Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔دروغ گوئی ۔۔۔

December 2, 2011 0 1 min read
Asif Ali Zardari
Asif Ali Zardari
Asif Ali Zardari

آصف علی زرداری ایک ایسا نام جس کے دوستوں اور دشمنوں کی کوئی کمی نہیں ہےْ۔ اس کا مسندِ صدارت پر فائز ہو نا ایک ایسا کارنامہ تھا جسے ابھی تک اس کے مخالفین ہضم نہیں کر پائے۔پنجاب کی حکومت کو لولی پاپ دے کر اس نے میاں برادران کو جس خوبصورت انداز سے سیاسی مفاہمت پر آمادہ کیا اوہ اس کے زرخیز ذہن کی عکاسی کرتاہے۔ وہ تمام موقع پرست اور سینئر سیاستدان جو آصف علی زرداری کو سیاست میں نو آز مودہ اور نا تجربہ کا ر سمجھتے تھے وہ آصف علی زرداری کی سیا سی چالوںکی تندی اور گہرائی کا ساتھ نہ دے سکے اور راستے میں ڈھیر ہو گئے۔ آصف علی زرداری کی سیاسی کامیابیوں سے اس کے مخالفین حسد کی آگ میں جل رہے ہیں اور اس کی مخالفت میں اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ آصف علی زرداری مفاہمتی سیاست سے جمہوریت کا بچانے میں مصروف ہیں اور بہت سی سرکش قوتوں کو ملکی معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لینے سے روکے ہوئے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی مفاہمتی سیاست کے فلسفے پر آصف علی زرداری جس صبر برداشت اور رواداری سے عمل پیرا ہیں اس نے سب کو حیران کر دیا ہے ۔ان کے سخت ترین ناقدین بھی ان کی صفتِ برداشت، صبر ،مفاہمت اور رواداری کے قائل ہو گئے ۔ انھوں نے تمام حلقوں سے اپنے معاملات میں جس طرح توازن قائم رکھا ہے اس نے ان کی اقلیتی حکو مت کو چار بجٹ پیش کرنے میں بڑی مدد دی اور اب سینٹ کے مارچ میں ہونے والے انتخابات آصف علی زرداری کی سیاسی پوزیشن کو مزید مستحکم کر دیں گئے اور ان کی آئندہ صدارت کے منصب پر فائز رہنے میں بنیادی کردار ادا کریں گئے۔ آصف علی زرداری کے دشمن جب اسے سیاسی میدان میں شکست دینے میں ناکام رہے تو انھوں نے اس کے خلاف سازشوں کا جال بھنانا شروع کر دیا تا کہ اقتدار سے اس کی رخصتی کا بندو بست کیا جائے۔کبھی این آر او کا سہارا لیا جاتا ہے اور کبھی گو زرداری گو کی گردانیں دھرائی جاتی ہیں۔ کبھی جلسے جلوسوں کی سیاست سے ملک میں افرا تفری کی فضا تخلیق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی مقتدر حلقے تحریکِ انصاف کی شکل میں عمران خان کو تھپکی دے کر پی پی پی حکومت کو ختم کرنے کے کارِ ِ خیر کا مشکل ترین فرض سو نپتے ہیں تا کہ ملکی سیاست میں افراتفری سے مقتدر حلقوں کو پی پی پی کی حکومت کی چھٹی کرونے کا جواز مہیا ہو سکے۔ لیکن باعثِ حیرت ہے کہ مخالفین کی کوئی بھی تدبیر کارگر نہیں ہو رہی کیونکہ پی پی پی ایک عوامی جماعت ہے اورووٹوں کی قوت سے ا قتدار میں آئی ہے لہذا اس کا موازنہ جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت سے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے جلسے جلوسوں سے مرعوب کیا جا سکتا ہے کیونکہ عوامی اندازِ سیاست اور جلسے جلوسوں کی سیاست کی تو خود پی پی پی بانی ہے لہذا اسے ایسے ہتھکنڈو ں سے خوفزدہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ پی پی پی کی سیاست کا تو نعرہ ہی یہی ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں لہذا وہ تو  ہر مسئلے پر عوام کو متحرک رکھتی ہے اور انکی رائے سے ملکی معاملات چلانے پر یقین رکھتی ہے ۔ کیا کبھی آگ کو آگ سے بھی سرد کیا جاتا ہے؟ آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے پانی کی ضرورت ہو تی ہے لہذا پی پی پی کی حکومت ختم کرنے کے لئے جلسے جلوسوں کی نہیں بلکہ کسی سازش کی ضرورت ہے اور یہی سازش آجکل مقتدر حلقوں میں جنم لے رہی ہے لیکن اس کی شکل کیا ہو گی یہ کیسے روبہ عمل آئے گی اور اس کا حکم کون صادر فرمائے گا ابھی یہ سب کچھ دیکھنا باقی ہے۔ پی پی پی کے خلاف تو ہمیشہ ہی سازشیں ہوتی رہی ہیں اور یہ ان سازشوں کا مقابلہ کر کے جمہوریت کے لئے اپنی جدو جہد سے ان سازشوںکو ناکام بنا تی رہی ہے اب ایسی ہی سازشوں کا سامنا آصف علی زرداری کو بھی ہے دیکھئے وہ اس کو کیسے ناکام بناتے ہیں۔ ایک چیز طے ہے کہ اس سازش کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے متعلقہ کھلاڑ ی ٰ اپنا اپنا رول ادا کرنا شروع ہو گئے ہیں ۔ کیا یہ تمام کھلاری ٰ اپنا اپنا کردار صھیح ادا کر پائیں گئے یا کسی انہونی کا شکار ہو کر سارا لکھا ہوا سکرپٹ بھول جا ئیں گئے۔صدر کی مشاقی اور سازشیوں کی سازشوں اور مکر بازیوں کا امتحان ہے دیکھئے اس امتحان میں کون فتحیاب ہو تا ہے۔ تحریکِ انصاف کے چیرمین عمران خان کے ٣٠ اکتوبر کو لاہور کے جلسے کے پسِ منظر میں پنجاب اگلے انتخابات کا مرکزی نقطہ بن رہا تھا اور اس صوبے میں سیاسی ٹمپریچر میں تندی کے آثار نظر آرہے تھے ۔ میاں برادران کا فیصل آبا د کا حالیہ جلسہ اس تاثر کو کافی حد تک زائل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے فیصل آباد کے اس جلسے نے پنجاب میں میاں برادران کی گرتی ہو ئی ساکھ کو سہارا دیا ہے اور اس مفروضے کو غلط ثابت کیا ہے کہ میاں برادران پنجاب میں اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں ۔ یہ واقعی ایک بڑا جلسہ تھا جس میں میاں محمد نواز شریف کی ذاتی شرکت نے اسے پر جوش بنا دیا تھا۔ جلسوں کی منصوبہ بندی کے حوالے سے ان کا اگلا جلسہ گوجرانوالا میں ہونا طے پا یا تھا تا کہ وہ تمام علاقے جہاںپر مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک زیادہ ہے وہاں فاصلوں کو کم کر کے اپنے حمائیتوں اور ووٹروں کو اپنے قریب کیا جائے تا کہ کوئی دوسری جماعت اس پر نقب نہ لگا سکے لیکن بوجوہ گوجرا نوالہ کے جلسے کو منصوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ فیصل آباد کے جلسے نے ان کی توقعات کی متزلال سوچ کو جس طرح سے پھر مجتمع کیا تھا اس کی روشنی میں شائد اس جلسے کی اتنی ضرورت باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اپنی اس حکمتِ عملی میں مسلم لیگ (ن)کو کا میابی نصیب ہوئی ہے۔ اب یہ پی پی پی کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ  جلسے جلسوں کے سیاسی فن کا اظہار کرے تا کہ پی پی پی کے جیالے بھی پر جوش رہیں کیوکہ زیادہ خاموشی بھی سیاسی کارکنوں میں بد دلی پیدا کرتی ہے۔ جیالے تو جب تک ہنگامہ آرائی اور ہلا گلا نے کریں انھیں سیاست بے رگ اور بے مزہ سی لگتی ہے۔ یہ پی پی پی کی سیا سی قیادت کا فرضِ اولین ہے کہ وہ کارکنوں سے رابطے رکھے تا کہ ورکرز توانا اور متحرک رہیں۔ ابھی سیاسی گہما گہمی کا ایک ماحول تخلیق ہو رہا تھا جس سے عوام بھی لطف اندوز ہو رہے تھے کہ کہ ا مریکی نژاد منصور اعجاز نے پاکستانی سفیر حسین حقانی کے خلاف ایک نیا شوشہ چھوڑ کر ساری سیاسی بساط کا رخ موڑ دیا۔ اس نے حسین حقانی اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری پر الزامات لگا کر پوری قوم کو ذہنی طور پر اس میمو کی تحریر میں ا لجھا دیا ہے۔اس نے اس میمو کو تحریر کروانے کی ساری ذمہ داری حسین حقانی پر ڈالی دی ہے اور جسکے ڈانڈے وہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ساتھ ملا رہے ہیں۔سازش کا اصل ہدف صدرِ مملکت آصف علی زرداری ہیں دیکھئے وہ اس سازش کو کیسے ناکام بناتے ہیں۔
ہمراہ میڈیا منصور اعجاز کو پاکستان کے سچے ہمدرد اور ایک ایسے پاکباز انسان کے روپ میں پیش کرنے کی کو شش کر رہا ہے جس کا مقصد پاکستانی مفادات کا تخفظ کرناہے۔ کچھ حلقے یہ ثابت کرنے کے جتن کر رہے ہیں کہ منصور اعجاز کو پاکستانی عزت اور وقار بہت عزیز ہے اسی لئے اس نے مناسب سمجھا کہ وہ میمو کے راز کو فاش کر دے تاکہ پا کستان کے مفادات اور اس کا وقار مجروح نہ ہو نے پا ئیں۔ بڑی دیر کے بعد منصور اعجاز کو خیال آیا کہ آئی ایس آئی کے خلاف لکھے گئے مجوزہ میموسے پاکستانی حکومت کا آگا ہ کر دینا ضروری ہیکہ اس کا سفیر ملکی معاملات اور آئی ایس آئی کے بارے میں کس طرح کے خیالات رکھتا ہے ہائے اس زود پشیمان کا پشیماں ہونا کا شعر منصور اعجاز پر بالکل صادق آتا ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ منصور اعجاز ایک دروغ گو شخص ہے جس کے الفاظ پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی دروغ گوئیاں زبان زدہ خا ص و عام ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ جب اس نے اپنے دوست جنرل جیمز جونز کی وساطت سے متنازع میمو جنرل مائک مولن کے دفتر میں پہنچوایا تو اس پر کسی نے توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ اگر منصور اعجاز کی کوئی ریپو ٹیشن ہو تی اور کوئی کریڈیبیلیٹی ہو تی تو مائک مولن ا س کے بھیجے گئے میمو کو در خورِ اعتنا سمجھتے اور اس پر مزید کاروائی کا حکم دیتے لیکن انھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ۔ منصور اعجاز کے والدِ محترم ڈاکٹر مجدد احمد اعجاز کیساتھ بھی جس قسم کی کہانیاں منسلک ہیں وہ بھی کوئی حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ عجیب صورتِ حال ہے کہ منصور اعجاز کے انکشافات کو جب امریکی حکومت کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے تو پھر ہم اس کے ایک ایک لفظ کو صحیفہ آسمانی سمجھ کر کیوں گلے سے لگا رہے ہیں۔
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈئر یکٹر جنرل پاشا  اسی میمو کی بنیاد پر حسین حقانی پر آگ بگولا نظر آرہے ہیںحا لانکہ ان کی نظر سے منصور اعجاز کی آئی ایس آئی اور پاکستان کی دوسری خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں ہرزہ سرائیاں اور لن ترانیاں بالکل پوشیدہ نہیں ہیں۔ انھیں اچھی طرح سے علم ہے کہ منصور اعجاز کیا چیز ہے اور اس کے دماغ میں پاکستان کے خلاف کس قسم کا زہربھرا ہوا ہے۔ فوجی قیادت کو اس طرح سے ری ایکٹ نہیں کرنا چائیے تھا جس طرح انھوں نے ری ایکٹ کیا ہے۔ فوجی قیادت کے اس طرح کے جذباتی ری ایکشن نے ہمارے حساس اداروں کی فکری سطح کا پول بھی کھول کر رکھ دیا ہے۔اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی میلانات، خیالات اور رحجانات کو ریاست کی بدنامی سے ز یادہ اہم سمجھتے ہیں۔ ا مریکہ میں متعین سفیر کو یوں بے آبرو کر کے مستعفی ہونے پر مجبور کرنا اس بات کا بھی غماز ہے کہ ہما ری انانیت اور ذاتی پسندو ناپسند ہمیں کوئی بھی غیر مناسب قدم اٹھانے پر اکسا سکتی ہے چاہے اس کیلئے کوئی ٹھوس جواز بھی موجود نہ ہو۔ ریاستیں اور ملک اس طرح سے نہیں چلائے جاتے، اس کیلئے دانش حکمت اور برداشت کے اصولوں کی پیروی کرنی پڑتی ہے جسے میں اس وقت اپنے ملک میں رو بہ زوال ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔دنیا کیا سوچ رہی ہو گی کہ ہم اپنے سفراء سے کس قسم کا برتائو کرتے ہیں۔ ہم کیسی قوم ہیں کہ ہم اپنے سفیر کی سرِ عام تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے بلکہ ان پر الزامات لگا کرانھیں سزا کا مستوجب بھی ٹھہراتے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے تو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ایک شخص جو امریکہ میں پاکستان کا سفیر ہے کیا اس کی گواہی اس شخص سے کمتر ہے جس کی دروغ گوئی پر سب متفق ہیں ۔ حسین حقانی دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ میں پاکستان کاسفیر تھا اور اس سفار ت پر فائز شخص معمولی صلاحیتوں کا مالک نہیں ہوتا لیکن ہم نے جسطرح اپنے سفیر کا تماشہ پوری دنیا میں بنایا ہے وہ بھی باعثِ شرم ہے اگر بات یہی تک رہتی تو بھی قابلِ برداشت تھی لیکن منصور اعجاز تو پا کستانی فوج آئی ایس آئی اور دوسری پاک ایجنسیوں کا انتہائی سخت مخالف رہا ہے اور اس نے پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کے خلاف عالمی سطح پر ایک مہم بھی چلا رکھی ہے جسکا واحد مقصد پاکستانی فوج کو نیچا دکھانا اور ہماری ایجنسیوں کو دھشت گرد کاروائیوں کا سرغنہ ثا بت کرنا ہے۔منصور اعجاز اور بھارت کے تعلقات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں لہذا س میں انڈین سازش بڑی صاف اور واضح نظر آرہی ہے جسکا واحد مقصد پاک امریکی دشمنی کو ہوا دینا ہے اور ان دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔ منصور اعجاز انڈیا اور اسرائیلی حمائتی ہے اور اسکی سرگرمیاں ان دونوں ممالک کی تقویت کا باعث ہوتی ہیں جس میں وہ ہمیشہ پیش پیش ہو تا ہے۔ منصور اعجاز نے پاکستانی فوج اور اسکی ایجنسیوں کے خلاف اپنے نظریات کو کبھی بھی نہیں چھپایا بلکہ اسکا ببانگِ دہل اعلان کیا ہے کہ پاکستانی فوج دھشت گردوں کی پناہ گاہ ہے لیکن آج اسی منصور اعجاز کے شر انگیز الفا ظ  پر ہماری فوج اور خفیہ ایجنسیاں یوں متحرک ہوئی ہیں جیسے انکے ہاتھ کوئی گہرِ نایاب آ گیا ہے۔
تحریر :  طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای )

Share this:
Tags:
Nawaz Sharif pakistan Punjab زرداری سیاست میاں برادران
national assembly
Previous Post نیٹو حملہ: پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا
Next Post لاہور: سید حمید مراد عادل انتقال کر گئے

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close