Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ورنہ ! یہ وقت پھر کبھی نا آئیگا!

December 20, 2018 0 1 min read
Pakistan
Pakistan
Pakistan

تحریر : شیخ خالد زاہد

انسان اپنی ذہنی کیفیت کی پختگی کا اندازہ لگانا چاہے تو بہت اچھی طرح سے لگا سکتا ہے، جہاں اسکی عملی زندگی میں کئے گئے فیصلے اس پر واضح کردینگے کہ اس شخص کی ذہنی پختگی کی کیا نوعیت ہے ۔ ہر فرد کا حالات و واقعات کو سنبھالنے اور ان سے نمٹنے کا مختلف طریقہ کار ہوتا ہے ، کچھ لوگ بھاگ جاتے ہیں، کچھ لوگ الجھ جاتے ہیں لیکن کم لوگ ان حالات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے انہیں درست سمت کی جانب لے جاتے ہیں ۔ تیسری قسم کے لوگ یہ جانتے ہیں کہ زندگی ایسے ہی حالات و واقعات سے ترتیب پاتی ہے ناکہ کسی سیدھی سڑک کی طرح ہوتی ہے جہاں نا کوئی رفتار روکنے کا سبب اور نا کوئی سڑک میں خرابی اور نا ہی گاڑی چلانے والے میں کوئی نقص، یہ ہی لوگ انسانیت کیلئے قدرت کا تحفہ ہوتے ہیں ۔

حق پر کیا جانے والا کوئی عزم اور کوئی فیصلہ تبدیل کرنا انسان کی کمزوری ہوسکتی ہے لیکن قدرت کی منشا نہیں کیونکہ اس بات انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حق رہنے کیلئے اور باطل مٹنے کیلئے ہے ۔ حالات کی ناسازگاری یا ماحول کا موافق نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ سب وقتی ہوتے ہیں۔ اس بات کا یقین ہونا سب سے ضروری ہے کہ جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ حق اور سچ کا ہے ۔

دنیا کی طاقتوں نے وہ چنگھاڑ سنی جس کا شائد گمان بھی نا کیا گیا ہو، جی ہاں ! وہ چنگھاڑ دنیا کی معیشت پر خاموشی سے قبضہ کرنے والے ملک عوامی جمہوریہ چین کہ صدر زی پینگ کی ہے ، چینی صدر کی دھاڑچین کی تبدیلی کے عمل سے گزرتے ہوئے چالیس سال مکمل ہونے پر سنائی دی۔ چینی صدر نے بہت ہی واشگاف اور دھیمے لفظوں میں دنیا کو بتا دیا کہ چین اپنی داخلی و خارجی امور یا حکمت عملی سازی میں کسی کی کوئی مشاورت یا عمل دخل قبول نہیں کریگا۔ چین کے صدر کو یہ بات کہنے کیلئے چالیس سال انتظار کرنا ، چالیس سال کی انتہک محنت ، بہترین منصوبہ سازی اور سب سے بڑھ کر حب الوطنی نے چین کو یہ دن دیکھنا نصیب کیا۔ آج چین اس حیثیت میں ہے کہ کوئی اس بیان کے حوالے سے کوئی بات تک کرنے کا اہل نہیں ہے ۔ یہ انتظار طویل ضرور تھا لیکن صحیح راستے کا تعین اور اسمیں درپیش مشکلات کا منظم اور مستحکم حکمت عملی سے سامنا ، دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال اور دیگر بے تحاشہ مسائل سے نمٹتے ہوئے سفر کو جاری رکھتے ہوئے اس تاریخی دن تک پہنچے ۔ بظاہر دنیا میں عالمی طاقت کا منبہ متحدہ ہائے آمریکہ کو سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقی معنوں میں دنیا کی معیشت پر چین اپنی دھاک بیٹھا چکا ہے ، آج امریکہ کی دکانوں میں بھی چاہئنا ہی موجود ہے۔ آج چین یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہمیں کسی پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً ہر گھر میں ہم موجود ہیں(اور ایسا ہے )۔

یہ لکھتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ چین نے خطے میں ہونے والی ہر قسم کی سرزنش کا سامنا کرنے کیلئے پاکستان سے گہری اور مثبت دوستی پر ہمیشہ زور دیا ، پاکستان نے بھی کبھی اس تعلق پر سوالیہ نشان نہیں آنے دیا۔ آفسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے اپنے اتنے قریبی ساتھی سے یہ نہیں سیکھا کہ ترقی کی شاہراہ پر کس طرح سے گامزن ہوا جاتا ہے ، ہم نے ہم ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور تعاون کرتے چلے گئے دوسری طرف ہمارا دوست اپنی بہترین حکمت عملیوں اور بدعنوانی سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔ آج چین نے پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن سہارا فراہم کیا ہے لیکن کیا پاکستان نے چین سے یہ بات پوچھنے کی جسارت کی کہ چین کا اتنی بلندیوں پر پہنچنے کا فارمولہ کیا ہے ۔ چین کی ترقی کی بنیاد بدعنوانی سے نجات پانے سے شروع ہوئی ۔ معاشرہ یا قانون بدعنوان افراد کے ساتھ ایسا سلوک کرے کہ وہ خود ہی اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے ختم کرلے اور آنے والی نسلوں کیلئے نشان عبرت بن جائے۔

ان چالیس سالوں میں ایسا نہیں تھا کہ پاکستان کہیں اور تھا اور چین ترقی کی منزلیں کہیں اورطے کر رہا تھا ، یہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر موجود تھے لیکن افسوس چین کے حکمرانوں نے آنے والے وقت کو بھانپ لیا تھا وہ سمجھ گئے تھے کہ آنے والا وقت کی طاقت معیشت کا استحکام ہے ۔جہاں چین نے پاکستان کیساتھ اپنی دوستی کی عملی بہترین مثالیں قائم کیں وہیں اپنی محنت اور مشقت کے مشن پر بھی بھرپور کاربند ررہا لیکن پاکستانی حکمرانوں کو چین میں ہونے والی ترقی تو دیکھائی دے رہی تھی لیکن اس ترقی کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر کبھی دھیان دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ پاکستان نے پیسے کی لین دین اوراسلحہ سازی پرخصوصی توجہ مرکوز رکھی ۔ہم نے سفر کرنے کیلئے تنزلی کا راستہ چنا جو کسی اندھی کھائی کی جانب جاتا ہے (جس پر صرف اور صرف عوام الناس نے جانا ہے )اورچین کی طرح پاکستان کے اور دوست ممالک بھی ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے روشنی کی منزل پر پہنچے ہوئے ہیں۔

تھوڑا سا زاویہ تبدیل کر کے دیکھتے ہیں اور وہ اسطرح کہ ایسا نہیں چین کی ترقی کیساتھ ہم نے ترقی نہیں کی بس فرق اتنا ہے کہ چین نے اجتماعی(ملکی) ترقی پر اپنی توجہ مرکوز رکھی بلندی کی جانب سفر جاری رکھا اسکے برعکس پاکستان کی حکومت نے انفرادی(ذاتی) ترقی کو پاکستان کی ترقی سے زیادہ اہم سمجھااور تیزی سے تنزلی کی جانب دوڑ پڑی۔ اب یہ سمجھ سمجھ کا فرق تھا جو واضح ہوتا ہوا یہاں پہنچا ، ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ایسے ویسوں سے ڈرے سہمے رہتے ہیں ایسی کیفیت میں ہمارا کچھ بھی کہا کچھ نا کہنے کے برابر ہی ہوتا ہے اور چین کے صدر نے دنیا کو اپنے طاقتور ہونے کا اعلان طاقتوروں کو للکار کر کیا ہے (چین کے صدر کا کہنا ہے کہ کوئی چین کو حکم نہیں دے سکتا)۔کوئی کا کیا مطلب ہے اس سے تو ہم سب بہت اچھی طرح سے واقف ہیں۔

پاکستان کو وجود میں آئے ۷۰ (ستر) سال گزر چکے ہیں یعنی اگر ۳۶۵ (تین سو پینسٹھ) دن ضرب کئے جائیں ان ستر سالوں سے تو صرف پچیس ہزار پانچ سو پچاس دن بنتے ہیں جو کہ حساب کے اعتبار سے بہت کم معلوم ہوتے ہیں لیکن اگر ستر کے ہندسے کو کسی فرد پر رکھیں تو وہ عمر رسیدہ دیکھائی دے گا۔ تقریباً چھبیس ہزار دن لگا لیں لیکن پاکستان کے حکمرانوں نے ذاتی ملکیت اور بینک کھاتوں میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ چین کیا دنیا کے کسی بھی ملک کی ترقی حقیر سی معلوم ہوتی دیکھائی دے گی(نام لکھنے کی جرات نہیں کر رہا)۔ کون کیا تھا اور کیا ہوگیا زیادہ تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس تھوڑا تھوڑا سا اپنے گھروں کے بڑوں سے پوچھ لیں، ویسے تو گاہے بگاہے یہ سیاستدان ایک دوسرے کی اصلیت پر سے پردہ اٹھاتے رہے ہیں۔ بس افسوس اس بات کا ہے کہ نا تو عوام کو یاد رہتا ہے اور ناہی عدلیہ زبان درازی پر کسی کی باز پرس کرتی ہے ۔

پاکستان نے اپنے پچھلے تین یاچار ادوار (بیس سال) صرف اسی شور شرابے میں گزارے ہیں کہ یہ چور ہے وہ چور ہے لیکن چور کی پکڑ کیلئے کوئی مستند اقدامات نہیں کئے گئے بلکہ وہ ادارے بھی مفلوج اور لاچار بنادئے جنہیں چوروں کو پکڑنا تھا انہیں کیفر کردار تک پہنچانا تھا ۔حالیہ انتخابات پاکستان کی تاریخ کو بدلنا چاہتے تھے پاکستان ایک ایسی یکسانیت کا شکار ہوچکی تھی کہ جس میں سوائے عوام کے پسنے کے اور کچھ نہیں بچا تھا ۔ برسراقتدار آنے والی جماعت نے تبدیلی کا نعرہ لگایا نئے پاکستان کا نعرہ لگایا اور وہ کچھ کر کے دیکھایا جو کبھی پاکستانیوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ان نعروں پر میابی حاصل کرنے والی جماعت نے بدعنوانی کیخلاف عملی جنگ کو اپنا منشور بنا یا اور اقتدار میں آنے سے قبل ہی کڑے احتساب کا آغاز کردیا ۔حکومت وقت نے اداروں کو مضبوط کر کے انکی حقیقی حیثیت کو بحال کرنے کی کوشش کی اور بہت ہی قلیل وقت میں کسی حد تک ایسا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے۔

دنیا نے پاکستان کی حیثیت کو ایک بار پھر تسلیم کرنا شروع کیا ہے ، پاکستان کو گہری کھائی سے نکالنے کیلئے ہم سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا پڑے گیا۔ پاکستان ایک ایسی بکھری ہوئی بساط ہے کہ جس کا ایک ایک مہرہ اپنی جگہ سے کہیں اور پہنچا ہوا ہے ، سب کو انکی جگہوں پر واپس لانا ہے ، سب کو اکھٹا کرنا ہے ، عوام کو پہننے کیلئے کپڑا ور کھانے کیلئے روٹی بھی دینی ہے ۔ چیزوں کو ترتیب دینے میں وقت لگتا ہے، خراب حالوں کو یہ بتانے میں کہ وہ کتنے خراب ہوچکے ہیں وقت لگتا ہے ، ستر سالوں کا بگڑا ہوا نظام صرف ایک سال سے بھی کم عرصے میں کیسے ٹھیک ہوسکتا ہے ۔ وقت سمجھداری سے عملدرآمد کرانے کا ہے اور حکومت کے ہر نمائندے کو اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا اپنے اختیارات کا مثبت استعمال کرنا ہوگا۔ حکومت یا حکومتی ادارے اپنے منشور سے اپنے عزم سے اگر بھٹک گئے تو پھرکوئی صاحب اقتدار کو کٹہرے میں لانے کا تصور بھی نہیں کرے گا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ابھی بھی کچھ نہیں ہوسکا اور حکومت وقت اپنے ارادوں میں ناکام ہوگئی، اپنے منشور سے مکر گئی ، تو یہ وقت پھر شائد کبھی نہیں آئیگا۔

Sh. Khalid Zahid
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Tags:
change environment humanity life mental health Sh. Khalid Zahid انسانیت تبدیل زندگی ماحول
Donkeys
Previous Post گدھوں میں پہلی اور تیسری پوزیشن
Next Post بھارت مقبوضہ کشمیر میں صدارتی راج کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک کو نہیں روک سکتا، علی رضا سید
Ali Raza Syed

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close