
کوئٹہ (جیوڈیسک) بلوچستان میں کاشت کی جانے والی سبزیاں مارکیٹ میں آ گئی ہیں مگر مہنگائی ہے کہ روز بہ روز بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ بازاروں میں نہ نرخ نامہ ہے اور نہ ہی پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی نظر آتی ہے۔
عوام بے بس اور دکاندار من مانگی قمیتوں پر اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔ یوں تو کوئٹہ کی مرکزی سبزی منڈی میں اس وقت ملک کی تمام سبزیاں اور پھل موجود ہیں مگر سفید پوش طبقہ ان تازے ٹماٹر، لیموں سمیت آلو اور دیگر سبزیوں کو صرف دیکھ سکتے ہیں۔
عید سے قبل لیموں پائو50 روپے تھا جو اب 80 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ آلو فی کلو70 کی بجائے 80 روپے جبکہ شملہ مرچ اور دیگر سبزیوں کی قمیتوں میں بھی رمضان کے بعد 20 سے 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کوئٹہ میں چھوٹا گوشت 600، بڑا گوشت 420 جبکہ مرغی 300 روپے میں فروخت ہو رہی ہیں عوام ان نعمتوں سے تو محروم تھے ہی اب دال اور سبزی کو بھی ترس گئے ہیں۔
آٹے کی 20 کلو بوری 830 جبکہ چاول اور گھی کی قمیتوں میں بھی تین روز کے دوران 5 سے 10 روپے کا اضافہ قابل تشویش ہے۔ تاہم دکانداروں کا کہنا ہے چھٹیوں کے باعث مال دیگر صوبوں سے نہیں آ رہا، پیٹرولم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافہ مہنگائی کی اصل وجہ ہے۔
صوبے میں آم اگرچہ سندھ اور پنجاب سے منگوایا جاتا ہے مگر انگور، آڑو اور سیب یہاں کی پیداوار ہے۔ ماہ رمضان میں انگورکی قمیت ڈیڑھ سو روپے تھی جو اب 200 تک جا پہنچی ہے جبکہ آم 120 روپے اور آڑو100روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔
