Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مسلح جدوجہد

October 19, 2012October 19, 2012 0 1 min read
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT

سردار اختر مینگل نے آج کل اپنے چھ نکات کی وجہ سے پوری پاکستانی سیاست میں ایک کہرامی کیفیت پیدا کر رکھی ہے ۔مینگل خا ندان بلوچستان کا ایک بڑا ہی ہم خاندان ہے اوراس خاندان کو یہ اعزاز بھی حا صل ہے کہ سردار عطا اللہ مینگل کے بعد ان کے ہونہار فرزند سردار اختر مینگل بھی بلوچستان کی وزارتِ اعلی پر فائز رہ چکے ہیں جو کہ نسل در نسل اقتدار کا عندیہ دیتا ہے ۔سرداری نظام ایک تاریخی ورثہ ہے اور ہم نے اس تاریخی ورثہ کو آج بھی گلے لگا یا ہوا ہے۔

موجودہ جمہوری دور میں اس طرح کے مظاہر صرف سرداری نظام کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے معاشرے میں ہی دیکھے جا سکتے ہیں اور ہزار ہا دعو وں کے باوجود ہم نے ان غیر انسانی زنجیرں کو کاٹنے میں کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا یا ۔ذولفقار علی بھٹو نے ١٩٧٣ میں اس نظام کے خا تمے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ نظام پھر بھی جوں کا توں ہی قائم ہے۔ سردار عطا اللہ مینگل 1980 کے انتخا بات کے نتیجے میں وزیرِ اعلی بنے تھے لیکن بعد میں ان کی ملک دشمن سر گرمیوں او ر وفاق سے بغاوت کی وجہ سے ذولفقار علی بھٹو نے ان کی حکومت برخا ست کر کے فوجی ایکشن کا حکم دیا تھا جس کی وجہ سے کچھ بلوچ پہاڑوں پر چڑھ گئے تھے اورملک کے خلاف ایک مسلح جدو جہد شروع کر دی تھی۔ 1977 میں فوجی شب خون کے بعد عطاللہ مینگل لندن میں جلا وطن ہو گئے تھے اور اپنی ملک دشمن سر گرمیوں میں تیزی پیدا کر لی تھی۔یہ 1980 کی بات ہے کہ سردار عطا اللہ مینگل نے اپنی جلا وطنی کے دوران انگلینڈ میں حفیظ پیرزادہ اور ممتاز بھٹو کے ساتھ مل کر ایک سیاسی تنظیم بنائی تھی جس کی بنیاد کنفیڈریشن پر رکھی تھی۔اس میں چار علیحدہ علیحدہ آزاد ریاستوں کی بات کی گئی تھی جو ایک کنفیڈریشن کی صورت میں قائم ہو نی تھی۔ ہر ریاست کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ جب چاہے اس کنفیڈریشن سے علیحدہ ہو جائے کیونکہ وہ آزاد ریاست ہو گی اور آز اد ریاست کیلئے کنفیڈریشن کا حصہ بنے رہنے کیلئے کو ئی دبائو نہیں ہو گا۔

یہ نظریہ در اصل چار علیحدہ، آزاد اور خود مختار ممالک کا نظریہ تھا جسے کنفیڈریشن کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت کے حا لات کا تقاضہ تھا کہ اپنی بات کو اس طرح سے پیش کیا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹو ٹے ۔ کنفیڈریشن کا یہ نظریہ روئے زمین پر کہیں بھی عملی شکل میں تو موجود نہیں ہے لیکن سردار عطا اللہ مینگل ذاتی انا کی تسکین، اسٹیبلشمنٹ سے نفرت اور پنجاب کو نیچا دکھانے کیلئے اسے پاکستان میں رو بہ عمل لا ناچاہتے تھے۔اس نظریے کی بنیاد چونکہ نفرت پر تھی لہذا برگ و بار لانے سے محروم رہا۔ ان کے اس نظریے کی کچھ حلقوں نے بڑی تشہیر بھی کی تھی لیکن اس نظریے کو کوئی پذیرائی نہ مل سکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ عرصے کے بعد کنفیڈریشن کا یہ نظریہ اپنی موت آپ مر گیا اور عطا اللہ مینگل پاکستانی سیاست میں کوئی بھو نچالی کیفیت پیدا کرنے میں ناکام رہے۔اس زمانے میں عطا اللہ مینگل پاکستان کے بارے میں اتنے سحت لب و لہجہ کا ا ظہار نہیں کیا کرتے تھے جس طرح کا لب و لہجہ انھوں نے اب اختیار کر رکھا ہے ۔ در اصل کنفیڈریشن کے نظریے کی موت نے انھیں سخت مایوس کیا تھا اور اسی مایوسی نے انھیں اس راہ پر ڈال دیا تھا جس سے واپسی ان کیلئے ناممکن ہو چکی تھی ۔اب تو وہ کھلے عام پاکستان کو تسلیم نہ کرنے اور اسے توڑنے کی بات کرتے ہیں اور ہمارا میڈیا انھیں ایسا کہنے کا موقع فراہم کرتا ہے حالانکہ اس طرح کی سوچ پر تو آئین کو حرکت میں لایا جا نا چائیے اور جو شخص پاکستان کی اساس اور اس کے وجود پر حملہ کرنے کی ناپاک جسارت کرتا ہو اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے عبرت ناک سزا دی جانی چائیے ۔ملکی بقا اور سلامتی کے خلاف اس طرح کی دریدہ دہنی نئے غداروں کو جنم دیتی ہے جو ملکی سالمیت پر گہرے وار کرتے ہیں اور ملک کی بقا کو دائو پر لگا دیتے ہیں۔سردار عطا اللہ مینگل سے باز پرس نہیں کی گئی تواس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج کئی سردار عطا اللہ مینگل پیدا ہو چکے ہیں جو کھلے عام پاکستان کو توڑنے کی بات کرتے ہیں اور جن کی نفرت انگیز سوچ کی وجہ سے بلوچستان لہو میں نہا رہا ہے۔

سردار عطا اللہ مینگل آج کل ایک آزاد اور خود مختار بلوچستان کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں اور اس کیلئے انھوں نے مسلح جدو جہد کا راستہ اپنایا ہوا ہے۔حیر ان کن بات یہ ہے کہ باپ کی کنفیڈرل سوچ کے باوجود ان کے فرزندِ ارجمند سردار اختر مینگل بلوچستان کے وزیرِ اعلی بنائے گئے تھے جس کی وجہ سے کنفیڈریشن کے نعرے کا رہا سہا دم خم بھی ختم ہو گیاتھا کیونکہ اقتدار کے دنوں میں کنفیڈریشن کی نعرہ بازی بند ہو گئی تھی۔ جب اقتدار پہلی ترجیح بن جائے اور ہوسِ اقتداردل و دماغ پر قبضہ کر لے تو نظریات کے ساتھ ایسا ہی ہوا کرتا ہے اور یہی کچھ کنفیڈریشن کے نعرے کے ساتھ بھی ہوا تھا۔سردار کو اقتدار سے غرض ہو تی ہے اور کنفیڈریشن کا نعرہ بھی سیاسی دبائو بڑھانے اور اقتدار حاصل کرنے کا ایک حربہ تھا ۔ اس نعرے کے خا لقوں کو بھی علم تھا کہ پاکستانی قوم پاکستان کے اتحاد اور بقا کیلئے سب کچھ دائو پر لگا سکتی ہے لیکن انھوں نے پھر بھی کنفیڈریشن کا نعرہ لگایا محض اس وجہ سے کہ اقتدار حاصل کرنے کا ایک یہ بھی راستہ تھا اور اس راستے سے انھیں اقتدار ملا لیکن ہر بار عید نیست کہ حلوہ خورد کسے۔

بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جس میں سدا ہی سرداروں اور نوابوں کی حکومت رہی ہے اور یہ سارے سردار اور نواب حکومت سے مالی مراعات وصول کرتے ہیںلیکن عوام کو کچھ نہیں بتاتے ۔جب سرداروں کا طبقہ اقتدار میں ہو تا ہے تو اسے نہ تو بلوچستان کے عوام کا درد ستاتا ہے اور نہ ہی ان کی بد حا لی ستاتی ہے اور نہ ہی ان کی محرومیاں یاد آتی ہیں بلکہ وہ اقتدار کے نشے میں مست رہتے ہیں اور اس نشے میں ہر چیز ہوا ہو جاتی ہے۔ایسا بگٹی، جمالی،جام،عمرا نی، رئیسانی ،مینگل،مری اور دوسرے خا ندانوں نے بھی کیا۔جمہوریت کا کمال یہ ہے کہ اس میں سب کو اپنی رائے دینے کا اختیار حاصل ہو تا ہے لہذا جو جماعت بھی عوامی رائے پرپوری اترتی ہے اسے حکومت سازی کا اختیار حاصل ہو جا تا ہے۔اب ہر سردار کی دلی خوا ہش ہو تی ہے کہ بلوچستان کے سارے خزا نوںکا وارث اسے بنا دیا جائے اس بات سے قطع نظر کہ اس کی نام نہاد سیاسی جماعت کو عوامی حمائت حاصل ہے یہ کہ نہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے مارشل لائی دور میں بلوچستان کی ساری جماعتوں نے انتخا بات 2002 میں حصہ لیا تھا لیکن فروری2008 کے انتخابات میں با ئیکا ٹ کر کے اپنے پائوں پر خود ہی کلہاڑی ما ر لی تھی ۔ میاں محمد نواز شریف کی ا یما پر انھوں نے ایسا کیا تھا لیکن میاں محمد نواز شریف نے خود انتخابات میں حصہ لے کر ان کے ساتھ عہد شکنی کی تھی۔ اگر بلوچستان کی اہم سیاسی جماعتیں انتخانات میں حصہ لیتیں تو پھر ملکی معاملات میں ان کی مضبو ط آواز ہو تی لیکن انھوں نے بائیکاٹ سے اپنی آواز کو خود ہی کمزور بنا لیا تھا ۔ اب نگر نگر ڈھنڈورا پیٹنے سے کچھ نہیں ہو گا ۔ مسلح جدو جہد کہیں پر بھی بار آور نہیں ہو سکتی۔ کشمیری پچھلے 64سالوں سے مسلح بغاوت پر اترے ہوئے ہیں لیکن ان کی کہیں پر بھی شنوائی نہیں ہو رہی ۔اگر وہ جمہوری راہ اپناتے تو شائد اب تک کشمیر آزاد ہو چکا ہو تا ۔کشمیر کا مقدمہ تو بڑا ہی واضح ہے کہ ایک آزاد مسلم ریاست پر بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کر کے اسے زبر دستی بھارت کا حصہ بنا لیا تھا جو تقسیمِ ہند کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی تھی ۔ بھارتی حکومت نے ہر اصول اور ضابطے کو پسِ پشت ڈال کر کشمیر پر قبضہ کر لیا کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا اور اسے شہ رگ کو اپنے انگوٹھے کے نیچے رکھنا تھا ۔ لاکھوں لوگوں کی جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود آزادی کشمیریوں سے کوسوں دور ہے کیونکہ انھوں نے جمہوری راہ کو چھوڑکر مسلح جدو جہد کی راہ کا انتخاب کرلیا حالانکہ جس طرح ان کی آزادی کو بالجبر سلب کیا گیا تھا ان کے پاس ایسا کرنے کا بڑا مضبوط جواز تھا لیکن پھر بھی مسلح جدو جہد مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتی ۔کشمیر کے تنازعے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن بھارت پھر بھی کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

کشمیری جانیں لٹا رہے ہیں لیکن انکی قربانیاں رنگ نہیں لا رہیں کیو نکہ انھوں نے جس راہ کا انتخاب کیا ہے وہ موجودہ دنیا کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔یہ دور جمہوری اور شخصی آزادیوں کا دور ہے جس میں جمہوری قدریں فتح یاب ہو رہی ہیں ۔ کشمیری اگر انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے اس میں حصہ لے کر اسمبلیوں تک پہنچتے اور اپنا نکتہ نظر اسمبلی میں پیش کرتے تو ان کی آواز زیادہ موثر اور جاندار ہوتی اور دنیا اسے وزن دے کر کوئی حل تلاش کرتی۔بلوچستان کا معاملہ تو بالکل مختلف ہے یہ مسلم اکثریتی علاقہ تھا اور اس نے بر رضا ئے رغبت دل کی کامل یکسوئی کے ساتھ آزادی کے فارمولے کے تحت پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی ۔پاکستان بلوچوں کے دل کی آواز تھا،بلوچوں کے دل کی آواز ہے اور بلوچوں کے دل کی آواز ر ہیگا اور اس آو از کو کوئی مسلح جد و جہد نہ کچل سکتی ہے نہ دبا سکتی ہے۔

Balochistan
Balochistan

پاکستان سے محبت بلوچوں کے لہو میں رچی بسی ہے اور پھر بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے جسطرح اپنے لہو سے پاکستان کے دفاع کیلئے اپنی شجاعتوں کے چراغ روشن کئے ہیں وہ ہر پاکستانی کیلئے باثِ فخر ہیں لہذا کچھ گروپوں کی جانب سے مسلح جدو جہد سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے کیونکہ بلوچ عوام دل و جان سے پاکستان سے محبت کرتے ہیں ۔کشمیریوں کے دل کی آواز بھی پاکستان تھا لیکن کشمیری راجہ نے کشمیریوں کی خواہشوں کے برعکس ایک سازش کے تحت کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کردیا جس کی شہ پا کر بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا جو آج تک جاری ہے۔ جہادی تنظیموں نے جس طرح سے کشمیر کی فضا کو مبارزاتی،مخاصماتی اور اسلحے کی زبان عطا کر رکھی ہے اس سے کشمیر کی آزا دی کوسوں دور چلی گئی ہے اور بھارت کو پرو پیگنڈے کا موقع میسر آگیا ہے ۔ کشمیریوں کو انتخابی سیاست پر لبیک کہتے ہوئے آزادی کی جنگ جاری رکھنی ہو گی جیسے برِ صغیر پاک وہند میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے جاری رکھی تھی۔

قائدِ اعظم محمد علی جناح نے سیاسی میدان خالی نہیں چھوڑا تھا اور نہ ہی بائیکاٹ اور ہڑتالوں کا سہارا لے کر ووٹ کی قوت سے دستبرداری اختیار کی تھی ۔ انھوں نے انگریزوں سے جمہوری انداز میں جنگ لڑی تھی اور 1945 کے انتخابات میں ایک علیحدہ وطن کے نام پر ووٹ حاصل کر کے مخالفین کو شکستِ فاش سے دوچار کیا تھا ۔کیا کشمیری اس انداز کو اپنا کر اپنی فتح کی راہ ہموار نہیں کر سکتے۔

تحریر : طارق حسین بٹ( چیرمین پیپلز ادبی فورم یو اے ای)

 

Share this:
Tags:
Balochistan pakistan TARIQ BUTT بلوچستان پاکستان
Eid Holidays
Previous Post حکومت نے عید پر چار چھٹیوں کا اعلان کر دیا
Next Post بھارتی طیارے میں مسافروں کی ہنگامہ آرائی
Indian plane

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close