لاہور: پاکستان مسلم پنجاب کی اراکین صوبائی اسمبلی باسمہ ریاض چوہدری اور جائیدہ خان نے کہا کہ اغواء ، خواتین کے خلاف جرائم کے بعد پنجاب بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں بھی نمبر ون صوبہ کا درجہ حاصل کرچکا ہے ، گزشتہ سال ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1080 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں 870 واقعات صوبہ پنجاب میں ہوئے جو لمحہ فکریہ ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے چائیلڈ پروٹیکشن بیورو کا نیا نظام قائم کر کے بچوں کو تحفظ دیا اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر قانون کو حرکت میں لاکر ان جرائم کو روکا، یہی وجہ ہے کہ 2002 ء سے 2007 ء کے 5 سالوں میں بچوں کے ساتھ زیادتی واقعات نہ ہونے کے برابر تھے ،اراکین اسمبلی نے کہاکہ اس اہم ایشو پر پنجاب اسمبلی میں تحریک التوائے بھی جمع کرو ادی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے موجودہ حکمرانوں کی گڈ گورننس کا یہ عالم ہے کہ 6 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے وزیر اعظم سے لیکر وزیر اعلیٰ تک نے یقین دہانیاں کروائیں ڈیڈ لائینیں دیں مگر آج تک ملزمان نہیں پکڑے جاسکے ،پنجاب حکومت کی نااہلی اور کمزور ایڈمنسٹریشن کے باعث پنجاب خواتین ، بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک غیر محفوظ صوبہ ہونے کا درجہ حاصل کر چکا ہے، پنجاب میں گزشتہ سال اغواء کی 12 ہزار وارداتوں خواتین کے ساتھ زیادتی کے 400 سے زائد کیسز کے باعث نمبرون صوبہ رہا،اس حکومت کی نااہلی کے باعث پنجا ب آج بچوں کے خلاف جرائم میں بھی نمبر ون صوبہ ہونے کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔
