
کراچی (جیوڈیسک) توانائی بحران سے جہاں عوام پریشان ہے، وہی کراچی میں 4 مزلہ سے بڑی عمارتوں میں گیس کی فراہمی نہ دینے کے فیصلے سے عوام کا اربوں روپوں کا سرمایہ داو پر لگا ہوا ہے، سابق دور حکومت کی جانب سے ملک بھر میں 18 اپریل 2011 سے چار منزلہ سے زائد عمارتوں میں نئے گیس کنکشن پر ایک سال کی پابندی عائد کی تھی۔
گیس کے بحران سے بچا جا سکے، لیکن پابندی اب تک جاری ہے، جس سے سندھ کے مرکز ی شہر کراچی میں کئی منزلہ عمارتوں میں گیس کنکشز نہ ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ایس ایس جی سی ذرائع کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں 1150 ملین مکعب فٹ یومیہ گیس کی طلب ہے۔
موسم سرد میں بڑھ کر 1350 ایم ایم سی ایف ڈی تک جا پہنچی ہے، حکومت نے پابندی عائد اس لئے کی تھی کہ گھریلوں صارفین ایل پی جی کا استعمال کرے اور اگر نئے صارفین کو گیس دی جاتی ہے تو کچھ عرصے میں گیس کا بد ترین بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔
جبکہ مشرق و سطح اور بھارت میں بھی ایل پی جی کا استعمال کیا جا رہا ہیں، ایس ایس جی سی ذرائع کے مطابق ملک میں گیس کی طلب و رسد میں توازن نہ ہونے تک امکان ہے کہ حکومت بڑی عمارتوں کو گیس کنکشن فراہم نہیں کرے گی۔
