ابھی کچھ وحشتوں کے در کھلیں گے
چمن میں طائروں کے پَر کھلیں گے
ابھی کچھ وحشتوں کے در کھلیں گے
خزائوں میںتیری یادوں کے پرچم
بہارِ جانفزاء لے کر کھلیں گے
وہ دن بھی آئے گا جب تیرے گیسو
کسی کی یاد میں اکثر کھلیں گے
ہمیں معلوم ہیں آدابِ محفل
ہمارے ہونٹ لمحہ بھر کھلیں گے
کبھی جھانکو جو ان آنکھوں میں ساحل
سکوتِ شام کے منظر کھلیں گے
تحریر : ساحل منیر
