
نئی دلی (جیوڈیسک) پچیس نومبر سے بیس دسبر تک پانچ مرحلوں میں ہونے والے کٹھ پتلی اسمبلی کے انتخابی نتائج نے دلچسپ صورتحال کو جنم دیا ہے۔
87 رکنی اسمبلی میں پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی نے 32 اور بی جے پی نے 25 نشستیں حاصل کرکے تمام سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا ہے۔ وادی سے موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کوئی جماعت تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
تیسرے نمبر پر آنے والی ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے 11 اور کانگرس نے 15 نشستیں حاصل کی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معلق پارلیمنٹ آنے کے بعد مخلوط حکومت ہی بنے گی۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی کی محبوبہ مفتی نے بی جے پی کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
دوسری طرف ریاست جھاڑ کھنڈ کی 81 رکنی اسمبلی میں بی جے پی 40 نشستیں حاصل کرکے اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
