Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

6 ستمبر آزادی کے محافظوں کا دن

September 5, 2016September 5, 2016 0 1 min read
1965 War Pak Army
Freedom
Freedom

تحریر: محمد جواد خان
ماہ اگست و ستمبر عہد و پیماں کا موسم ۔۔۔ہر طرف ہریالی و سبزہ زار کا موسم۔۔۔۔ یہ وہ موسم ہے جو اس لمحہ کی یاد کرواتا ہے جب وقت کے سورج نے اپنی سنہری کرنوں سے اس نیلے آسمان کے نیچے ہماری مقدس دھرتی پر لفظ “آزادی ” لکھا تھا۔اور جسے اس دھرتی کے باسیوں نے اپنے سینوں میں پروتے ہوئے اپنی سانسوں میں ایسا سمویاکہ ہر طرف ان کے خون کی ہولی کھیلی گئی، ان کے بے سرو پاہ لاشوں کو بے گور و کفن سڑکوں پر گھسیٹا گیا، کہیں پر عزت وعصمت کو پامال کیا گیا تو کہیں سر عام انسانیت کو روندا گیا، کہیں خون سے لت لاشے اور کہیں بے گور و کفن جنازے، کہیں یتیم و بے سہارا مخلوق ، اور کہیں شفاف فلک کے سائے میں پلتے بچے، کہیں عورتوں کی لٹی عصمتیں اور کہیں بچوں کا بھوک و پیاس سے تڑپایا گیا، کہیں چوروں کی عیاشیاں اور کہیں مظلوموں کی سسکیاں ، کہیں اپنوں کی تلاش میں تڑپتے انسان اور کہیں اپنوں کی زندگی کے متالاشی لوگ ، کہیں زندگی کی امید اور کہیں زندگی اپنی امیدوں کو توڑتے ہوئے، کہیں جوانوں کا جوش اور کہیں ان کے لاشے، عرضیکہ ہر طرف موت ہی موت تھی ۔۔۔ مگر سلام پیش کیا جائے ان ہستیوں کوجو خود قربانیوں کی مثالیں تو بن گئے مگر ہم کو آزادی کا لفظ لگا کر “پاکستان ” جیسا عظیم ملک ِ پاک دے گئے۔
قید میں آیا تو حاصل مجھ کو آزادی ہوئی
دل کے لُٹ جانے سے میرے گھر کی آبادی ہوئی

قوموں اور ملکوں کی تاریخ میںکچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں،یہی دن فرزندان ِ وطن سے حفاظت وطن کے لئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں ، مائوں سے ان کے جگر گوشے او ر بوڑھے والدین سے ان کی زندگی کا آخری سہارا قربان کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تب جا کر قربانی کی عظیم داستانیں رقم ہوتی ہیں ، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشان وطن رزمگاہ حق و باطل کا رخ کرتے ہیں، آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح د ے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں، کچھ جام شہادت نوش کر کے امر ہو جاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سر خرو ہوتے ہیں، تب جا کر کہیں وطن اپنی آزادی، وقار اور علیحدہ تشخیص برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

1965 War
1965 War

14 اگست 1947 کا دن جب ایک پودا لگایا گیا تھا کہ جس کی سرسبز فضائوں سے ہم دلوں کو تسکین دیں گئے، جس کے ٹھنڈی چھائوں میں ہم سکون کی نیند سویا کریں گئے اچانک اسی درخت کی شاخیں کاٹنے کے لیے 6 ستمبر 1965 کو ہمارا ازلی و ابدی دشمن اپنے پورے زورِ بازو سے ہم پر حملہ آور اس نیت سے ہوتا ہے کہ نہ رہے گا درخت اورنہ ملے گی ان کو آزادی۔۔۔۔۔

نہ دیکھ میر ی عرض پاک کو نظرِ بد سے
ہم وہ طوفان ہیں جو پہاڑوں کو لرزا دیں

66ستمبر 1965 کا دن ہماری قوم اور عسکری تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوا، ہماری بہادر افواج ِ پاکستان کی پشت پر پوری قوم یکجان ہو کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ایسے بن گئی کہ دنیا نے ہماری قوم کے ناقابل تسخیر جذبے اور مسلح افواج کی شاندار کامیابیوں اور معرکوں کو تسیلم کرتے ہوئے ہمارے شیر دل جوانوں اور شاہین صفت ہوا بازوں کے جذبہ جہاد اور ایمانی قوت کو بھر پو ر خراج تحسین پیش کیا۔

ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین ِ گلستان میں
ہمیں بھی یاد رکھنا چمن میں جب بہار آئے

6ستمبر 1965 کو وہ ہمارا دشمن جس نے دوستی کا نقاب اوڑھ کر اپنی جارحیت سے پاکستان کو تر نوالہ سمجھ کر اپنی فوج کو حکم دیا کہ اپنے ساتھ ایک نئی وردی بھی رکھ لیں تاکہ مال روڈ پر جب سلامی لی جائے تو اس وقت نئی وردی میں ملبو س ہوں، لیکن وہ اس بات سے انجان تھے کہ حق و صداقت کی اس جنگ کی فتح کا وعدہ اللہ کا تھا ، رب تعالیٰ نے مومنوں کی اس فوج کو بے پناہ طاقت اس قدر عطا کی کہ انھوں نے اپنے سے کئی گناہ زیادہ لشکر پر غلبہ پاتے ہوئے ان کے مکروہ خواب شرمندہ تعبیر کر دیئے۔ صف شکنوں کی کاری ضرب اور دہشت سے دشمنوں کے پائوں میدان جنگ میں ایسے اکھڑے کہ وہ تتر بتر ہوکر رہ گئے اور اپنے ہی ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔

شہیدان ِ وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل
وہاں پر شکر کرتے تھے، جہاں پر صبر مشکل تھا

1965 War Pak Army
1965 War Pak Army

6 ستمبر 1965 کی جنگ میں جدھر اقوام ِ پاکستان اور افواج ِ پاکستا ن کے اندر جذبہ و ولولہ دیکھنے کو ملتا ہے ادھر ہی قدم قدم پر معجزات کے تذکرے ملتے ہیں۔ حضور نبی کریم ۖ عجلت گھوڑے پر سوار ہو کر پاکستان کے جہاد میں شامل ہونے کے لیے تشریف لا رہے تھے، جنگ بد ر کہ شہدا محاذوں پر پہنچ چکے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلوار ذوالفقار کو فضائوں میں بلند دیکھا گیا، ایک محاذ کے بھارتی قیدی کا بیان تھا کہ سفید پیراہن والی پاکستانی فوج بھارتیوں کو تہس نہس کر رہی تھی، ان کی تلوارون سے شعلے نکل رہے تھے، دوسرے محاذ کے قیدی کا بیان تھا کہ سرخ ٹوپیوں اور چھوٹے قد والے پاکستانی فوجیوںنے بھارتی سینا کا ناطقہ بند کر رکھا تھا۔ بھارتی توپچی نے کہا گولے پھینکنا بے کار تھا۔ ایک سفید ریش بوڑھا میرے گولے کیچ کر کے پر ے پھینک دیتا تھا۔ بھارتی ہوا بازوں کا بیان تھا کہ جب وہ گولے پھینکتے تھے تو سفیدریش بوڑھا انہیں ہاتھوں میں پکڑ کر زمین پر یوں رکھ دیتے کہ وہ پھٹتے نہ تھے۔

صنم کدہ ہے جہاں اور مردِ حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لاالہ میں ہے

6ستمبر 1965کا دن ہماری دھرتی ماں کے لیے ایسا دن تھا کہ جس دن نے تمام قوم کے اندر جذبہ ایمانی کی روح پھونک دی اور حوصلے ایسے بلند کر دیئے کہ ہر نفس شہادت کا متلاشی بن کر ارض ِ پاک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے زرہ پوش ہو گیا۔۔۔ اجناس و زر کے ڈھیر لگا دیئے اور اپنے آرمی چیف کی ایک آواز پر یک جان ہو کر لبیک بول کھڑے ہوئے ، جوان ہی نہیں گھر میں بیٹھی عورتوں نے اپنے زیورات تک پاک فوج کی مدد کے لیے اتار کر یہ رقم تاریخ کے اورق میں ثبت کر دی کہ جب ضرورت پڑی تو ہم اپنی جانیں بھی دیں گئے مگر اے ارض ِ پاک تیری طرف اُٹھنے والی ناپاک نظر کا منہ توڑ جواب دیں گئے۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

6ستمبر 1965 کی جنگ میں ہم مسئلہ کشمیر کے حل کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بگاڑ اور علاقے میں کشیدگی کا واحد سبب کشمیر ہے جس کی بدولت دونوں ممالک میں کئی جنگیں لڑی جا چکی ہیں ، اور جب تک مسئلہ کشمیر کو عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا تب تک دونوں ممالک میں یہ کشیدگی بدستور برقرار رہے گی۔ تنازعہ کشمیر کا آبرومند انہ حل پاکستان کی سلامتی اور استحکام و بقاء کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے ، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کشیدگی کو حل کرنے کے لیے کب ۔۔۔؟؟؟کون۔۔۔؟؟؟ کیسے۔۔۔؟؟؟ کہاں۔۔۔؟؟؟ کوئی سنجیدہ ہو گا۔۔۔؟؟؟

اے دنیا کے منصفو۔۔!!! سلامتی کے ضامنو
کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے لہو کا شور سنو

14 اگست 1947 اور 6ستمبر 1965 ملکی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں ایسے واقعات ہیں کہ جن کو کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا جن واقعات نے پوری مملکت ِ خداداد پاکستان کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر دیا، جس عوام میں نہ کوئی تفرقہ دیکھنے کو ملا اور نہ ہی کوئی رنجش ، جن کی نہ تو کوئی سیا سی پارٹی تھی اور نہ ہی کوئی مذہبی ۔۔۔ صرف ایک پارٹی دیکھی گئی جس کاکام دفاع پاکستا ن تھا ، جس کانام پاکستانی عوام تھا، جس کا مذہب و مسلک اسلام تھا، جس کی لگن و جستجو سلامتی تھی، جس کی امنگ آزادی کی پر سکون لہر تھی، جس کا جذبہ افواجِ پاکستان تھی۔

نقش توحید کا ہر دل میں بٹھایا ہم نے
زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

Pak Nation
Pak Nation

یہ وہ قوم تھی کہ باوجود بے سر و سامانی کے ان کے حوصلے بلند تھے، ٹوٹی ہو ئی جانیں تھی مگر صفیں مضبوط تھی، ہتھیاروں کی کمی تھی مگر جذبہ ایمانی تھا، اپنے لیڈر کی ایک آواز پر لبیک کر نے والی اس عوام نے دورِ پرفتن میں یہ لوگوں پر عیاں کر دیا کہ ملک کی بقاء کے لیے جانوں کے نظرانے دینے پڑے تو دریغ نہیں کریں گئے، ملک کی افواج کو خون کی ضرورت درپیش ہوئی تو پیچھے نہیں دیکھیں گئے۔ ان کے جذبے جوان ہو چکے تھے، ضمیر جاگ چکا تھا، اقوام عالم مسلمانوں کے اس ایثار و جذبے کو دیکھ کر حیران تھے، ہر طرف ، ہر کوئی ، ہر نفس پاکستان کی بقاء میں مگن تھا، جس سے جو ہو پا رہا تھا وہ کر رہا تھا، الغرض پورے ملک میں ایک ہی لہر چھا گئی تھی،سب دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک مٹھی میں بند یہ بنی نوع انسانی کا قافلہ اپنے راستے میں آنے والے ہر طوفان سے نمٹنے کے لیے چاک و چوبند تیار کھڑا تھا۔

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

آج ہم کو نئے نئے فتنوں میں ڈال کر ہمیں بیٹریاں لگائی جا رہی ہیں ، ہماری ترقی کی راہوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، ہماری سوچوں کو مقدوم کیا جار ہا ہے،ہمارے ہاتھ، پائوں مسائل کی نظر کر کے باندھے جارہے ہیںکیونکہ جان چکی ہے یہ دنیا کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو کچھ بھی کر گزرنے کی ہمت رکھتا ہے، جس کی عوام صلاحیتوں سے اس قدر بھر پو ر ہے کہ وہ کسی بھی مسلئے کا حل نکال سکتے ہیں، وہ کسی بھی قسم کے خطرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، اسی لیے ہمیں کبھی دہشت گردی میں الجھایا جاتا ہے تو کبھی دین کے تفرقوں میں ، کبھی آبی جارحیت کی جاتی ہے تو کبھی نہتی عوام پر گولہ باری، کبھی ہم پر میزائل پھینکے جاتے ہیںتو کبھی ہمارے قیدیوں پر بھوکے کتے چھوڑے جاتے ہیں ، کبھی ہم کو فلموں ڈراموں میں مشغلو ل رکھا جاتا ہے تو کبھی گستاخانہ خاکوں کی تشہیر سے ہمارے دینی جذبات کو مجروع کیا جاتا ہے۔ الغرض ہم کو فتنو ں میں ڈالے رکھنے کا عزم ہمارے دشمنا ن کا ہے ایسے ہی لوگوں کے عزائم کی طرف شاعر ِ مشرق علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے ہماری توجہ دلانے کی کوشش کی تھی کہ:
وہ فاقہ ِ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدی ۖ اس کے بدن سے نکال دو

میں پورے دعویٰ کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ جس دن اس پاکستانی عوام کو ایک مخلص لیڈر مل جائے گا اس دن پاکستان ترقی کی راہوں پر کامزن ہو گا، دنیا اس کی محتاج ہو گی، آج ہم لوگوں کے دروازوں پر جا کر قرض اور نوکری کی درخواست کرتے ہیں ، ایک دن ایسا آئے گا اقوام ِعالم ہمارے دروازوں پر دستک دے رہے ہونگے ، ہم وہ ہونگے کہ جن کی درسگائیں آباد ہوں گئے، جن کے حوصلے اور جذبے پھر سے جوان ہوں گئے ، ہم وہ ہوں گئے کہ ہماری ہر بات کو تسلیم کیا جائے گا، ہم وہ ہونگے کہ ہماری سوچ اقوام ِ عالم کے لیے ہونگی، ہم وہ ہونگے کہ کوئی بھی اسلامی ممالک کی طرف بری نظر سے نہیں دیکھ پائے گا، ہم وہ ہونگے کہ ہمارا سکہ زمانے میں چلتا ہو گا، ہم وہ ہونگے کہ ہم پر بھارت اگرچہ کہ کتنی ہی آبی جارحیت کرے گا مگر ہمارے ڈیم اس کی آبی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گئے، ہم وہ ہونگے کہ ہمارے ملک میں ہر کوئی اپنے آپ کو محفوظ جانے گا اور کھل کر کاروبار کو فروغ دے گا، ہم وہ ہونگے کہ چٹانوں کو اپنے پائوں کی جنبش سے ریزہ ریزہ کر دیں گئے۔
ناداں تھے ہم جو کھو دیا سب کچھ ہم نے
وہ دشت، وہ درد وہ سنگم بھری محفلیں
چھوڑے جو قانون و اصول و ضوابط ہم نے
سبھی آئے ناداں سمجھ کر پڑھانے ہمیں
سیکھ لیا ہے ہنر پلٹنے و چپٹھنے کا اب ہم نے
اب جو پلٹیں گئے تو زمانے دیکھیں گئے ہمیں
گرے آشیانوں کے تنکوں کو اکھٹا کر لیا ہم نے J.D
اب ہوائوں سے کہنا سنبھل جا، نہ چھیڑنا ہمیں

Mohammad Jawad Khan
Mohammad Jawad Khan

تحریر: محمد جواد خان
aoaezindgi@gmail.com

Share this:
Tags:
Day dead bodies Freedom security september thieves آزادی چوروں دن ستمبر لاشوں محافظوں
Justice
Previous Post منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
Next Post جنگ ستمبر اور مسئلہ کشمیر
War September and Issue Kashmir

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close