Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عالمی یوم انسداد بدعنوانی اور ملک کی بدعنوانیاں

December 9, 2017 0 1 min read
Corruption
 Corruption
Corruption

تحریر : ڈاکٹر سیّد احمد قادری
9دسمبر کی تاریخ دنیا کے ان تمام ممالک کے لئے بے حد اہمیت کی حامل ہے ، جہاں کرپشن عام ہے اور جس کے باعث ان ممالک کی ترقی، خوشحالی اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ کرپشن کی وجہ کر ایسے ممالک کی تعلیم، صحت، عدلیہ،جمہوریت، اور عوامی خوشحالی بہت شدت سے اثر انداز ہوتی ہے۔ان مسائل کے پیش نظر ہی اقوام متحدہ نے 31اکتوبر 2003ء کو ایک قرارداد کے ذریعہ ہر سال 9 دسمبر کی تاریخ کو انسداد بدعنوانی کا عالمی دن منانے فیصلہ کیا تھا ۔ جس کا مقصد بدعنوانی کے خلاف مہم چلا کر اس کے مضر اثرات کو لوگوں کے علم میں لا کر اس کے خاتمے کے لئے رائے عامہ ّ تیار کرنے کو ضروری قرار دیا گیا تھا ۔اس سلسلے میں اس بات کے خدشہ کا بھی اظہار کیا گیا تھاکہ بدعنوانی کا خاتمہ صرف قوانین بنانے سے نہیں ہوگا ، بلکہ معاشرے کے اندر کرپشن سے ہونے والے نقصانات سے منظم اور منصوبہ بند مہم کے ذریعہ ہی ہر فرد کو اس کی ذمہّ داری کا احساس کرانے اشد ضرورت ہے۔اس لئے کہ کرپشن ایک ایسا گھن ہے ، جو بڑھتے بڑھتے نہ صرف سماج اور قوم کو بلکہ پورے ملک کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے ۔ نظر اٹھا کر دیکھئے ، جن ممالک میں بھی معاشی کرپشن کی زیادتی ہوئی ، اس نے پورے ملک کو کھوکھلا ، کمزور اور بے وقعت کردیا ہے ۔اس صورت حال کو جاننے کے لئے ، بس ہر سال مختلف اداروں کے ذریعہ جاری ہونے والے سروے ہی پر ایک نظر ڈال لیں ، تو اندازہ ہو جائے گا کہ کرپشن سے شائد ہی کوئی ملک بچا ہے۔ اس سلسلے میں ہم ایک طائرانہ نظر World Democracy Audit کی رپورٹ پرڈالیں ،تو 2016 اور 2017 کی ا س رپورٹ میں 154 ممالک کا نام ہے۔ان دو برسوں میں بہت زیادہ نمایاں فرق نطر نہیں آتا ہے۔ ان میں چند اہم ممالک کے نام جان کر حیرت بھی ہوتی ہے، مثلاََ دنمارک،نیوزی لیند، سویڈن، نوروے،کناڈا،جرمنی،یو کے، آسٹریلیا،یو ایس، جاپان،فرانس،متحدہ عرب امارات،وغیرہ سے لے کر سومالیاتک کا اس فہرست میں نام ہے ۔ اس سروے کے مطابق ہمارے ملک انڈیا، کا رینک جہاں 2016 میں 62 تھا، وہیں 2017 میں 52 پر پہنچ گیا ۔ اب ایسی حالت میں عالمی سطح کے کرپشن کا جائزہ لینے کی بجائے ، اپنے ہی ملک کے معاشی کرپشن کا جائزہ لینا مناسب ہوگا۔ کرپشن کے معاملے میں2016 اور2017 میںہمارا ملک کہاں کھڑا ہے ،یہ ہم دیکھ چکے۔ اب ایک نظر Transperancy international corruption perception index پر بھی ڈالتے ہیں ،تو ہم دیکھتے ہیں کہ 2013ء میں انڈیا جہاں کرپشن کے معاملے میں 175 ممالک کے درمیان 94ویں پوزیشن پر تھا ، وہیں 2015 ء میں ہمارے ملک کا کرپشن ترقی پا کر 85 ویں پائدان پر آ گیا ۔ اسی ادارہ کا ایک دوسراسروے بھی ہمارے ملک کے لئے افسوسناک ہے کہ بھارت میں 2005ء میں 62 فی صد سے زائد لوگ ملازمت حاصل کرنے یا حکومت وقت سے مراعات حاصل کرنے کے لئے رشوت دیتے ہیں ۔ لیکن 2008ء میں یہ گھٹ کر 40 فی صد پر آ گیا۔

ہم اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ ملک کی موجودہ صورت حال اس امر کو تقویت بخشتا ہے کہ سیاست اور کرپشن کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ انگریزی کے مشہور تاریخ داں لارڈ ایکٹن (1834-1902) نے موجودہ حالات کی پیشن گوئی کرتے ہوئے کبھی لکھا تھا کہ اقتدار ، کرپٹ کرتی ہے اور بے کراں اقتدار لا محدود طور پر بد عنوان کرتی ہے ۔ لارڈ ایکٹن کا یہ جملہ ایک زمانے میںکافی مشہور ہوا تھا ۔ عصری تناظر میں اس کی معنویت اس لئے بڑھ جاتی ہے کہ جہاں جہاں اقتدار حاصل کرنے کے لئے جوڑ توڑ کو راہ دی جاتی ہے ، وہاں وہاں کرپشن کی زیادتی ہوتی جاتی ہے ۔ اپنے ملک میں آزادی کے بعد جو سب سے پہلا کرپشن کا معاملہ سامنے آیا تھا ، وہ 1948 ء میں فوجی جیپ اسکینڈل تھا ۔ جس میں اس وقت کے ہندوستانی ہائی کمشنر برائے برطانیہ وی کے کرشنا مینن کا نام سامنے آیا تھا ۔ جن پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے پروٹوکول کو نظر انداز کرتے ہوئے 80 لاکھ روپئے کے 200 فوجی جیپ کے لئے غیر ملکی فرم سے معاہدہ کیا تھا ۔ اس اسکینڈل کی جانچ کے لئے انتھ سوئنم آئینگر کمیٹی بنائی گئی تھی ۔ جس میں پوری جانچ کے بعد کرشنا مینن کو بے قصور پایا گیا تھا ۔ اس لئے اس رپورٹ کے آ نے کے بعد وزیر داخلہ وقت گووند ولبھ نے اس کیس کی فائل کو بند کر دیا تھا ۔ بعد میں یہی کرشنا مینن، پندت نہرو کی حکومت میں وزیر دفاع بھی بنائے گئے ۔ آزادیٔ ہند کے بعد ، اس پہلے بد عنوانی کے معاملے کے بعد 1951 ء میں سائکل اسکیم سامنے آیا ۔ 1956 ء میں بد عنوانی کا ایک اور معاملہ منظر عام پر آیا تھا ۔ جو بنارس ہندو یونیورسٹی غبن کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ بد عنوانی کے اس بڑے معاملہ کے بعد تو ملک کے اندر کرپشن کو جیسے رفتار مل گئی ہو اور مالی منعفت کے لئے سیاست دانوں میں جیسے مقابلہ شروع ہو گیا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کرپشن کے حمام میں بیشتر سیاسی جماعتوں کے رہنما ننگے ہوتے چلے گئے۔

چونکہ کانگریس ملک کی بڑی اور اقتدار میں کافی عرصہ تک رہنے والی پارٹی تھی ۔ اس لئے اس پر کرپشن کے زیادہ الزامات عائد ہوئے ۔ اس سلسلے میں سکھ رام ، شنکر سنگھ واگھیلا ، جگن ناتھ مشرا، سریش کلماڑی، شیلا دکشت، ویر بھدر سنگھ، اشوک گہلوٹ، چھگن بھجول ، اور رشید مسعود وغیرہ جیسے کانگریسی رہنماؤں کے نام بدعنوانیوں کے معاملے میں کافی مشہور ہوئے ۔ ان لوگوں میں سے بیشتر رہنماؤں نے اقتدار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بدعنوانی کو عروج پر پہنچا دیا ۔ جس کے اثرات بہر حال ملک کی دوسری برسراقتدارسیاسی جماعتوں پر بھی پڑے اور سماج وادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل ، بہوجن سماج پارٹی، ڈی ایم کے ، انّا ڈی ایم ، تیلگو دیشم ،ترنمول کانگریس وغیرہ کے رہنما ؤں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ تم نے جو کام اتنے طویل عرصہ میں کیا ، وہ ہم محدود وقت میں کرنے کے اہل ہیں ۔ اس ضمن میں جئے للتا ( اے ڈی ایم کے )، ٹی ایم سیلواگنپتی( اے آئی ڈی ایم کے) ، اے راجا، دیا ندھی مارن، کروناندھی ( ڈی ایم کے ) ، ببن راؤ گھولپ، سریش جین (شیو سینا) وائی ایس جگموہن ریڈی((وائی ایس آر کانگریس پارٹی) ریوندر ریڈی( تیلگو دیشم) ، لالو پرساد( راجد)، ملائم سنگھ یادو (سپا) ، جارج فرنانڈیس، جگدیش شرما( جدیو)، شرد پوار( راشٹروادی کانگریس) ، مایاوتی(بسپا) ، اوم پرکاش چوٹالہ( انڈین لوک دل) ، کنال گھوش، مدن مشرا،مکل رائے( ترنمول کانگریس) ، رام چندر ہانسدا(بیجو جنتا دل) ، شیبو سورین(جھا مو)اور مدھو کوڑا(آزاد) کے ساتھ ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سریش ہلوانکر، بنگارو لکشمن ، یودی رپّا،سشما سوراج،وسندھرا راجے سندھیا وغیرہ پر نہ صرف کرپشن کے الزامات لگے ، بلکہ ان میں سے بیشتر لوگوں کو حکومت اور اقتدار سے برطرف کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کے تحت جیل بھی بھیجا گیا ۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی یو پی اے حکومت یا اس سے قبل کی حکومت میں جتنے بھی بڑے گھوٹالے طشت از بام ہوئے ۔ ان تمام معاملات میں کبھی بھی ہٹ دھرمی کا ثبوت نہیں دیا گیا ، بلکہ حکومت پشیماں ہوئی اور حزب اختلاف کی تنقید کے جواب میں اپنی پارٹی اور حکومت کے شفاف امیج کو بچانے کے لئے ثبوت فراہم ہوتے ہی اپنے سینئیر سے سینیئر کابینہ وزیر تک کو نہ صرف برطرف کیا بلکہ ان کے خلاف سخت سے سخت تادیبی کاروائی کرنے میں تاخیر نہیںکی گئی۔اس سلسلے میں میرا خیال ہے کہ منموہن سنگھ کی حکومت کا یہی اعتراف جرم ، ان کی حکومت کے زوال کا باعث بنا ۔ بد عنوان وزرأ کی برطرفی ، جیل کی سزا سے ملک کے عوام کے درمیان یہ تاثر قائم ہوا کہ یو پی اے حکومت میں بد عنوانیاں بہت زیادہ ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی تما م بہتر کارکردگیوں کے باوجود یو پی اے حکومت اعتمادکھوتی چلی گئی ، اور اس کے حصے میں کرپشن اور مہنگائی کی رسوائیاں وبدنامیاں جگہ بناتی چلی گئیں ۔ جس کا فائدہ حزب اختلاف نے اٹھاتے ہوئے ، ملک کے عوام کے درمیان یہ تاثر دیا کہ ملک کو بدعنوانیوں کے دیمک سے بچانا ہے تو اس حکومت سے نجات حاصل کرو ۔ ساتھ ہی ساتھ ایسے وعدے اور دعوے کئے گئے کہ کانگریس حکومت میں ہوئی کالی کمائی جو سوئیس بینک اورغیر ممالک کے دیگر بینکوں میں رکھی گئی ہے ، اس کی بس چند ماہ میں واپسی ہوگی ، مہنگائی پر روک لگے گی وغیرہ وغیرہ ۔ انّا ہزارے،اروند کیجریوال اور کرن بیدی وغیرہ نے بھی ایسا ماحول بنانے میں بے شک اہم رول ادا کیا اور کرپشن کے خلاف نہ صرف نعرے دئے ، بلکہ احتجاج بھی خوب کئے۔ ”نہ کھائینگے…نہ کھانے دینگے” جیسا نعرہ بھی لوگوں کو بڑا دلفریب لگا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے نعروں اور وعدوں پر یقین کرتے ہوئے ہندوستان کے عوام نے اپنی بھرپور جمہوری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت بدل ڈالی ،اس توقع پرکہ نئی حکومت، نئے جوش و خروش کے ساتھ ملک سے کرپشن کو دور کرے گی اور ایسا ہوتا ہے تو پھر ملک ایک نئے اور مثبت ماحول سے آشنا ہوگا اور ”سب کا ساتھ …سب کا وکاس ” کا نعرہ شرمندۂ تعبیر ہوگا ۔

لیکن افسوس کہ ملک کے عوام اس وقت حیرت زدہ رہ گئے ، جب ایک سال کے اندر ہی مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات، چھتیس گڑھ اورمہاراشٹر کی حکومتوں نے کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دئے ۔ للت مودی گیٹ گھوٹالہ، جس میں مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج اور راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا پر کرپشن کے بڑے الزامات لگے ۔ گجرات مچھلی پروری میں چار سؤ کروڑ روپئے کے گھوٹالہ کا وہاں کے وزیر پرشوتم سولنکی پر الزام عائد کیا گیا ہے ۔ مہاراشٹر کی وزیر پنکجا منڈے کا گھوٹالہ ، دوسؤ چھہ کروڑ کا چکی اور ایک دوسراگھوٹالہ ، ہزاروں کروڑ کا رمن گھوٹالہ ، پانچ سؤ کروڑ کا چیپس گھوٹالہ ، تاوڑے کا کروڑوں کا گھوٹالہ یعنی گھوٹالہ ہی گھوٹالہ ۔ اتنے سارے گھوٹالوں میں گجرات کے ہیرہ تاجر لال جی بھائی کا گھوٹالہ ۔ جنھوں نے نریندر مودی کا متنازعہ دس لاکھ کا سوٹ نیلام میں چار کروڑ اکتیس لاکھ میں سب سے بڑی بولی لگا کر حاصل کیا ۔ اس محبت کا صلہ انھیں یہ ملا کہ گجرات کے سورت مہانگر نگم پالیکا کے ذریعہ اکوائر کی گئی ان کی 54 کروڑ کی اسپورٹس کلب کی زمین واپس کر دی گئی ۔ گجرات میں CAG نے پنچائیتی راج نگر پالیکا اور نگر نگم سے متعلق اپنی آڈٹ رپورٹ میں گجرات کی سابق وزیر اعلیٰ آنندی بین پٹیل پر مرکز کے 800 کروڑ روپئے کا حساب کتاب نہیں رکھنے کی شکایت کی تھی ، اسی گجرات میں اجے شاہ نے تو ایسا ریکارڈ بنایاہے، جو عالمی ریکارڈبن گیا ہے ، اور مدھیہ پردیش کے ہزاروں کروڑ کے ویاپم گھاٹالہ اور اس گھوٹالہ پر پردہ ڈالنے کے لئے 43 اموات نے تو پورے ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک کو بھی سکتے میں ڈال دیا ہے ۔ ملک کے اندر عوامی سطح پر اور پارلیامنٹ میں عوامی نمائندوں کے ذریعہ ان بدعنوانیوں کے خلاف جو احتجاج اور شور و ہنگامے ہوئے ، وہ تو ہوئے ہی ۔ امریکہ کے” دی نیو یارک ٹائمز ”نے اس ویاپم گھوٹالہ کے سلسلے میں بہت ساری باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ ” بھارت میں کرپشن کس قدر یہاں کی سیاست میں گھل مل گیا ہے ، ویاپم گھوٹالہ اس کی ایک گھناؤنی مثال ہے ۔یہ سارے گھوٹالے بھارت کے ان رائے دہندگان کو بہت مایوس کرتا ہے، جنھوں نے نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس توقع کے ساتھ اقتدار سونپی تھی کہ مودی دیش کوکرپشن سے پاک کر دینگے ۔” لیکن ویاپم گھوٹالہ ، للت گیٹ اسکینڈل، اجئے شاہ گھوٹالہ جس طرح ہوڑ لگاتے ہوئے سامنے آئے ، یہ سارے گھوٹالے یا کرپشن ان ریاستوں میں ہوئے ہیں ، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں ہے اور مودی ان سبھی معاملوں میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔یہ سب ایک غیر ملکی اخبار کا ایسا تبصرہ ہے ، جس سے ہمارے ملک کا امیج یقینی طور پر مسخ ہو اہے ۔

ابھی حال ہی میں فوربس کا Transparancy Internationalکے سروے کے تحت جو رپورٹ منظر عام پر آئی ہے ، وہ حد درجہ مایوس کن ہے ۔ فوربس کے مطابق ایشیا میں انڈیا سب سے زیادہ کرپٹ ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکول، اسپتال،پولیس اور دیگر سرکاری امور کے دفاتر میں کرپشن بہت زیادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مارچ 2017 ء میں جاری سروے رپورٹ کے مطابق 168 کرپٹ ممالک میں بھارت 76ویں پوزیشن پر ہے۔ پناما لیکس، وکی لیکس، اور پیراڈائز پیپر کے معاملے بھی حکومت نے سرد خانے میں ڈال دئے ہیں ، اور انتہا تو یہ ہے کہ بی جے پی کی حکومت میں شامل شیو سینا نے تو باضابطہ بی جے پی کے لیڈروں کی تصویر اور تفصیل کے ساتھ 56 صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ” گھوٹا لے باز بھاجپ ” کے نام سے ہی شائع کرا دیا ہے۔ شیو سینا نے تو کرپشن کے معاملے میں مودی اور شاہ تک کو نہیں بخشا ہے ۔ ابھی ابھی نریندر مودی کے گجرات میں وزیر اعلیٰ کے رہتے ہوئے 2005ء میں گجرات اسٹیٹ پیٹرولیم کارپوریشن کا بیس ہزار کروڑ روپئے کے گھوٹالے کا الزام کا کافی چرچہ میںہے کہ یہ گھوٹالہ ٹوجی اسپیکٹرم اور کوئلہ گھوٹالہ سے بھی بڑا گھوٹالہ ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس کے لیڈر جئے رام رمیش نے سیدھے وزیر اعظم کو ہی مورد الزام قرار دیا ہے۔ راہل گاندھی اور اروند کیجریوال پہلے بھی مودی کو برلا اور سہارا کے معاملے میں ملوث کرتے ہوئے 65 کروڑ رشوت لینے کا الزام لگا چکے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ ان الزامات کا اب تک کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا گیا ۔

اب ایسے حالت میں آج کی یہ 9 دسمبر کی تاریخ نہ صرف سماجی معیشت کے لئے بلکہ ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کافی اہم ہے کہ اگر حکومت، ملک کے اندر بہت تیزی سے پھیل رہی بدعنوانیوں کے انسداد پر مثبت رویہ اختیار کرتی ہے ، تو بہت ممکن ہے کہ کرپشن کے سلسلے میں ہر سال جاری ہونے والی مختلف فہرستوں میں ہمارے ملک کا نام ڈھوندنے سے بھی نہ ملے اور ہم فخریہ اس بات کا اعلان کر سکیں کہ ہمارا ملک بدعنوانیوں سے پاک ہے ۔ کاش ایسا ہو۔

Dr Syed Ahmad Quadri
Dr Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سیّد احمد قادری رابطہ: 9934839110

Share this:
Tags:
corruption country History World Day تاریخ عالمی یوم کرپشن ملک
Imran Khan
Previous Post ماڈل ٹاؤن جیسے واقعات پر چپ رہے تو ایسے ظلم ہوتے رہیں گے، عمران خان
Next Post انسانی حقوق کا عالمی دن اور ہمارا معاشرہ
Human Rights World Day

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close