Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پروفیسر ریاض راہی کا تصور شعر

February 24, 2017 0 1 min read
Riaz Rahi
Riaz Rahi
Riaz Rahi

تحریر : صبغت اللہ بزمی
شاعر اپنے عہد کا نباض اور اپنی روایات کا امین ہوتا ہے اس کی فکر کا محور کوئی مخصوص علاقہ نہیں ہوتا بلکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسان ہوتے ہیں اچھا او ر سچا شاعر انسان دوست ہوتا ہے اس کا پیغام عالمگیر حیثیت کا حامل ہوتا ہے جس میں امن،پیار ، خلوص اور بے ریا محبت کا جذبہ فراواں ہوتا ہے۔
بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال :۔
”فلسفہ بوڑھا کر دیتا ہے اور شاعری تجدید شباب کرتی ہے ”
یہ بات سو فیصد درست ہے مگر معذرت کے ساتھ آج کے اس پر فتن دور میں حق گو شعر ا ء خال خال ہی نظر آتے ہیں خوشامدی شعرا کی اس دور میں کوئی کمی نہیں ہر شعبہ زندگی میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ایک حق پرست دوسرے باطل کے طرفدار ۔ان کے مابین جدل و تصادم جاری رہتا ہے لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ حق و صداقت کی راہوں پر چلنے والے تعداد میں تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں زمانہ خود ان کے مقام ان کے فکر و فن کی عظمت کا تعین کر لیتا ہے ۔ ایک سوال ذہن میں گردش کرتا ہے کہ ایک اچھے شاعر کو کس معیار پر پرکھا جا سکتا ہے ۔ وہ کون سی کسوٹی ہے جس پر رکھ کر اس کی ادبی اقدار کا جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔ شعر و ادب کا معیار سماج اور سماجی اقدار ہیں صرف وہی ادب میزان نقد و نظر پر پورا اتر سکتا ہے جس میں سیاسی ، سماجی اور اقتصادی حوالے موجود ہوں اور جو نفسیاتی اور اخلاقی تناظر میں بھی اعلیٰ معیار پر پورا اتر سکے میرے نزدیک صرف ایسا ادب ہی شہرت عام اور بقا ئے دوام کا مستحق ہے۔
دستار کے ہر تار کی تحقیق ہے لازم
ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا

میں نے جب ان کو گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لیہ کے شعبہ اردو میں دیکھا تو معلوم ہوا کہ ان کا نام ریاض راہی ہے ۔ ایم اے اردو سال دوئم کے طلبا ء کو پڑھاتے ہیں میں نے کہا اے اللہ کب سال دوئم میں جائو ں گا ان کا باضابطہ شاگرد رشید بنوں گا وجہ یہ ہے کہ استاد مکرم بچوں کو اصلاح سخن دیتے اور سمجھاتے ۔ اتنے شفیق استاد ، اتنا دھیما لہجہ ، اتنی سادی ، اتنی معصومیت کہ بچوں کی حوصلہ افزائی کر کے ایسا دوستانہ ماحول پیدا کر دیتے کہ کوئی بھی اس علمی و ادبی ماحول میں شامل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پروفیسر ریاض راہی صاحب کے ہونہار شاگرد محمد سلیم آکاش کا شعری مجموعہ “تنکے “طالبعلمی دور میں ہی منظر عام پر آیا عمر تنہا کے دو شعری مجموعے 1 لفظ کرتے ہیںگفتگو تیری ،2ابھی امکان باقی ہے ، رانا عبدالرب نے ”سفر ہے خواب جیسا” تخلیق کی جسے بے حد سراہا گیا ۔ طلباء میں تخلیقی صلاحیتیں اُجاگر کرنے میں پروفیسر ریاض راہی نے کبھی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیا ۔ اگر راہی صاحب کو بحیثیت انسان دیکھا جائے تو ان میں خلوص ، پیار ، محبت ، صداقت ، شرافت ، دیانت ، صبر و رضا ، تفکر و تدبر عزم مصمم ، جہد مسلسل ، تدریس و تحقیق ، حق گوئی و بے باکی غرض بے شمار خوبیوں کا مجموعہ ہیں ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ہم کالج چھوڑ رہے تھے الوداعی تقریب تھی میں نے کہا ”سر جی کلاس میں تو آپ ہم پر دست شفقت رکھتے ہیں۔ ، حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور رہنمائی دیتے ہیں اب ہم آپ سے کہاں ملیں گے ۔ سرجی نے تشفی دی اور کہا بیٹا جب آپ کو کبھی کوئی پریشانی ہوتو مجھے جب بھی بلائیں گے میں انشاء اللہ حاضر خدمت ہو جائوں گا ۔
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
ضلع لیہ پسماندہ ضرور ہے مگر علمی و ادبی لحاظ سے مردم خیز ہے کہ جہاں پر ڈاکٹر خیال امروہوی جیسی شخصیت نے ہزاروں شاگردوں کو شعور بخشا ہو ۔ جہاں پروفیسر ڈاکٹر محمد امیر ملک صاحب ، پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین صاحب، پروفیسر ڈاکٹر گل عباس اعوان صاحب، پروفیسر ڈاکٹر حمید الفت ملغانی صاحب ، پروفیسر ڈاکٹر انورنذیر علوی صاحب ، پروفیسر ڈاکٹر

جرآت عباس شاہ صاحب ، پروفیسر ڈاکٹر افتخار بیگ صاحب، محقق ادیب اور دانشور کے معتبر ترین حوالے موجود ہوں اسی طرح پروفیسر مہر اختر وہاب صاحب ، پروفیسر سبحان سہیل چانڈیہ صاحب ، پروفیسر شفقت بزدار صاحب، پروفیسر کرامت کاظمی صاحب جیسی ہستیاں طلباء کے روشن مستقبل کیلئے اپنی تما م تر توانائیاں صرف کر رہے ہوں تو اسے پسماندہ کیوں کہا جائے ۔
پروفیسر ریاض راہی صاحب بھی انہی مردان حق شناس میں سے ہیں جو استقامت پر کاربند ہیں ۔ میں انہیں مرد قلندر کہوں تو بے جا نہیں ہو گا ان کا شعری مجموعہ شکست آرزو 2005ء میں اس وقت منظر عام پر آیا جب ادیبوں کے ہاتھوں میں قلم کی بجائے ہتھکڑیاں تھیں ۔ حق گوئی و صداقت کی پاداش میں ادیبوں سے قلم چھین لیا گیا تھا ۔ ان پر بغاو ت کے مقدمات قائم ہو رہے تھے مگر راہی صاحب نے دور آمریت کے ہر ظلم کو پائوں کی ٹھوکر سے اڑا دیا۔ دیکھیے وہ کس طرح سیاہ ترین دور کا تذکرہ کرتے ہیں :۔
ہم کو تو خواب میں بھی نہ لطف سحر ملا
اپنی تو عمر گزری ہے عہد سیاہ میں
پروفیسر ریاض راہی صاحب کی شخصیت میں قول و فعل کا تضاد نہیں جو کچھ کہتے ہیں وہ اپنے عمل و کردار سے کر دکھانے کے قائل ہیں ان کی شاعری میں فکر ، جذبہ ، احساس اور تخیل کی فراوانی نظر آتی ہے ۔ وہ فکری سطح پر دوئی اور منافقت کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہتے ہیں :۔
کیا یہ انداز وفا ہے زباں پر کچھ ہو
دل میں کچھ اور چھپائے ہوئے پھرتے رہنا
راست بازی اور حق گوئی راہی صاحب کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ وہ حساس طبیعت کے مالک ہیں وہ معاشرہ میںغربت ، افلاس اور جہالت کے مکروہ مناظر دیکھ کر افسردہ ہو جاتے ہیں وہ سیاسی اور سماجی محرومیوں میں مقید غریب شہر کی آہ و زاری کو شوق فضول نہیں سمجھتے بلکہ اس کی اثر آفرینی کے قائل ہیں ۔ دیکھئے ریاض راہی صاحب کا ایک اچھوتا انداز :۔
کرتے رہے ہیں یار بہت ضبط آہ دل
آخر غریب شہر نے سب کو رلا دیا

Poetry
Poetry

بلا مبالغہ ایسے اشعار آفاقیت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ غریب کا تعلق کسی ملک ، قوم ، قبیلے سے ہو مگر غریب کے دکھڑے نے سب کو رلا دیا ۔ ڈاکٹر خیال امروہوی پروفیسر ریاض راہی کے فکر و فن یوں اظہار خیال کرتے ہیں :۔ “ریاض راہی کا کلام مفید و موثر کلاسیکی نشاة ثانیہ درجہ رکھتا ہے اس کے یہاں مضامین کی کمی نہیں وہ انسانی سماج کو خارجی اور داخلی ہر حیثیت سے نہایت فنکارنہ چابکدستی سے فن کے قالب میں ڈھالتا ہے ریاض راہی کے کلام کے مطالعہ کے دوران میں ان کے اشعار مبسوط کتاب کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ ان کا شعری اظہار نہایت بلیغ اور موثر ہے “ڈاکٹر خیال امروہوی نے نہایت ہی خوبصور ت بات فرمائی کہ راہی صاحب کے مضامین وموضوعات کی کمی نہیں آخر اس بات کا انکشاف کیوں نہ کیا جائے کہ کن کن موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے کیا انہوں نے صرف حسن و عشق ، ہجر و فراق ، گل و بلبل کی باتیں کی ہیں ، نہیں دوستو! اگر ریاض راہی صاحب کے کلام کا مطالعہ حسد کی عینک اتارکر غیر جانب دارانہ طریقے سے کیا جائے تو ببانگ دہل یہ بات کہنے پر مجبور ہوں گے یہ صرف شعری مجموعہ ہی نہیں بلکہ رنگارنگ گل دستہ ہے جہاں پر ہر شعبہ زندگی سے وابستہ انسان اپنے مقصد و مطلب کی چیز تلاش کر سکتا ہے ایسا موثر اور جامع کلام پیش کرنا پروفیسر ریاض راہی صاحب ہی کا کمال ہے۔ جہاں انہوں نے مزدوروں ، غریبوں ، مفلسوں ، بے کسوں اور مفلوک الحال لوگوں کے مسائل کو احسن انداز میں پیش کیا ہے وہیں پر سرمایہ دارانہ نظام پر بھی کاری ضربیں لگائی ہیں ۔ مفلسی ، انقلاب ، بھوک ، غصہ ، نفرت ، محبت ، ہجر و فراق ، حسن و عشق ، عرفان ذات اور خود احتسابی ، آزادی و سرمستی کو موضوع سخن بنایا ہے اسی طرح آپ نے اپنے کلام کے ذریعے حکمرانوں کو للکارا ہے ۔ خوشامدی ٹولہ پر بے لاگ طنز کیا ہے ۔ ضمیر فروش انسان ، ایمان فروش مُلا پر خوب تنقید کی ہے ۔ کہیں آپ کے کلام میں قلندرانہ مزاج تو کہیں پر واعظانہ و خطیبانہ لہجہ، کہیں غالب کی طرح استفہام ، تو کہیں اقبال کی طرح مناجات، کہیں ملی وحدت کا درس ، تو کہیں پر صحابی رسول ۖ ، خلیفہ چہارم حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا کی شان میں گلہائے عقیدت ۔ آپ نے اہل بیت رسول ۖ سے والہانہ محبت کا اظہار کیا ہے ۔ شہید کربلا حضرت امام حسین کی شہادت پر ، ان کی صبر و رضا پر آپ نے خوب اسلام کے سرفروشوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

غالب سے قبل اردو شاعری صرف ہجر و وصال ، حسن و عشق ، ناز و ادا، معاملات عشق ، محبوب کے تل و رخسار تک محدود تھی مگر غالب نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینکا ، آپ نے غزل کا دامن وسیع کیا ۔ غالب کے کلام میں استفہام ، طنز ، فکر فردا ، رشک، تمنا ، انا اور معاملہ بندی عشق جیسے موضوعات اردو غزل میں آئے تو غالب مجدد شعر و ادب کہلایا اور انہوں نے غزل کا دامن وسیع کیا ۔ راہی صاحب”نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ”کے اصول پر کاربند نظر آتے ہیں ان کی سوچ اور فکر ترقی پسندانہ ہے وہ پرانے اصول و ضابطے پر کاربند نہیں بلکہ شاعری میں جدید خیالات و موضوعات کو جگہ دیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ادبی حلقوں میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے ۔ بقول پروفیسر محمد افضل صفی :۔ “ریاض راہی غیر طبقاتی سماج کے قائل ہیں وہ انسان کو خوش حال اور آسودہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ بھوک ، افلاس اور جہالت پر مبنی نظام کے خلاف ہیں کیوں کہ یہی طبقاتی تفاوت انسان کو نفسیاتی طور پر ناکارہ بنا دیتی ہے اور فطرت کی طرف سے تمام ودیعت کردہ انسانی صلاحیتوں کو تباہ و برباد کردیتی ہے ”
عالم فرط عیش میں راہی
تذکرہ کچھ غریب کا کیجئے
پروفیسر ریاض راہی صاحب کے ہاں محبت ، خلوص ، پیار ،شفقت اور دوستی کا معیار انسانیت ہے نہ کہ عہدہ ، دولت یا شہرت کیونکہ اچھے شاعرمیں ہمیشہ یہ چیز دیکھی گئی ہے کہ محبت سب کیلئے ، نفرت کسی سے نہیں ۔ انہوں نے رومانوی اور جمالیاتی موضوعات بھی خوب نبھائے ہیں ۔ دیکھئے انداز گل افشانی گفتار : ۔
اس گل بدن کے سامنے عقل و خرد کہاں
دل ہاتھ سے نکل گیا پہلی نگاہ میں
موجودہ حالات کے منفی اور تخریبی قدروں کی ترویج اور اس پر اظہار افسوس کا انداز دیکھئے:۔
یہاں غیبت، ملامت اور ظلمت کا چلن ہے
چراغ زندگی لے کر کہاں میں آگیا ہوں
بے ضمیر ، کرپٹ حکمرانوں کو قلندارانہ لہجے میں للکارتے ہیں ؛۔
آنے والا وقت تمہارے خون کا پیاسا ہے چورو
لوٹ کا مال کہاں تک آخر گھر میں بیٹھ کے کھائو گے
خوشامدی شعراء پر یوں طنز کرتے ہیں :۔
ایسا نظام زر سے ہوا منتشر خیال
فنکار کے قلم میں بغاوت نہیں رہی
ایمان فروش ملا پر یوں تنقید کرتے ہیں :۔
کہو مسلماں کہ تیرے ایمان ناتواں کا میں بھید کھولوں
تیرے عمل میں جھلک ریا ہے دین میں بھی تو تاجرانہ

راہی صاحب ، اقبال کی طرح ملی وحدت اور اپنی تہذیبی روایات پر کاربند رہنے کی تلقین کرتے ہیں :۔
وہ کیسے جئے گا جو تمدن سے الگ ہو
سوکھے گی وہی شاخ جو گر جائے گی کٹ کر
راہی صاحب کے کلام میں اقبال کے انداز کی جھلک دیکھئے :۔
میں راز کائنات ہوں سمجھا کرے کوئی
مجھ سا ہے کوئی تو پیدا کرے کوئی
ہر فرد اپنی ذات کے غم میں اسیر ہے
کیسے کسی کا درد گوارا کرے کوئی
کلام راہی میں غالب کی طرح کا فکر و فن اور انداز دیکھئے :۔
مذہب کے نام پر وہ بہایا گیا لہو
کعبہ ملول ہے تو کلیسا اداس ہے
خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضی کی شان میں گلہائے عقیدت :۔
وہ باب علم، فاتح خیبر، گل حرم
کب تک کہوں کہ کیا ہے وہ شیر خدا علی
نواسہ رسول ۖ ، جگر گوشہ بتول ، شہید کربلا حضرت امام حسین کی شان یوں بیان کی :۔
ہنوز خنجر قاتل پہ خون ہنستا ہے
کمال صبر و رضا ہے حسین ابن علی
اگر فنی لحاظ سے ریاض راہی صاحب کے کلام کو دیکھا جائے تو اس میں تلمیحات ، تشبیہات و استعارات ، صنعت مراعاة انظیر ، صنعت حسن تعلیل سے آراستہ ہے اور فن شاعر ی پر مکمل دسترس ہونے کی دلیل ہے ۔ پروفیسر انور جمال کے بقول :۔
“ریاض راہی کا شعر فنی ریاضت ، اردو اور فارسی زبانوں کی رموز آشنائی اور دل گداختہ کا ثبوت فراہم کرتا ہے ”
ریاض راہی صاحب کی شاعری ، معاصر اردو شاعری میں کلاسیکیت اور جدت سے ہمکنار ہے ۔ عوامی سطح پر آپ کے کلام کی مقبولیت کی وجہ سادگی ، سلاست ، مزاحمت ، موسیقیت، ترنم ، تغزل ہے ۔ اسلوب کی سادگی کلام کے حسن میں مزید نکھار پیدا کرتی ہے ۔
علاوہ ازیں زیر طبع تصانیف میں :۔
1۔ ڈاکٹر خیال امرہوی شخصیت اور شاعر ی
2۔ دیدہ بے خواب (غزلیات)
3۔ حریم دیدہ و دل (نعتیہ مجموعہ)
لیہ کے ریگزاروں پر پروفیسر ریاض راہی کا وجود ابر رحمت او ر نعمت خداوندی سے کم نہیں ۔ جنہوں نے نہایت ہی قیمتی کلام پیش فرماکر نئے آنے والوں کیلئے رہنمائی کا سامان پیداکیا ہے۔خدا ئے لم یزل سے دعا ہے کہ آپ حاسدین کے حسد سے محفوظ رہیں اور شعر وسخن ، تصنیف و تالیف کا سلسلہ قائم و دائم رہے۔

Sibghat Bazmi
Sibghat Bazmi

تحریر : صبغت اللہ بزمی

Share this:
Tags:
life Overview Philosophy Poetry political Professor Traditions پروفیسر جائزہ روایات زندگی سیاسی شعر فلسفہ
Pak Army
Previous Post پانامہ، پی ایس ایل اور آپریشن رد الفساد
Next Post گجرات کی خبریں 24/2/2017
Gujrat

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close