
ڈیرہ اسماعیل خان (جیوڈیسک) شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے ڈیرہ اسماعیل خان آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت 3 ہزار سے زیادہ آئی ڈی پیز بسوں اور ویگنوں پر اہلخانہ کے ساتھ شہر پہنچ چکے ہیں۔ جمعہ کو ایک ہزار سے زیادہ متاثرین یہاں پہنچے جن میں 200 مرد، 300 خواتین اور 400 بچے شامل ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے انٹری پوائنٹ چنڈا چیک پوسٹ پر آئی ڈی پیز کی گاڑیاں روک کر پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوان انہیں چیک کرتے ہیں۔ ان کے شناختی کارڈز کی چیکنگ کے بعد رجسٹریشن ہوتی ہے جس کے بعد انہیں شہر میں داخلے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ چنڈا چیک پوسٹ پر ہی پولیو کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں شمالی وزیرستان سے آنے والے قافلوں میں شریک بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں آئی ڈی پیز کے لئے ابھی کوئی کیمپ قائم نہیں کیا گیا۔ زیادہ تر افراد کرائے کے مکانوں اور رشتہ داروں کے ہاں رہ رہے ہیں۔ کچھ نے پارکوں وغیرہ میں ہی خیمےلگا لئے ہیں۔ فلاحی تنظیمیں انہیں تینوں وقت خوارک فراہم کر رہی ہیں۔
شمالی وزیرستان سے آئی ڈی پیز ٹانک کی جانب بھی نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ٹانک کے تھانہ گُل امام پر 106 افراد کی رجسٹریشن کی گئی۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کوئی شہری پولیس کو پیشگی اطلاع کے بغیر کسی آئی ڈی پی کو مکان کرائے پر نہ دے۔ پولیس کی طرف سے چیکنگ کے بعد مکان کرائے پر دیا جائے۔
