Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج کی یاد میں

September 21, 2014 0 1 min read
Dr. Hafiz Mohammad Shakeel
Dr. Hafiz Mohammad Shakeel
Dr. Hafiz Mohammad Shakeel

تحریر :۔محمد احمد ترازی

جمعرات کی صبح کے گیارہ بجکر تیئس منٹ پر آفس میں کام میں مصروف تھا کہ موبائل کی بیل نے چونکا دیا، فون اٹھایا تو دوسری طرف ہمارے لاہوری کرم فرماء جناب ظہور الدین امرتسری (جوکراچی تشریف لائے ہوئے ہیں)گھبراہٹ کے عالم میں بتارہے تھے کہ ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج صاحب اب اِس دنیا میں نہیں رہے،انہیں دہشت گردوں نےگولی ماردی ہے۔ظہورالدین صاحب کی اطلاع نے دل و دماغ میں سناٹا سا طاری کردیا۔وہ بہت دیر تک حافظ شکیل اوج صاحب کی باتیں کرتے رہے،مگر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا،بس ہاں،ہوں کرکے گفتگو کا سلسلہ منقطع کیا اور بہت دیر تک گم سم بیٹھا رہا۔ذہن کے نہاں خانے میں حافظ شکیل اوج صاحب کی تصویر تھی جو بار بار ابھر رہی تھی،کبھی کسی ملاقات کی یاد تو کبھی کسی محفل میں اُن کی گفتگو پردہ ذہن پر نمودار ہوتی رہی تھی۔

کافی دیر دل و دماغ اسی شش وپنج میں مبتلا رہا کہ اوج صاحب علمی وادبی آدمی تھے،اُن کا کسی سے کیا جھگڑا۔ ۔ ۔ ۔کیا لینا دینا۔ ۔ ۔ ۔اے کاش ! ۔ ۔ ۔ ۔ یہ خبر غلط نکلے۔ لیکن جب کسی طور طبیعت کی بے چینی دور نہ ہوئی اور اطمینان قلب حاصل نہ ہوا،تو ہم نے ڈاکٹر شکیل اوج صاحب کے شاگرد راشد انصاری کو فون کیا۔جواباًراشد بھائی کی رنجیدہ آواز ہمیں اندیشوں کی وادی سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لے آئی اور پھر شام تک تو ڈاکٹر صاحب کی ناگہانی جدائی پر مبنی لاتعداد میسجز اور احباب کی فون کالزہمارا پیچھا کرتی رہی۔

ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج صاحب سے واقفیت اور تعلق کا رشتہ کافی پرانا ہے،یہ اُن دنوں کی بات ہے،جب ڈاکٹر شکیل اوج صاحب نے پی،ایچ،ڈی نہیں کی تھی،ابھی اُن کے نام کے ساتھ پروفیسر اور ڈاکٹر کے لاحقے بھی نہیں لگے تھے۔نہ ہی اُس زمانے میں آپ گورنمنٹ اردو کالج میں لیکچرار مقررہوئے تھے،ہاں ڈاکٹر صاحب اُس زمانے میں ایک ابھرتے ہوئے نوجوان مذہبی اسکالر ”حافظ محمد شکیل اوج“کے طور پر جانے جاتے تھے،ابھی اُن کی وسعت پروازآئمہ ومجتہدین کے دائرہ اجتہاد سے باہر نہیں نکلی تھی اور فکرونظر کے زوایئے تبدیل نہیں ہوئے۔اِس لیے ہمارے دوست محمد فرید نورانی (اللہ انہیں غریق رحمت کرے) اکثر اپنے پروگرامات میں حافظ محمد شکیل اوج صاحب کو بطور مقرر بلوایا کرتے تھے،انہی پروگرامات میں ہمیں حافظ محمد شکیل اوج صاحب سے تعارف کا موقع ملا،وہ دور ہمارا بھی زمانہ طالبعلمی تھا۔

وقت گزرتا رہا،حافظ محمد شکیل اوج صاحب زندگی کے مدارج طے کرتے ہوئے گورنمنٹ اردو کالج اور پھر کراچی یونیورسٹی پہنچے اور پی ایچ ڈی کرکے پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج کہلائے۔بعد میں ڈاکٹر صاحب سے بارہا جامعہ نعیمیہ میں ناظم تعلیمات حضرت علامہ جمیل احمد نعیمی صاحب اور پروفیسر مفتی منیب الرحمن صاحب کے پاس ملاقات کا موقع ملا۔ڈاکٹر صاحب مسکراہٹ وخنداں پیشانی سے ملتے،گلے لگاکر محبت وشفقت کا اظہار فرماتے،ہمیشہ تعریف وحوصلہ افرائی کرتے اور اکثراپنی کتب ورسائل کے تحفے عنایت کرتے،مگراُن کے بدلتے ہوئے فقہی نظریات اوربعض دینی معاملات میں آزاد خیالی ایک دیوار کی صورت حائل رہتی۔

ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج دنیائے اسلام کے پہلے استاد تھے جنھیں اسلامیات میں دنیا کی سب سے بڑی سند ڈی لیٹ تفویض کی گئی،شکیل اوج کے والدین کا تعلق ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے شہر کان پور سے تھا، تقسیم کے بعد آپ کا خاندان لاہور آ گیا اور بعد میں کچھ عرصے حیدرآباد قیام کے بعد کراچی کی نئی بستی ڈرگ کالونی میں آباد ہوا،جو شاہ فیصل کالونی کے نام سے معروف ہوئی۔والد عبدالحمید خان کا تعلق متوسط طبقے سے تھا،یوسف زئی پٹھان خاندان سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد شکیل اوج نے یکم جنوری1960ء کو شاہ فیصل کالونی میں آنکھ کھولی،دس بہن بھائیوں میں آپ کا شمار چوتھے نمبر پر تھا۔

حافظ محمد شکیل اوج نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ایگروٹیکنیکل ہائی اسکول شاہ فیصل کالونی سے حاصل کی،گھر کا ماحول روایتی معنوں میں مذہبی نہیں تھا، اِسی لیے جب شکیل اوج نے دینی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تو والد کو بڑی حیرانی ہوئی۔مذہبی تعلیم کیلئے مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی کے بہنوئی،ممتاز عالم دین اور فلسفے کے استاد ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری کے قائم کردہ مدرسہ المرکز اسلامی کا انتخاب کیا،جنھوں نے فلسفے میں پی ایچ ڈی (Ph.D) کی سند حاصل کی ہوئی تھی۔مدرسہ نور القران سے حفظ کیا،تجوید و قرات کی تعلیم قاری طالب حسین المدنی سے لی،سندِ حدیث و تفسیر ابو فہیم انوار اللہ سے حاصل کی اور دارالعلوم قادریہ سبحانیہ سے سند فراغت حاصل کی۔

حافظ محمد شکیل اوج نے مذہبی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم بھی حاصل کی،آپ نے علامہ اقبال کالج شاہراہِ فیصل سے بی اے کیا اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے کلیہ معارف اسلامیہ سے ایم اے کیا۔ شکیل اوج صاحب نے زندگی کی گاڑی چلانے کیلئے میٹرک کے بعدمختلف ملازمتیں بھی کیں۔وہ ملٹری اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ میں کلرک رہے،اسی دوران آپ نے صحافت میں ایم اے کیا اور قانون کی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔ گورنمنٹ اردو کالج میں شعبہ اسلامیات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے پر ادارے سے لیکچرار شپ کی پیشکش قبول کی،آٹھ برس بعد آپ کا تقررکراچی یونیورسٹی کے کلیہ معارف اسلامیہ(جو تین شعبوں” شعبہ علوم اسلامی، شعبہ قرآن و سنت اور شعبہ اصول دین“ پر مشتمل ہے) میں بطور لیکچرارہو گیا۔ 1997ءمیں اسسٹنٹ پروفیسر اور2005 ءمیں پروفیسر کے منصب پر فائز ہوئے۔انہیں شاعری سے گہرا شغف رہا اور کسی زمانے میں خود بھی شعر کہے۔ ڈاکٹر شکیل اوج شعبہ علوم اسلامی کے چیئرمین رہے اور یکم فروری 2012 کو ڈین کا عہدہ سنبھالا۔جن سولہ طلبا نے آپ کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کیا، _ان میں شکیل اوج کے استاد اور سابق ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز پروفیسر غلام مہدی بھی شامل تھے۔

اَمر واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر شکیل اوج صاحب توجہ تدریس کے ساتھ ساتھ اپنے کام میں منہمک رہے،اُن کے مضامین دنیا بھر کے ریسرچ جرنلز میں شایع ہونے لگے،ہر سال دو سال بعد کتابیں سامنے آنے لگیں۔اب تک ڈاکٹر شکیل اوج کی 15 کتابیں،82 تحقیقی مضامین اور 72 علمی مضامین شایع ہو چکے ہیں،اُن کے تحقیقی مضامین کو کراچی یونیورسٹی نے ڈی لٹ کی سند کیلئے منتخب کیا اور دنیا کی سب سے بڑے اعزاز ڈاکٹر آف لٹریچر (DLE) سے سرفراز کیا۔گزشتہ ماہ 14 اگست کو حکومت پاکستان نے انھیں صدارتی تمغہ امتیازسے نوازا۔ڈاکٹر صاحب جامعہ کراچی کے فیکلٹی کلیہ معارفِ اسلامیہ کے رئیس (ڈین) رہے اور سیرت چیئر ،جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر شپ بھی انہی کے حصے میں رہی۔ ڈاکٹر صاحب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی،اسلام آباد کے بورڈ آف ٹرسٹی کے رکن اور ملایشیا سے نکلنے والے معروف ریسرچ جرنل JIHAR کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر بھی تھے،انہوں نے لاتعداد ایوارڈز، شیلڈز اور گولڈ میڈل بھی حاصل کیے، اُن کی تصانیف میں خواجہ غلام فرید کے مذہبی افکار،تعبیرات،نسائیات اور افکار شگفتہ کے نام سرفہرست ہیں۔

Holy Quran
Holy Quran

قابل ذکر بات یہ ہے کہ حافظ محمد شکیل اوج نے 2000ء میں جامعہ کراچی سے ڈاکٹریٹ آف فلاسفی (Ph.D)کی سند حاصل کی،مگر اِس دوران شکیل اوج صاحب کے نظریات و خیالات میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہوئیں۔آپ سر سید احمد خان کے عقائدونظریات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ کہہ دیا”میں نے ان ہی سے اختلاف کرنا سیکھا،ان کے عقائد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، کچھ امور میں مجھے بھی اختلاف ہوگا( لیکن) سرسید نے کہا تھا،قرآن قول خدا ہے،اور پوری نیچر (فطرت) فعل خدا۔ قرآن نے ہمیں دعوت دی ہے کہ ہم کائنات کا مطالعہ کریں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم فطرت کا مطالعہ کرکے خالق فطرت تک نہ پہنچیں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اسی ہستی کا پتا دیتا ہے۔تو سرسید نے قول خدا کو فعل خدا اور فعل خدا کو قول خدا کی روشنی میں دیکھنے اور سمجھنے پر روز دیا۔اِس پر انھیں نیچری کہہ دیا گیا۔ اِس بات کی کیا تک ہے؟ ہر شخص نیچری ہوتا ہے۔ہم سب مانتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے۔“

اسی طرح مولاناامین احسن اصلاحی کے کام سے بھی متاثر دکھائی دیئے اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب”دو قرآن“ کو شاہکار کتاب قرار دیا،آنے والے دنوں میں ڈاکٹر شکیل اوج کی روشن خیالی کئی طے شدہ حدود و قیود کو پامال کرنے لگی۔مسلمان عورت کا غیر مسلم سے نکاح اور طلاق کے بارے میں اُن کے نظریات حیرت کا باعث بنے،اُن کا ماننا تھا کہ عدالت جب عورت کو طلاق کے مقدمے میں خلع کا حق دیتی ہے تو یہ عدالت کا درست فیصلہ ہوتا ہے۔شکیل اوج صاحب مسلکی تعصب اور فرقہ واریت کے مخالف تھے اور مذہبی انتہا پسندی اور خودکش حملوں کو مسلمانوں کیلئے ایک خطرناک رجحان جبکہ خودکش حملہ کرنے والے کو ایک خطرناک جرم کا مرتکب سمجھتے تھے ،آپ کبھی بھی طالبان کے موقف کے حامی نہیں رہے ۔

ڈاکٹر شکیل اوج کے تمام خیالات سے اتفا ق ممکن نہیں،مگر یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے بہت سے نئے فکری زاویئے پیش کیے اور علمی دریچے کھولے،اُن کی دقیقہ سنجی اور نکتہ رسی اکابرین سے جدا تھی،اپنی اسی طرز استنباط کی بدولت وہ اکثر ایسے نتائج پر پہنچتے،جو فقہی مسلمات سے متفق نظر نہیں آتے تھے،شاید یہی وجہ تھی کہ اُن کے کچھ مخالفین نے انہیں توہین رسالت کا ملزم قرار دیا اور اُن کے خلاف فتویٰ بھی جاری کیا۔ پولیس ذرائع کے بتاتے ہیں کہ بطور ڈین تعیناتی پر ڈاکٹر شکیل سے کچھ اساتذہ کی رنجش بھی چل رہی تھی اور مبینہ ٹاؤن تھانے میں اِس حوالے سے ایف آئی آر بھی درج ہے۔بہرحال اِس اَمر میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ پروفیسر ڈاکٹرمحمد شکیل اوج کا شمار جامعہ کراچی کے لائق اساتذہ میں ہوتا تھا، کچھ حلقے انہیں حدیث، فقہ اور سیرت نبوی پروسیع ریسرچ کا حامل قرار دیتے تھے اور علوم تفسیر قرآن میں تحقیق و تصنیف کے حوالے سے معروف نام گردانتے تھے،عجب اتفاق ہے کہ کسی بھی بنیاد پر کسی انسان کے قتل کوقابل مذمت سمجھنے والے ڈاکٹر محمد شکیل اوج خود اسی کاروائی کا نشانہ بنے۔ جمعرات18ستمبر کو خانہ فرہنگ ایران جاتے ہوئے گلشن اقبال میں دہشت گردوں نے اُن کی آواز کو ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا،اُن کا قتل علم دشمنی کی بدترین مثال ہے اور اُن کی ناگہانی موت سے علم کا ایک روشن و درخشاں باب بند ہو گیا ۔

چھوڑ جائیں گے کچھ ایسی یادیں
روئیں گے ہم کو زمانے والے

M.Ahmed Tarazi
M.Ahmed Tarazi

تحریر :۔محمد احمد ترازی
mahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
busy lahore mobile office Scholarship visited work آفس اسکالر تشریف جمعرات صبح کام لاہوری مصروف موبائل
Onions
Previous Post برطانوی باغبان نے 8 کلو وزنی پیاز اْگا کرعالمی ریکارڈ قائم کر دیا
Next Post 66،000 شامی پناہ گزین ترکی میں داخل
Syrians

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close