
کبھی دیکھا ہے کہ وہ ماں جایا نہ ہو لیکن اس کی آہ پے پورا ملک سوگوار ہو جائے کبھی دیکھا کہ سیاسی محاذ آرائی عروج پے ہو اور حریف کے گرتے ہی جیت کے واضح امکان ہوں اور جلسے ہی منسوخ کر دیے جائیں کبھی دیکھا ہے اختلاف کے باوجود اس بیٹے کے حادثے کی خبر نشر ہو اوردرود پاک کا ورد ہر سمت سے گونجتا سنائی دے نوافل کی ادائیگی ہو اور دعا ہر لب پے ہو ہر آنکھ اشکبار اور ہر ہاتھ دعاگو ہے ایسے مناظر ان لوگوں کیلیئے قدرت وقف کر دیتی ہے جو رہنا چاہیں تو عالیشان محلوں میں رہ سکتے ہیں لیکن کروڑوں لوگوں کی کسمپرسی اور آہ وزاری ان کی زندگی کو تعیشات سے نکال کر گلی گلی پھرنے پے مجبور کر دیتی ہے تا کہ ان لوگوں کی زندگی کو بدلا کیسے جا سکتا ہے۔
یہ فلسفہ یہ پیغام ان لوگوں کو سمجھایا جا سکے وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ اس لئے کہ وہ اللہ کے نزدیک ہو کر انسان اور انسانیت کا سبق پڑھ چکے بہت ڈر تھا بہت خدشہ تھا کہ 2013 کے الیکشن کے خونیں مہم عروج پر ہے کہیں کوئی ایسا ویسا حادثہ رونما ہو جائے کہ پاکستان 1947 کی طرح قیام میں آکر کچھ عرصہ بعد ہی یتیم ہو جائے لوگ تو عمران خان کی کامیابی کی دعا کرتے تھے میں خاموش لب سیئے خاموش لبوں سے رب کے حضور دن رات اس مردِ مجاہد کی سلامتی اور صحت کی دعا کرتی رہی لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔
آج مِورخہ 7 مئی بروز منگل وہ منظر جو انتہائی تکلیف دہ تھا جس کو میں نہیں دیکھ سکی کیونکہ میرے ہاں مدرز ڈے پروگرام کی وجہ سے یورپ سے آئی ہوئی خواتین ٹہری ہوئی تھیں آج آخری مہمان کو ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہی تھی کہ موبائل پے میسجز آنا شروع لیکن محبتیں اور وہ بھی عمران خان سے وہ آج اس دیوانگی سے دیکھیں کہ ائیر پورٹ جاتے ہوئے راستے بھر میں میسجز ہی میسجز ملتے رہے سوچا تھا کہ واپسی پر آکر مدرز ڈے کی تاریخی کامیابی پے آرٹیکل لکھوں گی یورپ بھر سے آئی ہوئی خواتین کا شکریہ ادا کروں گی لیکن اپنے پیارے قائد کی حالت دیکھ کر دل یوں اداس اور پریشان ہے کہ سب کچھ بھول گیا عمران خان کی زخمی صورت نہ تو دل سے ہٹ رہی ہے نہ نگاہوں سے یہ انسان جس نے زندگی کی ہر خوشی کو ایک مقصد دے دیا۔

جس نے قائد کی طرح اپنی ہنستی کھیلتی ازدواجی زندگی کو کو ختم کر دیا صرف اس لئے کہ وہ سمجھ چکا تھا کہ رب کریم نے کروڑوں لوگوں کی بھلائی کیلیئے اس کو چن لیا ہے اور بڑے احسن طریقے سے اپنی سابقی بیوی کو رخصت کیا جو ایک الگ مثال ہے بلند نگاہ بلند سوچ کا حامل یہ بین القوامی سوچ رکھنے والا انسان انسان نہیں مسیحا ہے مسیحا آج خود زخمی ہے نڈھال ہے زخموں سے چور چور ہے لہولہان ہے لیکن
میرے پیارے ہم وطنو
ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وِکدے
نہ ہی یہ خون اتنا ارزاں ہے کہ اسکو یوں بہنے دیا جائے اس خون کے قطرے قطرے کی قیمت ہم سب کو معلوم ہے وقت کڑا ہے بڑے حوصلے بڑے صبر سے بڑے وقار سے اپنے قائد کے نقش قدم پے چلتے ہوئے اس وقت اشتعال میں آئے بغیر رب کریم کی اس میں بھی کوئی بہتری سمجھ کر صرف اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوں۔
اس قیمتی انسان کی جان کی سلامتی مانگیں کمر میں لگی چوٹ اور گردن میں لگا پیڈ مجھے وسوسوں میں الجھا رہا ہے ذہن کو سوچ کو پریشان کر رہا ہے لیکن یاد رکھیں قدرت کے فیصلے اٹل ہیں سوائے ان کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے ہمارے پاس چارہ کوئی نہیں ڈاکٹرز کے مطابق وہ مکمل صحتیاب ہیں آج وہ لیڈر گرا ہے جو کل تک گرے ہوئے لوگوں کو اٹھنا سکھا رہا تھا جو کل تک پستی کے گہرے گڑہوں میں گرے ہوئے لوگوں کو باہر نکال کر کل کا روشن پاکستان دکھا رہا تھا وہ جو کل کا قائد تھا وہ جو کل کا مسیحا تھا
اے میرے پیارے لوگو
آج اس قائد کو اپنی دعاں سے اپنی التجاں سے اپنے رب سے مانگ لو اس انسان کی صرف اس کی بہنوں کو ضرورت نہیں اس انسان کی ضرورت اس ملک میں ایک ایک فاقہ زدہ ماں کو ہے وہ ان کی دعاں میں ہے۔

اس قیمتی انسان کی ضرورت ہر اس دکھیاری بہن کو ہے جس کی ردا سر سے بھرے بازار کھینچ لی جاتی تھی اس انسان کی ضرورت اس نوجوان کو ہے جو اس انسان کا اصل فخر ہے جس کو اس نے منشیات سے بچا کر خواب آور ادویات کی لت سے آزاد کروا کر اندھیرے کمروں سے نکال کر آسمان پے امید کا چمکتا سورج دکھا کر باہر نکالا ہے یہ امید ہے ان بوڑھے بے بس ہاتھوں کی جن کو بڑہاپے میں اولڈ ہوم نہیں جانا بلکہ بہترین معیشت کے حامل ملک پاکستان میں کسی یورپی بوڑھے کی طرح پرسکون بڑہاپا گزارنا ہے میرے عزیز ہم وطنو جھک جا سجدوں میں مساجد کا رخ کرو اپنے اللہ سے رب ذوالجلال سے مانگ لو دعاں کی طاقت سے آسمان کے بند دروازے کھلوا کے اس قیمتی جان کو بچا لو اللہ پاک سے دعا کرو کہ اے میرے مالک اس ملک کو دوبارہ یتیم نہ کرنا۔
یا اللہ صحتمند تندرست قائد کو سلامتی والی زندگی عطا کرنا کہ یوں تو ہزاروں ماں کے جگر گوشے بغیر وجہ کے ہر روز شہید کر دیے جاتے ہیں لیکن یہ جوان یہ انسان ان ماں کے درد کا درماں ہے یہ ان ماں کے بیٹوں کے بعد ایس اپاکستان تشکیل دینے والا ہے کہ پھر کسی ماں کے بیٹے کو یوں بلا جواز نہ مارا جا سکے پاکستانیو!! سایسی سماجی فگروہی اختلاف بھلا کر اپنے رب سے اس عظیم سپوت کی سلامتی صحت مانگو کہ یہ صرف سیاستدان نہیں یہ ہمارا بھائی ہمارا بیٹا ہمارا سرپرست ہے جو پاکستان جیسے گھر کو سجانا چاہتا ہے بنانا چاہتا ہے مضبوط بلند و بالا کرنا چاہتا ہے اے ہمارے پاک رب ہمارے عمران خان کو مکمل جسمانی صحت اور سلامتی عطا کرنا آمین۔
تحریر : بانومیر
