Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ورثہ

August 30, 2016 0 1 min read
Patriotism Pakistani
Story
Story

تحریر: شبانہ عامر
میرا نام مہ جبین ہے ۔ میں آج آپکو ایسی کہانی سنانے جا رہی ہوں ؛ جو بھلے وقتوں میں دیگر بزرگوں کی طرح رات کو میری دادی بھی سنایا کرتی تھیں جب رواج تھا بچوں کو اپنے اسلاف کی کہانیاں سنانے کا۔ چلیں میں ان کی زبانی آپکو سناتی ہوں جب میں بہت چھوٹی تھی پاکستان اور ہندوستان ایک ساتھ تھے میرے ابا جان کی تنخواہ دس روپے تھی جو اس وقت شاندار سمجھی جاتی تھی ۔ ابا جان میٹرک پاس تھے یعنی اُس دور کے تعلیم یافتہ انسان تھے ۔ میرے دادا بیوپاری تھا مویشیوں کا کاروبار کرتے تھے ۔ گھر میں خوشحالی تھی ۔ ہماری بستی کے سب گھرکچے تھےمگر ارد گرد بسنے والے لوگ پکے اور سچے تھے ۔ دولت نے گھر کی راہ دیکھ لی اور بستی سے ہم شہر منتقل ہوگئے یہاں بستی کی نسبت ارد گرد والوں سے میل جول کم ہو گیا ٌمزید اللہ کا کرم ہوا تو مکان سے ہم بڑی حویلی میں منتقل ہو گئے ؛ حویلی کے گرد و پیش مسلمان قوم کے ساتھ سکھوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

یہاں لوگ مل جُل کر ہنسی خوشی سے رہ رہے تھے۔ وقت کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا بہت اچھا رشتہ ملا یوں بہترین تعلیم یافتہ خاندان میں میری شادی کر دی گئی۔ شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت سے 4 بیٹے اور 1 بیٹی عطا کی ۔ وقت گزرتا گیا بچے بڑے ہونے لگے ہمارا گھریلو ماحول انتہائی مذہبی تھا۔ میں نے بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔ انہیں دنیا اور دین کے ساتھ مضبوطی سے جوڑے رکھا۔ انہی دنوں غیر محسوس طریقے سے ہندوستان کے حالات خراب ہونے لگے ہر طرف شور شرابہ نفرت اور ہنگامہ آرائی تھی۔ یہ 1940 کی بات ہے جب پاکستان کا نام تجویز ہوا اور”” قرار داد لاہور”” کو طنزیہ ہندو قراداد پاکستان کہنے لگے۔ وقت گزرتا گیا اور بچے اب ہم سے قد میں اونچے ہو گئے ۔ اور پھر مجھے پتہ چلا کہ میرے سب سے بڑے بیٹے نے اس نے سکھ قوم کی بیٹی کو پسند کر لیا ہے۔ کچھ دیر تو بات اندر ہی اندر گردش کرتی رہی ۔ مگر جیسے ہی یہ بات خاندان کے بڑوں کے سامنے آشکار ہوئی تو میرے شوہرانتہائی ناراض ہوئے کیونکہ میرے بیٹے کی منگنی اُس وقت کے ماحول اور رواج کے مُطابق بچپن میں ہی طے کر دی گئی تھی۔

یہ 1947 کا ابتدائی دور ہے ۔ جب بیٹے سے اس کے والد نے براہ راست بات کی اور اسکو سخت الفاظ میں تنبیہہ کی اور جتلایا کہ وہ اسکی منگنی طے کر چکے ہیں۔ مگر بیٹے نے ایک نہ سُن کر دی اور اپنی ضد پر مضبوطی سے اڑا رہا ۔ میرے شوہر کو شدید صدمہ پہنچا اور وہ اس قدر خاموش ہو گئے گویا کہ وہ دنیا سے مکمل طور پے قطع تعلقی کر چکے ہیں۔ ان کی خاموشی سے سب لوگ اندر ہی اندر سہمے ہوئے تھے کہ نجا،نے کو نسا طوفان پوشیدہ ہے اس خاموشی میں ایک دن انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے دکھی آواز میں کہا کہ میں نے بہت غور کیا ہے مجھے تو یہی لگا ہے جیسے میری تربیت میں کہیں کوتاہی رہ گئی ہے جو میرا بیٹا دین سے لا تعلق ہو گیا ۔ انہوں نے مجھے گلوگیر آواز میں کہا کہ میں ہار گیا مگر ایک ماں کا درجہ اسی لئے اسلام نے تین گنا زیادہ رکھا باپ سے کہ وہ اپنے بچے کو راہ راست پر لا سکتی ہے میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس کو بچا لیں

Wedding
Wedding

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اتنی بڑی آ زمائش کہ بیٹا باپ کی سننے کو ماننے کو تیار نہیں میں تو انتہائی کمزور ہوں ۔ مگر اپنے شوہر کی رنجیدہ آواز اور آنسوؤں سے تر آنکھوں نے مجبور کر دیا کہ مجھے اس کو بچانا ہے کیسے؟ اس کے لئے سوچتے ہوئے کئی ماہ گزار دیے۔ انہی دنوں ہر جگہ اعلان ہو رہے تھے کہ فوج میں بھرتی کیلیۓ نوجوانوں کی ضوررت ہے ۔ میرا بیٹا 22 سال کا تھا باقی بچے اس سے چھوٹے تھے ۔ مجھے یہ اعلان بار بار متوجہ کر رہا تھا ۔ میں نے اپنے بچوں سے بات کی اور انہیں آمادہ کرنا چاہا کہ وہ فوج میں شمولیت اختیار کریں۔ چھوٹا بیٹا 16 سال کا تھا اس وقت کے مخدوش حالات کو دیکھتے ہوئے اس کو تربیتی کورس میں داخلہ مل گیا۔ بڑے بیٹے نے فوج میں جانے سے انکار کردیا ۔ جس کا مجھے صدمہ تھا۔ اس کے سر پے ابھی تک اسی لڑکی کا بھوت سوار تھا۔ اسی دوران ایک اچھا رشتہ ملا اور میں اپنی اکلوتی بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو گئی۔ شادی کے بعد بیٹی گھر آئی تو باتوں باتوں میں میں نے اس سے بڑے بیٹے کی بات کرنے لگی کیونکہ اس کی وجہ سے بہت پریشان تھی۔

بیٹی نے کہا کہ ماں آپ اپنے بیٹے کو اصرار کر کے منوا سکتی ہیں کیونکہ اس وقت جو نیا ملک ہمارے لئے بننے جا رہا ہے اس میں نوجوانوں کی بہت ضرورت ہے اور یہ احساس آپ ہی اس میں جگا سکتی ہیں۔ فوج میں رہ کر وہ مشکلات سے لڑنا سیکھے گا اور ملک کا دفاع کرے گا تو اسے احساس ہوگا۔ میرے دل میں جیسے یہ بات محفوظ ہو گئی اور میں نے تہیہ کر لیا کہ جسیے بھی ہو اب میری ممتا کا امتحان ہے ہر ناجائز بات کو سن کر اب خاموش نہیں رہنا اپنے ملک کا قرض مجھے ہر صورت چکانا ہے۔ میں نے دیکھا کہ میفا بیٹا دالان سے اندر کی جانب آ رہا ہے میں بیٹی کے پاس سے فورا اٹھی اور چولہے کے پاس گئی اس میں موجود لکڑیوں کی راکھ مٹھی میں بھر کر اپنے بالوں میں ڈال دی۔

بیٹے نے یہ منظر دیکھا تو تو برق رفتاری سے بھاگتا ہوا میری جانب لپکا کہ ماں یہ کیا ہو گیا ہے آپکو؟ یہ کیا کیا؟ میں نے جواب دیا تیرے جیسے نا اہل جوان بیٹے کی ماں ہوں۔ تیرے کرتوتوں کی وجہ سے کل زمانہ جو راکھ میرے بالوں میں ڈالے گا خود ڈال رہی ہوں ۔ اس وقت ہر شہر ہر گاؤں پر گلی ہر گھر سے لوگوں کے بچے جوق در جوق فوج میں بھرتی ہونے جا رہے ہیں کہ وقت نے یہ عظیم موقع انہیں دیا ہے۔ اور ایک تو ہے جسے نہ دنیا کی پرواہ رہی ہے نہ دین کی کتنی بڑی بد قسمتی ہے یہ؟ بس بہت ہو گیا میں ہر کسی کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتی اور نہ ہی دنیا کی طنزیہ باتیں سن سکتی ہوں۔ میں خود ہی راکھ ڈال کر اپنی ممتا پر نوحی خوانی کر لیتی ہوں؟ یکلخت جیسے پتھر میں دراڑ پڑی ہو۔ اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور مجھ سے لپٹ گیا۔ روتے روتے پوچھنے لگا حکم کریں ماں جی جو آپ چاہیں گی میں وہی کروں گا؟

Kilngs Muslims
Kilngs Muslims

میں نے جواب دیا کہ محمد علی جناح کی پکار پر لبیک کہو “”اگر تو شہید ہو گئے تو تم زندہ رہو گے اور میں زندہ بیٹے کی ماں بن کر نئی زندگی پاؤں گی “” اور اگر غازی بن کر لوٹے تو میں سینے سے لگا کر ماتھے کو چوموں گی ۔ اور اگر ان دونوں صورتوں میں سے کوئی ایک صورت بھی تمہیں قبول نہیں تو میں تم سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتی۔ بیٹے نے مجھ سے معافی مانگی اور دوسرے ہی روز وہ فوج میں تربیتی کورس میں شامل ہوگیا۔ اس وقت متحدہ ہندوستان میں قتل گری کا دور عروج پر تھا ۔ دن رات ایک دوسرے کے سکھ میں دکھ میں شامل ہونے والے ایک دوسرے سے یوں انجان بن گئے کہ گویا پہچانتے ہی نہیں۔ لاکھوں لوگ شہید ہوئے لوٹ مار کا بازار گرم ہوا بچے دنیا مں آنے سے پہلے مار دیے گئے ۔ قیام پاکستان کے دن میرے ایک نہیں دو نہیں تین تین بیٹوں کی لاشیں گھر پہنچیں ۔ بڑے بیٹے کا کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے؟

میرے شیر جوان بیٹے سینوں پے لگے زخموں کے نشانوں سے مجھے سرخرو کر گئے کہ وہ میدان سے بھاگے نہیں تھے بلکہ ڈٹ کر سینے پے زخم کھا کر شہید ہوئے ہیں۔۔ میرے شوہر بھی آبدیدہ تھے مگر میں اپنے اللہ کے حضور سر بسجدہ ہو کر اس کا شکر ادا کرنے لگی۔ کہ اس نے مجھے آج سرخروکر دیا میری تربیت پر “” بہترین “” کی مہر لگا دی۔ میں نے اپنے رب سے کہا یا اللہ آج ایک ماں تیرے دین کیلئے تعمیر کئے گئے اس ملک کیلئے اپنے تین بیٹوں کو پیش کر چکی۔ مجھ ناچیز کی یہ خدمت اپنے دین کے نام پر کہ اس خطہ کو “” لا الہ الا اللہ”” کے نام پر حاصل کیا ہے۔ اسے رائیگاں نہ جانے دینا۔ ابھی سجدے میں ہی تھی تو چشم تصور نے دیکھا جیسے آسمان سے کوئی نورانی مخلوق نیچے اتر رہی ہے۔ ان کی لاشیں انہوں نے اٹھائی ہوں اور آسمان کی جانب بڑھنے لگے۔ اس منظر کی میں تاب نہ لا سکی اور فرط جزبات سے بیہوش ہو گئی۔ میری بیٹی نجانے کب آئی اور اس نے مجھے زمین پر گرنے سے بچا لیا وہ خوشی سے رو رہی تھی۔

اور مجھے بتا رہی تھی کہ اماں ہم آزاد ہو گئے اماں پاکستان بن گیا ماں یہ تیرے بیٹوں کلمے خون سے لکھا ہوا کلمہ ہے جو پاکستان کا عنوان بن گیا۔ وہ سکھ خاندان جس کی بیٹی سے میرا بیٹا شادی کرنا چاہتا تھا اسکا خاندان ہمارے علاقے سے نقل مکانی کر گیا۔ امر جیگت ان کے ساتھ نہیں گئ کہیں چھپ گئی تھی ان کے جانے کے بعد وہ ہمارے گھر آگئی وہ بضد تھی کہ ہمارے ساتھ رہے گی۔ ہم نے اسے بہت سمجھایا اور پیشکش کی کہ ابھی وہ لوگ زیادہ دور نہیں ہیں اسےاسکے خاندان والوں تک پہنچا دیتے ہیں ۔ مگر اس کا اصرار تھا کہ اسے اسلام قبول کرنا ہے یوں وہ “”امر جیت”” سے “”حرا جان”” بن گئی اور ہمارے گھر میں ہماری بیٹی بن کے رہنے لگی۔ اسی دوران میری بیٹی کو اللہ نے 4 بیٹے عطا کئے۔

Kids training
Kids training

وہ اپنے بچوں کی طرف سے پریشان رہتی تھی اکثر مجھے کہتی کہ اماں آپکو تو میں نے سمجھا دیا مگر اب خود پریشان ہوں کہ ان بچوں کی تربیت کیسے کروں یہ بہت لاپرواہ ہیں ۔ بڑے بیٹےکی بچپن کی منگیتر کی شادی اسکی گمشدگی سے مایوس ہو کر کہیں اور کر دی گئی ۔ کئی سال گزر گئے پھر ایک دن میرا بیٹا واپس آیا اس حال میں کہ اس کی ایک ٹانگ نہیں تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر گلے سے لگایا اور ماتھا چوما۔ اس سے پوچھا کہ تم کہاں تھے اتنے سال ؟ اس نے جواب دیا چھوٹے تینوں شہید ہو گئے اور میں شہادت نہیں پا سکا۔ ماں میں نے تجھے شرمندہ نہیں ہونے دیا ہر محاذ پے گیا وہاں لڑا جہاں جہاں ضرورت تھی۔ میں نے آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی اور اپنے رب کی قدرت پر حیران رہ گئی کہ یہ سب کیا تھا؟ اپنے شوہر سے بات کی کہ اب تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے اس لئے میں”” حِرا جان”” سے اسکی شادی کرنا چاہتی ہوں۔

میرا بیٹا بولا کہ میں ادھورا انسان ہوں کسی کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا میں اب شادی نہیں کروں گا۔ حِرا جان نےاس کی بات سنی اور بولی “”جس وطن پر آپ خود قربان نہ ہوئے مگر اپنی ٹانگ قربان کر دی آپ نے جو وعدہ کیا اس کو پورا کیا آپ مکمل انسان ہیں “” “”میں آپکو صِدق دل سے قبول کرتی ہوں کہ میرے بطن سے پیدا ہونے والے بچے غازی کے بچے کہلائیں گے شہیدوں کے ورثاء بنیں گے”” “” اس سے بڑھ کر کوئی فخر ہو سکتا ہے کسی عورت کیلیۓ؟”” حِرا کی شادی میرے بڑے بیٹے سے ہو گئی اُس دن میرے بیٹے نے کہا “” ماں میں نے تجھے راضی کیا تو اللہ مجھ سے راضی ہوگیا”” کیسے اللہ نے خوش ہو کر سب واپس لوٹا دیا۔ یہ کہانی کا پہلا حصہ تھا اب دوسرا حصہ پڑہیں وہ بھی قابل غور ہے۔

Patriotism Pakistani
Patriotism Pakistani

میری بیٹی محب الوطن پاکستانی تھی۔ اس نے قیام پاکستان کو خود دیکھا ہوا تھا وہ قدر جانتی تھی مگر اس کے بیٹوں کو ہر نعمت آزادی سمیت بغیر جدو جہد کے ملی تھیں ان کا رویہ اس کے برعکس تھا ۔ اس کے بیٹے انتہائی لاپرواہ نالائق تھے۔ اس نے بہت کوشش کی کسی طرح ان بچوں کی اچھی تربیت کر سکے مگر وہ ہاتھوں سے نکلتے ہی چلے جا رہے تھے۔ اسی دوران بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کیا اور رات کو لاہور پر حملہ کر دیا۔ یوں شروع ہوئی 1965 کی جنگ جب بھارت کو پاکستانی افواج نے ہی نہیں بلکہ عوام نے تاریخی ہزیمت سے دوچار کیا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا جب پوری قوم جاگ اٹھی تب میری بیٹی نے سوچ لیا کہ مجھے اپنے بیٹوں سے اپنی ماں کی طرح ممتا سے جیتنا ہے۔ اس نے اپنےبچوں سے کہا نکلو اور قوم کے ساتھ جا کر رضاکارانہ کام کرو۔ افواج پاکستان کا ساتھ دو۔

بچوں نے یوں نظر انداز کیا گویا جنگ ان کے ملک میں نہیں ہمسایہ ملک میں ہو رہی ہے۔ وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔
سب لوگ فوج کی مدد کیلئے ٹولیوں کی صورت قریبی گاؤں روانہ ہو رہے تھے سامان خورد و نوش اور دیگر امدادی سامان کے ہمراہ تا کہ دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد دلائیں ۔ محلے سے گروپ روانہ ہونے لگا تو میری بیٹی نے سر پے سفید چادر باندھی اور کلہاڑی اٹھا کر دروازے کی طرف بڑہی ۔ بیٹے پریشان ہوئے اور ماں سے پوچھا کہاں جا رہی ہو؟ ماں نے دروازے سے نکلتے ہوئے کلائی سے اپنی چوڑیاں اتار کر ان کی جانب اچھال کر کہا یہ لو پہنو میں شہیدوں کے خاندان سے ہوں مجھے وطن کی پکار پر جان دینی ہے یوں میری بیٹی محلے کے دیگر لوگوں کے ساتھ تن تنہا اُس گاؤں کی جانب روانہ ہوئی جہاں حملہ ہوا تھا ۔ وہاں پہنچی تو کیا دیکھتی ہے کہ اس کے تینوں بڑے بیٹے ہاتھوں میں ڈنڈے کلہاڑیاں تھامے لوگوں کے ساتھ دشمنوں کو تلاش کر رہے تھے ۔ وہ بھارتی سورما ان ننھے مجاہدوں کےخوف سے تھر تھر کانپتے نجانے کہاں چھپ گئے۔ تینوں بیٹوں نے جب اپنے درمیان اپنی ماں کو دیکھا تو فرط جزبات سے نعرہ بلند کیا
اللہ اکبر
اللہ اکبر
اللہ اکبر

Allah Akbar!
Allah Akbar!

ان کی ماں کی آنکھوں میں انسو آگئے کہ وہ آج تاریخ میں ماں کی طرح سرخرو ہوگئی ۔ ایک بزرگ نے آگے بڑھتے ہوئے اس کے سر پے ہاتھ رکھ کر کہا بیٹی یہ وہ وطن ہے جس کے بیٹے بیٹیاں مجاہد ہیں خواہ وہ 5 سال کے ہیں یا 50 سال کے۔ جو وطن لاکھوں جانیں قربان کر کے ہزاروں عِصمتیں لُٹا کرحاصل کیا گیا ہو اُس کی حفاظت سے بھلا کوئی لاپرواہ کیسے ہو سکتا ہے؟ قیامت تک اللہ تعالیٰ اس ملک کا حامی و ناصر ہے۔ یہ زندہ رہنے کیلیۓ قیام میں آیا ہے اور ہمیشہ اسے زندہ باد رہنا ہے ۔

ممتا کا فخر اپنی تربیت پر اطمینان پر اللہ کا شکر مسکراہٹ کی صورت بیٹی کے لبوں پر نمایاں ہو گیا۔
نسل در نسل “”حفاظتی ورثہ”” جب تک لہو بن کر رگوں میں دوڑ رہا ہے اے وطن تجھ پے کوئی ٹیڑہی نگاہ اٹھائے یہ کسی کی مجال نہیں ۔ ہمیشہ ہمیشہ زندہ باد میرے پاکستان
زندگی ملی مجھے تیرے وجود سے ہے اے ارضِ پاک
میرے لہو سے تو زرخیز ہوا اور تیرے نام سے میں زندہ

تحریر: شبانہ عامر

Share this:
Tags:
heritage stories بزرگوں کہانیاں ورثہ
Politics
Previous Post قومی یا لسانی سیاست
Next Post پیرمحل کی خبریں 30/8/2016

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close