Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یعقوب میمن کی پھانسی میں اتنی عجلت

July 25, 2015 0 1 min read
Yakub Memon Hanging
Yakub Memon
Yakub Memon

تحریر: عابد انور
مسلمانوں کے خلاف بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں کس قدر تعصب، امتیاز، نفرت، غصہ اور ذلیل کرنے کا جذبہ موجزن ہے اس کا اندازہ یعقوب میمن کی پھانسی کی تاریخ طے کرنے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جب کہ یعقوب میمن کیوریٹو (Curative) پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھی اس کے باوجود حکومت مہاراشٹر کا پھانسی کی تاریخ کافیصلہ کرنا اور ڈیٹھ وارنٹ جاری ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس طبقے کو مسلمانوں کو کتنی نفرت ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا آنے والا تھا۔ اگر نہیں معلوم ہے تو پھر یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا کیسے طے کی گئی تھی۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے اور سپریم کورٹ میں بھی مداخلت کے مترادف ہے۔ کیا اس پر سپریم کورٹ کوئی ایکشن لے گی یا بی جے پی حکومت کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے یعقوب میمن کو پھانسی پر لٹکانے کی سزا برقرار رکھے گی؟۔ آخر حکومت مہاراشٹر کو اتنی جلد کیوں ہے کیا پھانسی دینے کے لئے صرف یعقوب میمن ہی بچا ہے۔ پھانسی کی سزا پانے والوں کی قطار ختم ہوگئی ہے۔ افضل گرو کے معاملے میں بھی بی جے پی نے اسی طرح کا شور مچایا تھا اور اس وقت کے بی جے پی کے صدر اور موجودہ مرکزی نتن گڈکری نے افضل گرو کو کانگریس کے داماد ہونے کاتک طعنہ دیا تھا۔اس کے بعد کانگریسی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ افضل گرو کو پھانسی پر لٹکا دیا اور اس کی خبر اس کے اہلہ خانہ تک کو نہیں دی۔

قانون ماہرین نے اسے انصاف کا قتل قرار دیا تھا۔ کیوں کہ سپریم کورٹ نے قرائنی شہادت (جن بھاونا جن چیتنا) کی بنیاد پر پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان میںاب بیشتر فیصلے قرائنی بنیاد پر ہونے لگے ہیں۔ گزشتہ دنوں گڈفرائی ڈے کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے سپریم کورٹ کے ججوں اور چیف جسٹس کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ججوں کو چاہئے کہ فیصلہ کرتے وقت عوام کے جذبات کا لحاظ کریں ۔ عوامی جذبات کیا ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس کا مظاہرہ امت شاہ کی کلین چٹ سے شروع ہوا تھا اور گجرات فسادات کے ملزمین اور عشرت جہاں، سہراب الدین پرجاپتی انکاؤنٹر کے خاطئیوں کو ایک ایک کرکے یا تو بری کردیا گیا پھر انہیں ضمانت دے دی گئی ہے۔ یہی نہیں گجرات کے موداسا دھماکے کے بھگوا دہشت گردوں کو صاف شفاف قرار دیتے ہوئے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے اس دھماکے کیس کو بند کردیا۔ کیوں کہ اس میں مبینہ طور پر بھگوا دہشت گردی ملوث تھی۔ اسی طرح اس ایجنسی نے جس طرح مالیگاؤں دھماکے خاطیوں کے تئیں نرمی برتے جانے کے لئے روہنی سالین پر دباؤ ڈالا تھا وہ بھی جگ ظاہر ہے۔ اس کیس سے روہنی سالین کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اس نتیجہ بھی جلد سامنے آجائے گا۔ اسی طر ح اجمیر دھماکے کے گواہان جس طرح منحرف ہورہے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاںکا عدالتی نظام عوامی خواہشات کا کس قدر احترام کر رہاہے۔مودی کی میعاد تک بہت ممکن ہے کہ بھگوا دہشت گردی کے سارے کیس بند کردئے جائیں یا پھر کچھ بے قصور مسلمانوں کو اس میں گرفتار کرلیا جائے۔ کسی بھی ملزم کے حق میں کس طرح حالات کو خراب کیا جاتا ہے اوراستغاثہ اپنے حق میں عوامی رائے عامہ کو کس طرح ہموار کرتا ہے وہ اجول نکم کی جھوٹ سے سامنے آگیا ہے جس میں اجمل قصاب کے بارے میں پہلے جھوٹی خبر پھیلائی کہ وہ بریانی طلب کر رہا ہے۔جب کہ اجول نکم نے گزشتہ دنوں میں یہ اعتراف کیا کہ وہ بریانی والی بات جھوٹی ہے جب کہ ایک پارٹی نے اس جھوٹ کے سہارے برسراقتدار آئی۔ یہ ان ذہنوں کا استعارہ ہے جس کی پرورش سنگھ پریوار نے کی ہے۔

Yakub Memon,Mumbai Blasts
Yakub Memon,Mumbai Blasts

کسی کوناحق سزا دینے کے لئے ”دام، سام ، ڈنڈ بھید” اپنائے جانے کی بات ساشتروں سے ماخوذ ہے۔ اس طبقے کو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا اسی نظریہ سے متاثر نظر آتا ہے۔سزا دینے سے پہلے حالات اور احوال کو کوائف پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ اگر مجرم کوئی ہے تواسے سزا ہونی چاہئے لیکن کا جرم کا پیمانہ مذہب نہیں ہونا چاہیئے۔ ممبئی دھماکے میں 257افراد مارے گئے تھے اور 250کروڑ روپے کا نقصان ہوا جب کہ ممبئی فسادات میں 2500افراد کو قتل کیا گیا تھا اور 2500 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا تھا لیکن فساد انجام دینے والے، قتل کرنے والے اور مسلمانوں کا مال و متاع اور عزت و آبرو لوٹنے والوں کو کوئی سزا نہیں ہوئی۔ آخر کیوں نہیں ہوئی ہے یہ سوال ہندوستانی جمہوریت سے سارے ستون سے پوچھے جانے چاہئے اور سارے ستون کو اس کا جواب دینا چاہئے۔

یعقوب میمن کو حکومت مہاراشٹر نے30 جولائی کو پھانسی دینے کی تاریخ مقرر کی ہے اور اس کے 22لاکھ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔مشہور وکیل اور راجیہ سبھا کے رکن مجید میمن نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس عرضی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہو اس کی پھانسی کی سزا کی تاریخ طے کرنا مضحکہ خیز ہے اور اس سے حکومت کی نیت کا پتہ چلتا ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے ۔ سب کے سامنے سوال یہی ہے کہ آخر اتنی جلد کی کیا ضرورت ہے۔ کیا مرکزی حکومت اس کا فائدہ بہار اسمبلی انتخابات میں اٹھانا چاہتی ہے۔ یا شدت پسند ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتی ہے کہ دیکھو حکومت میں آنے کے باوجود اس کے نظریات اور خیالات کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ خاکی نیکر پر دھبہ نہیں لگنے دیں گے۔ٹاڈا کورٹ کے جج پی کوڈے نے جب یعقوب میمن کو سازش رچنے کے لئے سزائے موت دی تھی تو ان کے فیصلے نے یعقوب کے وکیل ستیش کانسے سمیت کئی لوگوں کو حیران کر دیا تھا۔کچھ سال پہلے کانسے نے ریڈف ڈاٹ کام کی شیلا بھٹ کو بتایا تھا، ”یعقوب نے کبھی پاکستان میں فوجی تربیت نہیں لی”۔ انہوں نے کوئی بم یا آر ڈی ایکس نہیں لگایا تھا، نہ ہی ہتھیار لانے میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔جن لوگوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، وہ ان خطرناک سرگرمیوں میں سے کسی نہ کسی طرح سے شامل تھے۔ یعقوب کے خلاف ان میں سے کسی بھی معاملے میں الزام نہیں تھے۔

مشہور صحافی مسٹر جگن ناتھن نے ”فرسٹ پوسٹ ڈاٹ کام” میں اپنے ایک مضمون میں مضبوط دلیل دی ہے کہ کیوں حکومت کو یعقوب مینن کو پھانسی نہیں دینی چاہیے.وہ دلیل دیتے ہیں کہ راجیو گاندھی اور پنجاب کے وزیر اعلی بیت سنگھ کے قتل کے مقدمات میں جنہیں پھانسی دی جانی تھی، انہیں ابھی تک پھانسی پر نہیں لٹکایا گیا ہے۔تمل ناڈو اسمبلی کی رحم اپیل کے بعد راجیو کے قتل کرنے والے ستھن، مرگن اور پیرارکولن کی پھانسی کی سزا کو کم کر دی گئی تھی۔بینت سنگھ کے قاتل بلونت سنگھ راجاونا اور بھلر نے بڑے فخر سے اپنا جرم قبول کیا تھا اور انہوں نے خود کو پھانسی دئے جانے کی مانگ کی تھی۔لیکن انہیں ابھی تک زندہ رکھا گیا ہے۔ شاید اس کی وجہ پنجاب اسمبلی کی کوششیں ہیں۔جگن ناتھن نے لکھا ہے،”ایک چیز سب کو صاف نظر آتی ہے۔ جہاں ایک سزایافتہ قاتل یا شدت پسند کے پاس مضبوط سیاسی حمایت ہوتی ہے وہاں نہ تو حکومت اور نہ ہی عدالت منصفانہ انصاف دینے کی ہمت کرپاتی ہے”۔ اب دیکھئے، جب قاتلوں کی مختلف قسم کا معاملہ آتا ہے جیسے اجمل قصاب، افضل گرو اور اب یعقوب میمن، تو کیسے وہی مرکزی حکومت، ریاستی حکومتیں اور عدالتیں ”قانون کا احترام” کرنے میں دلچسپی لینے لگتی ہیں۔جگن ناتھن کے مطابق، ”پھانسی پر لٹکائے جانے والے مسلمانوں میں اور ایک بات ہے۔ ان سب کے پاس سیاسی حمایت کی کمی ہے”۔میں اتفاق کرتا ہوں اور اس وجہ سے میں سوچتا ہوں کہ میمن کو پھانسی دے دی جائے گی۔

Babri Masjid
Babri Masjid

مسلمان بابری مسجد کی شہادت کا غم منابھی نہیں پائے تھے کہ ملک گیر سطح پر مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات برپا کرکے نہ صرف مسلمانوں کو قتل کیا گیا بلکہ مالی طور پر بدتر کرنے کے لئے دکانوں، مکانوں اور تجارتی اداروں کو آگ کے حوالے کردیاتھا۔ ممبئی میں تو دو مرحلوں میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ پہلا مرحلہ7 دسمبر سے 27 دسمبر1992 تک چلا تھا اور فساد کا دوسر ا مرحلہ7 جنوری سے 25 جنوری 1993تک چلا تھا۔ اس فساد کو آزادی کے بعد بھیانک ترین فسادات میں شمار کیا جاتاتھا۔ گجرات قتل عام کو چھوڑ دیں تو یہ فساد یقینا منظم طور پر برپا کیاگیا تھا جس میں سیاست، حکومت کے افسران، پولیس اہلکاروں میں کانسٹبل سے ڈی آئی جی رینک کے افسران فسادات میں ملوث پائے گئے تھے جس کا ذکر شری کرشن انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں بھی موجود ہے۔ ممبئی فسادات کے دوران شیو سینا، بی جے پی اور آرایس ایس کے کارکنوں نے مسلمانوں کی جان و مال عزت و آبرو سے جم کر کھیلواڑ کیا تھا۔ ممبئی ایسا شہر بن گیا تھا جہاں پر کئی اسپتال نے مسلمانوں کا علاج کرنے سے منع کردیا تھا۔ان اسپتالوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی پھر بھی ہم شان سے کہتے ہیں ہمارا ملک کثیر جمہوری ملک ہے۔ممبئی کا فساد کس قدر یکطرقہ اور حکومتی اہلکار کے زیر سرپرستی انجام دیا گیا ۔ اس پر پوری دنیامیں آواز گونجی تھی۔ تمام انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے انصاف کرنے کی گزارش کی تھی۔ 6 دسمبر 2002 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بابری مسجد کی شہادت کی دسویں برسی پر شری کرشن انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو نافذ کرنے کی حکومت مہاراشٹر سے اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ 1998میں رپورٹ کی پیشی کے باوجود ابھی تک حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔1788 افراد اس فساد ہلاک ہوئے تھے۔

بی جے پی اور شیو سینا کی حکومت نے اس کمیشن کو توڑ دیا تھا جب کہ کانگریس اور این سی پی حکومت نے اپنی آنکھیں موند لی ہیں۔ کانگریس کی قیادت والی مہاراشٹر حکومت کی کبھی خواہش ہی نہیں رہی کہ ممبئی فسادات کے خاطیوں کو سزا دی جائے۔ اس کی نیت کا پتہ اس کی اس عرضی سے چلتا ہے جو انہوں نے سپریم کورٹ میں داخل کی تھی۔ مہاراشتر حکومت نے 24نومبر 2002کو سپریم کورٹ سے 1993 کے ممبئی بم دھماکے سے تعلق شری کرشن انکوائری کمیشن کی رپورٹ اس بنیاد پر مسترد کئے جانے کی اپیل کی تھی کہ اس واقعہ کو طویل عرصہ ہوگیا ہے اور اس سے نیا تنازع پیدا ہوسکتا ہے۔رپورٹ میں فسادات کے لئے پولیس افسران اور اس وقت کی شیو سینا ۔بی جے پی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت کے وکیل اشوک دیسائی نے اس وقت کے چیف جسٹس جے بی پٹنائک، جسٹس کے جی بالا کرشنن اور جسٹس ایس بی سنہا کی ڈویژن کے سامنے کمیشن کی رپورٹ کو نافذ کرنے کے لئے دائر کی گئی مختلف عرضیوں کی سماعت کے دوران یہ اپیل کی تھی۔مہاراشٹر حکومت نے ممبئی بم دھماکہ کے بارے میں یہ بات کیوں نہیں کہی تھی۔ممبئی فسادات کے دوران شیو سینا ایم پی مدھوکر سرپوتدار کو اسلحہ کے ساتھ فوج نے گرفتار کیا گیا تھالیکن اس کا بال باکا نہیںہوا۔ سنجے دت کو سزا ملی لیکن سرپوتدار کو ایک دیگر پارٹی ورکر کے ساتھ بہت شور مچانے کے بعد بہ مشکل 10جولائی 2008 کو ایک سال کی سزا ملی تھی سزا ملتے ہی انہیں ضمانت پر رہا کردیاگیا تھا۔ یہ ہے انصاف کرنے کا حکومت کا پیمانہ۔اسے امتیاز ، تعصب اور دوہرا معیار نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے۔جس طرح کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں اور خوف و ہراس کا ماحول گھنے سیاہ بادل کی طرح چھا رہا ہے اس میں کسی انصاف کی توقع کرنا عبث ہے۔ اس کا جواب صرف سیاسی عزم سے دیا جاسکتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کے انتشار و افتراق اور مسلکی اختلافات نے مسلمانوں کو کسی لائق نہیں رکھا۔کسی مذہبی پروگرام لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوجائیں گے لیکن کسی ظلم ، ناانصافی اور حقوق کے لئے کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔

اس طرح میں حالات میں مسلمانوں کے ساتھ برا نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کے سارے ستون زعفرانی رنگ میں سرابور ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ آج میڈیا بڑے زور شور سے چلا رہا ہے بمبئی بم دھماکوں کے گناہ گار کو پھانسی دی جائے لیکن یہ چلاتے وقت میڈیا کبھی یہ کیوں نہیں کہتا کہ شری کرشنا کمیشن کو نافذ کیا جائے، ممبئی فساد کے خاطیوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ کیا ممبئی فسادات کے دوران قتل ہونے والے مسلمان انسان نہیں تھے۔ کیا ان کے لئے ہندوستان میں کوئی انسانی حقوق نہیں ہے۔ یہاں کا نظام عدل مسلمانوں کے لئے تنگ کیوں ہے؟۔ ہندوستانی جمہوریت کے چاروں ستون مسلمانوں کے لئے زنگ آلود کیوں ہے؟ اتنے بڑے پیمانے پر ناانصافی کرکے یہاں کی حکومت آخر کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ کیا مسلمانوں کو انصاف اور ترقی کے معاملے میں نظر انداز کرکے ملک کو ترقی دی جاسکتی ہے۔اس واقعہ پوری دنیا میںیہی پیغام جائے گا کہ یہاں انصاف میں امتیاز برتا جاتاہے۔ اس کے علاوہ یہاں جانچ ایجنسیوں کے وعدے پر بھی بھروسہ نہیں کیا جائے گا۔

یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا کا دن جوں جوں کی قریب آرہا ہے اس سے متعلق نئی نئی انکشافات ہورہے ہیں۔ بہت سے قانونی ماہرین پھانسی کی سز پر ہی سوال اٹھارہے ہیں۔یگ موہت چودھری کا کہنا ہے کہ جس قانون کے تحت یعقوب میمن کوپھانسی کی سزا دی گئی ہے اس قانون یعنی ٹاڈا کو ہندوستان کی پارلیمنٹ نے رد کردیا ہے۔اس قانون کے تحت سزا کیسے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون کو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ مذکورہ جرم میں مجرم کا کیا رول تھا۔ماہرین تفتیشی ایجنسی کے نئی دہلی سے گرفتار کرنے پر بھی سوال اٹھارہے ہیں کہ یعقوب میمن پاکستان سے نئی دہلی اسٹیشن کیسے پہنچا۔ اگر یعقوب میمن خود سپردگی نہیں کرنے آیا تھا تو وہ پوری فیملی کے ساتھ ہندوستان کیسے آگیا۔ آنجہانی آئی بی افسر مسٹر رمن سنگھ نے 2007میں لکھا تھا جو اس وقت ریڈیف ڈاٹ کام پر شائع کیا گیا ہے۔ اس میں انہوں نے ڈیل کی بات کہی ہے۔جب ڈیل ہوئی تھی تو پھر پھانسی کی سزا کیسے دی گئی۔ عدالت تو ثبوت اور دستاویزات کے مطابق سزا کا تعین کرتی ہے لیکن یہ ذمہ داری تفتیشی ایجنسی پر ہے کہ وہ کیس کو کس طرح پیش کرتی ہے۔ جیل میں یعقوب سے ملاقات کر کے نکلنے والے خاندان والوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یعقوب نے خود یہ بات کہی ہے کہ مجھے اپنے بھائی کے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔خاندان والوں کے مطابق ان سے ہوئی ملاقات میں یعقوب میمن نے کئی راز سے پردہ اٹھایا ہے، جنہیں وہ جلد ہی لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خاندان کے ایک رکن نے بتایا کہ یعقوب نے انہیں بتایا کہ سرینڈر کرتے وقت اس وقت کے وزیر داخلہ نے ان کو یقین دلایا تھا کہ انہیں پھانسی نہیں ہوگی۔یعقوب کے خاندان کو نہیں پتہ کہ وہ پھر یعقوب سے مل پائیں گے یا نہیں، لیکن ان کا دعوی ہے کہ ان کے پاس کہنے کے لئے کافی کچھ ہے، جسے وہ جلد ہی سامنے لے آئیں گے. خاندان کے مطابق یعقوب نے ابھی تک امیدیں نہیں چھوڑی ہیں۔اگر یعقوب کو مذہبی بنیاد پر پھانسی پر جلد بازی نہیں کی جارہی ہے تو اس سے پہلے پھانسی کی سزا پانے والوں پھانسی کیوں نہیں دی گئی ہے۔ ممبئی فسادادت میں سے کسی ایک بھی سزا کیوں نہیں دی گئی ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جو واضح کرتی ہیں یہاں سزا مذہبی بنیاد دی جاتی ہے۔

Yakub Memon Hanging
Yakub Memon Hanging

ممبئی بم دھماکے ملزمین کو سزا دینے میں کسی کو اعتراض نہیں ہے لیکن اس بات پر اعتراض ضرور ہے ممبئی فسادات کے ملزمین کو بھی سزا دی جانی چاہئے ۔کیا انہیں اس لئے سزا نہیں دی جارہی ہے کہ وہ ہندو ہیں۔ یا فرقہ پرست پارٹیوں سے ان کا تعلق ہے۔ فسادات میں ملوث پولیس افسران کو محض اس لئے سزا نہیں دی گئی کہ اس سے ان کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ٹی وی نیوز چینلز اخبارات میں چلنے والی بحث میں ہر کسی نے بم دھماکے کے متاثرین کے لئے آنسو بہائے لیکن کسی کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ممبئی فسادات متاثرین کے لئے بھی آنسو بہاتے یا ان کے دکھ درد جاننے کی کوشش کرتے ۔ توکیا اس مطلب یہ ہوا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو انسان کے زمرے میں نہیں رکھا جاتا؟۔انصاف بھی ہندو اور مسلمان کا چہرہ دیکھ کر کیا جاتاہے۔ جب کہ ممبئی فسادات کے متاثرین کا درد بم دھماکوں کے متاثرین سے بڑا ہے ۔ اگر انسانی جانوں کا اتلاف ہی کسی بڑے جرم کاپیمانہ ہوتا ہے تو ممبئی فسادات کسی بڑے جرم کے زمرے میں کیوں نہیں آیا محض اس لئے مرنے والا مسلمان تھا۔

تحریر: عابد انور
ڈی۔ 64فلیٹ نمبر 10، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا ، نئی دہلی۔ 110025
abidanwaruni@gmail.com
9810372335

Share this:
Tags:
discrimination hanging hatred justice Muslim proof امتیاز پھانسی ثبوت عدل مسلمان نفرت یعقوب میمن
Haroon bin Imam Musa
Previous Post سیدنا امامزادہ ہارون بن امام موسیٰ کاظم
Next Post بھمبر کی خبریں 25/07/2015
Press Confrance Bhimber

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close