Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سچ مثبت سمت کی طرف سفر کر رہا ہے

December 24, 2014 0 1 min read
society
society

تحریر : منشاء فریدی
مثبت سمت کا تعین اور مقاصد کی تکمیل کس قدر مشکل کام ہے۔ ہزار ہا رکاوٹیں پیش آتی ہیں کسی منزل کے حصول کی کوشش میں۔ (یعنی) منزل کو پانے کی کوششیں بھی ایک طرح سے دشواریوں کے زمرے میں آتی ہیں ۔جس معاشرے(خطے)میں اہداف کے تعین میں بھی مشکلات آڑے آ جائیں حقیقت میں یہ اس معاشرے کی خوبی نہیں ایک بدصورت خامی اور نقائص کی نشاندہی کرتی ہے ۔ایسے معاشرے دنیا میں اچھے اور مثالی معاشروں کے طور پر پیش نہیں کئے جاسکتے ۔اگر ہم اپنے محدود وتنگ نظر معاشرے (سماج)سے نکل کر دیکھیں تو دنیا کے ترقی یافتہ سماج اعلیٰ اقد ار کے حامل ہیں ۔وہاں نہ ہی مذہبی دہشت گردی اور شدت پسندی کا رجحان ہے اور نہ ہی افراد کی سوچوں میں انتہا پسندانہ رویے ہیں وہاں نظریات سے اختلافِ رائے کرنے والوں کی گردنیں نہیں اڑادی جاتیں۔ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے سینے چھلنی نہیں کردیے جاتے اور سیاسی سطح پر بھی کوئی انتقام روانہیں رکھا جاتا مگر ہمارے یہاں تو انتقام کی سیاست رواج یاچکی ہے جوایک اعلیٰ اخلاقی دستور کی شکل بھی اختیار کر چکی ہے۔

یعنی یہاں ترقی پسندانہ سوچوں اور رویوں کو ملعون ومطعون ٹھہرایا جاتا ہے ۔میرے نزدیک یہ اعلیٰ نہیں بلکہ گھٹیا اخلاقی اطوار ہیں ۔ایسے رویوں کا پنپنا معاشرتی زوال کا سبب بنتا ہے ۔اجارہ داری کو اچھا عمل کہنے والے حقیقت میں اپنی حاکمیت کو عزیز سمجھ کر اپنی بالادستی کو وسعت دینے کے چکر میں اپنے ناجائز قبضے کو جائز کرنے کے لیے تجویزیں پیش کرتے ہیں اور مثبت فکر عام کرنے والوں کو محض اپنے بنائے گئے قوانین کے تحت مجرم قرار دیتے ہیں یوں مثبت سمت اور اچھے اہداف کے تعین میں شدید مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی رہتی ہیں ۔معاشرے کو امن اور سکون کا گہوارا بنانے کا منطق پیش کرنے والے کبھی بھی طبعی زندگی پوری نہیں کرسکے ۔انہیں یاتوفتووں کاشکار ہوکرقتل ہونا پڑا یا بالادست طبقات سامراج اور زمینی وسائل پر قابض اور ایک طرح سے خدائی دعویٰ کرنے والوں کے بنے ہوئے قوانین اور عدالتوں کے ذریعے سولی پر لٹکایا گیا۔یہ کردار انسانی خصائل سے ذرابرابر بھی تعلق نہیں رکھتے ۔یہی کردار ہیں جو معاشرتی سطح پر جس کا دائرہ ء کار اور دائرہء اثر عالمی سطح تک بھی چلاجاتا ہے۔بے چینی ،بدامنی ،افراتفری اور فتویٰ بازی کا باعث ہیں ۔ہماراسرکاری وغیر سرکاری معاشرہ بھی انہیں تعفن زدہ عادات ،اطوار اور خصائل کاشکار ہے۔

جب تک معاشرتی سطح پر یہ تاثر عام رہے گا کہ ہم عوام اور اقتدار ووسائل ارضی پر قابض طبقات ہمارے سردار (حکمران)ہیں تب تک ممکن ہی نہیں کہ انصاف تک رسائی اور عدل کے حصول میں انصاف کا پہلو نظر آئے۔جب تک پیدل چلنے والے اور حکمران ایک طرح سے جاگیردار اور امیر کے حقوق کو برابر نہیں سمجھاجائے گا معاشرتی اور سماجی ارتقاء تصور سے بھی بالاتر رہے گا۔اس وقت اقوام ِ عالم میں” جمہوریت ”کا راگ الا پا جارہا ہے۔اپنے تئیں یہ دعویٰ کرنے والا پاکستان میں برسرِاقتدار طبقہ (مرکز پرست سیاسی ومذہبی جماعتیں )کہ پاکستان میں جمہوریت نشوونما پاچکی ہے یا پھل پھول رہی ہے ۔اس دعوے میں میرے نزدیک ایک فیصد بھی سچائی کا عنصر نمایاں نہیں ہے ۔محض عام آدمی کو دھوکہ دینے اور بے وقوف بنانے کے چکر ہیں یااقوامِ عالم میں یہ تاثر عام کرنے کی کوشش میں کہ یہاں جمہوری نظام رائج ہے۔تاکہ جمہوری آمروں کا تسلط طویل سے طویل تر ہوتا رہے ۔ان کے لئے جمہوری آمر”کی اصطلاح بھی جمہوریت کوگالی دینے کے مترادف ہے ۔جب ایک آدمی کی خدمت اس کی فلاح اور اسے سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو اصل میں عبادت کی جارہی ہوتی ہے ۔کیونکہ انسانیت کی خدمت ہی تو جمہوریت ہے۔توایسے میں کسی آمرکواچھے الفاظ سے یاد کیا جائے گا۔؟اسی لیے جمہوری آمر کی اصطلاح میرے مطابق ان حکمران طبقات کے لئے موزوں اور مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ تو وسائل پر بزور طاقت اور دھاندلیوں کے زور پر قابض ہیں ۔بہرِ کیف محض اپنی بات اور مافی الضمیر کے سمجھانے کے لیے اس اصطلاح کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔تاکہ میرا اشارہ قارئین کے شعور کی حدوں کو چھوسکے۔اور اجتماعی شعور بیدار ہوسکے جس کا نتیجہ معاشرتی سطح پر روشن اور مثبت انقلاب کی صورت میں نکل سکے بشرطیکہ یہ انقلاب خوں ریزی کی شکل میں نہ ہو۔

Democracy
Democracy

تب کہیں جا کر افکارواذہان مثبت سمت کی طرف رواں ہوں گے ۔لیبل تو جمہوریت کا ہے لیکن ہے شخصی وسیاسی (مکارانہ وعیارانہ)آمریت ۔۔۔!اقوامِ عالم بھی شاید اندھی ہوچکی ہیں کہ جو ہمارے سیاسی سماج پر اعتماد کرتی نظر آتی ہیں ۔۔۔!یہ اعتماد شاید ان کے سفارتی مفاد کے حصول کے لئے ہے ۔۔۔تو پھر عالمی سطح پر یہ انسانی حقوق کے تحفظ کے پرچار کے دعوے کیوں نظر آتے ہیں یا سنے جاتے ہیں ۔۔۔؟اور اسی طرح یہ جو مذہبی پنڈت اپنی اپنی دوکانیں چلانے کے لئے دین اسلام جوانسانیت اور تمام مخلوق ِ خدا کے لئے مکمل طور پر سلامتی اور تحفظ کا دین ہے کو تقسیم کررہے ہیں درحقیقت فساد فی الارض کے مرتکب ہورہے ہیں جبکہ سلامتی ،امن اور تحفظ ِحقوقِ انسانی کے دین نے تو اللہ کی رسی کو مضبوتی سے تھامے رہنے کا حکم صادرفرمادیا ہے۔اور اس میں یہ حکمت پوشیدہ رکھی گئی ہے تاکہ تفرقہ میں نہ پڑاجائے مگر اس مذہبی پنڈت (مُلا) نے تو اس حرکت کو منافع کی دوکانداری قرار دے دیا ہے ۔اس کا یہ عمل اسلام سے ضد کے معانی میں آتا ہے اور پھر یہ سوال حل طلب ہے کہ جوامن کی راہی امت کو لٹھ لے کر اندھے گڑھے اور گہری کھائی میں لے جا رہا ہے اسے سانس لینے کے عمل کے لئے تازہ ہوا کون مہیا کرے رہا ہے دوسرے لفظوں میں وہ کون سی طاغوتی طاقتیں ہیں جوان فساد پھیلانے والوں کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہیں ۔اس ضمن میں یہ کردار کوئی ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔یہ اور بات کہ ہماری آ نکھوں پر پردے پڑے ہیں ۔پھر بھی دیدہء دل واکرنے سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔وہ لوگ ہمیں نظر آسکتے ہیں ۔۔۔جب اس موضوع پر کہیں علمی بحث کا موقع ملتا ہے تو دولے شاہ کے چوہوں سے سامنا ہوجاتا ہے۔

جن کے سروں پر پیتل یا پھر لوہے کی ٹوپیاں چڑھادی جاتی ہیں ۔تاکہ ان کا دماغ (سر) نشوونمانہ پاسکے اور یوں یہ فکر وعلمی سطح پر بے کار رہیں ۔۔۔پھر ان سے بھیک منگواکر پیشہ ور گروہ اپنا اقتصاد مضبوط کرتے ہیں ۔یہ دولے شاہ کے چوہے (جوفکری ونظری اعتبار سے کورِ چشم اور بہرے ہیں )اپنے اپنے ذاتی مفادات کو توسیع دیتے ہوئے انسانیت کے قتل کے امکانات جاری کردیتے ہیں یہ اعتراف کسے نہیں کہ مسجد عبادت کی جگہ ہے جہاں انسان اپنے خالق ومالک اور ربِ کائنات کی عبادت کرکے گناہوں کی آلائش دھوتا ہے اور باقی زندگی خطائیں اور گناہ نہ کرنے کا تہیہ کرتا ہے مگر انھوں نے تو مساجد کو دوکان بنا کر روزی روٹی کے حصول کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو کیا ہم نے سیدھی راہ اختیار کر رکھی ہے۔۔۔؟روزِ روشن میں بھی ہمیں مثبت سمت کاتعین ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔۔۔!میں نے ہر کالم میں سیاسی ،فکری ونظری اور معاشرتی (سماجی)نظام میں پائی والی بے راہروی کے خلاف بات کی اور حتیٰ المقدور کوشش کی کہ کسی طرح اجتماعی شعور اصلاح کے باقاعدہ عمل سے گزرے ۔مگر معاملہ اس کے بر عکس اور متضاد دکھائی دے رہا ہے ۔الٹا اصلاح کی بجائے میرے خلاف عرصئہ حیات ِ تنگ کیاجا نے لگا ہے یعنی مختلف طریقوں سے غیر اصلاح یافتہ معاشرہ مجھے ہراساں کرنے لگا ہے اور مجھے قتل کرنے کے منصوبے بنائے جانے لگے ہیں ۔دنیا میں دوطریقوں سے قتل کی وارداتیں ہوتی ہیں ۔ایک طریقہ واردات یہ ہے کہ کسی کو براہِ راست ماردیا جائے اور دوسرا مختلف الزامات کے تحت مروا دیا جائے۔مثلاََ فتووں کے ذریعے ،مقدماتِ قتل ،اغواء میں انتقاماََ پھنسا کر قانون کے ذریعے سولی پر لٹکوادیاجائے یا اشتہاری قرار دے کر جعلی پولیس مقابلہ میں پارکروا دیا جائے۔یہی دوطریقے ہمارے ہاں رائج ہیں جن پر عمل کرکے طاقت سے طاقتور دشمن کوبھی مات دی جاسکتی ہے لیکن دوسرا طریقہ قتل سب سے موثراور کامیاب ہے۔۔۔!

میرے ساتھ بھی کچھ اس طرح کا سلوک ہورہاہے۔عمل کا ردِعمل یقینی ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے۔جب سماجی (اس سے میری مرادسرکاری وغیرسرکاری معاشرہ ہے)سطح پر پھیلی بدعنوانی (ناہمواری)کی مضر علامات کے خلاف بات ہوگی تو نتیجہ بھی شدید ترین مشکلات کی صورت میں نکلے گا ۔صدرتھانہ جامپور (راجنپور)میں میرے خلاف اغواء کا درج مقدمہ بھی کچھ اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ پولیس مقابلہ میں پارکردیاجائے لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔۔۔؟انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ جس کی سربراہ جامپور کی رہائشی خاتون ہے (سلامتی کے اداروں کو بھی حالات سے مکمل آگاہی ہے)نے جاگیرداروں سرمایہ داروں مخبروں (چغل خوروں )اور بدعنوان افسرِشاہی کے اشارے پر ایک مظلوم (جسے مظلوم کہنا بھی شاید جرم ہے کیونکہ موصوف مدعی مقدمہ ہذاء نے انسانی سمگلنگ کے ہاتھوں اپنا لختِ جگر مبینہ طور پر بھاری معاوضہ میں فروخت کیا تھا ۔قبل ازیں بھی ایسے عمل میں ملوث تھا )کو میرا(راقم کا) مدعی بنا دیا۔پسِ پردہ عناصر کے عزائم دراصل مجھے جان سے مارنے کے ہیں ۔خواہ ان کے ارادوں کی تکمیل بذریعہ پولیس ممکن ہو یا عدالتی فیصلہ کے ذریعے۔۔۔!لیکن سچ سرخروئی کے مراحل طے کرتا ہواکامیاب وکامران ٹھہرتا ہے اور جھوٹ سدانادم رہتا ہے ۔سچ مصلوب ہوکر بھی اعلیٰ مدارج پر فائز رہتا ہے ۔۔یوں سچ اجتماعی شعور کو جگا کر افکار کی مثبت سمت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

Mansha Fareedi
Mansha Fareedi

تحریر : منشاء فریدی چوٹی زیریں ڈیرہ غازی خاں
03336493056

Share this:
Tags:
barriers direction positive Society travel True ترقی رکاوٹیں سچ سفر سمت مثبت معاشرے منزل نشاندہی
Previous Post کوٹ رادھا کشن واقعے کے 68 ملزمان پر فرد جرم عائد
Next Post بھمبر کی خبریں 24/12/2014

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close