حسیں اس رات سے نکلے تو بکھر جائیں گے
ہم تیری ذات سے نکلے تو بکھر جائیں گے
بہت عادت ہے اس دل کو تمھارے ساتھ رہنے کی
یہ ہاتھ اب ہاتھ سے نکلے تو بکھر جائیں گے
ایک مدت سے تمھاری کہانی کا عنوان رہے ہیں ہم
بس اس روایات سے نکلے تو بکھر جائیں گے
ہمیں دن رات سوچو تم،بس اتنی سی خواہش ہے
تمھارے خیالات سے نکلے تو بکھر جائیں گے
تحریر : عالیہ جمشید خاکوانی
