
لندن (جیوڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاکہ وفاقی وزیر داخلہ چند روز قبل سفاری پارک میں ہونے والے پولیس مقابلے کے حوالے سے ایک غیرجانبدار کمیٹی تشکیل دیں جو ان پولیس اہلکاروں سے تفصیلات حاصل کرے جو چھ سے آٹھ گھنٹے تک ملزمان سے پولیس مقابلے میں شریک رہے، اپنے شہید ساتھیوں کی لاشیں اٹھاتے رہے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ سفاری پارک میں پولیس افسران واہلکاروں کے قتل میں ملوث دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب کیا جائے۔
اگر وفاقی وزیرداخلہ نے پولیس افسران کو شہید وزخمی کرنے والے دہشت گردوں کو بے گناہ قراردینے والے ہاتھوں کو تلاش کر لیا تو کراچی میں قیام امن کیلئے ان کی کاوشیں کامیاب ثابت ہو سکتی ہیں ورنہ جعلی آپریشن سے مجرموں کا صفایا نہیں ہو گا اور وہ چاہے کتنی ہی مخلصانہ کوششیں کرلیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار وزیرداخلہ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس کے بعدرابطہ کمیٹی لندن اور کراچی کے ارکان کے ہنگامی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔
الطاف حسین نے اس موقع پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، مشیرعالم سے مطالبہ کیا کہ سفاری پارک میں پولیس افسران واہلکاروں کو شہید وزخمی کرنے والے دہشت گردوں کو بے گناہ قراردینے کی خبروں کاازخود نوٹس لیں اوراس بات کی تحقیقات کرائیں کہ ان دہشت گردوں کو کن با اثر شخصیات کی ایما پر بے گناہ قرار دیکر رہا کیا گیا۔
الطاف حسین نے مزید کہا کہ کراچی میں قیام امن کیلئے نیک نیتی سے غیرجانبدارانہ کارروائی کی جائے تواسے ایم کیوایم کی بھرپورحمایت حاصل ہوگی لیکن یہ کارروائی 1992 کے آپریشن کی طرح نہ ہو جس میں اعلان کیا گیاتھا کہ یہ آپریشن72 بڑی مچھلیوں کے خلاف کیا جائے گا مگرا س کارخ ایم کیو ایم اور ایک مخصوص طبقہ آبادی کی طرف موڑدیا گیا اور صرف ایک مخصوص طبقہ آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ اگر ایساہی اس مرتبہ بھی کیا گیا تو 1992 کے آپریشن کی طرح سے یہ آپریشن بھی مذاق بن جائے گا، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور کراچی میں قیام امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔
کراچی میں قیام امن اور شہریوں کی جان ومال کے تحفظ اور تاجربرادری اور شہریوں میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کرنے کیلئے مکمل نیک نیتی اورخلوص کے ساتھ کارروائی کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ 15، اگست 2013 کو گلشن اقبال میں سفاری پارک کے قریب پولیس اور مسلح افراد کے درمیان مقابلہ ہوا جوچھ سے آٹھ گھنٹوں تک جاری رہا، جرائم پیشہ عناصر نے مورچہ بند ہو کر پولیس پر فائرنگ کی جس میں انتہائی اچھی شہرت کے حامل، تجربہ کار، فرض شناس اور بہادرڈی ایس پی قاسم غوری اور گلشن اقبال پولیس کے اے ایس آئی آصف حسین شہید جبکہ ایس ایچ او گلستان جوہر ملک سلیم، ایس ایچ او بہادرآباد حیدر زیدی، اے ایس آئی اسلم ، اے ایس آئی امام اللہ اور کانسٹیبل اظہرزخمی ہوئے۔
اس مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، بعض نجی ٹی وی چینلز پر دکھائی جانے والی سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے کہ گرفتار شدگان، پولیس پر فائرنگ کرنے میں ملوث تھے لیکن 27 ، اگست کو ڈی آئی جی، سی آئی اے نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سفاری پارک سے گرفتار ہونے والے 9 ملزمان بے قصورہیں جس کے بعد ان ملزمان کو رہا کر دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ میں وفاقی وزیرداخلہ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ کراچی میں امن کے قیام کیلئے کیے جانے والے کسی بھی آپریشن کی کامیابی کی کنجی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ آخر کس کے احکامات یا دباو پر پولیس حکام نے سفاری پارک واقعہ میں ملوث ملزمان کو بے گناہ قرارد یدیا۔ یہ وفاقی حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ اگر اسی طرح پولیس افسران واہلکاروں کو شہید وزخمی کرنے والے دہشت گردوں کو بے گناہ قرار دیا جاتا رہا تو کراچی کاامن غارت کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں کونسا پولیس افسر اور اہلکار جان کی بازی لگا کر اپنا فرض ادا کرے گا۔
