
وزیرآباد (تحصیل رپورٹر) شیر شاہ سوری کے زمانہ سے قائم تاریخی ڈاک چوک محکمہ آثار قدیمہ اور مقامی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث خستہ حالی کا شکار، سیکیورٹی نہ ہونے پر نشئیوں اور جرائم پیشہ افراد نے چوکی کو اپنی آماجگاہ بنا لیا۔ پرانی جی ٹی روڈ پر ریلوے اسٹیشن کی دیواروں کی مغربی سائیڈ پر قائم ڈاک چوکی کئی سو سال سے اپنی اصل حالت میں موجود تھی۔
گزرتے وقت کیساتھ ڈاک چوکی شکست وریخت کا شکار ہوئی تو قریب دو سال قبل محکمہ آثار قدیمہ نے اس کا تھوڑاسا کام کروایا اورغائب ہوگئے۔ مقامی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث ڈاک چوکی کو نشئیوں اور جرائم پیشہ افراد نے اپنی آماجگاہ بنا لیا اور محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے کئے گئے ادھورے کام کی وجہ سے لوگ قیمتی اینٹیں بھی اکھاڑ کر لے گئے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔ڈاک چوکی کی چوبرجیاں بھی غائب ہورہی ہیں جبکہ پشت پر بائیں طرف سے ایک برجی ٹوٹ کر زمین پر آگری ہے۔ ڈاک چوکی کی ایک سائیڈ کو نشئی حضرات نے بیت الخلاء میں تبدیل کررکھا ہے۔ عوامی، سماجی حلقوں نے تاریخی ڈاک چوکی کیساتھ روا اس بدترین سلوک پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر گوجرانوالہ سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
