Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سانحات پر سیاست

January 26, 2019 0 1 min read
Sahiwal incident
Sahiwal incident
Sahiwal incident

تحریر : ناصر اقبال خان

قیام پاکستان سے اب تک پاکستانیوں نے مختلف دلخراش سانحات،اندوہناک حادثات اور تلخ تجربات کاسامنا کیا،سانحہ ساہیوال بھی ان میں سے ایک ہے۔ سات دہائیوں میں متعدد قومی سانحات سیاست کی نذر ہو گئے کیونکہ ہمارے سیاستدان اپنے معمولی مفادات کیلئے ریاست کے ساتھ بھی سیاست کرجاتے ہیں۔پاکستان میں حادثہ یا سانحہ رونما ہونے کے بعد سوشل میڈیا کی حدتک طوفان اٹھ کھڑاہوتا ہے مگرچنددنوں یا مہینوں بعد کسی کویادتک نہیں رہتاکیونکہ وہ نئے موضوعات پرہونیوالی بحث میں شریک ہوجاتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے انفرادی اوراجتماعی رویوں میں دن بدن منفی عنصر کاغلبہ ہوتاجارہا ہے،لوگ اصلاح کی نیت کے تحت دوسروں پرتعمیری تنقید سے زیادہ ان کی توہین کرناپسندکرتے ہیں۔سوشل میڈیا نے ہرعمر کے پاکستانیوں کو شتربے مہار بنادیاہے،گالیاں ہرگز آزادی اظہار نہیں ہیں۔

بانیان پاکستان نے پاکستان کواسلام کی تجربہ گاہ قراردیا تھا مگر ان کے بعد نااہل سیاسی قیادت نے مادروطن کو تختہ مشق بنالیا۔عہدآمریت ہو یا دور جمہوریت، عوام کیلئے یہ دونوں نظام بوجھ کے سواکچھ نہیں کیونکہ وردی پوش آمر اورجمہوری فرعون ”جمہور”کابدترین استحصال کرتے رہے ہیں ۔پاکستان کی سیاسی قیادت کابنایاہوا آئین بھی عوام کی بجائے اشرافیہ کے مفادات کا محافظ ہے،18ویں ترمیم بھی حکمران طبقات کومزید طاقت دینے کیلئے بنائی گئی تھی،اس پرنظرثانی ناگزیر ہے۔

صوبائیت اورمنافرت ریاست کیلئے زہرقاتل ہے،صوبائی خودمختاری کے علمبرداروں نے اٹھارویں ترمیم کے بل پروفاق میں نفاق کابیج بویا ۔ بابائے قوم نے انتھک جدوجہد سے مسلمانوں کیلئے ایک نظریاتی ریاست بنادی مگر ان کے بعدآنیوالے ارباب اقتدارواختیار اداروں کی مضبوطی کیلئے تعمیری کرداراداکرنے کی بجائے انہیں یرغمال بنانے کے درپے رہے ۔ہمارے حکمران اپنے اقتدار کے دوام اوراستحکام کیلئے ایک سازش کے تحت ریاستی اداروں کوکمزورکرتے رہے تاہم پاک فوج کادم غنیمت ہے جوسیاستدانوں کی پے درپے سازشوں کے باوجودسیاسی مداخلت سے آزاد ہے ،عوام پولیس کوپاک فوج کی ماننددیکھنے کے خواہاں جبکہ ماضی کی حکمران اشرافیہ پاک فوج کوپولیس کی طرح اپنے گھر کی باندی بنانے پربضد تھی ۔ تھانہ کلچرمیں تبدیلی کیلئے پولیس کوبھی رینجرز کی طرح پاک فوج کے کنٹرول میں دے دیاجائے،پی ایس پی آفیسرز”پیراشوٹرز” ہیں ،انہیں رینکرزکاوجودبرداشت نہیں ۔جس طرح پاک فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ سے شروعات ہوتی ہے اس طرح پولیس میں بھی سب انسپکٹر یاانسپکٹر سے آغاز کیاجائے،پولیس میں دوطبقات کے ہوتے ہوئے اس میں اصلاحات کامیاب نہیں ہوں گی ۔تبدیلی کے علمبردار حکمران یادرکھیںایک ماہ بعدآئی جی تبدیل کرنے سے تھانہ کلچر میں تبدیلی نہیں آئے گی ،پی ٹی آئی کے قائدین خودتواپنے اقتدار کے دوام کیلئے مہلت اورآئینی مدت کی بات کرتے ہیں لیکن پروفیشنل اورزیرک محمدطاہر سے پنجاب پولیس کی کمانڈایک ماہ بعدواپس لے لی گئی۔

اگر محمد طاہر کو مناسب وقت دیاجاتا تویقینا وہ اورطاہرخان درانی بہت ڈیلیور جبکہ پروفیشنل اورمستعد پولیس کاخواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے دوررس اصلاحات کرتے ۔وزیراعظم عمران خان کیلئے” بزدار”نہیں ”بردبار” افرادکی صحبت سودمندرہے گی ،ایک ہزاربزداربھی ایک بردبار کامتبادل نہیں ہوسکتے ۔سردارعثمان بزدار پی ٹی آئی اورپنجاب کیلئے بوجھ کے سواکچھ نہیں۔ پی ٹی آئی کے دورمیںپنجاب پولیس میں برادری ازم اورپسندناپسند کی بنیاد پرتقرریاں تھانہ کلچر کامزید بیڑاغرق کردیں گی۔لاہور کے سابق انتھک سی سی پی اوکیپٹن (ر)محمدامین وینس کے دورمیں تھانہ کلچر کی تبدیلی کیلئے کی جانیوالی موثراورقابل قدر اصلاحات کے ثمرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا،انہوں نے پولیس اورعوام میں فاصلے مٹانے کیلئے جہاں کئی تعمیری تجربات کئے وہاں ا نہوں نے اپنے آفس میں آنیوالے شہریوں کیلئے چٹ سسٹم بھی ختم کردیا تھاجوان کے جانے کے بعددوبارہ رائج کردیاگیاہے۔کیپٹن (ر)محمدامین وینس تک پہنچنااوران تک اپنی بات پہنچانابہت آسان تھاجواب بہت دشوار ہے۔ان دنوںلاہور کے دونوں ڈی آئی جی حضرات کے دفاتر کاراستہ ان کے پی آراوکے آفس سے ہوکرجاتا ہے،ان کے نزدیک میڈیاسے وابستہ لوگ اچھوت ہیں۔

ساہیوال شہر کے نزدیک شاہراہ پر بیگناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے باوردی محافظ زندانوں جبکہ پولیس کلچر کا کچرابنانیوالے جعلی مسیحا ایوانوں میں ہیں ۔سانحہ ساہیوال سی ٹی ڈی اہلکاروں کی عجلت،مجرمانہ غفلت اورپیشہ ورانہ مہارت کے فقدان سمیتOverc onfidence کا شاخسانہ ہے تاہم یہ خونریزی کسی عداوت کانتیجہ ہرگز نہیں تھی ،اسے المناک حادثہ بھی کہاجاسکتا ہے۔اب تک ماہرین اورناقدین کی طرف سے آپریشن کے طریقہ کارپرجوسوال اٹھائے گئے وہ درست ہیں جبکہ شہریوں کاغم وغصہ فطری ہے ۔جس طرح آپریشن کو مس ہینڈل کیا گیا اس طرح کچھ وفاقی اورصوبائی وزراء بالخصوص فیاض الحسن چوہان اس ایشوکومسلسل مس ہینڈل کررہے ہیں۔

تاہم بدقسمت خاندان جس کارمیں سوارتھااس کے ڈرائیورذیشان بارے اداروں کے موقف بلکہ اصرار کو مستردنہیں کیاجاسکتا،اس سلسلہ میں سچائی تک رسائی کیلئے جے آئی ٹی کی فائنل رپورٹ کاانتظارکرناہوگا۔ اس آپریشن میں جام شہادت نوش کرنیوالے مہرخلیل ،اس کی اہلیہ اوربیٹی کی بیگناہی سے کسی کو انکار نہیں ، اس سانحہ پرآسمان بھی تین روزتک روتا رہا جبکہ پاکستان سمیت دنیا کا ہر باضمیرانسان ابھی تک حالت سوگ میں ہے۔یتیم بچوں کی ویران اورسوالیہ نگاہوں نے قومی ضمیر کو جھنجوڑ دیا ہے ۔ماں باپ کی شہادت کابیٹاعینی شاہد ہے ،عوام کولگتا ہے تقدیرنے تین بچوں کوزندہ بچالیاہے مگرمیں سمجھتاہوںوہ توزندگی بھرپل پل مرتے رہیں گے،ان کے احساس محرومی کاکوئی مداوانہیں کرسکتا۔قومی ضمیر پرجوحالیہ زخم لگا ہے وہ مدتوں تک تازہ رہے گا۔اس سانحہ میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکارو ں کے بیانات تضادات کامجموعہ جبکہ ان کیخلاف چارج شیٹ کیلئے کافی ہیں۔

ایک جھوٹ کوسچ ظاہرکرنے کیلئے ہزاربارجھوٹ بولناپڑتا ہے مگراس کے باوجودسچائی نہیں چھپتی۔اگرڈرائیورذیشان کے بارے میں سی ٹی ڈی کاموقف درست بھی مان لیا جائے تواس صورت میں بھی مہرخلیل ،اس کی اہلیہ اوربیٹی کے خون سے ہولی کھیلنے کاکوئی جواز نہیں تھا۔اگرسی ٹی ڈی اہلکارآپریشن کے دوران ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرتے توبیگناہ اورقیمتی جانوں کاضیاع نہ ہوتا ۔دنیا بھرمیں شرپسندعناصراوردہشت گرداپنے بچائوکیلئے”ہیومن شیلڈ ” کااستعمال کرتے ہیں اوراس صورتحال میں کوئی ادارہ آپریشن نہیں کرتا یعنی ایک ہزاردہشت گردوں کے درمیان اگر ایک بیگناہ شہری موجود ہوتواس صورت میں کسی پرتشدد ایکشن یاآپریشن کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ امید ہے مہرخلیل ،اس کی اہلیہ اوربیٹی کاخون ناحق رائیگاں نہیں جائے گا۔بے رحم قاتل انجام بدکے مستحق ہیں،انہیں کیفرکردارتک پہنچاناریاست کافرض اوراس پرقرض ہے۔

قدرت کے سوادنیا کی کوئی طاقت یتیم بچوں سمیت غمزدہ خاندان کے گہرے زخم پر مرہم نہیں رکھ سکتی۔ریاست کو ماں کہاجاتا ہے مگرریاست یتیم بچوں کوممتا نہیں دے سکتی ، انسانوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں تاہم ریاست نے مہرخلیل کے یتیم بچوں کی کفالت کیلئے جوکیا وہ مستحسن ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں حساس موضوعات کوبھی سیاست کی بھٹی میں جھونک دیاجاتا ہے۔افسوس متحدہ اپوزیشن والے سانحہ ساہیوال پربھی سیاست چمکانے سے باز نہیں آئے۔ جیالے اورمتوالے سانحہ ساہیوال کیخلاف احتجاج کی آڑمیں آسمان سرپراٹھائے ہوئے ہیںمگر پیپلزپارٹی کے اپنے دوراقتدارمیں ذوالفقارعلی بھٹو شہید کے فرزند اوربینظیر بھٹو شہید کے بھائی میرمرتضیٰ بھٹو کوشہرقائد میں گاڑی کے اندر ان کے گھر کی دہلیز پر گولیاں مارکر شہید کردیا گیاتھا۔میرمرتضیٰ بھٹو کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی اورنہ جوڈیشل کمشن بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔

ماڈل ٹائون میں بھی بیگناہ شہریوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے سانحہ ساہیوال پرمگر مچھ کے آنسوبہارہے ہیں،سانحہ ماڈل ٹائون میں شہید ہونیوالی ایک ماں کی بیٹیوں کے بین اوران کی آہیں کون فراموش کرسکتا ہے۔جس وقت سانحہ ساہیوال کاسوگ منایاجارہا تھا اس وقت شہر لاہورسے قوم کی ایک بے بس مقتول بیٹی کاجنازہ بھی اٹھایا گیا جس کے ناتواں وجودپربہیمانہ تشدد کرتے ہوئے اسے قتل کردیا گیا اورسفاک قاتل نے اپناگناہ چھپانے کیلئے اس بدنصیب کی نعش سمن آباد کے گندے نالے میں پھینک دی۔قوم کی اس بیٹی نے غلطی سے اپنے آقائوں میں سے کسی ایک کے سالن میں اپناہاتھ ڈال دیا تھااوراس ”گناہ کبیرہ” کی پاداش میں اسے جان سے ماردیاگیامگراس سانحہ پرکسی اپوزیشن لیڈرکابیان آیا نہ سوشل میڈیا پرشورمچایا گیاکیونکہ سبھی سقراط اوربقراط سانحہ ساہیوال کو بنیاد بناکرپی ٹی آئی کی حکومت اورپنجاب پولیس کامیڈیاٹرائل کرنے میں مصروف تھے۔جولوگ سانحات پرسیاست چمکاتے ہیں یقیناان کے چہرے روشن نہیں ہوسکتے بلکہ ان کی اندرونی میل نے ان کے چہروں کوبھی سیاہ کر دیا ہے۔

سانحہ ساہیوال کوسیاست میں گھسیٹ کرمتاثرہ خاندان کی کوئی خدمت نہیں کی گئی۔عنقریب قاتل انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے تاہم سی ٹی ڈی نے مجموعی طورپرمتعدد کامیاب آپریشن کرتے ہوئے کئی دہشت گردوں کوجہنم واصل کیا ہے لہٰذاء پنجاب پولیس کے اس مستعد شعبہ کامیڈیا ٹرائل مناسب نہیں۔ سی ٹی ڈی ،سی آئی اے سمیت پولیس کے دوسرے شعبہ جات سے وابستہ جو بھی اہلکارقانون شکنی کاارتکاب کریں گے انہیں قانون کے شکنجے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچاسکتی ۔تاہم کسی ناخواشگوار اوردلخراش واقعہ کوبنیاد بناکرریاستی اداروں کے وجودپرسوال اٹھائے جاسکتے ہیں اورنہ ان کی مجموعی طورپرموثر کارکردگی سے انکار کیاجاسکتا ہے۔

بروقت انصاف کی فراہمی کیلئے فوجی عدالت کوبھی ایکسٹینشن دی جائے۔ پاکستان میں سکیورٹی اداروں کیخلاف زہراگلنا ایک فیشن بن گیا ہے،ہم سی ٹی ڈی سمیت پولیس کے شہداء اوران کے یتیم بچوںکوکیوں بھول جاتے ہیں ۔مال روڈ پرڈی آئی جی اورایس ایس پی سمیت متعدداہلکاروں نے فرض کی بجاآوری کے دوران جام شہادت نوش کیا ،لاہورہائیکورٹ کے نزدیک بم دھماکے نے پولیس اہلکاروں کے وجودبوٹیوں کی مانند بکھیردیے تھے۔کوٹ لکھپت سبزی منڈی کے مقام پرہونیوالے بم دھماکے نے بھی کئی پولیس اہلکاروں کوشہیدکردیا تھا۔وہ محافظ جواپنے بچوں کواللہ تعالیٰ کے سپردکرکے ہماری اورہمارے بچوں کی حفاظت کیلئے سردھڑ کی بازی لگاتے ہیں انہیں یہ صلہ نہ دیاجائے ۔ساہیوال کی شاہراہ پربیگناہ شہریوں کے قتل میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاراس وقت قانون کی گرفت میں ہیں اوریقینا وہ شفاف انصاف کاسامناکریں گے لیکن ان کے گناہ کاملبہ سی ٹی ڈی سمیت پنجاب پولیس پرنہیں گرایاجاسکتا۔ کیا پولیس سمیت سکیورٹی فورسز کے بغیر معاشرے میں امن وامان برقراررہ سکتا ہے ۔ نااہل ،ناکام اوربدنام اہلکاروں پرتنقید سمیت ان کامحاسبہ کرناہماراحق ہے لیکن ریاستی اداروں کیخلاف منفی پراپیگنڈے کرنے کامینڈیٹ ہم میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ ہرمعاشرے میں چورہوتے ہیں مگر کوئی معاشرہ چور نہیں ہوتا۔ کچھ صحافی بھی قلم فروش ہیں لیکن صحافت کوگالی نہیں دی جاسکتی۔ہمارے ملک میں کئی سیاستدان اچھے اورکچھ برے بھی ہیں مگرسیاست بری نہیں ہے۔ ہرادارے میں مذموم ارادے والے کچھ آفیسریااہلکار ضرورہوتے ہیں لیکن ان کے وجود سے ریاست اورمعاشرے کیلئے اس ادارے کی ضرورت و اہمیت میں کمی نہیں آ سکتی۔

Muhammad Nasir Iqbal Khan
Muhammad Nasir Iqbal Khan

تحریر : ناصر اقبال خان

Share this:
Tags:
pakistan people politics sahiwal Social Media tragedy پاکستان سانحہ ساہیوال سوشل میڈیا سیاست عوام
Black Day in Kashmir
Previous Post بھارت کے یوم جمہوریہ پر مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ، 2 کشمیری شہید
Next Post رُودادِ زیست
Rawadad e Zaisat

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close