Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اُردو اور فارسی کے روابط. ایک تحقیقی کام

January 21, 2019 0 1 min read
Urdu
Urdu
Urdu

تحریر : میر افسر امان

”اُردو اور فارسی کے روابط” پر یہ تحقیقی مقالہ ڈاکٹر پروفیسر محمد عطاللہ خان یوسف زئی صاحب کا ہے، جس پر جامعہ کراچی نے انھیں ٢٠٠٢ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی تھی۔ اس کتاب کو لکھنے کے لیے سیکڑوں کتابوں کو ڈاکٹر صاحب نے کھنگالاہے، جن کا حوالہ کتاب کے پانچوں بابوں کے آ خر میںدرج کر دیا گیا ہے۔یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کی مالی معاونت سے شائع ہوئی۔ اس کی اشاعت سلسلہ مطبوعات انجمن ترقی اُردو پاکستان کے تحت اوّل ٢٠٠٩ء میں ہوئی، اشاعت دوم ٢٠١٧ء میں ہوئی ۔اس کے مطبع فضلی بک اُردو بازار، کراچی ہیں۔یہی کتاب ہمارے زیر مطالعہ رہی ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے اُردو زبان بارے جتنا مواد اس کتاب میں جمع کیا ہے،اس سے لگتا ہے کہ یہ کتاب اُردو زبان کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس شاندار کاوش کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے اُردو کی ترقی کے لیے بڑے ا ہم کام کیے ہیں کیونکہ اُردو کی ترایج و ترقی سے اُنہیں گہری دلچسپی رہی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹرصاحب ایک عرصہ سے سے اُردو شارٹ ہینڈ کے آسان اور موزوں طریقے کی تشکیل کے لیے کوشاں رہے ۔ بلا آ خر ١٩٧٧ء میں ایک نیا طریقہ وضع کیا۔ جسے وزارات تعلیم(نصاب) اسلام آباد نے ماہرین کی سفارش پر تدریس کے لیے منظور کیا۔جیسے انگلش ٹائپنگ سیکھنے کے لیے انگریزی کے سارے الفاظ( a quick brown fox jumps over the lazy dag ) میں سمو دیے گئے ہیں۔ ایسے ہی اُردو میں ٹائپ کی مشق کرنے کے لیے ایک ایسا جملہ بھی وضع کیاہے جو اُردو کے پورے حروف تیجی اور ان کی اشکال پر مشتمل ہے، وہ جملہ یہ ہے”اگر آپ ضابطہ زور و ثبات پر عمل کریں تو ذلت سے بچ جائیں، خوش ظفر قوت ژال اور ڈٹ کر لڑنے کاحوصلہ و غیرت پیدا ہو”۔ڈاکٹر صاحب نے ”اُردو زود نویسی کا ارتقائ”(شارٹ ہیڈ) اور ”قانونی دستاویز نویسی” پر کتب بھی تصنیف کی ہیں۔پروفیسر کلیم الدین احمد کی انگریزی کتاب(IDOLS) کا ” اصنام” کے نام سے اُردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔

ڈکٹر رفیق مرزاصاحب کی انگلش کتاب(the prophet & the mankind) کا اُردو ترجمہ ”،رسول اکرمۖ اور بنی نو انسان” کیا۔جناب منظر عارفی نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے مضمون جو دو ماہی” سربکف ”کراچی کے نومبر ٢٠١١ء کے شمارے میں شایع ہوا ہے،لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی تالیف”اُردو زود نویسی” دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ کسی نئے فن کو معرضِ وجود میں لانے کی مشکلات کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے سنگلاخ چٹانوں کو کاٹ کر نئے راستے بنانے کا کام انجام دیا ہے۔ ٢٣ جولائی ٢٠١٠ء آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں” اُردو فارسی کے روابط” کی تقریب رونمائی، دانشور،شاعراور ادیب پروفیسر سحر انصاری صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ انصاری صاحب نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک بڑا زخیرہ کتاب کی صورت میں دے دیا ہے۔٣١جولائی٢٠١٠ ء کوانجمن ترقی اُردو” اُردو فارسی کے روابط” کتاب کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔

اس پروگرام کی صدارت انجمن ترقی اُردوکے صدر جناب آفات احمد خان نے کی۔ اس میں پروفیسر افتخار اجمل شاہین صاحب نے ڈاکٹر صاحب کی ادبی اور تخلیقی صلاحتوں اور خدمات پر ڈاکٹر صاحب کو” خاموش سپاہی” قرار دیا۔١٥ اگست ٢٠١٠ء کو جنگ سنڈے میگزین کا تبصرہ نگار لکھتا ہے کہ مصنف نے اپنا مقالہ بڑی محنت تحقیق اور تلاش کے بعد تحریر کیا ہے۔” اُردو فارسی کے روابط ”کے مختلف پہلوں کا بھر پور جائزہ پیش کیا ہے جو یقیناً قابل تحریف ہے۔ڈاکٹر محمود الرحمان صاحب نے بھی ڈاکٹر صاحب کو اُردو کا” ایک سپاہی” قرار دیا ہے۔ وہ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ میری دانست میں پورے پاکستان میں” اُردو زود نویسی” پر اپنی نوعیت کی پہلی تصنیف ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب نے ڈاکٹر صاحب کے لیے کہا کہ انتہائی محنت اور کاوش کے بعد اردو مختصر نویسی کے لیے نئے نئے اصول منضبط کر کے اس طور پر اشارات و علامات وضع کیے ہیں۔پروفیسر افتخار اجمل شائین صاحب نے اپنے مضمون جو” نکھار ”انٹر نیشنل میگزین میں شایع ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو ”اُردو کا خاموش مجاہد”کہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیںکہ ڈاکٹر صاحب نے اُردو کے لیے اتنے کام کیے کہ جن کو دیکھ کر خوشگوار حریت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے تین سال تک ریڈیو پاکستان میں جزوی مترجم کی حیثیت سے کام کیا۔ قومی اسمبلی میں سات سال تک ترجمے کا کام انجام دیتے رہے۔ درجہ ششم اور ہشتم کے لیے نصابی کتابوں کے مصنفین میں شامل رہے۔ اُردو نصاب کی نظرثانی کمیٹی کے رکن رہے۔ رسالہ نیوی نیوز میں بھی جذوقتی مدیر کی حیثیت سے اپنے خدمات انجام دیں۔

کتاب اُردو فارسی کے راوبط پرتبصرہ کرنے سے پہلے کچھ اپنی مظلوم قومی زبان اُردو پر بات کر لیتے ہیں۔ہماری طرف سے منادی عام ہے اور ہم ہر خاص و عام کو بھی مطلع کرتے ہیں کہ اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ قائد اعظم کے چودہ نکاتمیں اس کی دفعہ گیارہ تھی” اُردو زبان اور رسم الخط کی حفاظت کرنا” بانی پاکستان قائداعظم نے پاکستان بننے کے بعد ڈھاکہ میں ٢٤ مارچ ١٩٤٨ء کو فرمایا” اس صوبے میں دفتری استعمال کے لیے اس صوبے کے لوگ جو زبان چائیں منتخب کر سکتے ہیں یہ مسئلہ خا لصاً صرف صوبے کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہوگا۔ البتہ پاکستان کی سرکاری زبان،جو مملکت کے مختلف صوبوں کے درمیان افہام و تفہیم کا ذریعہ ہو، صرف ایک ہی ہو سکتی ہے اوروہ اُردوہے ، اُردو کے سوا اور کوئی زبان نہیں”۔پھر ١٩٧٣ء کے آئین میں بھی اُردو کو پاکستان کی قومی سرکاری زبان مانا گیا۔

١٩٨٨ئ تک پندرہ برس کی مہلت دی گئی۔ مسلمانانِ برصغیر کی تحریک پاکستان اسی زبان میں برپاہ کی گئی تھی۔جب ہندوستان کے سارے صوبوں میںانتخابات جیتنے کے بعد، ہندوئوں نے ہندی کو ہندوستان کی قومی زبان قرار دیا تو مسلمانوں کے خلاف ہندوئوں کا تعصب کھل پر سامنے آ گیا۔ پھراُردو ہندوستان کے مسلمانوں کی زبان بن کر سامنے آئی۔اُردو ساری دنیا میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔یہ دنیا کی زبانوں میں دوسری بڑی زبان ہے۔اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق تمام ممالک میں اکثریت کی زبان کو اس کی قومی زبان مانا گیا ہے۔ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب صدر نشین مقتدہ قومی زبان” روز نامہ جنگ لاہور” سے ایک گفتگو میں ٥ مارچ ١٩٨٨ئ فرمایا ” ہمارے ادارے نے اُردو کے نفاذ کے سلسلے میں جو تیاری کے ہے وہ پوری اور مکمل ہے۔ اس وقت اگر حکومت اُردو نافذ کرنا چاہے تو اس کے نفاذ کے لیے کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئے گی” اسی بات کو مقتدرہ نے اپنے خط نمبر ٦٠ ٨٥( الف) مورخہ ٢٩جون ١٩٨٦ئ بنام کابینہ ڈویژن حکومت پاکستان( ضمیمہ ٢٠) میں لکھ کہ” مقتدرہ وہ تمام بنیادی اور ضروری کا مکمل کر چکا ہے جو نفاذ کے عمل میں اہم ضمیمے کی حیثیت رکھتا ہے” سب سے پہلے بلوچستان میں گورنر غوث بخش بزنجو صاحب نے ٦ مئی کو اعلان کی کہ ٨ مئی سے صوبہ بلوچستان کی دفتری زبان اُردو ہو گی۔ اس کے بعد ارباب سکندر خان خلیل صاحب نے صوبہ سرحد( اب خیبر پختونخوہ) میں اُردو زبان بطور دفتری زبان کا اعلان کیا۔

پھر پنجاب کے وزیر اعلی ملک معراج خالد صاحب نے بھی اعلان کیا کہ پنجاب میں ایک سال کے اندر تمام دفاتر کی زبان اُردو ہو گی۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت اُردو بولنے ،سمجھنے اور لکھنے کے باوجود اس حق سے اب تک محروم ہیں۔ پاکستان میں اُرود کے نفاذ میں انگریزی زبان رکاوٹ ہے۔ کیوں کہ انگریز جاتے وقت کچھ کالے انگریز اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ جو اُردو کو قومی زبان رائج ہونے میں رکاوٹ ہیں۔پاکستان کے بیروگریٹس، جن کو” انجمن اتحاد” سی ایس ایس افسران کا نام دیا جانا چاہیے۔ ان کے بچے انگریزوں آقائوں کے مشنری اسکولوں سے انگلش میڈیم میں پڑھ کر آتے ہیں۔پاکستان کے ٩٨ فی صد بچے اُردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔کالے انگریزوں نے نظامِ حکومت چلانے کے لیے مقابلے کے امتحانات، سی ایس ایس، پی سی ایس اور آئی ایس ایس بی انگلش میں رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے اُردو میڈیم کے ہونہار بچے فیل ہو جاتے ہیں۔ بیروگریٹ ، اعلی فوجیوں،سرمایا داروں اور وڈیروں کے، فر فر انگریزی بولنے والے بچے اس مقابلے کے امتحانات میں پاس ہو جاتے ہیں۔

اُردو فارسی روابط کتاب کے” حرفے چند” مشہور دانشور،ادیب،شاعر اور صحافی ،جمیل الدین عالی مرحوم میں فرماتے ہیں کہ انجمن کی روایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُردو اور فارسی کے رشتوں کو مزید ہموار کرنے کے لیے انجمن کی اس اشاعت کو بھی پسند کیا جائے گا۔برصغیر میں مسلمان سندھ کے راستے ٧١١ء بمطابق ٩٣ھ آئے۔ عرب جرنل محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دی اور آریائوں کی طرح یہیں بس گئے۔پھر ایک رابطہ کی زبان ہندوی کا وجود عمل میں آیا۔١٠٠٥ء میں محمود غزنوی نے ملتان اور اُچ پر قبضہ کر کے قرامطہ( اسماعیلیوں) کا غلبہ ختم کیا۔ پھر صوفایا کرام آئے اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ لسانی روابطہ میں اہم کردار ادا کیا۔ ١٢٠٦ء میں قطب الدین ایبک میں برصغیر میں مسلم سلطنت کی باقاعدہ بنیاد رکھی ۔زبانیں زمام و مکاں کی تبدیلیوں سے ہمیشہ متاثر ہوتی ہیں۔دہلی میں مسلم ہندی رابطے سے ایک نئی زبان تیزی سے تشکیل پذیر ہونے لگی۔ بابرکے زمانے سے مسلمانوں کی عام زبان فارسی تھی۔ لوگوںکے ملنے سے ایک مرکب زبان کا چلن ہو گیا جو رابطہ کا کام دیتی تھی۔ یہ نہ فارسی تھی نہ قدیم ہندی۔ اس کو پہلے صوفیا نے اپنا وسیلہ اظہار بنایا۔ آگے چل کر یہ زبان ہندوی،کھڑی بولی یا اُردو کا نام دیا گیا۔ یہی اُردوزبان آج کی رائج زبان ہے۔

اس کتاب کے پیش آہنگ میں دانش ور ،ادیب اورشاعرپروفیسر سحر انصاری صاحب لکھتے ہیں کہ اُردو ایک مخلوط زبان ہے۔ اس کا تعلق زبانوں کے آریائی خاندان سے ہے اس میںہندی کے علاوہ عربی، فارسی، ترکی، پرتگالی، انگریزی اور فرنسیسی زبان کے الفاظ بھی دخیل الفاظ کے طور پر موجود ہیں۔ دیگر زبانوں سے اخذ و استفادے کا یہ عمل ہنوز جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔تاہم اُردو پر زیادہ فارسی زبان کا اثر ہوا ہے۔اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ ایک مدت تک سرکاری زبان فارسی رہی۔ علما بھی فارسی کو ذریعہ اظہار بناتے رہے۔ فارسی زبان میں شعر و ادب اور علوم و فنون کا خاصا ذخیرہ بر صغیر پاک و ہند کے ادیبوں اور مصنفوں کا مرہون منت ہے۔

صاحب کتاب ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ اُردو پاکستان کی قومی، برصغیر میں رابطے کی، اپنے بولنے والوں کے لحاظ سے عالم اسلام کی سب سے بڑی اور دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے۔ اس زبان کی تشکیل میں بہت سی بولیوں اور زبانوں کا حصہ ہے۔ برصغیر میں جنتی بھی قومیں آئیں وہ افغانستان اور ایران کے راستے آئیں۔برصغیر میں آریا سے لے کر مسلمانوں کے ساتھ آنے والی زبان، اصلاً فارسی تھی۔ آریہ کی مقدس کتاب وید کی زبان قدیم ایران کی مقدس اوستا کی زبان میں گہری مماثلت ہے۔ لہٰذا برصغیر کی چار ہزار برس کی تاریخ میںلسانی اعتبار سے فارسی کو برتری حاصل ہے۔ اُردو زبان کی تعمیر و تشکیل میں سب سے بڑا کام مختلف زمانوں کی فارسی کا ہے۔ مگر انگریز نے برصغیر پر اپنے تسلط قائم ہوتے ہی فارسی کی سرکاری حیثیت کو ختم کر دیا۔زبان جملہ علوم کی ماں ہے۔پاکستان میںاُردو قومی زبان نہ ہونے اور مقابلے کے امتحان انگریزی میں ہونے کی وجہ سے ملک کے ٩٤ فیصد بچے ترقی کی دھوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں چھ باب باندے ہیں۔ باب اول میں فارسی اُردو کے تاریخی روابط بیان کیے ہیں۔کیونکہ مسلمان جرنل محمد بن قاسم سندھ کے راستے برصغیر میں راجہ داہر کو شکست دے کر برصغیر میں داخل ہوئے تھے۔ لہٰذا عربی اور سندھ روابط ہوئے۔ مسلم افواج میںرومی،ایرانی،ہندی،اور دیگر اقوام کی زبان و ثقافت پر عربی اثرات پڑے۔ یہ زبانیں اُردو بن گئیں۔ایک روایت کی مطابق اُم المومنین حضرت عائشہ کا علاج ہندوستان کے ایک زط(جٹ) نے کیا تھا۔جو مسلمان ہو کر مدینہ میں بس گیا تھا۔حضرت علی کی ایک روجہ محترمہ خولہ حنفیہ سندھ کی تھیں۔ وہاں اہل ہند کی آمد رفت ہوتی تھی۔ باب دوم میں لسانی روابط میں لکھتے ہیں فارسی اور سنسکرت ہند آریائی خاندان سے تعلق رکھتیں ہیں۔اس لیے جدید فارسی اور اُردو کی اصل ایک ہی ہے۔

باب سوم میں دستوری(قواعد کے) روابط میں لکھتے ہیں کہ اُردو قواعد،فاسری قواعد کے زیر اثر مرتب ہوئی اور فارسی و نحو نے عربوں کی تقلید کی ہے۔ اُردو فاسری دونوں زبانیں ہند آریائی ہیں۔باب چہارم ادبی روابط میں لکھتے ہیں کہ اُردو شاعری فارسی کے زیر اثر پروان چڑھی۔اُردو انگریزی ادب کی خوشہ چینی کی۔ اُردو شاعری پر ہنددیت کااثر غالب تھا۔ اُردو شاعری کا آغاز صوفیائے کرام سے ہوا۔ امیر خسرو فارسی اور ہندی دونوں زبانوں کو ملا کر شعر کہتے تھے۔فارسی زبان کے الفاظ اُردو میں در آئے۔اُردو میں ہندی فارسی کے اثرات ملتے ہیں۔پاکستانی اُردو پر عربی وفارسی اور بھارتی اپردو پر سنسکرت کے اثرات زیادہ ہورت جا رہے ہیں۔باب پنجم میں امکانی روابط پر بات کی گئی ہے۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارا قومی مفاد اسی میں ہے کہ ہم غیر ملکی زبانوں کے حصول میں عربی اور فارسی کی طرف زیادہ توجہ دیں، کیوں کہ اُردو زبان کی تعمیر و تشکیل میں ان کا بڑا حصہ ہے۔مسلمانوں کی عربی، فارسی اور اُرود زبانیں ہیں ۔ اس لیے او آئی سی ملت اسلامیہ کے لسانی رابطے کی اہمیت کو محسوس کریں۔ان زبانوں کے لسانی روابط کو وسیع تر کریں۔باب ششم حرف آخرمیں لکھتے ہیں کہ برصغیر میں مسلمانوں کے عہد زریں کی یاد گار اُرود زبان ہے۔آریوں سے قبل زبان دراویدی تھی۔ پھر سنسکرت نے اس کی جگہ لے لی۔ہندوی رابطے کی زبان تھی آگے چل کر یہ ریختہ بنیاس کو ابو فضل نے زبانِ روزگار کہا۔ یورپی مورخین نے اسے ہندوستانی کے نام سے یاد کیا۔ یہ زبان اُردو معلی کے نام سے موسوم ہوئی اور بلا آخر یہ اُردو کہلاتی ہے۔

صاحبو! پروفیسر ڈاکٹر محمد عطا اللہ خان نیازی صاحب زیر تبصرہ”اُردو اور فارسی کے روابط” کتاب کے علاوہ” اُردو زرود نویسی”( شارٹ ہینڈ) کا ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے۔ پہلے انگریزی مختصر نویسی کی پیروی میں ،اُردو زبان کے رسم الخط کے بر خلاف بائیں سے دائیں کو لکھی جاتی تھی۔ اب ڈاکٹر صاحب نے اسے دائیں سے بائیں طرف لکھنا وضع کیاہے۔ زیر تبصرہ کتاب پر ڈاکٹر محمود الرحمان صاحب نے” اُردو کا ایک سپاہی” کہا ۔ جمیل الدین عالیٰ صاحب نے تحریفی کلمات کہے۔ ”ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب نے سنگلاخ چٹانیں کاٹنے والے کا خطاب دیا۔پروفیسر سحر انصاری صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے ”قابل تحسین ”کارنامہ سر انجام دیا۔ پروفیسر افتخار اجمل شاہین نے ڈاکٹر صاحب کی ادبی عملی اور تحقیقی خدمات پر” اُردو کا ایک خاموش سپاہی” کہا۔اس کے علاوہ مبین مرزا صاحب،سرور جاوید صاحب، پروفیسر انوار احمد زئی صاحب،پروفیسر جان علام صاحب،شہاب قدوائی صاحب نے اور نہ جانے کس کس نے ڈاکٹر صاحب کی اُردو کی خدمات پر تحریفی کلمات کیے۔ ہمارے ارباب اختیار گانے بجانے ، کھیل تماشے، خدا بیزار کیمونسٹوں اور سیکولر صحافیوں کو صدارتی ایوارڈ سے نوازتے رہتے ہیں۔ کیا پاکستان کی قومی زبان کی خدمات پر ڈاکٹر صاحب صدارتی انعام کے مستحق نہیں۔جواب ہے یقیناً ہیں۔ ارباب اقتدار کو ڈاکٹر صاحب جیسے خاموش سپاہیوں کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے۔

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
book Mir Afsar Aman pakistan Persian Research Translation Urdu work اردو پاکستان تحقیق ترجمہ فارسی کام کتاب
Nawaz Sharif
Previous Post نئے عزم کا مظاہرہ
Next Post انصاف کا ڈرامہ۔۔۔ کمزور نشانہ
Justice

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close