Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔نشانِ عبرت ۔۔۔

December 7, 2011 0 1 min read
Tariq
Tariq
Tariq

چند طالع آزما فوجی جرنیلوں کے رگ و پہ میں پاکستان پر حکمرانی کا نشہ چھایا ہوا ہے جو کسی بھی صورت میں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس سوچ کی شدت میں ا ضا فہ ہوتا جا رہا ہے تو بے جا نہیں ہو گا۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے جس طالع آزمائی کا آغاز اکتوبر ١٩٥٨ میں کیا تھا وہ آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے۔ اس نے سب سے پہلے تحریکِ پاکستان کی ساری قیادت کو ایبڈو کے قانون کے تحت نا اہل قرار دیا تا کہ کو ئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہ ہو۔ جنرل ضیا ا لحق نے ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کا تحتہ الٹ کر انھیں تختہ دار پر کھینچ دیا جبکہ جنرل پرویز مشرف نے طیارہ اغوا کیس میں میاں محمد نواشریف کو عمر قید کا حکم سنا کر انھیں جلا وطن کر دیا۔منتخب حکومتیں ہمیشہ ہی فوجی جرنیلوں کے خوف کی اسیر رہی ہیں اور ان کے بوٹوں کی چاپیں سیاست دانوں کیلئے خوف و ہراس پیدا کرتی رہی ہیں کیونکہ فوجی جرنیلوں نے سیاسی قیادتوں سے جس طرح کا سفاکانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے خوف اس کا منطقی نتیجہ ہے ۔جیلیں، کوڑے ،پھانسیاں اور جلا وطنی معمولی واقعات ہیں جن سے سیاست دانوں کو گزرنا پڑا۔ سیاست دانوں کو لوگ ہمیشہ تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں کاش وہ ان کی مشکلات کا بھی ادراک رکھتے تو انھیں معلوم ہو جا تا کہ سیاستدانوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو تنے ہوئے رسے پر چل رہا ہوتا ہے۔ اور اس کی ذرا سی لغزش اسے موت کے منہ میں دھکیلنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ فوجی جنتا کے ہاتھوں سیا ستدانوں کی کردار کشی اور بے عزتی کل بھی ہو ئی تھی،آج بھی ہو رہی ہے اور آئیندہ بھی ہوتی رہے گی کیونکہ فوجی جنتا کی طاقت کے سامنے سیاسی جماعتوں کی طاقت کو ئی معنی نہیں رکھتی۔ فوجی جنتا جب چا ہے سول حکمرانوں کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیتی ہے  اور پھر اپنے سیاسی اداکاروں ، حاشیہ برداروں اور حوا ریوں کی مددسے ا نھیں عبرت انگیز سزا کا حق دار بھی ٹھہرا دیتی ہے ۔ میں جو کچھ بھی بیان کر رہا ہوں وہ کسی الف لیلی کی ا فسا نوی داستان کا کو ئی خوبصورت اور سنسنی خیز پیر اگراف نہیں ہے بلکہ پاکستان کے وہ ننگے اور بے رحم حقائق ہیں جن سے پاکستان اپنی تخلیق سے لے کر آج تک گزر رہا ہے اور نجانے کتنے برس اسے مزید گزر نا پڑیگا کیونکہ فوجی جنتا اقتدار پر قبضہ کرنے کے اپنے حق سے دستبردار ہو نے کو تیار نہیں ہے اور سیاستدانوں کو امورِ مملکت میں آزادنہ فیصلے کرنے کی اجازت دینے کے لئے رضامند نہیں ہے۔ جب محبِ وطن ہونے کے لئے فوجی ہونا ضروری قرار پا جائے تو پھر سیاستدان محبِ وطن کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اور جو محبِ وطن نہیں ہو سکتا تو پھر اس کا مقدر وہی پھانسی کا پھندہ جسے سیاست دانوں پر کئی دفعہ آزمایا گیا ہے۔
دو مئی کو اسامہ بن لادن کی گرفتاری کیلئے امریکی کمانڈوز نے پاکستان فوج کی رضامندی کے بغیریبٹ آباد میں جو اپریشن کیا اس نے فوجی جنتا کی برتری کو بڑی زک پہنچائی ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی کے سامنے فوجی جنتا کی نام نہاد سپر میسی کو جس طرح ہزیمت کاسامنا کرنا پڑا اس کیلئے وہ ذہنی طور پر تیار نہیں تھی ۔ قیامِ پاکستان کے بعد فوجی جنتا نے قومی سلامتی اور نظریہ پاکستان کے نام پر جس طرح کا تانا بانا بھنا ہو ا تھا وہ با لکل بکھر کر رہ گیا اور ان کی کارکردگی پر بڑے سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔ احساسَ ندامت سے ان میں قوتِ گویائی بھی نہیں بچی تھی کیونکہ ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ ہ دنیا کی بہترین فوج ہیں لیکن امریکی اپریشن نے ان کی سارے دعو وں کی کلی کھول کر رکھ دی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے جس طرح آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کو تندو تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا وہ ان کے وہم و گمان سے ماورا تھا لیکن یہ سب کچھ ہو اور ملک میں پہلی بار ہوا کہ فوجی قیادت کو اپنی نااہلی پر صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت پیش آگئی حا لا نکہ وہ تو خود سیا ستدانوں کو لائن حاضر کر لیتے تھے اور ان کی نا اہلی پر انھیں موردِ الزام ٹھہرا کر اقتدار پر قابض ہو جایا کرتے تھے۔ بہر حال ایبٹ آباد کی یہ نا اہلی اتنی بڑی تھی کہ پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا اور اس میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ فوجی جنتا ے اپنی نااہلی کو چھپانے کی بڑی کوشش کی لیکن یہ اتنی واضح تھی کہ یہ کسی بھی قسم کی صفائیوں سے چھپ نہیں سکتی تھی۔ اس بات کا کریڈٹ تو بہر حال مو جودہ جمہوری حکومت کو ہی جائے گا کہ اس نے اس طرح کی بریفنگ کا بندو بست کر کے فوجی جنتا کو  پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ کر دیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب فوجی جنتا اور موجودہ حکومت کے درمیان بد اعتمادی کی فضا قائم ہوئی۔ فوجی جنتا یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ پی پی پی کی حکومت نے جان بوجھ کر ان کی سبکی کا اہتمام کیا اور انھیں چھوٹے چھوٹے علاقائی لیڈروں کی پھبتیاں اور دھمکیاں سننے پر مجبور کیا ۔جو لوگ چھڑی کے ایک اشارے سے مخالفین کو مٹا دینے کے احکامات  جاری کرنے کے عادی ہوں انھیں اس طرح کی بریفنگ کیسے گوارہ ہو سکتی تھی یہی وجہ ہے کہ فوجی جنتانے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کاروائی کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور اس میں اپنی تضحیک کا پہلو محسوس کیا۔ فوجی جنتا کو احساس تھا کہ اگر ایک دفعہ کسی ادارے کا خوف دل سے نکل جائے تو پھر اس ادارے کی سپر میسی، برتری اور  تسلط کا خوف بھی دم توڑ جاتا ہے۔ یہ خوف ہی تو ہے جو کسی ادارے کی اصل قوت ہوتا ہے لہذ فوجی جنتا اس خوف کو ہر حال میں قائم رکھنا چاہتی ہے تا کہ اقتدار پر اس کی گرفت ہمیشہ مضبوط رہے اور کوئی سیاستدان ان کے سامنے کھڑا ہونے کی جسارت نہ کر سکے۔
فوجی جنتا کو کسی ایسے موقعہ کی تلاش میں تھی جس سے اسے جمہوری حکومت پر کاٹھی ڈالنے کا موقع مل جائے اور منصور اعجاز کے لکھے گئے میمو نے وہ موقع فراہم کر دیا ہے جس نے فوجی قیادت کو بڑا جارح بنا دیا ہے ۔ جمہوری حکومت تو پہلے ہی ان کے دبائو میں رہا کرتی تھی لیکن میمو کے مسئلے نے حکومت کو بہت زیادہ دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے ۔اب حکومت صفائیاں پیش کرتی رہے گی لیکن آخری فیصلہ وہی ہو گا جو کہ فوجی جنتا چاہے گی ۔ یہ بات کو ئی راز نہیں ہے کہ حسین حقانی اور فوجی جنتا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی تھی اور فوجی جنتا حسین حقانی کو پسند نہیں کرتی تھی کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ حسین حقانی فوجی جنتا کو جمہوری حکومت کے زیرِ سایہ دیکھنے کے متمنی  ہیں اور اس سلسلے میںحکومت کو خطرناک مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں۔ فوجی جنتا سمجھتی تھی کہ حسین حقانی پاکستانی مفادات کا تخفظ کرنے کی بجائے امریکی مفادات کا تخفظ کر تے ہیں۔ حسین حقانی کو میڈیا اور عسکری حلقوں میں پاکستانی سفیر کی بجائے امریکی سفیر کے لقب سے بھی پکارا جا تاتھا تاکہ اس کی شخصیت کو متنازع بنا دیا جائے لیکن حسین حقانی ان سارے الزامات سے بے خوف اپنی ڈگر پر محوِ سفر تھے  یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حسین حقانی کے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے بڑے قریبی مراسم ہیں اور انھیں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا ترجمان بھی کہا جاتا ہے۔ کیری لوگر بل میں شامل بہت سی ایسی دفعات جو فوجی جنتا کو جمہوری حکومت کے سامنے جوابدہ کر سکتی تھیں اس کا خالق حسین حقانی کو سمجھا جا تا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے واقعے میں بھی اسی کی طرف بہت سی انگلیاں اٹھا ئی گئی تھیں کہ اس نے ایسے لوگوں کو ویزے جاری کئے ہیں جو مشکوک تھے اور جن کے  بارے میں معلومات ناکافی تھیں۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ ویزے جاری کرنے کیلئے حسین حقانی کے اختیارات سلب کئے جائیں لیکن اس وقت کسی نے بھی اپوزیشن کے اعتراضا ت کو وزن نہیں دیا جس سے حسین حقانی کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور وہ فوجی جنتا کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے۔فوجی جنتا حسین حقانی سے ناخوش تھی اور اسے سفارت کے منصب سے ہتانا چاہتی تھی کیونکہ وہ یہ سمجھتی تھی کہ اس سے حکومت اور امریکہ میں دوستی کی جڑیں گہری ہو جا ئیں گی جو حکومتی فیصلوں میں فوجی جنتا کے اثرو رسوخ کو کم کر سکتی ہیں۔حسین حقانی کی انہی حرکات کی وجہ سے اس کے خلاف ایک سازش تیار کی جا رہی تھی جس میں اس پر وطن دشمنی کے الزامات لگائے جانے ضروری تھے تا کہ اسے عوامی نفرت کا نشانہ بنا کر بے آبرو کر دیا جائے۔ جب الزامات لگانے ہیں تو اس انداز سے لگائے جائیں جس سے وطن سے غداری پہلو زیادہ اجا گر ہو سکے تا کہ عوامی جذبات سے کھیلنے کے بہتر مواقع میسر ہو سکیں لیکن چونکہ اس وقت (مئی میں ) فوج بذاتِ خود مشکل میں تھی لہذا اس وقت حسین حقانی پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا اور قدرے تحمل اور برداشت کا کا مظاہرہ کیا گیا کہ اس وقت امریکی ناراضگی کا خطرہ بھی مول نہیں لیا جا سکتا تھا لیکن اب تو امریکی ناراضگی کا کہیں پر بھی شائبہ نہیںہے لہذا حسین حقانی پر بھر پور وار کر دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف ایک زمانے سے مہم چلائی جا رہی تھی تاکہ اسے بے آبرو کر کے سفیرِ پاکستان کی حیثیت سے فارغ کیا جائے لیکن ڈور کا کوئی ایسا سرا فوجی جنتا کے ہاتھ نہیں آرہا تھا جس سے حسین حقا نی کو کھینچا جا سکے۔ بلی کے بھا گوں ں چھینکا ٹوٹا کے مصداق منصور اعجاز کے میمو نے ساری مشکلات آسان کر دی ہیں اور حسین حقانی پر وطن سے غداری کا الزام دھر دیا گیا ہے تاکہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہ سکے اور یوں فوجی جنتا کی من مانیوں میں روڑے اٹکانے والاعبرت ناک انجام سے دوچار ہو کر نشانِ عبرت بن جائے۔سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ بھی اس کارِ خیر میں شامل ہو گئی ہے۔
ہمارے ہاں سیاستدانوں کو غدار کہنے کا رواج بہت پرا نا ہے اور اس روائت کا ابھی تک خاتمہ نہیں ہوا جس کی تازہ مثال حسین حقانی کو بنائے جانے کے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔میڈیا فوجی جنتا کے ساتھ مل کر اس کھیل میں ایک اہم رول ادا کررہا جب کہ پنجاب اس سازش کا ہراول دستہ ہے۔ ابھی تو انکوائری بھی عمل میں نہیں آئی لیکن مقتدر حلقوں کو خوش کرنے کیلئے میڈیا نے حسین حقانی کو ابھی سے مجرم  ثابت کرنے کی بھر پور مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ فوجی جنتا کے اشاروں پر محوِ رقص سیاست دان پوری تندہی سے حسین حقانی کو مجرم ثابت کرے پر تلے ہوئے ہیں اور اس کے خلاف دفعہ چھ (٦) کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ کوئی شخص یہ باور کرنے کیلئے تیار نہیں ہے کہ حسین حقانی جو کچھ کہہ رہا ہے اس پر بھی تھوڑا سا غورو عوض کر لیا جائے اور جب تک تحقیقات میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ثا بت نہیں ہو جاتا اس کی کردار کشی سے پر ہیز کیا جائے لیکن میڈیا پر خفیہ ہاتھوں کے اشاروں پر حسین حقانی کے خلاف مہم اپنے پورے عروج پر ہے اور حسین حقانی کو سزا دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ حسین حقانی وطنِ عزیز کی خاطر اپنے خاندان کی خدمات اور قربانیوں کا ذکر رکر رہا ہے لیکن کوئی اسے در خورِ اعتنا نہیں سمجھ رہا کیونکہ فوجی جنتا نے اسے اپنے بوٹوں کے نیچے کچلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور جسے فوجی جنتا اپنے بوٹوں تلے کچلنے کا فیصلہ کر لے تو پھر کس میں ہمت ہے کہ اس کی حمائت میںکھڑا ہو سکے کیونکہ کسی معتوب شخص کی حمائت میں کھڑا ہونے کا مطلب اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہو تا ہے اور مخصوص مفاد پرست سیاست دان اتنے نادان نہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے پھا نسی کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیں ۔ حسین حقانی پر غداری کے مقدمے کی کوئی ا ہمیت نہں ہے بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ فوجی جنتا حسین حقانی کی وساطت سے کسی اہم  ترین شخصیت کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتی ہے ۔ اگر فوجی جنتا نے سزا دینے کا فیصلہ کر لیا تو پھر کسی کا سزا سے بچ جانا معجزاتی فعل ہو گا کیونکہ فوی جنتا اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا ہنر خوب جانتی ہے ۔ جو گردن ایک دفعہ فوجی جنتا کے مضبوط ہاتھوں میں آجاتی ہے وہ اسے مروڑ کر رکھ دیتے ہیں اور موت ہی اس کا مقدر بنتی ہے۔اگر ماضی میں سیاستدانوں کے ساتھ ایسانہ ہوا ہوتا تو پھر ہم ان خیا لات کو شکوک و شبہات اور الزامات کہہ کر رد کر سکتے تھے لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہمارا ماضی لہو میں ڈوبی ہوئی عبرتناک داستانوں سے بھرا پڑا ہے لہذاایسے فیصلوں کا امکان بہت زیادہ ہے جس کا واحد مقصد کسی مخصوص شخصیت کو نشانہ بنا کر اپنے راستے سے ہٹانا، اقتدار پر قبضہ کرنا اور اسے عوام کی نگاہوں میں بے آبرو کرنا ہے کیونکہ پچھلی کئی دہائیوں سے یہی ہوتا آیا ہے اور جسے ترک کر دینے کے امکانات بالکل معدوم ہیں۔

تحریر :  طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای )

Share this:
Tags:
government tariq Zia-ul-Haq پاکستان ذولفقار علی بھٹو
Khamosh Tamasha
Previous Post سفر نامہ ٹرین
Next Post بھٹوکی پھانسی پرمٹھائیاں تقسیم کرنے والے بابر اعوان بتائیں
babar awan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close