاجی محمد خالد
3۔ طیب گرائیڈنگ سٹون ۔۔۔۔۔۔محمد اکرم
4۔ اتفاق گرائیڈنگ سٹون ( سوامسن کالر )۔۔۔۔۔۔ صابر حسین
مندرجہ بالا جان لیوا فیکٹریاں لاہور شہر سے شمال مغرب کی طرف 14سے16کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں ۔
5۔ عبدالستار گرائیڈنگ سٹون اقبال ٹائون جاوید نگر جو کہ مولوی یعقوب اور عبدالستار کی ملکیت ہے ۔
6۔ بلیک گولڈ گرائیدنگ سٹون نزد رحمان ملز اس قسم کی چند فیکٹر یاں گو جرانوالہ میں بھی ہیں ۔

کسب حلال کے ہر اجیر کو مذکورہ بالا فیکٹریوں میں کام تو مل گیا لیکن انجام کی خبر نہ تھی ۔ معلوم ہوا ہے کہ ان فیکٹریوں میں کوارڈز نامی پتھر پستا تھا جو کہ پشاور سے لایا جاتا تھا ۔ انتہائی خطر ناک پتھر جس کی کاٹ آتش عناں سے کم نہ تھی۔ اس کی جو DUSTٰ یعنی دھوڑ تھی وہ پھیپھڑوں کیلئے نا دیدہ وائرس کی طرح تھی۔ اس پسے ہوئے پتھر میں ایک BOARCKنامی کیمیکل جو کہ جرمنی اور اٹلی سے در آمد ہوتا ہے ۔ مکس کیا جاتا تھا ۔ یہ کیمیکل صحت کیلئے صرف مضر ہی نہیں تھا بلکہ نہایت مہلک تھا ۔درندہ صفت فیکٹری مالکان نے ان اجیروں کو بغیر تربیت کے کام پر لگا لیا نہ ہی ان مزدروں کیلئے حفاظتی لباس کا بندو بست کیا گیا اور نہ ہی انہیں اس کام کے نقصان دہ اثرات سے مطلع کیا گیا۔

Abdedah Haqiqat
Abdedah Haqiqat

مشقت کم تھی معاوضہ بے کم و کاست تھا ۔ یہ لوگ انجام سے بے خبرہو کر کام میں جتے رہے ۔ آتے جاتے راہ گیران اجیروں کو اس کام کے نقصان دہ اثرات سے آگاہ کرتے رہے ۔ کیونکہ یہ اجیروں کا قافلہ اس ثقافت سے نا آشنا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان کی اس بات کو پہلو ئے رشک میں لیتے رہے۔ اب نہایت ہی تاسف سے کہنا پڑتا ہے اُف یہ غریبی ہائے یہ نا خواندگی ! تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس کارِبد کے آثار بد عیاں ہونے لگے ۔ محمد اصغر ولد اللہ بخش اس کاربد کی ابتلا میں مبتلا ہوگیا ۔ سانس کی بیماری لاحق ہوگئی۔ جب اسے چیک کرایا گیا تو ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ اسی کوارڈز نامی پتھر کی DUSTٰیعنی دھوڑ اور BOARCKنامی کیمیکل کی کارستانی ہے ۔ جس سے نجات صرف مشکل ہیں نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔

کچھ عرصہ بعد سیف اللہ ولد محمد اسماعیل بیمار ہو گیا ۔ نہایت علاج کے با وجود بھی یہ مارچ 2009ء میں خالق حقیقی سے جاملے ۔ پھر کیا ہوا قیامت ٹوٹ پڑی قیامت اور قیامت کبریٰ ۔ بسکہ اس مرض نے تمام وہاں کام کرتے ہوئے مزدوروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ ایک بھونچال سا چھا گیاپھر کیا ہونا تھا دن رات موت سایہ فگن رہی اسی مارچ کے مہینے میں21تاریخ کو محمد رفیق ولد محمد اقبال چل بسے ۔ دس دن بعد عبدالجبار ولد میہاں اپنے والدین کو داغ مفارقت دیکر چلے گئے ۔ موضع چک ننگر اور اس سے ملحقہ مواضعات کے عوام الخدر ، الا ماں جیسے کلمات سے پکار اُٹھے بات صرف یہاں جاکر نہیں رکتی ۔
سن سکودرد کا فسانہ سنو
مجھ میں یار ائے اختصار نہیں

اسی ماہ میں جب عبداللطیف ولد میہاں نہایت تشویشناک صورت حال میں نشتر ہسپتال میں نبرد آز ما تھے ۔ ڈاکٹر زبیر شاہین پروفیسر آف چیسٹ نشتر ہسپتال ملتان سے دریافت کیا گیا کہ مریض RECOVERکیوں نہیں ہو رہے ۔ تو اس نے کہا کہ ہم کیا کرسکتے ہیں ؟۔ اس سے پہلے اس کیمیکل کیو جہ سے بستی گبر تونسہ شریف ، ڈیرہ غازیخان کا ایک نوجوان باقی نہیں بچا ۔ پس کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے اللہ کریم سے معافی طلب کی ۔ پروفیسر صاحب کی اس تلخی نے آنکھیں کھول دیں کہ دوسرا سوال نہیں سنے گا اگر کوئی سوال کر بھی لیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ GET OUT کہہ کر وارڈ سے باہر نکال دے۔ اس دوران ٹوئینٹی کپ کے میچ ہو رہے تھے ۔ وارڈ میں TVنصب تھا ۔ دل بہلانے کیلئے ورثاء نے TVآن کیا اور میچ دیکھتے رہے۔ اس طرح دوپہر گز ر گئے ۔ رات 9بجے کے قریب جب ڈاکٹر لیاقت علی ڈوگر ( اسسٹنٹ پروفیسر آف چیسٹ نشتر ہسپتال ملتان ) اسی وارڈ کیلئے رائوند کیلئے آئے تو ان سے متعدد سوالات کیئے گئے۔

Burnning
Burnning

انہوں نے مرتسم مزاجی سے جوابات فراہم کئے اور کہا کہ ان مریضوں کا افاقہ ممکن نہیں ۔ کیونکہ ان لوگوں کو بنیادی احتیاطی لباس فراہم نہیں کیا گیا تھا ۔ ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے اجیروں کیلئے حفاظتی لباس اور رسیپیریٹر ہوتا ہے ۔ جس کی قیمت دس ہزار سے باراہ ہزار روپے تک ہوتی ہے اور یہ صرف دو ہفتے کام کرسکتا ہے ۔ اس کے بعد پھر تبدیل کیا جاتا ہے ۔ جو انہیں مہیا نہیں کیا گیا ۔ علاوہ ازیں ان اجیروں کو سوشل ویلفیئر میں رجسٹرڈ کرایا جاتا ہے ۔اب کے پانی سر سے گزر گیا تھا ۔ دو ہی دن گزر ے تھے علی الصبح ایمبولینس صور پھونکتے آگئی۔ پتہ چلا کہ عبداللطیف ول میہاں خان جان کی بازی ہار گیا ہے ۔ اس مسلسل موت نے تہلکہ سا مچا دیا ہر طرف آہ و فغاں، سسکیاں اور ماتم کا عالم تھا۔ مقامی پریس نمائندگان حرکت میں آگئے۔ گاہے گاہے مختلف اخبارات میں خبریں شائع ہوتی رہیں ۔نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ ایک درجن سے زائد مذکورہ اجیر تشویشناک صورت حال سے دور چار ہوگئے ۔ موت نے ان کا پیچھا کر لیا۔

یہ لوگ مختلف سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں میں داخل تھے۔ سرکاری ادارے اتنابے اعتناء ہو گئے کہ ایڈمشن کے پورے تین دن بعد ڈسچارج سلپ بناکر مریض کو گھر بھیج دیتے تھے۔ جبکہ ان مریضوں کو آکسیجن حد سے زیادہ ضرورت ہوتی تھی۔ جب یہ مریض آخری سٹیج پر پہنچے تو آکسیجن کا بڑا سلنڈر ایک گھنٹہ تک کام نہیں کرتا تھا ۔ پھیپھڑوں جیسی نعمت تو فیکٹریوں کے کیمیکل کی نذر ہو گئی تھی۔ پھر یہ مصنوعی آکسیجن کسی کو کب تک زندہ رکھتی چند مہینوں بعد رفیق احمد ولد جلال اپنے والدین کو سوگوار چھوڑ گئے ۔ یہ مرحوم اکتوبر ہی میں فوت ہوئے تو پھر محمد سلطان ولد میہاں نے جانے کی تیاری کر لی بالآخر نومبر میں وہ بھی چل بسے۔ ایک ہفتہ بعد شاہنواز ولد خادم حسین نے اس دارِ فانی کو خیر آباد کہا۔ اس سالِ بد کیلئے لوگ جمعتہ المبارک اور مختلف اجتماعات میں دعائیں منگواتے رہے کہ ” اے اللہ کریم ، اے مجیب الداعو ٰة اس سال جو ہوا سو ہوا۔

اب اس سال کے دن اور راتیں مختصر کر دے لیکن جاتے جاتے اس سال نے 25دسمبر 2009ء عابد حسین ولد کریم بخش کی جان لے لی ۔ سال کا ہندسہ تبدیل ہوا 2009ء سے ہم 2010ء میں چلے گئے لوگ نئے سال کی خوشیوں میں مگن تھے کہ 3جنوری2010ء کو عبدالغفور ولد جان محمد بوڑھے والدین اور بیٹوں اور بیٹیوں کو سلام آخری کرتا چلا گیا ۔ ان کے جانے سے پہلے سالارِ قافلہ موت و حیات کی کشمکش میں تھے ۔ کہ ان کے بدن میں پھیپھڑوں جیسی نعمت نہ رہی ۔ بالآخر سالارِ قافلہ محمد جعفر ولد غلام حسن ، عبدالغفورمرحوم کے ایک ہفتہ بعد راہی عدم ہوئے ۔ اسی طرح فروری میں محمد اختر ولد مہر علی مارچ میں امام بخش ولد جان محمد ، مئی میں محمد عاشق ولد محمد بخش ، اگست میں مہر علی ولد پلیہ خان ، مجاہد حسین ولد غلام رسول ، نومبر میں شاہنواز ولد محمد علی خان ، دسمبر میں مقصود احمد ولد غلام حسن لواحقین کے لئے سسکتی بلکتی سرد آہیں چھوڑ گئے۔

Abdedah Haqiqat
Abdedah Haqiqat

2010ء کے بارہ مہینوں نے 9نوجوان چھین لئے ۔ اب کے ضلعی انتظامیہ کی آنکھیں قدرے کھلیںاور ما حولیات والوں نے بھی ان کا ساتھ دیا EDOہیلتھ نے موضع چک ننگر میں دو تین روایتی وزٹ کئے ۔ بات صرف اتنا تھی کہ انہوں نے فہرست تیار کرنی تھیاور خانہ پری کرتے ہوئے کف سیرپ عنایت کرتے چلے گئے۔ پریس میڈیا کی طرح الیکٹرونک میڈیا نے بھی ہمارا خوب ساتھ دیا گاہے بہ گاہے تمام چینلز پر خبریں کاسٹ کرتے رہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ
کتنے منزل سے بے خبر نکلے
تھا جنہیں ادعائے راہبری

سیاسی قائدین ،مقامی سرداروں اور سماجی حلقوں نے تعزیت تک نہیں کی ۔خادم اعلیٰ پنجاب نے اس المیہ و عظیم سانحہ کی طرف دز دیدہ نگاہ سے نہیں دیکھا ۔ موصوف کے اختیار ات تو صرف لاہور تک تقسیم ہوتے ہیں دوسرا یہ کہ ان پر ظلم و ستم کا پہاڑلاہور یوں نے گرایا تھا ۔ خادم اعلیٰ پنجاب نے تو لاہور والوںکا دفاع کرنا تھا ۔ لغاری ، کھوسہ، مزاری ، دریشک ، لنڈ اور گورچانی سرداروں کے کانوں جوں تک نہ رینگی ۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ

ع: لوک اندھے وی نئیں بلکہ بوڑے وی ہن ان تمام متو فین کا تعلق نانگری قبیلہ ، لغاری قبیلہ کی ذیلی شاخ سے ہے اور لغاری تمن میں یہ اہم جزو گردانی جاتی ہے ۔ سابق صدر فاروق احمد لغاری کی رحلت کے بعد لغاری سردار فرضی طور پر اس طرف متوجہ ہوئے ۔ کیونکہ ہلاکتوں کا باب ابھی تک بند نہیں ہوا تھا ۔ لیکن ضمنی الیکشن جیتنے کے بعد مذکورہ سرداروں نے اپنی بے چارگی وبے بسی کی اطلاع دی کہا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ؟۔

Burnning
Burnning

یہ مضحکہ خیز اُمید بھی گئی۔ نانگری قبیلہ و برادری کی نوبت فاقوں تک آ پہنچی ایک طرف جانی نقصان کا سامنا تھا ۔ دوسرا مالی طور پر یہ لوگ بے انت کمزور ہو چکے تھے۔ 2010ء کا خاتمہ ہو گیا تھا 2011ء جنوری میں محمد طارق ولد نور محمد کی جان لے لی ۔ فروری میں مختیار احمد ولد پلیہ ، عبدالحکیم ولد حاجی خان ، اپریل میں محمد بلال ولد جان محمد اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ اسی اپریل میں بشیر احمد ولد فیض محمد 25اگست 2011ء میں عبداللطیف ولد جلال خان ، شاہنواز ولد خان محمد ، اپنی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ یاد رہے کہ یہ دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی تھے اور ان کا اجتماعی جنازہ پڑھا گیا۔

ستمبر کے مہینے نے کیا فرصت دی کہ 3اکتوبر 2011ء کو محمد نواز ولد جلال رحلت فر ما گئے ۔ 19اکتوبر کو محمد اسماعیل ولد دوست محمد کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا ۔ نومبر کی پہلی تاریخ کو صادق حسین ولد بشکن اور عبدالمجید ولد چاکر خان اپنے خاندان کو سوگوار چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوئے ۔ 27جنوری2012ء کو غلام یٰسین ولد خان محمد اور ایک ہفتہ بعد محبوب احمد ولد مہر علی اپنے اپنے بچوں کو سوگوار چھوڑ گئے ۔ بعد ازاں محمد اختر ولد گاجی خان ، عبدالرزاق ولد محمد طفیل ، خدا بخش ولد محمد اسماعیل ، حمید ولد محمد بخش ، محمد اصغر ولد اللہ بخش اپنی اپنی جان کی بازی ہار گئے ۔ القصہ ایک ہی موضع اور ایک ہی قبیلہ کے 53سے زائداجیر موت کے منہ میں چلے گئے۔

۔ اس ضمن میں ایک اور المیہ کی تو ضیح جزوِ لازم ہے ۔ اس لب چباتے ہوئے عظیم سانحہ میں جلال خان کے تین نوجوان بیٹے رفیق احمد ، عبداللطیف اور محمد نواز لقمۂ اجل بنے ۔ میہا خان کے دو بیٹے عبدالجبار اور محمد سلطان نے اپنی اپنی قیمتی جانیں گنوائیں ۔ پلیہ خان کے دو بیٹے مہر علی اور مختیار ، غلام حسن کے دو بیٹے محمد جعفر اور مقصود احمد جان محمد کے دو بیٹے عبدالغفور اور مام بخش اپنے اپنے والدین کو سوگوار چھوڑ گئے ۔ مذکورہ الدین کی گود میں انگاروں کے سوا اور کچھ نہیں حضرت عمر نے اپنے مقررہ گورنروں کو متنبہ کیا تھا کہ اگر دریا ئے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بے گناہ مارا گیا تو اس کا جواب دہ میں ہی ہوں گا۔

Abdedah Haqiqat
Abdedah Haqiqat

خدا جانے کہ اتنے افراد کی موت کن لوگوں کے ذمہ جا ٹھہر تی ہے ۔ ہر ذی روح کو موت آنی ہے یہ سلسلہ اگر یہیں پر رُک جاتا ہے تو ہمارے لیے نعمت خطیر سے کم نہیں ۔ مگر موت کی طرف یہ رواں دواں قافلہ رکتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ ہنوز 200کے لگ بھگ افراد جان لیوا مرض سے نبرد آزما ہیں ۔ جن پر اس جان لیوا مرض کے آثار واضح ہو چکے ہیں ۔یاد رہے کہ جان لیوا مرض سے لُنڈ ، کھوسہ اور وڈانی قبیلہ کا ایک ایک فرد فوت ہو چکا ہے ۔ راقم الحروف مولانا الطاف حسین حالی کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے اس آبدیدہ حقیقت کو قلم بند کرتا ہے کہ !
مصیبت کا ہر اِک سے احوال کہنا
مصیبت سے ہے یہ مصیبت زیادہ

بنا بریں مصیبت زدگان مسلسل ایک کرب سے گزر رہے ہیں ۔ یہاں فاقہ ہے ، دردو اندوہ غم ، سسکیاں اور سرد آہیں ۔ ورثا ارباب ِ اختیار ( وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ اور چیف جسٹس آف پاکستان) سے گزر ا شات کر چکے ہیں کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ اب عالمی ادارہ ہیو من رائٹس اور عالمی پریس اور الیکٹرانک میڈیا سے استدعا کرتے ہیں کہ ان کی مدد کو پہنچیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ پر زور احتجاج کرتے ہیں کہ ان کے سسکتے بلکتے مریضوں کیلئے خصوصی علاج معالجہ کے ساتھ فوت شدگان کے متاثرین کو معاوضہ دلا کر ان کی دلجوئی فرمائیں اور فیکٹر ی مالکان کے خلاف قتل کے مقدمات درج کرائیں جو قر ین انصاف و قانون ہے۔

Mansha Fareedi
Mansha Fareedi

تحریر : منشاء فریدی
چوٹی زیریں ، ڈیرہ غازیخان
0333-6493056

Share this:
Tags:
fame leader narrative Punjab reality tears پنجاب حقیقت داستان رہنما شہرت فسانہ
Obama to Visit Saudi Arab Next Month
Previous Post باراک اوباما اگلے ماہ سعودی عرب کا دورہ کریں گے
Next Post جھنگ کی خبریں 17/3/2016
Jhang

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close