
تحریر : وقار النساء
رجب المرجب بزرگی والا مہینہ ہے جس میں آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ملی آپ عالم بالا کی سیر کو گئے –اور سرکار دو عالم کا یہ سفرچشم زدن مین اپنے رب کے حکم سے طے ہوا –جس میں جبرائیل امین کا آپ کو جگانا طہارت اور وضو کے بعد عالم بالا کو جانا تھا – نبیوں سے ملاقات اور نماز کی امامت کروانا شامل تھا جب آپ کی معیت میں جبرئیل امین سدرۃ المنتہی کے مقام پر پہنچتے ہیں تو عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ اگر اس مقام سے سوئی کی نوک کے برابر بھی آگے بڑھتا ہوں تو میرے پر جلتے ہیں – اس کے آگے کے انوارو تجلیات کومیں برداشت نہ کرپاؤں گا
آپ فرماتے ہیں اے جبرئیل امین اپنی کوئی حاجت بتاؤ کہ جب میں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں تووہاں عرض کروں جبرئیل امین گویا ہوئے اللہ کے محبوب آپ اللہ سے میرے لئے یہ اجازت لیں کہ روز محشر جب آپ کی امت کے گناہگاروں کے قدم پل صراط پر ڈگمگا جائیں تو میں ان کے لئے اپنے پر بچھا دوں –کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کی خوشی اسکے حبیب کی خوشی میں ہے اور اس کے حبیب کی خوشی یہ کہ نبی کی امت سے پیار کریںجس مقام پرآپ کو جبرئیل امین چھوڑتے ہیں وہ لامکاں ہے یعنی جس کی کئی سمت نہیں کوئی حد نہیں پتا نہیں چلتا کہ آگے کہاں اور کیسے جانا ہے کہ غیب سے ندا آتی ہے
اے میرے حبیب آپ کا پروردگا خود درود بھیجتا ہوا آپکے پاس آرہا ہے –سبحان اللہ
آپ عالم بالا کی سیر کرتے ہیں- اسی رات آپ کو اللہ کی طرف سے اپنی امت کے لئے نماز کا تحفہ ملتا ہے –اللہ رب العزت فرماتے ہیں اے حبیب جس طرح معراج کی رات آپ کو میرا قرب حاصل ہوا اسی طرح یہ نماز مومنوں کی معراج ہے –گویا آپ کے وسیلہ سے ملے ہوئے اس تحفے کی بدولت مومن بھی میرا قرب پا سکیں گے-جو آپ کو قرب کی دولت ملی وہ بھی کچھ اس سے پا سکیں آپکی صفات اللہ سبحانہ کی صفات کا مظہر ہوئیں کریمی رحیمی اللہ تبارک تعالی کی صفات ہیں جو اللہ نے اپنے حبیب کوعطا کیں آپ کو سراپا نور اور محبت وشفقت بنایا جب آپ عالم بالا سے دنیا میں تشريف لاتے ہیں-تو سب کچھ جوں کا توں ہے وضو کا پانی چل رہا تھا دروازے کی کنڈی ہل رہی ہے –بستر گرم ہے –
عالم بالا میں کتنا وقت گزرا یہ جانے والاجانے یا بلانے والاجانے-آپکو ساتوں آسمانوں کی سیر کروائی گئی –ہر چیز کو آپ نے دیکھا اپنے رب سے ہمکلام ہوئے دیدار کیا اور واپس آکر وہ حقیقتیں دنیا کو بتائیںخلاصہ یہ کہ اللہ کے حکم سے وقت ٹھہر گیا تھا حضور نبی کریم اس کائنات کی روح ہیں جن کی وجہ سے اس کائنات کی تخلیق ہوئی –آپ کے عالم بالا جانے کی مثال ایسے ہی ہے جس طرح جسم سے روح کے جانے کے بعد جسم ایک حالت میں ٹھہر جاتا ہے آنکھ ھاتھ منہ غرض ہر عضو روح کے الگ ہونے پر ایک ہی حالت میں رہ جاتا ہے تو روح کائنات مبتداء کائنات حقیقت کائنات وجہ کائنات کے جانے کے بعد یہ کائنات ٹھہر گئی اور آپ کی تشریف آوری کے بعد پھر سے وہ ٹھہرا وقت پھر چل پڑتا ہے آپ واپس آئے بہت خوش تھے سب کومعراج کا واقعہ بتایا حضرت عائشہ نے آپ سےکچھ پوچھنا چاہا آپ نے ارشاد فرمایا کیا پوچھنا چاہتی ہیں-
حضرت عائشہ نے حضرت ابو بکر صدیق سے ملاقات کا اذن مانگا اور آپ کی اجازت سے گئیں-ان سے دریافت کیا کہ میں حضور پاک سے کیا پوچھوں؟ حضرت ابوبکر صدیق کے بتانے پر آکر حضور سے عرض کی یا رسول اللہ آپ ان اسرار میں سے کوئی ایک بتا دیجیئے آپ نے فرمایا جو کوئی کسی ٹوٹے دل کو جوڑے گا اللہ اسے حساب کی لمبی لائن میں لگے بغیر بے حساب جنت میں داخل کر دے گا دیکھیں تو معراج النبی کا واقعہ انسانوں کو اپنی اصلاح کا سبق دیتا ہے اللہ کے بندوں کو تکلیف پہنجانا ان کو دکھ دینا اس سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور ان بندوں کو پسند کرتا ہے جو کسی کی دلآزاری نہیں کرتے اسی طرح خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہرہ نے حضور سے دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اللہ نے فرمایا اے محمد تیری امت کو رزق دیتا ہوں وہ کہتے ہیں ھم نے محنت سے کمایا جہنم تیرے دشمنوں کے لئے بنائی گئی جس میں جانے کی جلدی انہیں ہے اور جنت ان کے لئے بنائی گئی ہے اس میں جانے کی جلدی نہیں کر رہے رسول اکرم نے فرمایا ایک جگہ دیکھا کہ بیج بوئے جارہے تھے
جن سے کونپلیں نکلتیں فصل تیار ہو جاتی اور کاٹ لی جاتی جبرئیل امین سے پوچھا تو انہوں نےجواب دیا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی مثال ہے جو رب کی مخلوق میں بانٹ دیتے ہیں اور اللہ ان کے رزق میں سات سو گنا اضافہ کر دیتا ہے اسی طرح کچھ لوگوں کو پاکیزہ اوراعلی دسترخوان کا کھانا چھوڑ کر سڑا بدبودار کھانا کھاتے دیکھا یہ وہ لوگ تھے جو اپنی بیویوں اور خاوندوں کو چھوڑ کر دوسروں کے پیچھے بھاگتے رہے کچھ لوگوں کے سر پتھر سے کچلے جارہے تھے یہ وہ لوگ تھے جن کے سر نماز کے لئے بوجھل ہو جاتے تھے پیارے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج پر جانا اور لوگوں کو آکر آگاہ کرنا اپنی امت کی اصلاح کے لئے تھا-اللہ ھمیں سمجھنے کی توفیق دے اور ان کی اتباع کی توفیق دے آمین
تحریر : وقار النساء
