Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

احسان فراموش افراد کا مستقبل کبھی روشن نہیں ہوتا

February 11, 2017February 11, 2017 0 1 min read
Kindness
Kindness
Kindness

تحریر : رشید احمد نعیم، پتوکی
پرانے وقتوں کی بات کہ ایک شہری کی کسی دیہاتی سے دوستی ہو گئی۔ جب کبھی دیہاتی شہر میں آتا تو اسی شہری دوست کے گھر ڈیرہ لگاتا اور دو دو تین تین مہینے اس کا مہمان رہتا۔ اس دوران شہری خوشی خوشی اس کی مہمان نوازی کرتا۔اس کی تمام بنیادی ضروریات پوری کرتا ۔ہر لحاظ سے اس کا بہت خیال رکھتابلکہ اس کی خدمت میں رات دن ایک کر دیتا۔ ایک دن دیہاتی نے شہری سے کہا” بھائی جان آپ کبھی ہمارے گائوں تشریف نہیں لاتے۔اگر آپ میرے غریب خانے آئیں تو مجھے دلی خوشی ہو گی۔

آج کل بہار کا موسم ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ اہل ِ خانہ سمیت مجھ نا چیز کو مہمان نوازی کا شرف بخشیں ۔ اگر فوری طور پر مصروفیات کے باعث ایسا ممکن نہیں تو گرمیوں میں ضرورتشریف لائیے اس وقت پھلوں کا موسم ہوتا ہے۔ آپ کی خدمت کا خوب موقع مل جائے گا۔ ہو سکے تو اپنے اہل و عیال کے ساتھ تین چار ماہ کے قیام کا پروگرام بنائیے گا ۔ ویسے توموسم بہار کے اپنے ہی نظارے ہوتے ہیں ۔ان دنوں میں دیہات کی فضا بڑی خوشگوار ہوتی ہے۔ ہر طرف سبزہ لہلہا تا ہے اور پھول جھومتے ہیں۔آپ دیکھیں گے تو خوش ہو جائیں گے۔

شہری اس کی باتیں سن کر کہہ دیتا کہ” اچھا بھئی کبھی موقع ملا تو ضرور آئیں گے”۔ دیہاتی جب زور دیتا تو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر اس کو ٹال دیتا۔ کبھی کہتا کہ فلاں جگہ سے ایک مہمان آیا ہوا ہے۔ کبھی کہتا اس سال بہت ضروری کاموں میں مصروف ہوں۔ اگلے سال فرصت ملی تو ضرور آئوں گا۔وقت گزرتا رہا۔ پانچ سال کا طویل عرصہ بیت گیاْ دیہاتی ہر سال آتا اور با مروت شہری دل کھول کر اس کی خدمت کرتا۔ ایک دفعہ وہ مسلسل تین مہینے شہری کے گھر میں برا جمان رہا اور صبح و شام خوب خوب دعوتیں اڑائیں۔ جاتے وقت پر زور اصرار کرنے لگا کہ” صاحب١ ہمیں کب تک وعدوں پر ٹرخاتے رہیں گے۔ آپ کا انتظا کرتے کرتے اب تو ہماری آنکھیں بھی پتھرا گئیں ہیں”۔َ شہری نے کہا کہ” بھائی تمہارے پاس جانے کو میر اپنا بہت دل چاہتا ہے لیکن ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے۔ انسان تو ایک بادبانی کشی کی مانند ہے۔ اس کشتی میں اس وقت حرکت پیدا ہو سکتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ہوا چلائے گا”۔ دیہاتی نے کہا کہ” اس سال بال بچوں کے ہمراہ ضرور تشریف لائیے”۔ پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر تین بار وعدہ لیا کہ ضرور آنا۔ شہری نے گائوں جانے کی حامی تو بھر لی لیکن پھر ایسے کاموں میں مشغول ہوا کہ دوبرس اور گزر گئے۔ ایک دن اس کے بچوں نے کہا کہ” ابا جان! چاند بادل اور سایہ بھی سفر کرتے ہیں۔ آپ نے اپنے دیہاتی دوست کی مہمان داری اور خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور خود تکلیف اٹھا کر بھی اس کو آرام پہنچایا ہے۔ اس کو بھی اپنے احسانات کا حق ادا کرنے کا ایک بار موقع دیجئے۔ وہ کئی بار اصرار،خلوص اور خوشامد سے آپ کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دے چکا ہے۔ اگر آپ نہ جائیں گے تو اس کادل ٹوٹ جائے گا۔

شہری نے کہا کہ” تم سچ کہتے ہو لیکن عقل مندوں اور سیانوں نے کہا ہے کہ ”جس سے تم نے بھلائی کرو اس کے شر سے بچو”۔ اس وقت تو اس نے بچوں کو ٹال دیا لیکن دیہاتی نے خوشامد کا کچھ ایسا جال بچھایا ہوا تھا کہ ایک بار دوبارہ بچوں کے اصرار پر شہر ی گائوں جانے پر آمادہ ہو ہی گیا۔ بچوں کو معلوم ہوا تو وہ مارے خوشی کے پھولے نہ سماتے تھے۔ جس دن شہری اپنے اہل و عیال سمیت گائوں کی طرف روانہ ہوا وہ اس کے بچوں کے لئے گویا عید کا دن تھا۔ گو سفر بڑا طویل اور صبر آزما تھا لیکن گائوں جانے کی خوشی میں وہ اس کو دوڑ بھاگ کر طے کر رہے تھے۔ ان کے دلوں اور دماغوں میں گائوں کی پر بہار فضا بسی ہوئی تھی اور اسی کے تصور میں ان کا راستہ ہنسی خوشی کٹ رہا تھا۔ جب وہ کسی پرندے کو گائوں کی جانب پرواز کرتا دیکھتے تو ان کا جی چاہتاکہ اس کی طرح اڑ کر وہ بھی جلد از جلد گائوں جا پہنچیں۔ اگر راستے میں کسی دیہاتی کو دیکھتے تو اس کو بے اختیار گلے لگا لیتے اور پوچھتے کہ بھائی تو نے ہمارے عزیز دوست کو بھی دیکھا ہے۔ اس طرح یہ تھکا ماندہ قافلہ پر صعوبت سفر کے بعد گائوں جا پہنچا۔مگر وہ دیہاتی نہایت مکار اور احسان فراموش نکلا۔ اس کو شہری کی آمد کا حال معلوم ہووا تو انجان بن کر کہیں ادھر ادھر ہو گیا۔ دراصل یہ شخص بڑا کمینہ اور بد فطرت تھا اور شہری کی مہمانداری سے بچنا چاہتا تھا بے چارہ شہری لوگوں سے اس کے گھر کا پتہ پوچھ کر بڑی بے تکلفی سے وہاں پہنچا لیکن اس کمینے کے اہل خانہ نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا۔ شہری کو صدمہ تو بہت ہوا لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔

مجبور ہو کر اپنے بال بچوں سمیت دروازے کے سامنے ہی ڈیرہ لگا لیا۔ جوں ہی وہ دیہاتی نظر آتا شہری اس کو سلام کرتا اور اس کو یاد دلاتا کہ” میں تمہارا فلاں دوست ہوں”۔ دیہاتی اس کو دور ہی سے جواب دیتا تھا کہ” میں نہیں جانتا تو کون ہے۔ میں تو دن رات ذکر حق میں مشغول رہتا ہوں اور اللہ کی عبادت کے سوا مجھ کو کسی کا ہوش نہیں”۔ شہری کہتا کہ” شاید قیامت کا وقت آگیا ہے کہ آپ میرے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں۔ ارے بھائی! کیا تو برسوں میرا مہمان نہیں رہا؟۔ آخر میں نے تیری خدمت میں کونسی کوتاہی کی تھی؟۔ لیکن بے حیاد یہاتی اس کو یہی جواب دیتا تھا کہ” معلوم نہیں تو کیا کہہ رہا ہے ؟۔ میں نے تو کبھی تیری شکل بھی نہیں دیکھی”۔ اسی حالت میں بیچارے شہری کو پانچ دن گزر گئے۔ پانچویں شب غضب کی بارش ہو گئی۔ شہری اور اس کے بچے پانی میں شرابور ہو گئے۔ بیچاروں کے پاس سر چھپانے تک کی جگہ نہ تھی۔ جس طرح شریف لوگ بے بسی کے عالم میں کمیوں کے محتاج ہو جاتے ہیں اسی طرح شہری بھی مجبور ہو کر دیہاتی کے دروازے پر گیا اور بہت رویا دھویا لیکن وہ ظالم تیوری چڑھائے ہوئے دروازے پر آیا اور پوچھا کہ” آخر تو کیا چاہتا ہے ”؟ شہری نے کہا” بھائی میں نے اپنے سب حقوق چھوڑے۔ جو کچھ میں سمجھا تھا بلا شبہ وہ غلط تھا۔ ہم نے جو پانچ دن گزارے وہ پانچ برس کے برابر تھے لیکن اب بارش کی تکلیف اٹھانے سے میری اور میرے بچوں کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ خدا کے لئے ہمیں اپنے مکان کے کسی گوشے میں پناہ لینے دے۔

خدا آخرت میں تجھ کو اس کی جزاد ے گا اگر تجھے یہ منظور نہیں پھرمجھے قتل کر ڈال۔ میں اپنا خون تجھ پر حلال کرتا ہوں”۔ دیہاتی نے کہا کہ” میں نے اپنے مکان کا گوشہ باغبان کو دے رکھا ہے۔ ہم نے اس کو بھیڑیئے سے جانوروں کی حفاظت بھی سونپ رکھی ہے۔ اس مقصد کے لئے ہم اس کو تیر و کمان دے دیتے ہیں تاکہ اگر بھیڑیا آئے تو اس کو مار دے اگر تو یہ کام کر سکتا ہے تو وہ جگہ ہم تجھے دے دیتے ہیں ور نہ کوئی اور جگہ ڈھونڈ لے”۔ شہری نے کہا کہ اس وقت میں ایسی سوخد متیں کرنے کے لئے تیار ہوں۔ تیر و کمان میرے حوالے کیجئے اور پھر دیکھئے کہ آپ کے باغ اور مویشیوں کی کس مستعدی سے نگرانی کرتا ہوں۔ اگر بھیڑیئے کی بھنک بھی میرے کانوں میں پڑ گئی تو آواز پر تیر چلا کر اس کو ہلاک کر دو ں گا۔ غرض اس وعدہ پر وہ اپنے اہل و عیال سمیت باغبان کی کوٹھڑی میں آگیا۔ وہ جگہ نہایت تنگ اور سیلی تھی اور اس پر کیڑے مکوڑے مستزاد، بے چارے مصبیت میں پھنس گئے۔

Friendship
Friendship

ساری رات ان کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ یہ نا اہل اور کمینے سے دوستی کی سزا ہے۔ بہر حال شہری تیر و کمان ہاتھ میں سے لئے اپنا فرض بجا لا رہا تھا۔ رات کے پچھلے پہر بھیڑیئے کی قسم کے ایک جانور نے ٹیلے کی اونٹ سے سر نکالا۔ شہری نے تاک کر اس پر تیر چلایا تو وہ جانور زمین پر گر پڑا اور اس کی ہوا خارج ہو گئی۔ دیہاتی نے یہ آواز سنی تو وہیں سے دہائی دینے لگا کہ” ارے ظالم١یہ تو نے کیا غضب کیا؟۔ یہ تو میرا خر بچہ (گدھی کا بچہ ) تھا تو نے اس کو ناحق مار ڈالا۔ شہری نے کہا ہر گز نہیں یہ تو بھیڑیا تھا تم اچھی طرح دیکھ کر تسلی کر لو۔ دیہاتی نے کہا کہ میں اپنے خر بچہ (گدھی کے بچے ) کی آواز خوب پہنچانتا ہوں۔ ارے میں تو جانوروں کے گوزوں سے اپنے جانور کے گوز کی آواز پہچان لیتا ہوں۔ اب شہری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس نے لپک کر دیہاتی کا گر بیان پکڑ لیا اور کہنے لگا اے مکار کمینے ! تو اس اندھیری رات میں اپنے خر بچے کے گوز کی آواز پہچان لیتا ہے لیکن نہیں پہچانتا تو اس شخص کو جس نے پانچ برس تک دل و جان سے تیری خدمت کی ہے۔ تو دعویٰ کرتا تھا کہ اللہ کے سوا تجھے کسی شے کا ہوش نہیں ہے اور تو ہر وقت عالم تحیر میں رہتا ہے لیکن اللہ کی غیرت جوش میں آئی تو بچے کی گوز کی آواز نے تجھے رسوا کر دیا۔ حق تعالیٰ مکاروں اور کمینوں کو اسی طرح رسوا کر تا ہے۔ تجھے عشق الہٰی کا دعویٰ ہے، لیکن فی الحقیقت تو شیطان کا عاشق ہے۔ ارے بد بخت ان چالبازیوں کو چھوڑ اور عاشقان الٰہی کا دامن پکڑ کر سیدھا راستہ اختیار کر۔ اج کل ہمارے ارکان اسمبلی بھی اس دیہاتی کی طرح سب کچھ بھول جانے کی اداکاری کر رہے ہیںوفاقی و صوبائی وزراء سمیت ارکان ِ اسمبلی آج عوام ، اخلاق ،قانون ،آئین اور انصاف کی اقدار کو فراموش کرکے جو بیان بازی کر رہے ہیں ، جس طرح حکومتی کرپشن کا دفاع کرتے ہو ے اپنے منہ سے آگ کے شعلے نکالنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیںاور عوامی مسائل سے مکمل غافل ہو کر عوام اور قانون کو پہچاننے سے انکار کر تے ہوئے صرف اپنی طاقت کا اظہار کر رہے ہیں،جس عوام کے ووٹوں کی بدولت آج اس مقام پر پہنچے ہیں اُن کا ہی جینا دو بھر کر رکھا ہے۔

عوام مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور بد عنوانی کا رونا روتی ہے مگر یہ اشرافیہ اُن کو جاننے اور پہچاننے سے ہی انکاری ہے اوراحسان فراموشی کی بد ترین داساتین رقم کرر ہی ہے۔ حیرت ہے اِن کی سوچ پر کہ جو ووٹرز اِن کے ناز نخرے اٹھاتے رہے، اِن کی آو بھگت کرتے رہے،اِن کے لیے محافل کا انعقاد کرتے رہے ،اِن کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے جلسوں اور جلوسوں کا اہتمام کرتے رہے ، آج وہی چہرے اِن کے لیے نا اشناء بن چکے ہیں۔ قانون سازی کے لیے منتخب ہونے والے ارکان ِ اسمبلی و وزراء آج اسی قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اُس دیہاتی کی طرح اِن کے پاس ہر مسئلے کے جواب میں صرف ایک ہی بات ہے کہ ہم جمہوریت بچانے میں مصروف ہیں۔ ارے بھائی ! عوام کو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے دو وقت کی روٹی چاہیے، چادر اور چار دیواری کا تحفظ چاہیے ،امن و سکون کی فضاء چاہیے، تعلیمی و صحت کی سہولیت چاہیے،بنیادی حقوق کی پاسداری چاہیے مگر آپ کو اپنے” اللوں تللوں ”سے ہی فرصت نہیں ہے ۔ شائد آپ کسی قانون کی لاٹھی کے منتظر ہیں جس کے اٹھنے سے آپ کے اقتدار کے نشے کی وجہ سے گم شدہ حواس بحال ہو جائیں اور ویسے بھی کتاب ماضی کی ورق گردانی کی جائے تو آپ کا ماضی بتاتا ہے کہ آپ صرف” بوٹوں والی سرکار” کی زبان ہی سمجھتے ہیںاور اس کے بعد ہی آپ کو وہ عوام نظر آنا شروع ہو تی ہے جسے آج آپ بھول چکے ہیں اور ان کو کیڑے مکوڑے سمجھ رہے ہیں۔ابھی وقت ہے آپ کے پاس کہ آپ عوام کو اپنا سمجھیں اور ان کے مسائل حل کریں تاکہ وہ بھی آپ کو اپنا سمجھیں ورنہ سب کچھ گنوا کر تو بیوقوف بھی سمجھ جاتے ہیں۔آنکھیں کھولیں اور اس عوام کو پہچانیں جو کھبی آپ کی خدمت گزار رہی ہے ورنہ احسان فراموش افراد ہوں یاا قوام ان کا مستقبل کبھی روشن نہیں ہوتا۔

 Rasheed Ahmad Naeem
Rasheed Ahmad Naeem

تحریر :رشید احمد نعیم، پتوکی

Share this:
Tags:
Future people Poor Rasheed Ahmad Naeem افراد روشن غریب مستقبل
India and America
Previous Post امریکہ، انڈیا گٹھ جوڑ۔۔۔۔اور مسلمانوں کے خلاف اقدامات
Next Post فرزند کشمیر۔۔۔ مقبول بٹ
Maqbool Butt Shaheed

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close