Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نوجوان نسل کس سمت جا رہی ہے

April 19, 2021 0 1 min read
Youth
Youth
Youth

تحریر : انیلہ افضال ایڈووکیٹ

اگر بات اولاد کی پرورش کی ہے تو یہ کام جانور بڑے احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں۔ انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کا کام اولاد کی پرورش سے بڑھ کر ہے اور وہ کام ہے تربیت! جی ہاں، تربیت! جو نسلوں کی پہچان ہوتی ہے اور جس پر قوموں کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ معاشرے کی اصلاح کی جس قدر آج ضرورت ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ آج لوگ برائی پر نادم ہونے کی بجائے فخر کرتے ہیں، جو اخلاقی زوال کی انتہا ہے۔ نوجوان نسل کو سمت دکھانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے والدین اپنا کردار ادا کریں۔ اگر ہم لوگ انفرادی اور اجتماعی جائزہ لیں تو کوئی بھی شخص اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں اور بھیڑ چال کی سی صورتحال ہے۔ پہلے ماں باپ اور بڑے لوگ نوجوان نسل کی تربیت کرتے تھے، لیکن آج یہ کام موبائل اور انٹر نیٹ کے سپرد ہو چکا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری اولادیں، والدین اور بزرگوں کا احترام نہیں کرتیں۔ حکومت کو چاہیے کہ نصاب میں تبدیلی کرے اور طلبہ کو ملک سے محبت، اخلاقیات اور قوانین سے آگاہی کا درس دیا جائے۔ نوجوان نسل ملک و ملت کا ایک قیمتی سرمایہ اور مستقبل کا درخشندہ ستارہ ہوتے ہیں۔ قوم کی ساری امیدیں انہی سے وابستہ ہوتی ہیں۔ دنیا کی ہر تحریک نوجوان ہی کی جدوجہد سے کامیاب ہوتی ہے۔ نوجوانوں میں پہاڑوں کو ہلانے اور دریاؤں کے رخ موڑ دینے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

موجودہ دور پُر آشوب بھی ہے اور مادیت زدہ بھی۔ ہر معاشرے میں علم و تحقیق اور فکر و آگہی الغرض سبھی میدانوں کے لیے شہسواروں کی ضرورت ہے، جو اپنے معاشرہ و ملت کے مستقبل کی قیادت سنبھال کر اقوام عالم میں اپنا نام بلند کر سکیں۔ اس امر میں شک کی گنجائش قطعاً نہیں کہ وطن عزیز میں ایک طویل مدت سے کئی دیگر حساس معاملات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے کسی بہتر حکمت عملی اور واضح منصوبہ بندی کی از حد کمی رہی ہے، جس کے باعث وہ اپنی صلاحیتوں کو صحیح معنوں میں استعمال نہیں کر سکے، بلکہ ان میں سے اکثر نوجوان ایسی راہ پر چل نکلے جو نہ صرف ان کی بلکہ ملک و ملت کی بہتری کے لیے کسی طور بھی مناسب نہ تھی۔ آج کی نوجوان نسل کو کئی اطراف سے ایسے مسائل درپیش ہیں، جو اس کی شخصیت اور کردار پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ آج کی نوجوان نسل اپنے آباء کے کارناموں سے قطعاً ناواقف ہے۔ یہ صورتحال کافی الارمنگ ہے، کیونکہ ماضی کی یادیں ہی مستقبل کی امنگوں میں تبدیل ہو کر ملت اور معاشرے کی ترقی کا زینہ بنتی ہیں، جبکہ اس پر کور چشمی اور بے عملی کے نقاب ڈالنے والے معاشرے کے مستقبل کے راستے تاریک ہو جاتے ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری نوجوان نسل درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے؟ اگر ہاں! تو ہمارا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ ہمارے نوجوان جلد ہی ستاروں پر کمندیں ڈال لیں گے، لیکن اگر اس سوال کا جواب نا میں ہے، تو آنے والا وقت بڑا خوفناک ہونے والا ہے۔ آئیے! ایک نظر نوجوان نسل کے چلن پر ڈالتے ہیں، مگر اس کے لیے ہمیں اپنی آنکھوں سے مامتا کا چشمہ اتارنا ہو گا اور شیر کی نگاہ سے اس نئی نسل کا تنقیدی جائزہ لینا ہو گا۔
سب سے پہلے جس عفریت نے نوجوان نسل کو اپنے شکنجے میں کسا ہے، وہ تمباکو نوشی ہے۔ نوجوان سٹائل کے لیے اس عادت بد میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر اس کے اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ٹوبیکو انڈسٹری کی جانب سے اپنی پروڈکٹ کی فروخت کے لیے جو تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں، ان کا ہدف نوجوان ہی ہیں۔ سگریٹس ابھرتی ہوئی روش ہے، جو نوجوان نسل اپنا رہی ہے۔ وطن عزیز میں سگریٹس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس ہی نہیں، حتی کہ کالج کی بچیاں بھی بہت تیزی سے تمباکو سے متاثر ہو رہی ہیں، ہمیں تمباکو کے روک تھام کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔ اس کے لیے حکومتوں کو ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، اگرچہ کہ اس معاملے میں سخت قوانین بھی بنائے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ مگر اصل فقدان تربیت کا ہے، جس کی ابتداء پہلے گھر اور پھر درسگاہوں سے ہوتی ہے۔

اکیسویں صدی نے نوجوانوں کو ایک نیا تحفہ انٹر نیٹ کی صورت میں دیا ہے۔ دنیا سمٹ کر ہماری ہتھیلی میں ں آ گئی ہے۔ یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ اس نئے دور کی ٹیکنالوجی کا اصل ہدف بھی نوجوان نسل ہی ہے۔ ایسا بارہا دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اس برائی میں اس طرح گرفتار ہوتے ہیں، کہ آخر میں ان کے پاس خود کشی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ اب اس دور جدید میں انٹر نیٹ کے استعمال سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا، مگر اپنی نئی نسل کو اس کے منفی اثرات سے بچایا تو جا سکتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے اس سلسلے میں سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے انٹرنیٹ کے استعمال کے ساتھ نوجوان نسل کو سائبر کرائمز سے بچانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ سائبر کرائمز سے بچاؤ، متعلقہ قوانین، سزائیں تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کی تجویز پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ والدین کے لیے حقیقت پر مبنی کیس سٹڈیز کے ذریعے ہدایات کو بھی نصاب کا حصہ بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ سائبر کرائم کی صورت میں متعلقہ ادارے (سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے) سے رابطے کے حوالے سے معلومات کو بھی نصاب کا حصہ بنانے کے عمل پر تجاویز بھی حکومت کو پیش کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ابتدائی جماعتوں سے ہی طلبا کو سائبر کرائم کے حوالے سے مضامین کو نصاب کا حصہ بنا کر آئندہ چند سالوں میں سائبر کرائم کی شرح کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انٹر نیٹ کی ایک ایسی ہی خباثت ٹک ٹاک کے نام سے سامنے آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے نہ صرف نوجوانوں کو اپنا غلام بنا لیا، بلکہ اس بلا نے تو بچوں اور بوڑھوں کو بھی نہیں بخشا۔ گزشتہ برس حکومت کی جانب سے اس ایپ پر پابندی لگائی گئی تھی، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس پابندی کو ہٹا دیا گیا۔
موجودہ وبا نے بھی نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ درسگاہوں کے بند ہونے اور آن لائن کلاسز کے اجراء نے والدین کو مجبور کر دیا کہ وہ بچوں کے لیے سمارٹ فون اور لیپ ٹاپ یا اسی ٹائپ کے گیجٹس خریدیں۔ اس کے خوفناک نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ موبائل پیکجز اور موبائل ایپلیکیشنز عروج پر پہنچ چکی ہیں، جس کی وجہ سے نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے۔ موبائل کمپنیاں فری فیس بک اور فری واٹس ایپ کے مختلف پیکجز متعارف کروا کر نئی نسل میں بے حیائی اور بے راہ روی بانٹ رہی ہیں۔

موبائل فون ہماری سہولت کے لیے متعارف کروایا گیا تھا، مگر جاہل اور بگڑے ہوئے لوگوں نے اسے عریانیت اور بے راہ روی کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا، جس سے نوجوان نسل پر منفی نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ نوجوان نسل موبائل سے جڑے غلط راستوں پر گامزن ہو رہی ہے۔ ملک کے مستقبل کے روشن ستاروں کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔
وطن عزیز میں ایک بڑی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ جہاں ہم غربت کا سامنا کر رہے، وہاں دیگر اہم مسائل جن میں مہنگائی، سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی، بے روزگاری ہمارے سب سے بڑے مسائل ہیں۔ ناقص تعلیمی نظام اور تعلیمی سہولیات کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ تعلیم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جو لوگوں کو اچھے اور بُڑے کا شعور فراہم کرتا ہے اور معاشرہ ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے۔ بہترین تعلیمی نظام ہی بہترین اور مضبوط معاشرے کی ضمانت ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کی گفتگو اور اس میں استعمال ہونے والے الفاظ پر غور کریں، تو دل افسردہ ہوتا ہے۔ نوجوان نسل کی گفتگو گندی گندی گالیوں سے لبریز ہے۔ ہم اس نسل سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان میں سے محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، سلطان محمود غزنوی، ٹیپوسلطان جیسے لوگ ابھر کر آئیں گے۔ ہمارے معاشرے میں بڑی تعداد میں ایسے نوجوان ہیں جو ڈگریاں تو رکھتے ہیں، مگر ان کے ذہن میں اس بات کو بٹھا دیا گیا ہے کہ یہاں ڈنڈے والے کی عزت ہے، یہاں پیسے والے کی عزت ہے، تو ہم آنے والی نسل سے بہتری کی کیا امید لگا سکتے ہیں۔

کسی بھی نسل کا کوئی بگاڑ اس میں اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ برائی ہو یا بھلائی، دونوں ایک نسل سے دوسری نسل کو وراثت میں ملا کرتی ہیں۔ دراصل یہ جو ہمارا جدید نظام تعلیم ہے، اس کی خرابی یہ ہے کہ اسے حاصل کر کے انسان جس قدر ترقی کرتا چلا جاتا ہے، اسی قدر خودغرض، مکار، بزدل اور اپنوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مقام وہ بھی آتا ہے، جب اس کی دنیا صرف اپنے بچوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ سماجی، خونی اور دوسرے تمام انسانی رشتے اس کے لیے بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان عیوب سے صرف وہی لوگ پاک ہوتے ہیں، جنھیں اللہ کا کچھ خوف ہوتا ہے۔ ورنہ ان کے سامنے بس ایک ہی مقصد ہوتا ہے، وہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ دولت کمالی جائے اور معاشرے میں کروفر کے ساتھ زندگی بسر کی جائے۔ اسی کو عقل مندی شمار کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر دولت کما لینا ہی عقلمندی کی دلیل ہے تو رشوت خور، دھوکے باز، فراڈیے، اسمگلر، چور، ڈاکو اور انسانیت کے دوسرے تمام دشمن بھی اس طرح کی عقلمندی کے مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ یہ سب وہ ڈگریاں ہیں جو ہم نے اپنی نئی نسل کو وراثت میں دی ہیں اور نئی نسل بڑی شد مد سے ان میں اضافہ کر رہی ہے۔

اب یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان گھٹتے ہوئے اخلاقی اقدار، لادینی اور الحاد پر مبنی عقائد، تشدد میں اضافہ، ان تمام منفی رویوں سے زیادہ افسوس ناک اثر جو آج کی نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے۔ بیحیائی اور بیراہ روی کے طریقوں کو جس طرح فروغ مل رہا ہے۔ ان کے ذمہ دار کون ہیں؟ خود نوجوان نسل، والدین، سرپرست، اساتذہ یا بگڑتا معاشرہ؟ اکثر اوقات دیکھا جاتا ہے کہ والدین جن برائیوں کو معاشرے میں دیکھتے ہیں، دوسرے بچوں کو جن برائیوں کا ارتکاب کرتے ہوئے معیوب سمجھتے ہیں، اگر اُنہی برائیوں میں خود اپنے بچوں کو ملوث دیکھیں تو اس کا کچھ زیادہ سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا جاتا۔ والدین اپنے بچوں کی جانب مثبت طور پر راغب نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات ان کی غلط عادات کو بیجا لاڈ و پیار کے تحت رعایت تک دے دیتے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم نے جو کچھ بھی پڑھا، دیکھا یا سنا، وہ صرف اُسی محدود وقت کے لیے تھا اور بس ختم! اور ہم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ہم جو کچھ پڑھتے، دیکھتے یا سنتے ہیں وہ کہیں کھو نہیں جاتا، بلکہ ہمارے ذہن کے لاشعور میں محفوظ ہو جاتا ہے اور پھر بعد میں جو کچھ معلومات ہم اپنے ذہن سے اخذ کرتے ہیں وہ ”محفوظ معلومات“ کسی نہ کسی طرح سے اظہار کی راہیں تلاش کرتی ہیں۔ یوں ہماری گفتگو، ہمارے جذبات و احساسات، اعمال و معاملات، غرض ہماری مکمل شخصیت میں ہماری ذہنیت کا ظہور ہوتا ہے۔ یہاں پر وہ محاورہ صادق آتا ہے کہ ”جو بویا جائے وہی کاٹا بھی جائے گا۔“

کسی بھی معاشرے کی کردار سازی کی ذمہ داری اس معاشرے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد پر عائد ہوتی ہے۔جرائم میں ملوث بُڑے لوگوں کے ساتھ اچھے لوگ بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی خاموشی ان لوگوں کو مزید مضبوط سے مضبوط کرتی جاتی ہے، یہاں تک کہ جرائم کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ہمیں معاشرے کی کردار سازی میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، تا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو ایک اچھا ماحول دے سکیں۔

تحریر : انیلہ افضال ایڈووکیٹ

Share this:
Tags:
Future Nations race societies upbringing youth پرورش قوموں مستقبل معاشرے نسل نوجوان
Sheikh Rashid
Previous Post ختم نبوت کے معاملے پر تحریک لبیک سے پیچھے نہیں، شیخ رشید کا قومی اسمبلی میں پالیسی بیان
Next Post راشن
Rashan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close