
کاش کبھی تو ایسا ہو
کہ میرے جسم سے لپٹی
کوئی حسیں لڑکی
مری زباں میں کہے
بہت محبت ہے تم سے مجھے
یا کبھی ایسا ہو
کوئی فون ہی کرے مجھ کو
یا سرِ راہ
دور سے ہی چلائے
پر پرائے شہر کی
اجنبی گفتار نہ ہو
کاش! اے کاش
کبھی تو ایسا ہو
امجد شیخ


کاش کبھی تو ایسا ہو
کہ میرے جسم سے لپٹی
کوئی حسیں لڑکی
مری زباں میں کہے
بہت محبت ہے تم سے مجھے
یا کبھی ایسا ہو
کوئی فون ہی کرے مجھ کو
یا سرِ راہ
دور سے ہی چلائے
پر پرائے شہر کی
اجنبی گفتار نہ ہو
کاش! اے کاش
کبھی تو ایسا ہو
امجد شیخ
Start typing to search...
