
اسلام آباد (جیوڈیسک) سانحہ راولپنڈی میں ملوث چالیس سے زائد افراد کی شناخت ہو گئی، شہر میں نجی و سرکاری تعلیمی ادارے، مارکیٹیں اور بازار آج کھلے رہیں گے جبکہ پنجاب حکومت نے آرپی او زعیم اقبال کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعے کے روز پیش آنیوالے سانحہ کے بعد راولپنڈی کی فضا بدستور کشیدہ ہے۔ پیر کی صبح کرفیو ختم ہونے کے بعد چہل پہل بحال ہوئی لیکن راجہ بازار میں تاجر سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد حالات پھر خراب ہو گئے۔ مظاہرین نے میڈیا پر بھی پتھراؤ کیا جس کے بعد فوج نے شہر میں گشت شروع کر دیا۔
راولپنڈی بورڈ کے سپلیمنٹری امتحانات بھی ملتوی کر دیئے گئے۔ سانحہ کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے بھی کام شروع کر دیا ہے۔ جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کے سات مقدمات بھی درج کر لئے گئے ہیں۔ پولیس نے مختلف علاقوں سے متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور تصاویر کی مدد سے ہنگامہ آرائی اور سانحہ راولپنڈی میں ملوث چالیس سے زائد افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ملزموں کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں گلگت، آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔
ڈی سی او راولپنڈی نے سانحہ میں جاں بحق ہونیوالوں کے ورثا اور زخمیوں میں امدادی چیک تقسیم کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج شہر میں نجی و سرکاری ادارے، مارکیٹیں اور بازار کھلے رہیں گے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے دوران سانحہ کے دوران غفلت کا مظاہرہ کرنے پر آر پی او راولپنڈی زعیم اقبال کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کی جگہ ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ آفتاب چیمہ کی تعیناتی کا امکان ہے۔
