
واشنگٹن (جیوڈیسک) امریکی صدربا راک اوباما نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرائن کے جزیرہ نما کرایمیا سے اپنی فوج واپس بلا لے اور وہاں ایک نگراں مشن تعینات کر دیا جائے۔
وائٹ ہائوس کے حکام کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے روسی صدر ولادی میر پیوتن کو یہ تجویز ایسے وقت میں دی گئی ہے جب بظاہر کرایمیا روس کے کنٹرول میں ہے اور امریکہ نے اسے روس کی جارحیت قرار دیا ہے۔
وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے روس سے کہا ہے کہ وہ کرایمیا میں موجود اپنے فوجیوں کو خطے میں موجود بحیرہ اسود کے بحری بیڑے پر واپس بلا لے اور یوکرائن میں عالمی مبصرین بھیجے جائیں جو وہاں کے رہائشی روسیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔
امریکی صدر کے دفتر کے اہلکار کے مطابق صدر اوباما نے اپنے روسی ہم منصب سے بات چیت میں انھیں اس منصوبے سے مطلع کیا تھا اور انھوں نے اس بارے میں جرمن چانسلر مرکل سے بھی تفصیلی بات چیت کی ہے۔
روس کی جانب سے تاحال اس تجویز پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ نے منگل کو ہی یوکرائن کے جزیرہ نما کرایمیا میں روس کی جانب سے فوج بھیجے جانے کو ’جارحانہ کارروائی‘ قرار دیا تھا۔
امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ روسی صدر کے اس دعوے پر کسی کو یقین نہیں کہ ابھی یوکرائن میں روسی فوج نہیں بھیجی گئی اور روس کو کرایمیا میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔
یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں ملک کے عبوری صدر اولیکسیندر ترچینوف، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی کہا کہ یوکرائن نے جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔
اس سے قبل روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا تھا کہ روسی فوجیوں کو ابھی تک یوکرائن میں بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم روس کو مشرقی یوکرائن میں شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ذرائع استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔
انھوں نے روسی فوجیوں کے کرایمیا میں موجود یوکرائنی شہریوں کا محاصرہ کرنے کے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پر روس کی حامی ’ذاتی دفاع‘ کی فورسز موجود ہیں۔
روسی صدر نے یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں صدر وکٹر یانوکووچ کو معزول کرنے کے اقدام کو ’غیر آئینی بغاوت اور طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ‘ قرار دیا تھا۔
