Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آمد سال نو

December 30, 2018 0 1 min read
2019 Year
2019 Year
2019 Year

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ایک سال بھرکی عمرعزیزگویاایک پگھلتی ہوئی برف کی سل ہے جو ہر ہر لمحے اپنے وجود سے عدم کی طرف گامزن ہے۔اگرچہ فرد کے سال کاآغازتواس کی پیدائش سے ہی ہوجاتاہے لیکن ظاہرہے کہ ہرہرفرد کے لیے الگ الگ سے کیلنڈر بناناتو ممکن نہیں پس صدیوں سے انسان نے اپنے اجتماعی نظام کی بارآوری کے لیے ایک سال کی مدت کو اپنارکھاہے،اسی کیلنڈر سے مہینوں ،ہفتوں اور دنوں کاحساب بھی چلتاہے،یہیں سے موسموں کے تغیر کو بھی تخمین کر لیاجاتاہے اور یہیں سے فصلوں ،نسلوں اور قوموں کی پختگی وعروج و زوال کے دورانیے کا فیصلہ بھی کرلیاجاتاہے۔دنیابھرکے کم و بیش تمام مذاہب بھی اپنا اپناجداگانہ کلینڈر رکھتے ہیں اور اسی کیلنڈر کے مطابق جہاں انکے مذہبی سال کا آغاز ہوتاہے وہیں ان کے جملہ مذہبی تہوار بھی اسی کیلنڈر کی تاریخوں کے تحت استوار کیے جاتے ہیں۔تہذیبیںچونکہ ہمیشہ سے مذاہب کے زیراثر رہی ہیں اس لیے اگر کہیں کسی تہذیب نے اپنا الگ سے بھی کیلنڈر بنایاتو وہ مذہب کی گرفت سے نکل نہ سکا۔جیسے کہ یورپی سیکولرتہذیب نے اگرچہ اپنے آپ کو مذہب سے جداکرنے کا نعرہ لگایااور علیحدہ کیلنڈر بھی ترتیب دیا لیکن اسے مذہب عیسائیت کے اثرات سے بچانہ سکے ۔چنانچہ انسانوں کی بہت بڑی تعداداور حکومتیں بھی پوری دنیا میں اس وقت عیسوی کیلنڈرکورائج کیے ہوئے ہیںاورحضرت عیسی علیہ السلام کی اصل تعلیمات چونکہ مسلمانوں کے پاس ہیں اور وہ بھی اسی طرح دین اسلام کے سچے نبی تھے جس طرح باقی کل انبیاء علیھم السلام بشمول محسن انسانیت خاتم الانبیاء ۖ تھے اسی لیے یہ کیلنڈر بھی کلیة اسلامی کیلنڈر ہے ۔قرآن مجید نے برملا دیگرمذاہب کو اپنی مشترکات کی طرف دعوت دی ہے اس لیے یہ ایک خوش آئند امر ہے سال عیسوی مسلمانوں اور مذہب مسیحی کے درمیان ایک قدر مشترک ہے۔

اﷲ تعالی نے قرآن مجیدمیں ارشاد فرمایا کہیٰاَیُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِح اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ(٨٤:٦) ترجمہ:”اے انسان تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف بڑھتاچلا جا رہا ہے ااوراس (اپنے رب )سے ملنے والاہے”ایک حدیث نبویۖ کے مطابق انسان اپنی ماں کے پیٹ میںہی ہوتاہے اور اس کی مدت حیات لکھ دی جاتی ہے۔چنانچہ انسان اپنے انجام کی اطلاع کے ساتھ اپنے آغاز کا افتتاح کرتاہے۔بچپن، لڑکپن،شباب،ادھیڑ عمراور پھر بڑھاپا انسانی زندگی کے عمومی مراحل ہیںجوسالوں پر محیط ہیں۔بڑھاپے کے بارے میں قرآن مجید نے فرمایا کہ وَ مَنْ نُّعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ(٣٦:٦٨)ترجمہ:”جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم الٹ ہی دیتے ہیں،کیا(یہ دیکھ کر)انہیں عقل نہیں آتی”۔یعنی بڑھاپے کی حالت میں انسانی نفسیات بچپنے کی لوٹ جاتی ہے۔سالوں کاپیمانہ انسانی عمر کوناپنے کے کام بھی آتاہے۔پس بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ گزشتہ امتوں میں لمبی لمبی عمریں ہواکرتی تھیں،جیسے حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نوسوسال عمر پائی تھی۔ایک روایت کے مطابق گزشتہ امتوں میں ایک نبی علیہ السلام کاگزرایسی عورت پر ہواجوکسی قبر پر بیٹھی رورہی تھی،اس نبی علیہ السلام نے وجہ پوچھی تواس بڑھیانے کہا کہ اس کاچارسوسالہ جوان بیٹافوت ہو گیاہے اور وہ ساٹھ سال سے یہاںبیٹھی رورہی ہے۔وہ نبی علیہ السلام مسکرائے اور فرمایا کہ ایک ایسی امت بھی آئے گی جس کی کل انفرادی مدت حیات ہی ساٹھ سالوں پر محیط ہوگی اور اس امت کے لوگ لمبے لمبے منصوبے اور اونچی اونچی عمارات بنائیں گے۔نبی علیہ السلام کی اس سچی پیشین گوئی پر وہ بوڑھی خاتون بڑی حیران اور ششدر ہوئی کہ اتنی چھوٹی اور مختصر عمراور اتنی لمبی لمبی امیدیں۔آج کی نسل انسانی کاتعلق اسی قبیل سے ہے۔

محسن انسانیت ۖ نے فرمایا ”جس کاآج اس کے گزشتہ کل سے بہتر نہیں وہ تباہ ہوگیا”۔”سال” ایک فرد کی انفرادی و ذاتی زندگی کا ایک بہت بڑا دورانیہ ہوتاہے،ایک سال کے دوران کئی منصوبے،بے شمارارادے اور کتنے ہی ترتیب دیے ہوئے انسانی قیاسات و اندازے و تخمینے گزر جاتے ہیں،سال کے آخر میں انسان سوچتا ہے کہ ان میں سے کتنے پایہ تکمیل کو پہنچے ،کتنے ہنور زیر تکمیل ہیں اور کتنے ہی ہیں جو محض ہوا میں تحلیل ہو کر آرزوؤں،خواہشات اور امنگوں کی شکل اختیارکرکے تو وقت کہ دبیزتہہ میں دب کر قبرماضی میں دفن ہو چکتے ہیں۔ان میں سے کچھ کی کسک سینے میں چھبتی رہتی ہے اور کچھ نسیان و فراموشی کی منزل کو پا لیتے ہیںگویاارادے سے شعور اور شعور سے تحت الشعور اور پھر لاشعور کے راستے انسانی وہم و گمان سے باہر نکل جاتے ہیں۔ پس اس خاص تناظر میں مذکورہ بالا قول رسولۖکتنا برموقع ہے کہ اگرچہ ہر دن کے اختتام پر خوداحتسابی کے عمل پیہم سے گزرناایک خوشگوار عادت ہے لیکن دن کے حجم کو ایک سال کی وسیع ترمدت پر قیاس کیاجائے تو تصویر بہت کچھ واضع ہو جاتی ہے اور انسان اپنا کچھا چٹھاخود سے ملاحظہ کر کے اپنی بڑھوتری یا خسارے کااندازہ لگا لیتاہے۔

سال کااختتام جب ایک فرد کی زندگی میں ہوتاہے تواس کی زندگی کاایک سال کم ہوجاتاہے گویااس کو کل عمر میں ایک سال کے نقصان کاسامنا کرنا پڑ گیا،اس موقع پر اسے اپنے نقصان کو فائدے میں بدلنے کی فکرکرنی چاہیے اور بڑی سنجیدگی سے آئندہ کالائحہ عمل اس طرح ترتیب دینا چاہیے کہ آنے والے سال کے نقصان پر اس کا سالانہ گوشوارہ فعل و عمل اسے سال بھرمیں امیدویقین کے درمیان نظر آئے نہ کہ خسارہ و پشیمانی اسے لاحق ہو جائے۔اپنے بچوں کی تاریخ پیدائش پر یہی امر ان کے ذہن نشین کرایا جائے کہ بار الہ سے جو مہلت عمل ملی تھی اس میں ایک سال جیسی لمبی مدت کی کمی ہو چکی ہے جس کاحساب دیناہے،پس اپنے ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک خط فا صل دراز کر کے خود احتسابی کرو کہ گزشتہ سے آئندہ کو کیسے بہتر بنایا جاسکتاہے۔نوآبادیاتی سیکولر تہذیب نے اپنی مدت عمر میں ایک سال کے نقصان پر جس سالگرہ کے منانے کا بے ہودہ اور لایعنی تصور دیاہے وہ حقیقت سے دور دور تک بھی کوئی متعلق نہیں ہے۔نقصان پر خوشی کے اظہارکاتعلق ذہنی پسماندگی سے تو ہوسکتاہے فکری بالیدگی سے بہرحال اس کاکوئی جوڑ نہیں ہے۔ایک بچے کے ساتھ یہ ایک سنگین مذاق ہے کہ اس کی عمر کاایک اور سال مکمل ہونے پر لہوولعب اور خرافات و واہیات پرمبنی محافل جمائی جائیں اور بھاری بھرکم تحائف کی ادائگی سے انسانیت کے ناتواں کاندھوں پر ناروا بوجھ کا لاحاصل وزن ڈال دیاجائے۔

اسی طرح ہر قوم کا بھی ایک یوم آغاز ہوتاہے جہاں سے اس کی آزادی کاسفر یااس کے نظریے کی تاسیس شروع ہوتی ہے۔اس دن کو بھی یوم آزادی کی بجائے ”یوم ذمہ داری”کی حیثیت سے منانا چاہیے کہ ایک قوم نے اپنے قیمتی سال کاآغاز کن حالات میں کیاتھا اور آج اس سال کے اختتام پر وہ کہاں کھڑی ہے؟؟؟فرد کی طرح قوم بھی اپنے سالانہ گوشوارہ فعل و عمل کی تجدید کرے اور اس دن کو غوروفکرمیں گزاراجائے اور بے لاگ تجزیے سے جائزہ لیاجائے کہ اس سال بھرمیں ہم نے کیاکھویاکیاپایااور کیاکھایا اور کیابچایا۔بہت چھوٹے درجے سے اور اونچے مقامات تک احتسابی بیٹھکیں ہوں جو اپنے اپنے دائرہ کار کا بھرپور جائزہ لیں۔مثلاََ ایک تعلیمی ادارہ اپنی ہر ہر جماعت کے نگران سے استفسارکرے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال کی نسل میں کتنی ذہنی پختگی درآئی ہے ،پوراادارہ اس بات کاجائزہ لے کہ ہم نے اپنی نسل کو اپنے ہی سانچے میں ڈھالا کہ جس طرح مرغی اپنے پروں کے نیچے اپنی نسل کاتحفظ کرتی ہے؟؟؟یا ہم نے اپنی نسل کواپنے ہی ہاتھوں سے غیراقوام کے سامنے ڈال دیاکہ وہ اقوام ہماری نسل کواپنی زبان،اپنی زبان،اپنے نظریات اور اپنے فکروفلسفہ سے آلودہ کردیں۔اورپورامحکمہ تعلیم یوم آزادی کے موقع پر قوم کے سامنے جوابدہ ہو کہ اس نے اپنی آزادقوم میں روح آزادی پھونکی یااس کے ذہن سے غیرسے آزادی کاتصورنکال کرمادرپدرآزادی کا تصور ڈال دیا؟؟؟۔عدلیہ بھی اپنے بہت چھوٹی سطح سے بہت اعلی سطح تک اپناہی جائزہ لے کہ گزشتہ سے پیوستہ سال اگرتاخیرانصاف سے جرائم میں اضافہ ہواتو اس سال ہم نے اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر کس درجہ قابو پالیاہے۔ محکمہ شرطہ،محکمہ احتساب،محکمہ رسل و رسائل ومواصلات ،محکمہ تعلقات عامہ اور اعلی حکومتی ایوانوں تک پوری قوم میں سال آزادی کے اختتام ایک ماحول برپاکردیاجائے اور اسی طرح کے سوالات پوری قوم کے دیگر اداروں،محکموں اوراعلی ترین ذمہ داروں سے بھی کیے جائیں تاکہ سال بہ سال ہم بحیثیت قوم اپنے تنزل کوارتقاء میں بدل سکیں۔

ایک سال کے اختتام پر اور آئندہ سال کے آغاز پر قرآن مجید نے اپنے ایک خاص انداز سے بہت خوبصورت تبصرہ کیاہے۔سال چونکہ زمانے کی ایک اکائی تصورکی جاتی ہے چنانچہ قرآن مجید میں اﷲ تعالی نے زمانے کی قسم کھاتے ہوئے انسان کے نقصان کو واضع کیاہے گویازمانے کی اس مدت کے گزرنے پر انسان نقصان کاشکارہوگیا۔خودقرآن مجید نے انسانی مہلت کو وقت سے تعبیر کیاہے اور جتناوقت انسان کو ملااس میں سے ایک سال گزرنے کامطلب ہے ایک سال کا نقصان ہوگیااور وقت کے استعارے جو دولت انسان کو میسرآئی تھی اب وہ مزید کمی کاشکار ہوتے ہوئے تنزل پزیر ہے۔قرآن کا یہ تصور عقل و خرد انسانی سے کتنا قریب تر ہے کہ انسان کے ان تقاضوں اور پیمانوں پر عین پورا اترتا ہے جو خود حضرت انسان نے اپنے کامیابی و ناکامی کے لیے تراش رکھے ہیں۔طالب علم کو امتحان گاہ میں ایک خاص وقت لیے پرچہ تھمایاجاتاہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اعلان کیاجاتارہتاہے کہ اب اتنا وقت گزرگیایااتنا وقت رہ گیا،وقت کے اسی پیمانے پر طالب علم اپنی کارکردگی کو جانچتااورتولتاچلاجاتاہے اور جتناوقت گزرتاچلاجائے وہ اس کے مدت امتحان سے منہاکرلیاجاتاہے اورپھربقیہ وقت میںوہ اپنی کارگردگی کو اس تیزی سے پوراکرتاہے کہ وقت گزشتہ کے نقصان کو پوراکر سکے۔اسی طرح فی زمانہ ایک مخصوص مدت کے لیے برسراقتدارآنے والے حکمرانوں کی کارکردگی کو وقت کے پیمانوں سے جانچااورپرکھاجاتاہے کہ کتنی مدت گزرگئی اور کتنی کامیابیاں حاصل کر لی گئیںیا نہیں حاصل کی جا سکیں۔ایک سال کااختتام اور اگلے سال کی آمد پر قرآن کے اس تبصرے کو امام رازی رحمة اﷲ تعالی علیہ نے ایک اورمثال سے بھی روشن کیاہے،وہ لکھتے ہیں کہ میں نے اس نقصان کو برف فروش کی صداسے پہچانا جو بآوازبلندپکارتاچلاجارہاتھاکہ لوگو میراسرمایا پگھلتاچلاجارہاہے ،کوئی تو خریدلو۔ہرمنصوبہ ایک خاص مدت کے لیے مرتب کیاجاتا ہے اور وہ مدت مقصودہی اس کی کامیابی یاناکامی کی دلیل ثابت ہوتی ہے۔

ایک سال کااختتام اگلے سال کاآغازانسان کو دعوت فکردیتاہے کہ کیاکھویااورکیاپایا؟؟؟انسان کا مقصد وجودعبادت ہے،پس انسان شعور سے وفات تک عبادت گزار ہی رہتاہے،کہیں تو ایک اﷲ تعالی عبادت کرتاہے تو کہیں اپنی خواہشات نفسانی کی عبادت کرتاہے،کوئی انسان پیٹ کا پجاری ہے تو کوئی پیٹ سے نیچے کی خواہش کو خدا بنائے بیٹھاہے اور کسی نے دولت،شہرت اور اپنے پیشے کو الہ تصور کرلیاہے اور کتنے ہی لوگ ہیں جو اپنی قوم،رنگ،نسل ،علاقہ اور اپنی زبان کے دیوتاؤں کی پوجا کرتے چلے جارہے ہیں اور انسانوں کے ہر قبیلے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اقتدارکے بت کا پجاری ہے اور اسے دین فروخت کرنا پڑے ا یااپنے ایمان کا سوداکرنا پڑے یا پھر اپنے ملک و ملت اور قوم کو داؤپر لگاناپڑے وہ کسی بھی قیمت پر اقتدارکے اس بت کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتا۔انسان چاہے یا نہ چاہے وہ بہرصورت ایک پجاری کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اگرچہ اپنی پجارت و عبادت کووہ کیسے ہی دیگر ناموں سے موسوم کر بیٹھے۔پس جس کسی نے اپنا ایک سال کا سرمایا عظیم ایسی عبادت میں گزاراجس سے اسے نفع ہواتو وہ کامیاب ہے اورجس کی عبادت نے اسے نقصان سے ہمکنارکیااس کاسال اسی طالب علم کی طرح ضائع ہوگیاجو ایک بار پھر گزشتہ جماعت میں بٹھادیاگیا۔کامیابی کے بے شمار پیمانے ہمیشہ سے قبیلہ بنی آدم میں رہے ہیں اور آج بھی ہیںان کو انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات نے دو ہی حصوں میں تقسیم کیاہے،دنیاکی کامیابی اور آخرت کی کامیابی ۔پس جس نبی علیہ السلام سے منسوب ایک سال کااختتام اور دوسرے کاآغاز ہے انہی کی تعلیمات آخرت کی کامیابی کی طرف بلاتی ہیں۔کیاہی خوبصور ت بات ہو کہ جس رب کی طرف انسان کھنچاچلاجارہاہے اس کی طرف خود اپنی مرضی سے بڑھتاچلاجائے اور تمام جھوٹی عبادتوں کو خیرآبادکہتے ہوئے ایک سچی عبادت کواپنی زندگی میں اپنالے۔روزانہ کی بنیادپر خود احتسابی،پھر ہفتہ وار خود احتسابی اور پھر ماہانہ بنیادوں پر خود احتسابی کے بعد سال کے اختتام پر دیکھاجائے کہ ہم نے انفرادی طورپرکہاں ہیں اور بحیثیت قوم اوربحیثیت امت ہم نے کیاحاصل کیا۔بحیثیت فرد کے موت ہر وقت پیش نظر رہے کیونکہ محسن انسانیت ۖ نے مسجد سے نکلتے ہوئے حضرت علی کرم اﷲ وجہ سے پوچھاکتنا زندہ رہنے کی توقع ہے؟؟؟عرض کیاایک جوتاتو پہن چکاہوں دوسرے کی خبر نہیں۔آپ ۖ نے فرمایا تم نے تو بہت لمبی امید باندھ لی اور پھرارشاد فرمایامجھے ۖکو توآنکھ جھپکنے کی بھی توقع نہیں کہ اتنی مہلت بھی ملے گی کہ نہیں۔یہ ایک فرد کے لیے تعلیمات ہیں جبکہ کل امت کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے روم اور ایران کی کنجیاں اور بحرین کے خزانوں کی پیشین گوئیاں فرمائی جا رہی ہیں۔پس ہمارا سال اس طرح گزرے کہ ایک فرد کی حیثیت سے رخت سفر ہمہ وقت تیارہے اور مسافر پابہ رکاب رہے لیکن اپنے عقیدہ و ملک و ملت اور آنے والی نسلوں کے لیے اتنی بڑی قربانی کا جذبہ ہو کہ صدیوں تک ان کی بالادستی دنیاپر قائم کرنا پیش نظر ہو۔

اس سال کے نقصان اورآئندہ سال کے آغازپر خوشیاں منانا اور لھولعب اور بدمستیوں میں راتیں گزارنا کہیں کی عقلمندی نہیں ہے،ہر نقصان دعوت فکر دیتاہے اور فکرکے لمحات کوآوارگی کی نظر کرنا بے ہودگی اور واہیاتی کی علامات ہیں۔ہمارادشمن ہمیں ہمارے نقصان سے بے خبر رکھ کر ہمیں فتح کرناچاہتاہے۔ تین سوسالہ دورغلامی کے دوران انگریز نے اپنی خوبی توکوئی بھی ہمارے اندر نفوذپزیرنہیں ہونے دی لیکن اپنی خباثتیں ساری کی ساری چھوڑ گیااور ایک بہت موثر طبقہ ہمارے درمیان باقی رکھ گیاجو آج تک اسی کاذہنی غلام ہے اور اسی کی تہذیبی و ثقافتی باقیات سے چمٹا ہے۔سیکولرمغربی تہذیب کادلدادہ یہ طبقہ عبداﷲ بن ابی اور میر جعفر و میر صادق کاکرداراداکرنے والا دوقومی نظریے سے منحرف طبقہ ہے جس کے پنجے آج تک ہماری نسلوں کی گردنوں پر پیوست ہیںاور ہمارا خون نچوڑ کر اپنے آقاؤں کا دوزخ بھرنے اورہمیں سود کی دوزخ میں جلاناچاہتاہے لیکن اب وقت نے کروٹ لے لی ہے اور بہت جلد یہ طبقہ اسلامی نشاة ثانیہ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو گااور غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گریں گی،انشاء اﷲ تعالی۔

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.com

Share this:
Tags:
Arrival calendar humanity system World year آمد انسانیت دنیا سال کیلنڈر نظام
Imran Khan
Previous Post حیرت ہے کہ۔۔۔۔۔
Next Post سال 2018 ”تبدیلی” کا سال اختتام پذیر
Asif Zardari, Nawaz Sharif and Imran Khan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close