Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اے این پی پھر دہشت گردی کی زد میں

July 12, 2018 0 1 min read
Barrister Haroon Bilour

Barrister Haroon Bilour

تحریر : قادر خان یوسف زئی

پھولوں کا شہر پشاور کو ایک بار پھر دہشت گردوں نے لہولہان کر دیا۔ پر امن انتخابات کے لئے نگراں حکومت کی تمام حکمت عملی پر سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہوگئے ہیں ۔ پشاور شہر میں دہشت گردی کی سیاہ پرچائیں ایک بار پھر عوامی نیشنل پارٹی پر چھا گئیں ۔عوامی نیشنل پارٹی نے شدت پسند ی کے خلاف بڑی قیمتی جانوں کی قربانیاں دیں ہیں۔ کراچی تا خیبر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں اور کارکنان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ 10جولائی منگل کی شب گیارہ بجے شہید بشیر احمد بلور کے بیٹے بیرسٹر ہارون بلور کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ۔ پشاور کے علاقی یکہ قوت میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی رابطہ مہم کے سلسلے میں ہارون بلور پارٹی رہنمائوں اور کارکنان کے ساتھ شریک تھے کہ پہلے سے موجود خود کش حملہ آور نے ہارون بلور کو نشانہ بنایا ۔ حملہ کے وقت آتش بازی کی جا رہی تھی۔ تادم تحریر اے این پی کی انتخابی میٹنگ میں شہید ہونے ہونے والوں کی تعداد 21سے زائد ہوچکی ہے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 60سے بڑھ چکی ہے۔ بیر سٹر ہارون بلور کو بدھ کے سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ وزیر باغ میں ادا کی گئی ، جبکہ دیگر شہدا کی بھی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی میٹنگ میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم جماعت طالبان پاکستان نے قبول کی ہے اور عوامی نیشنل پارٹی کو مزید دھمکی دیتے ہوئے الیکشن ،رابطہ دفاتر ، جلسوں اور کارنر میٹنگز سے دور رہنے کو کہا ہے۔ اس سے قبل بیر سٹر بشیر احمد بلور کو بھی 2012میں شہید کیا جاچکا ہے۔ بشیر احمد بلور شہید نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میںناقابل فراموش کردار ادا کیا تھا اور تمام تر دہمکیوں کے باوو جود شدت پسندی کے خلاف غیر متزلزل رہنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ہمیشہ یہی کہا تھا کہ جو رات قبر میں آتی ہے وہ گھر میں نہیں آسکتی۔ موت کا ایک دن مقرر ہے ۔ اس لئے شہید بشیر احمد بلور نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں صف اول رہنما کا کردار ادا کیا۔بیرسٹر ہارون بلور شہید کو بھی شدت پسندوں کی جانب سے مسلسل دہمکیوں کا سامنا تھا لیکن شہید باپ کے بہادر بیٹے نے بزدلی کی زندگی کے بجائے شہادت کو ترجیح دی اور اپنی جان آفریں شدت پسندوں کے خلاف جدوجہد میں دے کر اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا بہادرانہ سبق دیا ۔پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکہ منگل کو رات 11 بجے کے قریب ہوا جب یکہ توت کے علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ جاری تھی جس میں شرکت کے لیے ہارون بلور پہنچے تو انھیں خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جلسے کے دوران جیسے ہی ہارون بلور کو تقریر کے لیے سٹیج پر بلایا گیا تو دھماکہ ہو گیا۔

شہیدبشیر بلور نے ہمیشہ کالعدم طالبان کی مخالفت کی اور شہید ہارون بلور نے بھی شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کبھی بھی پیچھے نہ ہٹنے کا عزم قائم رکھا ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے لئے ایک بڑا دل خراش لمحہ تھا جب ہارون بلور کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری ملک اور دنیا بھر میں پھیل گئی ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے پارٹی کی انتخابی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے ہارون بلور کی شہادت پر کہا کہ پہلے باپ گیا پھر بیٹا شہید ہو گیا۔ بلور فیملی کو اس لیے ہدف بنایا جا رہا ہے کیونکہ جب تک یہ ہیں پشاور پر کوئی قبضہ نہیں جما سکتا۔اے این پی کے سربراہ نے انتخابی مہم جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پرامن طریقے سے تین دن سوگ منائیں گے اور اس دوران کوئی جلسہ جلوس نہیں ہو گا۔ تین دن بعد پارٹی انتخابی عمل معمول کے مطابق شروع کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ امپائر وہ نہیں رہا بلکہ یہ امپائر نہیں دہشتگرد ہیں۔ یہ لوگ جو بھی کرتے ہیں لیکن ہم نے میدان نہیں چھوڑنا کیونکہ ہم نے الیکشن لڑنا ہے اور انشائاللہ جیتنا ہے۔اسفند یار ولی نے کہا کہ ہر داڑھی والے کو نہیں پکڑ سکتے کیونکہ ہر داڑھی والے کو طالبان کہنا زیادتی ہو گی۔ ان میں ہمت ہے تو سیدھی طرح میدان میں آئیں اور مقابلہ کریں اور پیٹھ پر وار نہ کریں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے اس دھماکے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نتائج کو سامنے لایا جائے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے’تحقیقات میں دشمن کی پہچان کی جانی چاہیے بجائے کہ صرف بتایا جائے کہ خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ بات یہاں تک نہیں رکے گی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نتائج کو سامنے لایا جائے۔’میاں افتخار حسین نے ہارون بلور کی ہلاکت کو ظلم کی انتہا اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان کی جماعت آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے سنجیدہ ہے اور اس کے لیے فیصلہ کرنا ہو گا۔خیال رہے کہ یہ انتخابی مہم کے آغاز کے بعد خیبر پختونخوا میں کسی امیدوار کو نشانہ بنائے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل سات جولائی کو بنوں میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کے قافلے پر بھی بم حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔ خیبر پختون خوا کے علاقے بنوں میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایم ایم اے کے امیدوار ملک شیرین سمیت 8افراد زخمی ہوئے تھے۔پولیس کے مطابق پی کے 89 سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار ملک شیرین کا قافلہ بنوں کے علاقے تختی خیل بکا خیل سے گزررہا تھا کہ اس دوران موٹر سائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول بم اچانک دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں امیدوار ملک شیرین سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے۔پی کے 89 بنوں سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار ملک شیرین نے اپنی انتخابی ریلی پر ہونے والے بم حملے کا مقدمہ پی ٹی آئی کے خلاف درج کروا دیا ہے۔ ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے امیدوار ملک شاہ محمد خان اور ان کے بھائی ملک گل باز خان کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ملک شاہ محمد خان سابق صوبائی وزیر اور ان کے بھائی ملک گل باز خان ڈسٹرکٹ ممبر بھی ہیں۔

بلور خاندان کو پشاور میں بڑی سیاسی قوت تسلیم کیا جاتا ہے ۔ گذشتہ انتخابات میں جس طرح عوامی نیشنل پارٹی کو دیوار سے لگایا گیا ۔ اور شہید بشیر احمد بلور کی قربانی کے باوجود ہارون بلور تین حلقوں سے کھڑے ہونے کے باوجود اسی لئے کامیاب نہیں ہوسکے تھے کیونکہ ان کی جماعت کے تمام رہنما شدت پسندوں کی ہٹ لسٹ پر تھے ، انتخابی جلسے ، کارنر میٹنگز یہاں تک کہ کسی کے جنازے میں بھی شرکت نہیں کرسکتے تھے۔ یہ بہت بڑا امتحان تھا جس میں عوامی نیشنل پارٹی کو کڑے مرحلے سے گزرا گیا ۔ شہید ہارون بلور 2013میں بھی یکہ قوت کے علاقے میں ہی اے این پی کے جلسے کے دوران حملہ ہوا تھا جس میں 17افراد جاں بحق ہوگئے تھے ۔ جس عمارت میں دہماکہ ہوا اس کی پہلی منزل میں ہونے کی وجہ سے ہارون احمد بلور محفوظ رہے تھے ، جس طرح منگل کی شب ہونے والے دہماکے میں ہارون بلور شہید کے بیٹے دانیال بلور گھر میں موجود ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے ۔ اس سے قبل دانیال بلور اپنے والد کے ہمراہ ہر کارنر میٹنگ میں شریک اور تقریریں بھی کرتے رہے ہیں۔ہارون بلور شہید سوشل میڈیا میں زیادہ متحرک نہیں تھے ان کی آخری ٹویٹ 23 مئی کی تھی انھوں نے ایک ٹویٹ میں فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے نام کی تھی کہ وہ ‘ملک کے لیے بشیر بلور کی شہادت کو تسلیم کرنے پر آرمی چیف اور آئی ایس پی آر کے شکر گزار ہیں۔’ یہی ان کی آخری ٹویٹ بھی تھی۔

پاکستان کے نگران وزیراعظم سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہارون بلور کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ‘شہید بشیر بلور کے بیٹے کی شہادت پر سب وطن پرست غمگین ہیں۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘جمہوریت پسندوں پر دہشتگرد حملے بہت بڑی سازش ہے اور دہشتگرد کسے کو انتخابات سے باہر کرنا چاہتے ہیں یہ ظاہر ہو رہا ہے۔’پاکستان فوج کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہارون بلور اور دیگر ہلاکتوں پر بلور خاندان اور اے این پی کے ساتھ اظہار افسوس کیا ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی دہماکے کی شدید مذمت کی۔اور سیکورٹی دینے کا مطالبہ کیا ۔پاکستان کے نگران وزیر داخلہ اعظم خان نے متنبہ کرچکے تھے کہ دہشت گردی اب بھی ایک خطرہ ہے اور آئندہ عام انتخابات میں شدت پسندوں کے حملوں کو رد نہیں کیا جا سکتا۔وزیر داخلہ نے دعوی کیا تھا کہ اگرچہ ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کی جانے والی انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں کے نتیجے میں امن و امان کی صورت حال پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ لیکن، دہشت گردی کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ اور ان کے بقول، دہشت گرد عام انتخابات کے عمل کو سبوتاژ کرنے کیلیے کارروائی کرسکتے ہیں۔و میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ”آپ کو پتا ہے کہ پاکستان میں حالات پہلے تو بہت خراب تھے اور اب فوج کی آپریش کی وجہ سے کافی کنڑول ہوگئے ہیں۔ لیکن، دہشت گردی کا خطرہ جو ہے رہے گا اب بھی ہے اب بھی کسی حد تک ہے اور یہ رہے گا اس بات کورد نہیں کیا جاسکتا ہے کہ دہشت گرد کسی سیاسی جماعت یا اس کی ریلی یا اجلاس میں خلل ڈالیں یا گڑ بڑ ناکریں۔” تمام تر امکانات و خدشات کے باوجود ہارون بلور کا سانحہ کا رونما ہونا بڑا المیہ ہے۔

یہاں قابل ذکربات یہ ہے کہ عام انتخابات میںتمام سیاسی جماعتوں کے بڑے چھوٹے جلسے اور ریلیاں منعقد ہو رہی ہیں لیکن ایک مرتبہ پھر عوامی نیشنل پارٹی کو نشانہ بنانے سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کی جانب سے یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ عام انتخابات کو سبوتاژ کرسکتی ہے۔ یہ بڑا اہم بیان تھا ۔ جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو غور و فکر کرنا چاہیے تھا کہ پاکستان میں عدم استحکام اور عالمی دہشت گردی سے کن عناصر کو فائدہ مل سکتا ہے۔

یکہ قوت خود کش حملے کے تانے بانے ایک بار پھر افغانستان میں موجود کالعدم جماعتوں کے ساتھ جڑے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں افغانستان کا کردار منفی ٹابت ہوا ہے۔ اس وقت افغانستان مین قیام امن کے حوالے سے ایک جانب جدہ میں کانفرنس ہو رہی ہے تو دوسری جانب امریکا نے پہلی بار اپنی طویل ترین جنگ میں حکمت عملی تبدیل کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے کہ افغانستان میں جاری لاحاصل جنگ کے بے سود ہونے پر جنگی حکمت عملی تبدیل کی جاسکتی ہے۔مریکی عہدے داروں نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ یہ جائزہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان کی 17 سالہ جنگ میں امریکی شمولیت میں توسیع کے ایک سال بعد کیا جا رہا ہے۔عہدے داروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کی صورت حال میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ کی مایوسی بڑھ رہی ہے۔ پچھلے سال اگست میں انہوں نے اپنی افغانستان حکمت عملی کے تحت شورش زدہ ملک میں مزید فوجی مشیروں، تربیت کاروں اور سپشل فورسز کے اہل کاروں کی تعداد بڑھائی تھی اور عسکریت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کے دائرے میں اضافہ کر دیا تھا تاکہ طالبان کو کابل کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کیا جا سکے۔

افغانستان میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کے ساتھ ساتھ داعش مضبوط ہو رہی ہے اور خطے کی مجموعی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے ۔ افغانستان میں بھی رواں برس عام انتخابات متوقع ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف متعدد آپریشن کے بعد شدت پسندوں نے افغانستان کو گڑھ بنا لیا ہے۔ شدت پسندی کے خلاف اس جنگ میں دہشت گرد بلوچستان اور شمالی مغربی سرحدوں پر سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پاکستان میں عام انتخابات کے حوالے سے مسلسل خدشات جنم لے رہے تھے کہ شدت پسند وں کی جانب سے سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔نیکٹا نے بھی چھ سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں پر حملوں کی وارننگ جاری کی تھی۔ تاہم عدالت عظمیٰ کی جانب سے سیکورٹی واپس لئے جانے کے حکم نے خطرات میں اضافہ کردیا تھا ۔

سیاسی حلقوں کی جانب سے عوامی نیشنل پارٹی پر حملوں کے آغاز پر عام انتخابات کو سبوتاژ کرنے کرنے کے خدشات میں اضافہ کرتے ہوئے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کے حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے کئے جانے والے دعوے مسلسل دو واقعات سے عیاں ہوگئے ہیں۔ یہاں اس بات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے کہ ماضی میں کالعدم تحریک طالبان کو پشاور میں آفس کھولنے کی پیشکش کرنے والے عمران خان جو طالبان خان کے نام سے بھی معروف ہیں ، کیا کالعدم جماعتوں کی جانب سے ان کی مخالف جماعتوں کو انتخابی سرگرمیوں کو روکنے سے فائدہ تو حاصل نہیں ہوگا ۔ کیونکہ صوبہ خیبر پختونخوا کی عوام کی روایت رہی ہے کہ انہوں نے ہرا نتخابات میں حکمراں جماعت کو اگلے الیکشن میں مسترد کیا ہے۔تحریک انصاف میں دھڑے بندیوں اور اختلافات کے بعد عمران خان کے لئے مشکلات موجود ہیں۔لیکن بعض سیاسی رہنما اس بات پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی ، پاکستان پیپلز پارٹی سمیت پاکستان مسلم لیگ ن کو انتخابی میدان میں کسی بھی طریقے سے دور کا براہ راست فائدہ تحریک انصاف کو ہو سکتا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کے بیان سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کو ایک مرتبہ پھر عام انتخابات سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دہشت گردی کے ان واقعات سے کارکنان اور لیڈر شپ میں عدم تحفظ کا احساس دوبارہ بڑھا ہے اور یہ تحفظات شفاف انتخابات کے لئے ساز گار نہیں ہے۔اس حوالے سے نگراں حکومت کو اپنے ذمے داریوں میں مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ کا عام انتخابات میں تمام تر تحفظات کے باوجود حصہ لینے کا اعلان اس حوالے سے بہتر فیصلہ ہے جس کے سبب غیر جمہوری طریقے سے اقتدار مین آنے والوں کے لئے کھلا میدان نہ دینے کاعزم ظاہر کیا گیا ہے۔صوبائی حکومتوں کی آئینی ذمے داری ہے کہ وہ سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے موثر اقدامات کو مزید فعال کرے۔دہشت گردی ابھی ختم نہیں ہوئی اور اس بات کا واضح ثبوت ہے وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ۔ احسن اقبال پر فائرنگ افسوسناک اور شرمناک واقعہ ہے۔ پہلے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا پھر سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف پر سیاہی پھینکی گئی مگر وزیر داخلہ احسن اقبال پر بھی گولیاں چلا دی گئیں۔ اب ہارون بلور اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں پر دہشت گردی کے واقعات کے بعد صورتحال مزید حساس ہوچکی ہے۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو وزارت داخلہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے مطابق چند ملکی اور بیرونی عناصر انتخابات کے موقع پر نمایاں سیاست دانوں کی ٹارگٹ کلنگ کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں بڑے پیمانے پر سیاسی تشدد کا خدشہ ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق دہشت گرد انتخابی عملہ کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں اور نتیجتاً خوف کی ایسی فضا قائم ہو سکتی ہے کہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہ رہے۔ سینٹ کمیٹی کے سربراہ رحمان ملک کے سوال کے جواب میں سیکرٹری داخلہ رضوان ملک نے کھلے اجلاس میں معلومات فراہم کرنے سے معذرت کر لی تاہم اتنا ضرور کہا کہ ان معلومات کی بنیاد پرسکیورٹی کی فول پروف منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔اس ضمن میں بھارت، داعش، امریکہ اور طالبان کے مبینہ منصوبوں اور انکے ممکنہ نتائج کے تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے جہاں بہت دور کی کوڑیاں ملائی جا رہی ہیں، وہیں بعض ذمہ دار سکیورٹی ماہرین اور سیاسی و سماجی امور کے ماہرین بھی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مبینہ گٹھ جوڑ کا حوالہ دے رہے ہیں۔

عام خیال یہی تھا کہ حال ہی میں طالبان لیڈر ملا ٰفضل اللہ کی ہلاکت کے ردعمل کے لیے انتخابی ماحول سے زیادہ بہتر موقع کیا ہو سکتا ہے؟ 2013ء کے انتخابات کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے کہ تب کالعدم جماعتوں کی جانب سے دو سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک سو پچاس سے زائد کارکنوں کو ہلاک کیا گیا اور پیپلزپارٹی کو پنجاب میں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سکیورٹی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ یہی صورتحال پنجاب میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔الیکشن کمیشن کو پاکستان میں شفاف انتخابات کے لئے ایسے اقدامات کرنا ہونگے جس سے سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور ہوسکیں۔پر امن اور شفاف انتخابات پر سوالیہ نشان اٹھنے کی وجہ سے عوام میں بے یقینی کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔کسی مخصوص نشان یا خصوصی سیاسی جماعت کے لئے اگر حالات پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات قائم رہے اور نتائج میں بے یقینی رہی تو یہ پاکستان کے استحکام کے لئے اچھا فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
government Peshawar terrorism پشاور حکومت دہشت گردی
Faryal Talpur - Asif Zardari
Previous Post ایف آئی اے آصف زرداری اور فریال تالپور کو الیکشن تک نہ بلائے، چیف جسٹس
Next Post کیا انتخابات شفاف ہوں گے
Elections Pakistan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close