Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ریل گاڑی

March 4, 2014March 4, 2014 0 1 min read
Zeeshan Ansari
Pakistan
Pakistan

14 اگست 1947 کو انگریز برصغیر کو تقسیم کرکے دنیا کے نقشے پر پاکستان اور بھارت کا قیام عمل میں لایا۔ تقسیم کے وقت برصغیر میں 63 ہزار کلومیٹر ریلوے ٹریک موجود تھا، جس میں سے 55 ہزارکلومیٹر پٹڑی بھارت اور 8ہزار کلومیٹر پٹڑی پاکستان کے حصہ میں آئی۔

بھارت نے ترقی کرتے ہوئے ریلوے پٹڑی کوایک لاکھ چودہ ہزار کلومیٹر تک وسعت دی جبکہ پاکستان بمشکل 11 ہزار کلومیٹرکی حد عبور کر سکا ہے۔ پاکستان کی ریلوے کی طرح بھارتی محکمہ ریلوے بھی 2004 میں معیشت کیلئے سفیدہاتھی کی حثییت اختیار کرچکا تھا۔ پھر 2004 میں سابقہ وزیراعلٰی لالوپرشادکو ریلوے کا وزیر بنایا گیا۔لالو پرشاد نے اپنی وزارت کو پروٹوکول اور کمائی کا ذرائع بنانے کی بجائے ریلوے کے ڈاکٹر کا کردار ادا کیا۔

ریلوے میں موجود تمام بیماریوں کونہ صرف خود تلاش کیا بلکہ اس کے علاج کیلئے اقدامات بھی کیے۔لالوپرشاد صبح گھر سے نکلتااور کسی بھی ٹرین میں سوار ہوجاتا اور اسے راستے میں جو بھی مسائل نظر آتے تھے وہ متعلقہ محکمے کو فورا ہدایات جاری کرتااور اس کے حل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرواتا۔وہ سیکرٹری سے لیکر ریلوے کے آفسران تک سب سے میٹنگ / ملاقاتیں ریلوے اسٹیشن پرکرتا، اور مسافروںکے مسائل سنتا اور اسی وقت افسران کواصلاح کے احکامات بھی جاری کرتا۔لالوپرشاد نے قاعدہ بنادیا، ریلوے کا کوئی اہلکارہوائی سفر،بس و ویگنوں میں سفر نہیں کرسکتاوہ صرف ریل کے ذریعے سفر کریں گے۔اس نے مال گاڑیوں میں اضافہ کردیا اور ان کے کرائے بھی گھٹادئیے۔

ریلوے کی مال گاڑیوں کو ترجیح ملنے لگی اس سے مال برداری کا 90 فیصد حصہ ریلوے کو ملنے لگا، اور جلد ہی ریلوے کا خسارہ ختم ہوگیا۔ اس نے ٹرینوں کو وقت پرلانے اور لے جانے کیلئے عجیب تکنیک استعمال کی، اس نے ملک بھر کے تمام نوجوانوں کیلئے سکیم متعارف کی۔ اگرنوجوان جاب انٹرویو کیلئے جارہے ہیں تو کال لیٹر دکھائیں اور ٹرین میں مفت سفر کریں، اس سکیم سے روزانہ ہزاروں بے روزگار نوجوان ریلوے کو مفت میں استعمال کرنے لگے۔ ٹرینوں پر رش ہوگیا ان نوجوانوں میں ریلوے اہلکاروں کے بچے بھی شامل ہوتے تھے، اس وجہ سے اہلکار ٹرین کو لیٹ نہیں کرتے تھے۔مزید لالوپرشاد نے تمام ریلوے اسٹیشنوں کی کینٹینوں سے چینی، پلاسٹک، دھات اور ڈسپوزیبل برتنوں کی جگہ صرف اور صرف مٹی کے برتن استعمال کرنے کے احکامات جاری کیے۔

اس سے 25ہزار دیہات کا مقدر تبدیل ہوگیا۔ ریلوے اسٹیشنوں کے اردگردکمہاروں نے دھڑا دھڑمٹی کے برتن بنانا شروع کردیے۔ مٹی کے برتن کیونکہ جلد ٹوٹ جاتے ہیںچناچہ ان کی سپلائی لائن لمبی ہوتی گئی اور ریلوے کے اردگرد کے دیہات مٹی کے برتنوں کی منڈیاں بن گئی۔ لالوپرشاد نے ریلوے کی انشورنش بھی کرادی۔ اس نے انجنوں کی مرمت ،موبل آئل کی تبدیلی کا کام پرائیویٹ کمپنیوں کو دے دیا۔ اس نے ریلوے کا عملہ بھی کم کردیا ان تمام عوامل کی بدولت آج بھارتی ریلوے روزانہ تقریبا82 کروڑ روپے کماکر دیتا ہے ۔ اس وقت بھارت میں روزانہ 14 ہزار سے زیادہ ٹرینیں چلتی ہیں۔

1790میں پہلی بار برطانیہ میں کانوں سے کوئلہ لانے کیلئے گھوڑا گاڑی استعمال کی جانے لگی ،جو لوہے کی پٹڑی پر چلتی تھی، پھر 1804 میں ایک انگریز انجینئر رچرڈٹرے دی تھک نے بھاپ سے چلنے والا انجن تیار کیا۔جو 20 ٹن تک وزن کھینچ سکتا تھا۔اس کے بعد جارج سٹیفن نے 1825ء میں 90 ٹن وزنی اسٹم انجن بنانے کا کامیاب تجربہ کیا،اس انجن کے کامیاب تجربہ کے بعدسٹاکٹن سے ڈار لنگٹن تک 38میل لمبی ریل کی پٹڑی بچھائی گئی،جس پر صرف مال گاڑیاں چلائی گئیں۔ 1830ء میںلیور پول سے مانچسٹرکوملانے والی ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔برطانیہ میں پہلی مسافر گاڑی اسی ریلوے لائن پر چلی۔ اس کے بعد ریاست ہائے متحدہ میں1833، بلجیم اور جرمنی میں1835، فرانس 1837، ہالینڈ اور اٹلی میں 1839 ء میں ریل گاڑیاں چلنے لگیں۔ برصغیر میں ریلوے کاآغاز 1845میں ہوا۔ شروع میں بمبئی، رانی گنج اور کلکتہ تک تین تجرباتی ریل گاڑیاں چلائی گئیں۔13مئی1861 کو کراچی سے کوٹری تک ریل گاڑی چلائی گئی، جس کی پٹڑی کی لمبائی 105میل تھی۔ 10 اپریل 1962ء کولاہور اور امرتسرکے درمیان پہلی گاڑی چلی۔1865ء میں ملتان کو لاہور سے ریلوے کے ذریعے ملایا گیا۔ 1889ء میں سکھر کے مقام پر دریائے سندھ پر پل تعمیر ہونے سے پنجاب اور سندھ کو ریل کے ذریعے ملایا گیا۔ پاکستان ریلوے کی عمر تقریبا 152سال ہوچکی ہے۔

1884 میں ڈبلیو پی اینڈ ریو نے اپنی کتاب ‘ انڈین ریلویز’ میں لکھا ہے کہ ریلوے کی آمد سے قبل برصغیر میں تاجر مال کی نقل و حرکت کیلئے بیل گاڑیوں کی مدد لیا کرتے تھے، یہ بیل گاڑیاں روزانہ 6سے8 میل کا دشوارگزار فاصلہ طے کرتی تھیں۔اکثر وبیشترمال کو بندر گاہوں تک پہنچنے میں ماہ وسال لگ جاتے تھے۔زمینداروں کو غلہ فروخت کیلئے دور درازعلاقوں تک انہیںبیل گاڑیوں کی مدد سے لے جانا پڑتا تھا ۔ خصوصا کپاس کی فروخت کیلئے کئی سو میل تک سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ پھر اگر دوران سفربارش ہوجاتی توگاڑیوں پر لدی روئی اتنی وزنی ہوجاتی کہ اکثربیل اپنے بوجھ تلے دب کرمرجایا کرتے۔ہندوستان کے راستوں پر مرے ہوئے جانوروں کے ڈھانچے اتنی کثرت سے پڑے ہوتے تھے کہ مسافروں کو راستہ ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا۔

1830 ء کے بعد سے دنیا بھر میں ریلوے کی اہمیت میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔ ریلوے کا سب سے اہم کردار پہلی جنگ عظیم 1914 تا 1918 ء کے درمیان رہا۔ 1990ء سے دنیا میں سرد جنگ کے ختم ہونے کے بعد نئے امکانات اور اندیشے پیدا ہونے لگے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے ٹرینوں کی رفتار350کلومیٹر فی گھنٹہ کردی جو آجکل 450 کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ تیز رفتار ٹرینوں کے حوالے سے جاپان کا نام عالمی سطح پر سرفہرست ہے ، جس نے یکم اکتوبر1964 ء کو ہی دنیا کے پہلے ہائی اسپیڈ ریل وے نیٹ ورک کا آغاز کردیا تھا، جاپانیوں نے پہلے 170 میل فی گھنٹہ کی رفتار والا انجن بنایا اور2003ء میں تجرباتی سفر361 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے طے کیا۔جبکہ چین کے پاس دنیا کا سب سے طویل ترین ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک ہے، جو 600 میل سے زائد طویل روٹس پر محیط ہے۔جس کا آغاز 2007 ء میں ہواتھا۔ہائی اسپیڈ ٹرینوں کی ٹیکنالوجی کا مرکز جرمنی ہے ، دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ” سیمنز” کا تعلق بھی اسی ملک سے ہے۔جبکہ اسپین کے پاس پورپ کا سب سے طویل ہائی اسپیڈ ریل ریکس ہے جو 3433 میل لمبائی پر محیط ہے۔اسپین میں کمرشل ٹرینوں کیلئے حد رفتار186 میل فی گھنٹہ ہے۔ پاکستان میں 120کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرین چلانے کے دعوے کئے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں پاکستانی ٹرین 95کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔

قارئین حقیقت میںپاکستان ریلوے کا نظام ریاست کے اندر ریاست کے مترادف ہے۔ پاکستان ریلوے ایک ڈیپارٹمنٹ ہونے کے باجود اپنی پولیس، اپنے سکول، ریلوے کالونیاں ، ہسپتال اور عدالتیں رکھتا ہے۔ عدالتوں میں مجسٹریٹ عدالتی کارروائی انجام دیتے ہیں۔جبکہ مردان میں 251 ایکڑ رقبے پر ریلوے انجن بنانے کا اپنا کارخانہ ہے،جس میں جاپان کی اشتراک بھی شامل ہے۔ مگر کرپشن اور دہشت گردی کے دور میں ریلوے کو تباہ و برباد کرکے ملک کی معیشیت کیلئے ایٹم بم بنا دیا ہے۔ سابقہ وزیر ،مشیر صرف اور صرف مال کمانے میں مگن رہے اور ٹرین ایک ایک کرکے بند ہوتی گئی۔ پرائیویٹ ٹرانسپورٹر اور گڈز ٹرانسپورٹر نے عملہ سے ملی بھگت کرکے ٹرین کے آمدرفت کو مکمل طور پر ناکام کیا۔اکثر ٹرین و مال گاڑیاں 24چوبیس گھنٹے لیٹ ہوتی۔مسافر مجبورا مہنگے داموں پرائیویٹ ٹرانسپورٹ استعمال کرنے لگے۔ سابقہ ادوار میں ٹرین کی بدحالی کا انداز اس عمل سے لگایا جاسکتا ہے کہ قومی اسمبلی کے50 سیشنوں کے دوران ارکان اسمبلی نے وفاقی وزارتوں میں سب سے زیادہ 568 سوالات وزارت ریلوے سے کیے تھے۔ جن میں سے 346 سوالات اس وقت کی اپوزیشن پاکستان مسلم لیگ نواز نے کیے، ان میں سے 43 سوال ریلوے ملازمین سے متعلق تھے، 24سوال حساب کتاب، 20 سوال زمینوں کے ناجائز قبضے اور 18 سوال مختلف روٹس کے متعلق تھے۔ وزارت ریلوے نے 491سوالات کے جوابات تو دیئے لیکن 65 سوالات کے جواب نہ دے سکے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے ٹوٹل 78سوال ، مسلم لیگ (ق) نے 20 سوال، ANPنے 4سوال، متحدہ مجلس عمل نے 2سوال اور آزادممبران نے بھی2سوال کیے۔ قومی اسمبلی کے 44 ویں سیشن میں وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے تحریری طور پر ارکان کو بتایا کہ پاکستان ریلویز اس وقت 82.23 ارب کا مقروض ہے۔ان میں سے 42.23ارب روپے تو غیر ملکی قرضہ ہے جبکہ 20ارب روپے بینک دولت پاکستان کوادا کرنا ہے۔ 2009-10ء میںساڑھے سات کروڑ پاکستانیوں نے ریل گاڑیوں پر سفر کیا، جس سے پاکستان ریلوے کو 21ارب روپے کی آمدن ہوئی۔جبکہ 2011-12میںصرف اڑھائی کروڑپاکستانیوں نے سفر کیا اور 9 ارب روپے کی آمدن ہوئی۔

Pakistan Railways
Pakistan Railways

ریلوے کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے پاکستانی عوام نے 11 مئی کونہ صرف سابقہ وزیر ریلوے غلام بلور کو رد کیا بلکہ ANPاور PPPPکو بھی بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور پاکستان میں تیسری مرتبہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت آگئی۔ بلور کے دور میں ٹرینوں کے اند ر اور ریلوے اسٹیشنوں پرمعیاری کھانا ملنا کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، غیر معیاری کھانا اور 2نمبر کولڈ ڈرنکس ۔۔منرل واٹر کی فروخت ہوتی تھی، 10روپے والی چپس 15روپے میں، 15والی کولڈ ڈرنک اور چائے20روپے، بسکٹ کا پیکٹ 20روپے میں فروخت ہوتا تھا۔ جبکہ ریلوے ٹکٹ خرید کرسفر کرنے والوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ٹکٹ والوں کو سیٹ نہیں ملتی بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کا خاص پروٹوکو ل ملتا۔ہر ٹرین مسافروں سے بھری ہوتی مگر پھر بھی ریلوے خسارے میں تھا اور ٹکٹ چیکر اور آفسران عیش میں۔

پھر نواز شریف ملک کے وزیر اعظم بن گئے ، انہوں نے نوجوان قیادت خواجہ سعد رفیق کو وزیر ریلوے بنا دیا۔ جنہوں نے گزشتہ دنوں اپنی 200 دن کی کارکردگی عرصہ 11 جون 2013 تا 31 دسمبر 2013 پیش کی،جس کے مطابق انہوں نے200 دنوں میں ریلوے سے 3 ارب43کروڑ49لاکھ روپے کی آمدن حاصل کی ہے ، ماہ جون میں انہوں نے 1ارب 49کروڑ کی آمدن حاصل کی، ماہ جولائی تا دسمبر ریلوے نے11 ارب38کروڑ کی آمدن حاصل کی۔ بیشک پاکستان میں کسی بھی محکمے میں آمدن میں اضافہ کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا پاکستان میں جمہوریت کا حصول۔مگر خواجہ سعد رفیق نے منصب سنبھالتے ہی مندرجہ ذیل اقدامات کئے، جس نے بے جان ریلوے میں جان ڈال دی ۔انہوں نے گڈز ٹرینوں کیلئے مختص لوکوموٹیوز کی تعداد 8سے بڑھ کر25 تک پہنچا دی، کراچی بندگاہ سے پہلے ایک مال گاڑی چلا کرتی تھی اب ان کی تعداد 3-5مال گاڑیاں چلتی ہیں ۔ مسافر گاڑیوں کے کرایہ میں پانچ بار کمی کی گئی ، مختلف روٹس پر7% سے لیکر 57%تک AC سلیپر، اے سی بزنس، اے سی سٹینڈرڈ اور اکانومی میں کمی کے نتیجے میں مسافروں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا۔ مسافر ٹرینوں کی پابندی اوقات بہتر کیے۔ 304مسافر کوچز19 ڈائنگ کارز، 1540 ویگنز، برقی سپلائی مہیا کرنے والے 25 پاور وینزاور31ٹرین لائینگ وینز مرمت کی گئیں۔ تیل کے ذخائر جو محض 2 دن تک محدود تھے ان کو بڑھا کربارہ دن تک لایا گیا ہے۔ 21 افسران پاکستان سے باہر طویل رخصت پر گئے ہوئے تھے ، ان میں سے 9افسر ان جاری کردہ ہدایات کے تحت واپس ڈیوٹی پر آچکے ہیں ، 4 مزید افسران جلد واپس ڈیوٹی پر آجائے گئے اور 8کے خلاف ایکشن لیاجارہاہے۔ریلوے بورڈ کی تنظیم نو کیلئے سمری وزیر اعظم کو ارسال کی گئی، اب جنرل مینجر کی صرف ایک پوسٹ ہوگئی اور غیر ضروری آسامیوں پر پابندی عائد کردی گئی۔مسافر گاڑیوں میں مسافروں کی سہولت کیلئے وائی فائی ، موبائل چارجر،اٹینڈنٹ بزر اور ٹیلی ویژن وغیرہ مہیا کرنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، مزید دوران سفرفراہم کیے جانے والے کھانے کا معیار بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ڈائنگ کارزآپریٹ کرنے کیلئے FOOD CHAINS کے حامل کمپنیوں کو ترجیح دی جارہی ہے۔سیکیورٹی کو بہتر بنانے کیلئے ریلوے پولیس کو آفیشلز ٹریننگ د ی جارہی ہے۔اورپولیس کیلئے 21ملین روپے کے نئے ہتھیار خریدنے کیلئے فنڈز جاری کئے گئے۔مسافروں کی سہولت کیلئے راولپنڈی، لاہور اور کراچی سٹی اسٹیشن پر حبیب بینک لمیٹڈکے تعاون سے ATM کی سہولت فراہم کردی گئی ہے۔ اب مسافر گاڑیوں میں نماز کیلئے جگہ مختص کرنے کیلئے کوچز کے ڈیزائنوں میں تبدیلی کا عمل جاری کردیا گیا ہے۔کراچی بندگاہ سے لاہور ڈرائی پورٹ کیلئے کنٹینرسروس دوبارہ شروع کردی گئی ہے، جو دو سال سے بند تھی۔104 اسٹیشنوں پر بل بورڈاور اشتہارات آویزاں کرنے کیلئے پارٹیوں سے ٹینڈر وصول کرلئے گئے ہیں۔جون 2014تک آن لائن ٹکٹنگ کا نظام متعارف کروادیا جائے گا۔ گذشتہ دنوں 36ماہ بعد ہزاروں ٹن کوئلہ لیکر پاکستان ریلوے کی مال گاڑی کراچی سے ریلوے اسٹیشن فیصل آباد پہنچ گئی۔24 بوگیوں پر مشتمل اس مال گاڑی میں مختلف صنعتی اداروں و کول ڈیلرز کا کوئلہ کراچی سے فیصل آباد پہنچایا گیا ہے۔ تین سال قبل ریلوے انجنوں کی کمی کے باعث یہ مال گاڑیاں بند کردی گئی تھی۔

موجودہ حالات میں تو لگ رہا ہے کہ پاکستانی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی سابقہ بھارتی وزیر ریلوے لالوپرشادکی طرح حقیقی طور پر ڈیوٹی سرانجام دینے کا ارادہ کیا ہوا ہے، اور وہ دوبارہ پاکستانی ریلوے کو خسارے سے نکال کر ملک کے زرمبادلہ کمانے والا ادارہ بنا دے گئے۔ لیکن اس کا حقیقی اندازہ تو4سال بعد ہوگا، جب وزیر صاحب اپنے آخری دنوں میں ہونگئے۔ پاکستان کی تاریخ کے عمیق مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست دان آغاز میں تو اچھی کارگردگی سے کرتے ہیں مگر پھر خوشامدی ٹولے کے ہاتھ شکار ہو کران کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرتے ہیں اور عوام سے جوتیاں کھا کر الوداع ہوتے ہیں۔ مگر اس دوران وہ اپنا زندگی بھر کا بینک بیلنس بنا لیتے ہیں۔۔۔

اور پیار کی خوشبوسے واقف
جس شہر کا باسی کوئی نہ ہو
اس شہر کی گہما گہمی میں
خوشبو کوں خریدے گا۔

Zeeshan Ansari
Zeeshan Ansari

تحریر : ذیشان انصاری ڈسکوی
موبائل نمبر0313-6462677

Share this:
Tags:
India pakistan Pakistan Railways problems progress railway Railway stations train Zeeshan Ansari بھارت پاکستان ترقی ریلوے مسائل
Atiq Ur Rehman
Previous Post اسلامی یونیورسٹی میں اسلام مظلوم…!
Next Post للیانی کی خبریں 3/3/2014

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close