کراچی : لیاقت نیشنل ہسپتال اینڈ میڈیکل کالج کے زیر اہتمام پہلا بین المدارس مقابلہ تقاریر کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کی ممتاز کالجز و جامعات نے شرکت کی ہر کالجز و جامعات کے دو طلباء و طالبات نے انگریزی اور اردو تقاریری مقابلے میں حصہ لیا۔مقابلے میں متعدد عنوان “نیکی کر فیس بک پر ڈال” “ہم جہد مسلسل کی قسم کھا رہے ہیں ” “مانگے ہوئے سورج سے کبھی سویرا نہیں ہوتا”اور تعلیم کے فروغ اور معاشرے کے کردار پر دیگر موضوعات شامل تھے۔
تقریری مقابلے میں ججز کے فرائض لیاقت نیشنل میڈیکل کالج کراچی پرنسپل اینڈ ڈین ڈاکٹر امیر علی شورو ،ڈاکٹر سلطان احمد ڈاکٹر ذاہدہ نقوی،ڈاکٹر خورشید حیدر ،ڈاکٹر نوین فریدی ،ڈاکٹر خورشید ہاشمی ،پروفیسر انیس زیدی رضوان جعفرنے انجام دیئے۔ تقاریری مقابلے کے اختتام پر لیاقت نیشنل ہسپتال و میڈیکل کالج کراچی لیٹریری و ڈبیٹنگ سوسائٹی کے زیر اہتمام تقسیم انعامات کی تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں مقابلے میں اردو میں کامیاب وفاقی اردو یونیورسٹی کی شہزادی کنول نے اول اور انگریزی میں بحریہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے فیصل ہاشمی کو وننگ ٹرافی دی گئی اس کے علاوہ مقابلے میں شریک تمام طلباء و طالبات کو اعزازی اسناد و انعامات سے بھی نواز گیا تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی لیاقت نیشنل ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان فریدی نے طلباء و طالبات مقابلے میں شرکت کرنے اور اپنے جوش و جذبات کے جوہر دکھانے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے نوجوانوں ،طلباء و طالبات میں ہر شعبے میں ٹیلنٹ موجود ہے۔
ڈاکٹر سلمان فریدی نے کہاکہ جدید دور سے مقابلے اور دنیا میں اپنا نام منوانے کے لئے تعلیم واحد ہتھیار ہے انہوں نے طلباء و طالبات پر زور دیا کہ وہ حصول علم کے سلسلے میں اپنی جستجو کو جاری رکھیں اور تعلیم کے فروغ کے لئے بھی اپنی کاوشوں کو بروئے کار لائیں تقریب اپنے خطاب میں لیاقت نیشنل میڈیکل کالج کراچی پرنسپل اینڈ ڈین پروفیسر ڈاکٹر امیر علی شورو نے پہلا بین المدارس تقاریری مقابلے کے انعقاد پر لیٹریری اینڈ ڈبیٹنگ سوسائٹی کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقابلے شریک تمام شرکاء ،طلباء و طالبات اور والدین کو مبارکباد پیش کی انہوں نے طلباء و طالبات پر زور دیا کہ وہ تعلیم میں مقابلے کے رحجان کو پراون چڑھائیں مقابلے کا رحجان ذہنی نشونماء کو پروان چڑھاتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر امیر علی شورو نے اعلان کیا کہ ہر سال تقاریری مقابلے کے انعقاد کا اہتمام کیا جائیگا۔
