Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سفر نامہ ٹرین

December 7, 2011December 7, 2011 0 1 min read
Khamosh Tamasha
Khamosh Tamasha
Khamosh Tamasha

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ریل گاڑی کے سفر کو آرام دہ، پُرسکون اور سہل قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ مسافروں کو مختلف مناظر، ثقافتوں اور نظاروں سے لطف اُٹھانے کے قابل بناتا ہے۔ یہ ٹرینیں نہ صرف صاف ستھری ہوتی ہیں بلکہ ان میں گرم ٹھنڈا پانی، بجلی، ٹشوپیپر، ایئر کنڈیشنر تک کا بندوبست ہوتا ہے۔ جدید تیز رفتار ٹرینیں شہروں کے درمیان مسافروں کے تیز نقل و حمل سے انہیں بروقت انداز میں ملاقاتوں اور اجلاسوں تک رسائی کے قابل بناتی ہیں۔ گھڑی کی سوئیاں غلط ہو سکتی ہیں لیکن ریلوے کا ٹائم ٹیبل نہیں کیونکہ سب کچھ کمپیوٹرائزڈ ہوتا ہے۔ان ممالک میں نہ صرف عوام بلکہ وزراء اور امراء بھی ٹرین کے سفر کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ سفر محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ آرام دہ بھی ہے۔ ٹرین کے سفر کے لحاظ سے یورپ سب سے اچھی جگہ ہے جہاں ہر چند گھنٹوں کے بعد نیا ملک آ جاتا ہے اس لیئے سیاحت کرنے والے لوگ دوسری سفری سہولیات کی نسبت ٹرین کو ترجیح دیتے ہیں۔ لوگ رات کو سفر کرتے ہیں اور آرام دہ بستروں پر سو کر ہوٹل کا کرایہ بچا لیتے ہیں۔

میری طرح جس نے یورپ اور امریکہ نہیں دیکھا اسے پتہ ہی نہیں ریل کیا ہوتی ہے اور ریل کا سفر کیا ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں نے ریل کے سفر کو متعارف کرایا۔ اس خطے میں برطانوی سامراج نے جو ریل کا نظام لگایا وہ خود برطانیہ سے زیادہ جدید تھا۔اٹھارہ سو پینتالیس میں کلکتہ سے رانی گنج، بمبئی سے کلین اور مدراس سے ارکونام تک تین ریل گاڑیاں تجرباتی طور پر چلائی گئیں۔ پاکستان کے قیام سے قبل اس خطے میں سب سے پہلی ریلوے لائن کراچی اور کوٹری کے درمیان بچھائی گئی۔ اس کے بعد اٹھارہ سو باسٹھ کو لاہور اور امرتسر کے درمیان پہلی گاڑی چلی ۔ اٹھارہ سو پینسٹھ میں ملتان کو لاہور سے ریلوے کے ذریعے ملا دیا گیا ۔

اٹھارہ سو اَسی کے عشرہ میں راولپنڈی تک ریلوے لائن بچھائی گئی جبکہ اٹھارہ سو نواسی میں سکھر کے مقام پر دریائے سندھ پر پُل تعمیر ہونے سے پنجاب اور سندھ ریل کے ذریعے مل گئے۔ انگریز کے دور میں ریلوے ٹرین وقت پر پہنچتی تھی، ویٹنگ روم اور پلیٹ فارم صاف ستھرے ہوا کرتے تھے، کھانا لذیذ ہوتا تھا۔اسکی وجہ یہ تھی کہ انگریز افسر کرپٹ نہ تھے، چونکہ وہ خود کرپٹ نہ تھے اس لیئے ماتحت عملہ بھی کرپٹ نہ تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انیس سو ستر کے عشرے تک پاکستان میں ریل کا سفر سستا، آرام دہ اور باوقار سمجھا جاتا تھا۔ یورپی ممالک کی طرح یہاں بھی لوگ سیر سپاٹے اور تفریح کے لیئے ٹرین کے سفر کو ترجیح دیتے تھے لیکن آج معاملہ اس کے برعکس ہے۔ 

آج ریلوے کے اپنے اعلانات کے مطابق سینکڑوں انجن خراب پڑے ہیں اور اتنی ہی ٹرینیں بند کر دی گئی ہیں۔ جو تھوڑی بہت رہ گئی ہیں وہ گھاٹے میں چل رہی ہیں اور وقت کی پابندی نام کی کوئی چیز اس نظام میں نہیں پائی جاتی۔ جو انجن رواں دواں ہیں وہ بھی اس قدر بوسیدہ ہو چکے ہیں کہ کسی قدیم عجائب گھر میں رکھنے یا پھر تول کر بیچنے کے لائق ہیں۔ پاکستان میں اس وقت بھی انگریز کے زمانے کی بچھائی ہوئی 80 فیصد پٹڑیاں زیرِ استعمال ہیں جن کی مدت پوری ہوئے ایک عرصہ ہو چکا ہے۔ وہ تو بھلا ہو گوروں کا کہ ان کے زمانے میں بدعنوانی اور کرپشن نہیں تھی ورنہ یہ پٹڑیاں بھی کب کا داغ مفارقت دے چکی ہوتیں جیسا کہ موجودہ زمانے کے پُل اور سڑکیں ایک سال سے پہلے ہی اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔

گوروں اور ہم میں ایک ہی فرق تو ہے، وہ ہر چیز بنا لیتے ہیں اور اُن کے بچے اس کا خواب دیکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں جبکہ ہم اپنے لوگوں کے خوابوں کو کبھی نہیں توڑتے اور انہیں ہمیشہ خواب ہی رہنے دیتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں حکمرانوں نے ریلوے کی وہ درگت بنائی کہ الامان و الحفیظ۔ ملک سے گیس ،بجلی ،پانی سب ختم ہے اور مزید ظلم یہ کہ اب ریلوے بھی خاتمے کی طرف جا رہی ہے۔ لگتا ہے تانگوں اور اونٹوں کا دور واپس آیا ہی چاہتا ہے۔ گدھا گاڑی اب کم ہی نظر آتی ہے مگر اُمید ہے جلد دیکھنے کو ملے گی، جب لوگ ڈرائیور کو حکم دیں گے جلدی سے گدھا نکالو مجھے دفتر سے دیر ہو رہی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں ٹرین کی جدید ترین سفری سہولیات بارے سُن کر مجھے بھی بذریعہ ٹرین سیر و سیاحت کا بڑا شوق تھا۔ اس سے پہلے میں نے کبھی ٹرین میں سفر نہیں کیا تھا لیکن جب سے وزیر ریلوے مسٹر غلام احمد بلور نے صدر صاحب کو ریلوے بند کرنے کا صائب مشورہ دیا تو مجھے اپنے اس ادھورے خواب کی تکمیل ماند پڑتی نظر آئی۔ اس سے پہلے کہ میں کسی اور سفری ذریعے کو اپناتا پہلی فرصت میں ہی ریل کا ٹکٹ حاصل کیا۔ یہ ٹکٹ ریلوے میں ملازم اپنے ایک قریبی عزیز کے توسط سے فوری مل گیا ورنہ مجبوراً مجھے کوئی اور سفری ذریعہ اختیار کرنا پڑتا اور یوں ریل کے ذریعے سفر میرے لیئے ایک ادھورا خواب بن کر رہ جاتا۔ بذریعہ ٹرین میرا یہ سفر راولپنڈی سے کراچی تک تھا۔ اس سفر کے دوران میں کن مقامات کی سیر اور ثقافت سے لطف اندوز ہوا اور ٹرین کے اندر مسافروں کو کیا مشکلات پیش آتی ہیں، یہی میرے اس سفرنامے کا اصل موضوع ہے۔

راولپنڈی ریلوے اسٹیشن کا شمار ملک کے بڑے اسٹیشنوں میں ہوتا ہے جہاں پشاور، لاہور اور کراچی سمیت دوسرے شہروں سے آنے والی دو درجن سے زائد گاڑیاں روزانہ آ کر رُکتی تھیں لیکن اب یہ تعداد محض چند گاڑیوں پر مشتمل ہے۔ مجھے جس ریل گاڑی کا ٹکٹ ملا اُس کی کراچی روانگی کا ٹائم پونے نو بجے تھا۔ ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر ٹائم دیکھا تو ساڑھے آٹھ بج رہے تھے ۔اس سے پہلے کہ سیدھا پلیٹ فارم پر جاتا پہلے باتھ روم چلا گیا۔ جس خود مختار ریلوے کی اپنی رہائشی کالونیا ں و فلیٹ، پولیس، ہسپتال، سکول، کھیل کے میدان، زرخیز و کمرشل کھربوں روپے کی زمینیں ہیں اسکے باتھ روم کی حالت دیکھنے کے قابل نہ تھی۔ پانی کے نلکے موجود تھے لیکن اکثر واش رومز میں ٹوٹیاں ندارد، دروازے ٹوٹے ہوئے، فلیش خراب اور گندگی کے ڈھیر دیکھ کر پہلی فرصت میں ہی وہاں سے بھاگنا پڑا۔ یوں لگتا تھا کہ یہ باتھ رومز بھی انگریز راج میں بنائے گئے اور پھر کسی نے اس طرف توجہ تک نہیں دی۔ 

پلیٹ فارم پر مسافروں کا رش تھا لیکن ٹرین ندارد۔ ہر ایک کو اُس لاڈلی کا انتظار تھا جس کے موجودہ مسافر ٹرینوں میں بڑے چرچے ہیں کہ یہ اپنے نام کی طرح تیز رفتار ہے اور بروقت منزل تک پہنچاتی ہے اور پھر سب نے دیکھا کہ پونے نو بجے روانگی کا ٹائم دینے والی یہ ٹرین آدھا گھنٹہ تاخیر سے اسٹیشن پر نمودار ہوئی۔ تمام مسافروں کے سوار ہونے سے ٹرین اپنی منزل کی طرف رواں تھی۔ مجھے جو سیٹ ملی وہ سیر و تفریح کیلئے انتہائی موزوں تھی اور عجب اتفاق کہ میرے ساتھ بیٹھے دیگر پانچوں مسافروں کا تعلق بھی میرے آبائی ضلع سے تھا جن میں تین خواتین اور دو مرد شامل تھے۔ تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی پھر جان پہچان کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس کوچ (ڈبے) میں ہم سوار تھے اُس کی بیشتر نشستیں خالی پڑی تھیں لیکن ریلوے اسٹیشن کے ٹکٹ بوتھ پر روانہ ہونے والی ٹرین کی تمام برتھ اور سیٹیں پُر ہونے کا پیغام آویزاں تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کی مُٹھی گرم کرنے سے یہ خالی نشستیں بھی فوری پُر ہو جاتی ہیں اور اس کا کوئی سرکاری ریکارڈ بھی نہیں رکھا جاتا۔ ٹرین منزل کی طرف گامزن تھی کہ تھوڑی دیر بعد واش روم جانے کی ضرورت پیش آئی۔ اندر گھسا تو دروازے نے بند ہونے سے انکار کر دیا۔ نہ کنڈے نہ چٹخنیاں، اگر دروازہ پکڑ کر بند کرتا تو حاجت غائب، دروازہ چھوڑتا تو ستر غائب۔ بجلی جلانے کیلئے سوئچ کو ہاتھ لگایا تو بجلی غائب، اوپر دیکھا تو بلب غیر حاضر تھا۔

واش روم لوٹے کے نام تک سے ناواقف تھا جبکہ پانی کا نلکا کھولا تو اندر سے گرم گرم آہیں برآمد ہوئیں۔ رو دھو کر واپس نکل آیا اور اگلے سٹاپ سے بوتل میں پانی بھر کر کام چلایا۔ میں سمجھ بیٹھا تھا کہ اکیسویں صدی آ گئی ہے کوئی تبدیلی ریل گاڑی کے اندر بھی ہوئی ہوگی مگر معاملہ دگرگوں تھا۔ریل کے سفر کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیٹ کی بکنگ کے بغیر بعض لوگ واش روم کے آس پاس لیٹ جاتے ہیں جس سے نہ صرف عام لوگ بلکہ خواتین اور بچوںکا واش روم تک جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ کھانے اور چائے کی قیمت زیادہ جبکہ معیار انتہائی ناقص ہے۔ چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث مفت خورے اور گداگر ٹرین میں داخل ہو جاتے ہیںاور یہ ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔  ریل گاڑی کی چھک چھک مجھے بھی اچھی لگتی ہے۔

راولپنڈی سے روانہ ہونے والی ٹرین جہلم، کھاریاں، لالہ موسیٰ، گجرات، وزیر آباد، گوجرانوالہ سے ہوتی ہوئی لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ جہاں ایک گھنٹہ رُکنے کے بعد اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئی۔ لاہور کینٹ، کھوٹ لکھپت، رائے ونڈ سے ہوتی ہوئی چھانگا مانگا پہنچی جہاں اسے کوئی ڈیڑھ گھنٹے کیلئے بریک لگ گئی۔ انتظامیہ سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پتوکی سے آنے والی ایک ٹرین نے کراس کرنا ہے جس کے بعد یہ روانہ ہوگی۔ بیشتر مسافر غصے سے لال پیلے ہو رہے تھے اور ٹرین سے اُتر کر پٹڑی پر بیٹھ گئے، یوں چھانگا مانگ کی سیاست شروع ہو گئی۔ کوئی وزیر ریلوے کو دنیا کے ناکام ترین وزیر کا خطاب دیتا رہا، کوئی سیاست دانوں کو اُلٹا لٹکانا چاہتا تھا جبکہ کوئی سرعام پھانسی دینے کا خواہشمند نظر آیا۔ یہ گفتگو اس قدر دلچسپ تھی کہ وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور پتوکی سے آنے والی ٹرین چھک چھک کرتی گزر گئی۔ جس کے بعد تمام مسافر دوبارہ ٹرین میں سوار ہو کر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے اور یوں ٹرین پھر منزل کی طرف گامزن ہو گئی۔

لاہور ریلوے اسٹیشن سے روانگی کے بعد ٹرین جہاں سے بھی گزرتی ، دیواروں پر ایک ایسے نجومی کی وال چاکنگ نظر آتی جو اُلّو کے خون سے زندگی اور موت دینے کا دعویدار تھا۔ میں نے سُنا تھا کہ لاہور میں نجومیوں کے سرعامِ وال چاکنگ پر پابندی عائد ہے پھر گمان گزرا کہ شاید یہ کوئی سیاسی نجومی ہوگا جو اس قدر ڈھٹائی سے جگہ جگہ اپنی پبلسٹی کرا رہا ہے۔ اوکاڑہ، ساہیوال، میاں چنوں سے ٹرین گزرتی تو کھیتوں میں مرد و خواتین کام کرتے نظر آتے۔ یہاں تک کہ ایک جگہ کسانوں کو بے موسمی تربوز ٹرک میں لوڈ کرتے دیکھا گیا۔ سڑک پر موٹر سائیکل ایک ہوتا جبکہ اُس پر پورا خاندان سوار رہتا۔ ٹرین بھی جگہ جگہ رکتی، ہچکولے کھاتی، پتہ نہیں کتنی جگہ رکی جبکہ ملتان پہنچ کر انجن نے دانت دکھا دیئے اور چلنے سے انکار کر دیا۔ رات کے تقریباً بارہ بجے کا وقت تھا اور میں بھی برتھ پر چڑھ کر سو گیا۔ پھر معلوم نہیں ٹرین کب روانہ ہوئی۔یوں خان پور، رحیم یار خان اور صادق آباد تک میں سویا ہوا تھا البتہ جیسے ہی سندھ کا علاقہ شروع ہوا صبح کی آذان کیساتھ ہی میں بھی بیدار ہو گیا۔ سندھ میں گھوٹکی، پنوں عاقل، روہڑی، خیرپور، سہراب پور، نواب شاہ، شہداد پور میں دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ ان علاقوں میں ہر دوسرا شخص سندھی ٹوپی میں نظر آیا جبکہ بیشتر ہندو خواتین نے پورے بازئوں پر چوڑیاں چڑھا رکھی تھیں۔ صبح کا ناشہ روہڑی اسٹیشن پرکیا۔سفر کے دوران ایک جگہ کتے اور بیل کی لڑائی دیکھی، گدھے پر بیٹھا ایک شخص اس قدر لمبا تھا کہ اُسکے پائوں زمین کو چھو رہے تھے۔

مرد و خواتین کھیتوں میں کام کرتے نظر آئے۔ چاول، کپاس ، گنے کی فصلیں اور کیلے، آم، کھجور کے باغات دیکھے۔ جگہ جگہ جوہڑوں میں سیلابی پانی جمع تھا۔ مال مویشی بھی وہی پانی پینے پر مجبور تھے۔ سندھ میں حالیہ آنے والے سیلاب کی وجہ سے کپاس سمیت کئی فصلیں متاثر نظر آئیں۔ ٹرین کے راستے میں بیشتر مکانات کچے تھے، مال بردار اونٹوں کی اعلیٰ نسل دیکھنے کو ملی، چرواہے کھیتوں میں بھینس، بیگ، گائے، بکریوں کے ساتھ موجود تھے، پرندوں میں بگلے بھی چرواہوں کے آس پاس تھے۔ پہلی بار بھوسے کے پہاڑ دیکھنے کو ملے۔ خیرپور میں چند نوجوان بندوقیں لیئے کھڑے تھے۔

ٹرین سے نظارہ کرنیوالے اکثر مسافر انہیں ڈاکوئوں سے تشبیہہ دیتے لیکن میرے خیال میں ایسا نہیں تھا بلکہ وہ پرندوں کے شکار کیلئے موجود تھے۔نواب شاہ میں نہر کے گدلے پانی میں خواتین کپڑے دھوتی رہیں۔ ٹنڈو آدم میں گندگی کے ڈھیر دیکھنے کو نصیب ہوئے۔ ٹرین کے پورے سفر میں گھر والوں اور دوست احباب سے فون اور ایس ایم ایس پر رابطہ رہا۔ حیدر آباد اسٹیشن پر پہنچ کر دس منٹ کیلئے ٹرین رُک گئی اور جیسے ہی روانہ ہوئی منزل کے قریب پہنچنے کی خوشی میں یہ تک معلوم نہ رہا کہ حیدر آباد سے کراچی تک راستے میں کون کون سا سٹاپ آیا۔ بڑے بھائی کی خواہش تھی کہ میں لانڈھی اسٹیشن پر اُتروں جہاں وہ موجود ہوں گے جبکہ بھتیجے کا اصرار تھا کہ میں کینٹ اسٹیشن اُتروں اور وہ مجھے لینے آئیگا۔ راولپنڈی سے صبح نو بج کر پچیس منٹ پر روانہ ہونے والی یہ ٹرین بالآخر اگلے دن شام پانچ بجے کے قریب لانڈھی اسٹیشن پر رُکی جہاں میرے بھائی گاڑی لیئے موجود تھے۔ ٹرین سے ابھی اُترا ہی تھا کہ موبائل کی سکرین پر بھتیجے کا ایس ایم ایس موصول ہوا اور ٹرین کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے جلد پہنچنے پر مبارکباد دی جس پر مجھے اپنے ایک ستم ظریف دوست کا واقعہ یاد آ گیا کہ وہ ایک مرتبہ ریلوے اسٹیشن پر کسی عزیز کو لینے کیلئے گیا تو ٹرین وقت سے پہلے آ گئی، اس نے استعجاب کا اظہار کیا تو معلوم ہوا کہ اس ٹرین نے ایک دن پہلے اسی وقت پہنچنا تھا صرف چوبیس گھنٹے لیٹ ہے۔
تحریر: نجیم شاہ

Share this:
Tags:
Najeem Shah railway train بجلی ٹرین ریلوے
gaza
Previous Post اسرائیلی فوج کی جارحیت، فلسطینی نوجوان شہید
Next Post ۔۔۔نشانِ عبرت ۔۔۔
Tariq

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close