
برج ٹاؤن (جیوڈیسک) ویسٹ انڈین کرکٹ میں نیا تنازع سر اٹھانے لگا، ون ڈے اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے پر ڈیوائن براوو، ڈیرن سیمی اور کیرون پولارڈ نے بورڈ کے خلاف قانونی کارروائی پر غور شروع کردیا، ان کے وکیل رالف تھورنے کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں کو دورۂ بھارت ادھورا چھوڑنے کی سزا دی جارہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ویسٹ انڈیز نے چند روز قبل جنوبی افریقہ کے خلاف محدود اوورز کے میچز کیلیے اسکواڈز کا اعلان کیا تھا۔ ون ڈے میں ڈیوائن براوو کی چھٹی کرتے ہوئے جیسن ہولڈر کو کپتان مقرر کیا گیاتھا جبکہ سابق کپتان ڈیرن سیمی اور ہارڈ ہٹر کیرون پولارڈ کی بھی چھٹی کردی گئی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں کو ٹوئنٹی 20 میں نہ صرف برقرار رکھا گیا بلکہ سیمی ہی بدستور کپتان ہوں گے، یہ تینوں کھلاڑی دورئہ بھارت کے دوران پلیئرز ایسوسی ایشن اور بورڈ سے جھگڑے میں پیش پیش تھے جبکہ براوو سب کی ترجمانی کے چکر میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئے تھے۔
ان تینوں کو اہم ترین سیریز میں نہ کھلانے سے ایک تاثر یہ مل رہا کہ یہ پلیئرز اب ورلڈ کپ میں بھی شاید ہی کھیل پائیں، دوسری جانب ٹیم کے دورہ ادھورا چھوڑکروطن پہنچنے پران تینوں کی پیروی کرنے والے وکیل رالف تھورنے کا دعویٰ ہے کہ ان کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
وہ اب بھی براوو کی وکالت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہترین کرکٹرز عام طور پرکیریئرکے آخری حصے میں مختصر فارمیٹ کی کرکٹ چھوڑ کر طویل طرز کے میچز میں حصہ لیتے ہیں مگر یہاں پر تو الٹی گنگا بہائی جارہی ہے، انھیں ون ڈے سے ڈراپ کرکے ٹوئنٹی 20 تک محدود کردیا گیا ہے اگرچہ ابھی تک مجھے براوو کی جانب سے کوئی ہدایت نہیں ملی لیکن ہم اس معاملے کو عدالت میں لے جانے پر غور کر رہے ہیں۔
