شبِ فرقت بہت رویا کریں گے
کبھی نہ چین سے سویا کریں گے
گزرتے تیرے گھر کے سامنے سے
دریچہ دیکھ کر رویا کریں گے
بہارِ جانفزاء میں ہم تو یارو
وفا کے زخم ہی بویا کریں گے
وہ جِن پر داغ ہے رسمِ جفا کا
وہ دامن عمر بھر دھویا کریں گے
سزائے وقت سے نِکلے تو ہم بھی
لحد میں چین سے سویا کریں گے
جہانِ رنگ و بو سے کٹ کے ساحل
کسی کی یاد میں کھویا کریں گے
تحریر : ساحل منیر
